الباہ میں 18ویں انٹرنیشنل ہنی فیسٹیول کی سرگرمیاں مکمل ہو گئی ہیں، جس میں سرکاری اور نجی اداروں کے ساتھ ساتھ ماہر شہد سازوں اور پیدا کنندگان نے شرکت کی۔
جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 10 اگست 2026 کو بیان کیا، اس میلے میں تقریباً 100,000 زائرین نے شرکت کی۔ 45 شہد سازوں نے شہد کی بہترین اقسام اور چھتے سے حاصل شدہ مصنوعات کے تقریباً 30 ٹن نمائش کے لیے پیش کیے۔
وزارتِ ماحول، پانی اور زراعت کی الباہ برانچ کے ڈائریکٹر جنرل فہد الزهرانی نے کہا کہ یہ میلہ شہد سازوں کی حمایت اور قومی مصنوعات کی تشہیر کے لیے ایک بنیادی ستون ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس ایڈیشن کی کامیابی زراعت کے شعبے کو سعودی ویژن 2030 کے اہداف کے مطابق ترقی دینے کی کوششوں کی عکاسی کرتی ہے۔
رپورٹ میں ان مصنوعات کی قیمتوں یا مخصوص فروخت کے اعداد و شمار فراہم نہیں کیے گئے۔
الباہ ہنی فیسٹیول میں کتنے زائرین اور شہد ساز شامل ہوئے؟ اس میلے میں تقریباً 100,000 زائرین نے شرکت کی اور 45 شہد سازوں نے اپنی مصنوعات نمائش کے لیے پیش کیں۔ ایس پی اے کے مطابق شہد سازوں نے شہد کی بہترین اقسام اور چھتے کی مصنوعات کے تقریباً 30 ٹن نمائش کیے۔
اس میلے کا مقصد کیا تھا؟ اس میلے کا مقصد شہد سازوں کی حمایت کرنا، قومی مصنوعات کی تشہیر کرنا اور مقامی مصنوعات کی مارکیٹنگ کے لیے ایک متحرک پلیٹ فارم مہیا کرنا تھا۔ فہد الزهرانی کے مطابق یہ زراعت کے شعبے کو سعودی ویژن 2030 کے مطابق ترقی دینے کی کوششوں کا حصہ ہے۔
میلے میں کن اداروں نے شرکت کی؟ اس ایونٹ میں سرکاری اور نجی اداروں کے ساتھ ساتھ ماہر شہد سازوں اور پیدا کنندگان نے شرکت کی۔ اس میلے کے ذریعے خطے کی مصنوعات کے معیار اور تنوع کو اجاگر کیا گیا تاکہ قومی مصنوعات کی موجودگی کو مضبوط کیا جا سکے۔