مکہ مکرمہ میں مسلم ورلڈ لیگ کے سیکرٹری جنرل اور تنظیم علما کے چیئرمین شیخ ڈاکٹر محمد العیسیٰ نے غیر معمولی عرب سربراہی اجلاس کی قاہرہ سٹیٹمنٹ کی مکمل حمایت کا اعلان کیا ہے، جس میں فلسطینی عوام کے آزادی، وقار اور خود مختاری کے حق کی توثیق کی گئی ہے۔
جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 5 مارچ 2025 کو بیان کیا، شیخ ڈاکٹر محمد العیسیٰ نے کہا کہ اس بیان کا مقصد اسرائیلی قابض حکومت کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیوں سے روکنا ہے۔ انہوں نے فلسطینیوں کی کسی بھی قسم کی بے دخلی اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے الحاق کی کوششوں کو سختی سے مسترد کیا۔
انہوں نے بیان میں جنگ بندی کے معاہدے کے اگلے مراحل پر عمل درآمد اور سعودی عرب کی قیادت میں دو ریاستی حل کے لیے عالمی اتحاد کی حمایت کو ترجیح دی ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے لبنان میں جنگ بندی کی کال اور شام پر اسرائیلی حملوں کی مذمت کی تعریف کی۔
شیخ ڈاکٹر محمد العیسیٰ نے امید ظاہر کی کہ یہ عرب کوششیں فلسطینی عوام کے تحفظ، ان کے کاز کی حمایت اور عرب امن اقدام کے مطابق جامع اور منصفانہ امن کے حصول میں مددگار ثابت ہوں گی۔
شیخ ڈاکٹر محمد العیسیٰ نے قاہرہ سٹیٹمنٹ کے بارے میں کیا کہا؟ شیخ ڈاکٹر محمد العیسیٰ نے غیر معمولی عرب سربراہی اجلاس کی قاہرہ سٹیٹمنٹ کی مکمل حمایت کی ہے۔ انہوں نے اس بیان کے ذریعے فلسطینی عوام کے آزادی، وقار اور خود مختاری کے حقوق کی توثیق کی اور اسرائیلی قابض حکومت کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیوں سے روکنے کا مقصد ظاہر کیا۔
بیان میں کن اقدامات کو مسترد کیا گیا ہے؟ شیخ ڈاکٹر محمد العیسیٰ نے قاہرہ سٹیٹمنٹ کے ذریعے فلسطینیوں کی کسی بھی قسم کی بے دخلی کو مسترد کیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے الحاق کی کسی بھی کوشش کو سختی سے مسترد کرنے پر زور دیا ہے۔
سعودی عرب کی قیادت میں کس اقدام کی حمایت کی گئی؟ بیان میں سعودی عرب کی قیادت میں دو ریاستی حل کے لیے بنائے گئے عالمی اتحاد کی حمایت کو ترجیح دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ جنگ بندی کے معاہدے کے بعد کے مراحل پر عمل درآمد کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا ہے۔
لبنان اور شام کے حوالے سے کیا موقف اختیار کیا گیا؟ شیخ ڈاکٹر محمد العیسیٰ نے قاہرہ سٹیٹمنٹ میں لبنان میں جنگ بندی کی کال کی تعریف کی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے شام پر اسرائیلی حملوں کی مذمت کرنے کے بیان کی بھی حمایت کی۔