سہر جده گرمیوں کے موسم میں غروب آفتاب کے بعد ایک مختلف اور پرسکون منظر پیش کرتا ہے، جہاں ساحلی تفرج گاہوں، پارکوں، پیدل چلنے کے راستوں اور تجارتی مراکز میں رہائشیوں اور سیاحوں کی آمد و رفت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔
جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 10 اگست 2026 کو بیان کیا، ملک عبدالعزیز اسٹریٹ پر موجود بلند و بالا عمارتوں اور ٹاورز کی متنوع لائٹنگ شہر کی بصری شناخت کو نمایاں کرتی ہے۔ گرمیوں کی تعطیلات میں درجہ حرارت بڑھنے کی وجہ سے لوگ اپنی سرگرمیاں رات کے اوقات میں منتقل کر دیتے ہیں۔
جدہ کی بلدیہ پارکوں، ساحلی علاقوں اور پیدل چلنے کے راستوں کے لائٹنگ سسٹمز کی ڈیزائننگ کی ذمہ دار ہے، جس میں کم دیکھ بھال کے اخراجات اور طویل مدت تک استعمال کے لیے مزاحم مواد کا انتخاب کیا جاتا ہے تاکہ نمی اور زنگ سے بچاؤ کو یقینی بنایا جا سکے۔
بلدیہ جدہ کے ترجمان محمد بن عبید البقمی نے بتایا کہ ادارہ وزارت انرجی کے ‘ترشید’ پروگرام کے تحت ‘سڑکوں کی لائٹنگ کی بحالی’ کے منصوبے پر عمل پیرا ہے، جس کا مقصد LED ٹیکنالوجی کے ذریعے توانائی کی کھپت میں کمی اور کارکردگی میں اضافہ کرنا ہے۔
جدہ میں رات کے وقت کون سی جگہیں زیادہ فعال ہوتی ہیں؟ گرمیوں میں درجہ حرارت بڑھنے کی وجہ سے لوگ رات کے وقت تجارتی مراکز، ساحلی تفرج گاہوں، عوامی پارکوں اور پیدل چلنے کے راستوں کا رخ کرتے ہیں۔ ملک عبدالعزیز اسٹریٹ پر موجود عمارتوں کی لائٹنگ بھی سیاحوں کی توجہ کا مرکز رہتی ہے۔
جدہ بلدیہ لائٹنگ کے لیے کن معیارات کو اپنا رہی ہے؟ بلدیہ جدہ ایسے مواد اور ستونوں کا انتخاب کرتی ہے جو نمی اور زنگ کے خلاف مزاحمت رکھتے ہوں، خاص طور پر ساحلی علاقوں میں۔ اس کا مقصد شہری اثاثوں کے پائیداری کو یقینی بنانا اور دیکھ بھال کے اخراجات کو کم کرنا ہے۔
ترشید پروگرام کا مقصد کیا ہے؟ وزارت انرجی کے ‘ترشید’ پروگرام کے تحت سڑکوں کی لائٹنگ کی بحالی کی جا رہی ہے۔ اس کا بنیادی مقصد LED ٹیکنالوجی کے استعمال سے توانائی کی کھپت کو کم کرنا اور فنی خصوصیات میں یکسانیت لانا ہے۔