Monday, September 14, 2026
Uncategorized

ریاض نومبر میں عالمی لاجسٹکس اور سپلائی چین فورمز کی میزبانی کرے گا

ریاض نومبر میں عالمی لاجسٹکس اور سپلائی چین فورمز کی میزبانی کرے گا

ریاض 29 نومبر سے 1 دسمبر 2026 تک Global Logistics Forum (GLF) اور UNCTAD Global Supply Chain Forum (GSCF) کے دوسرے ایڈیشنز کی میزبانی کرے گا، جو خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کی سرپرستی میں ہوں گے۔

جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 11 اگست 2026 کو بیان کیا، GLF کی تنظیم وزارت نقل و حمل اور لاجسٹک خدمات کرے گی، جبکہ GSCF کی میزبانی اقوام متحدہ اور سعودی پورٹس اتھارٹی کے ساتھ شراکت داری میں کی جائے گی۔ یہ فورمز عالمی رہنماؤں، فیصلہ سازوں اور ماہرین کے لیے ایک بین الاقوامی پلیٹ فارم فراہم کریں گے۔

سعودی ویژن 2030 کے مطابق، GLF کا مقصد مملکت کو براعظموں کو جوڑنے والے عالمی لاجسٹک مرکز کے طور پر مستحکم کرنا اور پائیدار سپلائی چینز اور عالمی رابطوں کو فروغ دینا ہے۔ وزارت نقل و حمل اور لاجسٹک خدمات کے مطابق یہ فورمز اسٹریٹجک اقدامات اور بین الاقوامی شراکت داری کے لیے استعمال ہوں گے۔

ریاض میں 2024 کے پہلے GLF میں 30 سے زائد ممالک کے 13,000 سے زائد شرکاء، 140 مقررین اور 80 نمائش کنندگان شامل تھے، جس کے نتیجے میں 16 بلین سعودی ریال (4.3 بلین ڈالر) سے زائد مالیت کے 67 معاہدے ہوئے تھے۔

فورمز کب اور کہاں منعقد ہوں گے؟ Global Logistics Forum (GLF) اور UNCTAD Global Supply Chain Forum (GSCF) کے دوسرے ایڈیشنز 29 نومبر سے 1 دسمبر 2026 تک ریاض میں منعقد ہوں گے۔ یہ تقریبات خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کی سرپرستی میں ہوں گی۔

ان فورمز کے منتظمین کون ہیں؟ GLF کی تنظیم وزارت نقل و حمل اور لاجسٹک خدمات کرے گی، جبکہ GSCF کی میزبانی اقوام متحدہ اور سعودی پورٹس اتھارٹی کے ساتھ شراکت داری میں کی جائے گی۔ یہ پلیٹ فارم عالمی رہنماؤں اور ماہرین کو اکٹھا کرے گا۔

GLF کا بنیادی مقصد کیا ہے؟ سعودی ویژن 2030 کے مطابق، GLF کا مقصد مملکت کو براعظموں کو جوڑنے والے عالمی لاجسٹک مرکز کے طور پر مستحکم کرنا ہے۔ اس کا مقصد عالمی رابطوں، جدت اور پائیدار سپلائی چینز کو فروغ دینا ہے۔

پہلے GLF کے نتائج کیا تھے؟ 2024 کے پہلے GLF میں 30 سے زائد ممالک کے 13,000 سے زائد شرکاء اور 140 مقررین شامل تھے۔ اس ایونٹ کے نتیجے میں 16 بلین سعودی ریال (4.3 بلین ڈالر) سے زائد مالیت کے 67 معاہدے طے پائے۔