الباحہ ریجن کی تعمیراتی میراث یہاں کے قدرتی ماحول سے متاثر ہے، جہاں مقامی کاریگر نسلوں سے علاقے میں موجود پتھروں اور درختوں کا استعمال کرتے ہوئے پتھریلی عمارتوں کی تعمیر کے روایتی فن کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔
جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 5 مارچ 2025 کو بیان کیا، پتھروں سے تعمیر کا یہ فن خطے کے ثقافتی ڈھانچے کا لازمی حصہ ہے اور مقامی لوگ اسے عصری ضروریات کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
الباحہ کے تجربہ کار بلڈر محمد الغامدی نے بتایا کہ تعمیراتی عمل کئی مہینوں پر محیط ہوتا ہے جس میں کونے کے پتھر، لمبے پتھر اور کمروں کی تعمیر کے لیے ضروری الماتین یا الدھر جیسے معاون پتھر استعمال کیے جاتے ہیں۔
ایک اور مقامی بلڈر صالح الزهرانی کے مطابق عمارتوں کی فنشنگ کے لیے مٹی کا پلستر استعمال کیا جاتا ہے، جبکہ دروازوں اور کھڑکیوں کے لیے جونیپر کے درختوں کا استعمال اور ان پر نقش و نگار بنائے جاتے ہیں۔ گھروں کی خوبصورتی کے لیے سفید کوارٹز پتھروں کا استعمال کیا جاتا ہے۔
الباحہ کے دیہاتوں میں عمارتوں کے ڈیزائن اور تعمیراتی طریقوں میں مماثلت پائی جاتی ہے، جہاں مکانات ایک دوسرے کے قریب واقع ہیں اور ان کے درمیان تنگ گلیاں اور سماجی سرگرمیوں کے لیے ایک مرکزی چوک موجود ہے۔
الباحہ کی روایتی تعمیرات میں کون سے پتھر استعمال ہوتے ہیں؟ تعمیراتی عمل میں مختلف اقسام کے پتھر استعمال کیے جاتے ہیں جن میں کونے کے پتھر، لمبے پتھر اور کمروں کی بنیاد کے لیے ضروری الماتین یا الدھر پتھر شامل ہیں۔ گھروں کی ظاہری سجاوٹ کے لیے سفید کوارٹز پتھروں کا استعمال کیا جاتا ہے۔
دروازوں اور کھڑکیوں کے لیے کیا مواد استعمال کیا جاتا ہے؟ مقامی بلڈر صالح الزهرانی کے مطابق دروازوں اور کھڑکیوں کی تیاری کے لیے جونیپر کے درختوں کا استعمال کیا جاتا ہے، جن پر خوبصورت نقش و نگار بنائے جاتے ہیں۔ عمارتوں کی فنشنگ کے لیے مٹی کے پلستر کا استعمال ہوتا ہے۔
الباحہ کے دیہاتوں کی تعمیراتی خصوصیات کیا ہیں؟ یہاں کی عمارتوں کے ڈیزائن اور تعمیراتی طریقے ایک جیسے ہیں، جہاں مکانات ایک دوسرے کے بہت قریب واقع ہیں۔ ان دیہاتوں میں تنگ گلیاں اور سماجی سرگرمیوں کے لیے ایک مرکزی چوک موجود ہوتا ہے۔