مکہ، مدینہ اور تبوک کے بعض علاقوں میں تیز ہواؤں کے ساتھ دھول اور ریت اڑنے کی توقع ہے، جس سے ساحلی علاقوں میں افقی بصارت تقریباً ختم ہو سکتی ہے۔
جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 12 اگست 2026 کو بیان کیا، نیشنل سینٹر فار میٹورولوجی (NCM) کے مطابق مشرقی خطے سمیت ریاض، مکہ اور مدینہ کے بعض حصوں میں زیادہ درجہ حرارت رہے گا۔
نجران، جازان، عسیر اور الباحہ کے ساتھ ساتھ ریاض اور مشرقی خطے کے جنوبی حصوں میں تیز ہواؤں کے ساتھ بادل بننے اور بارش کا امکان ہے۔
بحیرہ احمر کے شمالی حصے میں ہوا کی رفتار 12 سے 35 کلومیٹر فی گھنٹہ اور لہروں کی بلندی 0.5 سے 1.5 میٹر رہے گی، جبکہ وسطی اور جنوبی حصوں میں رفتار 25 سے 50 کلومیٹر فی گھنٹہ اور لہریں 1.5 سے 2.5 میٹر تک ہوں گی۔ خلیج عرب میں ہوا کی رفتار 10 سے 28 کلومیٹر فی گھنٹہ اور لہروں کی بلندی 0.5 سے 1 میٹر رہے گی۔
کن علاقوں میں بصارت متاثر ہونے کا خدشہ ہے؟ مکہ، مدینہ اور تبوک کے بعض علاقوں میں تیز ہواؤں اور ریت اڑنے کی وجہ سے بصارت متاثر ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق ساحلی علاقوں میں افقی بصارت تقریباً ختم ہو سکتی ہے۔
بارش کا امکان کہاں ہے؟ نجران، جازان، عسیر اور الباحہ کے بعض حصوں میں بارش اور تیز ہواؤں کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ریاض اور مشرقی خطے کے جنوبی حصوں میں بھی بادل بن سکتے ہیں۔
بحیرہ احمر کی صورتحال کیا ہوگی؟ بحیرہ احمر کے شمالی حصے میں ہوا کی رفتار 12 سے 35 کلومیٹر فی گھنٹہ رہے گی۔ وسطی اور جنوبی حصوں میں ہوا کی رفتار 25 سے 50 کلومیٹر فی گھنٹہ اور لہریں 1.5 سے 2.5 میٹر تک ہوں گی۔
خلیج عرب میں موسم کیسا رہے گا؟ خلیج عرب میں ہوا کی رفتار 10 سے 28 کلومیٹر فی گھنٹہ رہنے کی توقع ہے۔ لہروں کی بلندی 0.5 سے 1 میٹر کے درمیان رہے گی اور سمندر پرسکون رہے گا۔