Tuesday, October 13, 2026
سعودی خبریں

این سی وی سی کل جنگلات کے عالمی دن پر آگاہی مہم شروع کرے گا، 3.5 ملین درخت لگائے گئے

این سی وی سی کل جنگلات کے عالمی دن پر آگاہی مہم شروع کرے گا، 3.5 ملین درخت لگائے گئے

ریاض میں قومی مرکز برائے نباتاتی احاطہ کی ترقی اور صحرا بندی سے مقابلہ (این سی وی سی) کل اپنے سرکاری سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے ایک آگاہی مہم شروع کرے گا، جس کا مقصد سعودی عرب میں جنگلات کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے۔ یہ مہم جنگلات کے عالمی دن کے موقع پر شروع کی جا رہی ہے، جو ہر سال 21 مارچ کو دنیا بھر میں منایا جاتا ہے۔

جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 20 مارچ 2025 کو بیان کیا، مہم کا مقصد جنگلات کے ماحولیاتی توازن برقرار رکھنے اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو کم کرنے میں کردار پر زور دینا ہے۔

سعودی عرب میں وسیع جنگلاتی علاقے موجود ہیں جو قدرتی دولت تصور کیے جاتے ہیں اور ماحولیاتی تحفظ اور پائیداری کی کوششوں کے لیے اہم ہیں۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ جنگلات کس طرح روزانہ کی زندگی میں کردار ادا کرتے ہیں؟

جنگلات آکسیجن کی پیداوار، سینکڑوں ٹن کاربن کے ذخیرے، حیاتیاتی تنوع میں اضافے، غذائی تحفظ کی حمایت، صحرا بندی سے مقابلہ اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

عرک کا درخت (سالواڈورا پرسیکا) خاص طور پر اہم ہے، کیونکہ اس کا پھل جسے “کباث” کہا جاتا ہے، انسانوں اور جانوروں دونوں کے لیے خوراک کا کام دیتا ہے۔ اقتصادی طور پر، درخت کے حصے سواک (عرک کے درخت سے بنائی جانے والی روایتی چبانے والی چھڑی) اور قدرتی تیل کی تیاری میں استعمال ہوتے ہیں، اور یہ منہ اور دانتوں کی صحت کے فروغ کے لیے صحت کی قدر رکھتا ہے۔

اس درخت کی مذہبی اہمیت بھی ہے، کیونکہ نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “اگر مجھے اپنی امت پر بوجھ کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں انہیں ہر نماز سے پہلے سواک کرنے کا حکم دیتا۔” کیا آپ نے کبھی سوچا کہ ایک درخت کس طرح صحت اور عقیدے دونوں سے جڑا ہو سکتا ہے؟

این سی وی سی جنگلات کی بحالی اور بحالی کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے، اور اب تک 3.5 ملین سے زیادہ درخت لگا چکا ہے۔ یہ مرکز قدیم درختوں کی شناخت اور حفاظت، حدود کے نشانات اور معلوماتی علامات کے ذریعے جنگلاتی علاقوں کی حفاظت، اور جنگلات کے لیے اسٹریٹجک منصوبے اور وادیوں کی بحالی اور تحفظ کے لیے عملی منصوبے پر عمل درآمد کرنا چاہتا ہے۔

یہ کوششیں سعودی گرین انیشیٹو اور سعودی وژن 2030 کا حصہ ہیں۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ اقدامات کس طرح وژن 2030 کے وسیع تر اہداف سے منسلک ہیں؟

مرکز قومی جنگلاتی سروے کا منصوبہ بھی نافذ کر رہا ہے، جنگلاتی زمینوں کے لیے قومی نگرانی کا نظام قائم کر رہا ہے، اور جنگلات کی آگ پر نظر رکھ رہا ہے۔

جنگلات کے عالمی دن کے موقع پر یہ مہم سعودی عرب میں جنگلات کے تحفظ اور ان کے پائیدار استعمال کے بارے میں شعور بیدار کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ کیا آپ نے کبھی غور کیا کہ صحرائی ماحول میں جنگلات کی حفاظت کتنی چیلنجنگ ہو سکتی ہے؟

سعودی عرب کے جنگلات نہ صرف ماحولیاتی توازن کے لیے بلکہ معاشی اور ثقافتی ورثے کے لیے بھی اہم ہیں۔ عرک کے درخت کی طرح، بہت سے مقامی درخت روایتی استعمال اور صحت کے فوائد رکھتے ہیں۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ سعودی عرب میں کون سے دیگر مقامی درخت اہم سمجھے جاتے ہیں؟

این سی وی سی کی کوششیں جنگلات کی بحالی سے آگے بڑھ کر قدیم درختوں کی حفاظت اور جنگلاتی زمینوں کی نگرانی تک پھیلی ہوئی ہیں۔ یہ جامع نقطہ نظر ظاہر کرتا ہے کہ جنگلات کا تحفظ صرف درخت لگانے سے کہیں زیادہ ہے۔ کیا آپ اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ طویل مدتی نگرانی کے بغیر درخت لگانا کافی نہیں؟

قومی جنگلاتی سروے کا منصوبہ اور جنگلاتی زمینوں کے لیے قومی نگرانی کا نظام جنگلاتی وسائل کے بارے میں درست ڈیٹا فراہم کرنے میں مدد کرے گا، جبکہ جنگلات کی آگ پر نظر رکھنا ان قیمتی وسائل کے تحفظ کے لیے ضروری ہے۔

سعودی گرین انیشیٹو اور وژن 2030 کے تحت، جنگلات کی بحالی اور صحرا بندی سے مقابلہ سعودی عرب کی ماحولیاتی پائیداری کی حکمت عملی کے مرکزی عناصر ہیں۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ سعودی گرین انیشیٹو کے تحت کتنے درخت لگانے کا ہدف ہے؟

جنگلات کے عالمی دن کے موقع پر، این سی وی سی کی مہم عوام کو جنگلات کی اہمیت سے آگاہ کرنے اور ان کے تحفظ میں حصہ ڈالنے کی ترغیب دینے کی کوشش کرے گی۔ کیا آپ اپنے روزمرہ کے معمولات میں جنگلات کے تحفظ کے لیے کوئی قدم اٹھا سکتے ہیں؟

رپورٹ میں مہم کی مخصوص سرگرمیوں، اس کے دورانیے، یا اس کے اہداف کے بارے میں مزید تفصیلات نہیں دی گئیں۔ ایس پی اے نے یہ بھی نہیں بتایا کہ مہم کے تحت کتنے درخت لگانے کا منصوبہ ہے یا اس کے لیے کوئی بجٹ مختص کیا گیا ہے۔

این سی وی سی کیا مہم شروع کرے گا اور کیوں؟ این سی وی سی کل اپنے سرکاری سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے ایک آگاہی مہم شروع کرے گا تاکہ سعودی عرب میں جنگلات کی اہمیت کو اجاگر کیا جا سکے۔ یہ مہم جنگلات کے عالمی دن کے موقع پر شروع کی جا رہی ہے، جو ہر سال 21 مارچ کو دنیا بھر میں منایا جاتا ہے۔ مہم کا مقصد جنگلات کے ماحولیاتی توازن برقرار رکھنے اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو کم کرنے میں کردار پر زور دینا ہے۔

سعودی عرب کے جنگلات کون سے اہم کردار ادا کرتے ہیں؟ سعودی عرب کے جنگلات آکسیجن کی پیداوار، سینکڑوں ٹن کاربن کے ذخیرے، حیاتیاتی تنوع میں اضافے، غذائی تحفظ کی حمایت، صحرا بندی سے مقابلہ اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ جنگلات قدرتی دولت تصور کیے جاتے ہیں اور ماحولیاتی تحفظ اور پائیداری کی کوششوں کے لیے اہم ہیں۔

عرک کے درخت کی کیا اہمیت ہے؟ عرک کا درخت (سالواڈورا پرسیکا) خاص طور پر اہم ہے، کیونکہ اس کا پھل جسے “کباث” کہا جاتا ہے، انسانوں اور جانوروں دونوں کے لیے خوراک کا کام دیتا ہے۔ اقتصادی طور پر، درخت کے حصے سواک اور قدرتی تیل کی تیاری میں استعمال ہوتے ہیں، اور یہ منہ اور دانتوں کی صحت کے لیے صحت کی قدر رکھتا ہے۔ اس درخت کی مذہبی اہمیت بھی ہے، کیونکہ نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے سواک کے بارے میں فرمایا۔

این سی وی سی نے اب تک کتنے درخت لگائے ہیں؟ این سی وی سی جنگلات کی بحالی اور بحالی کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے، اور اب تک 3.5 ملین سے زیادہ درخت لگا چکا ہے۔ یہ مرکز قدیم درختوں کی شناخت اور حفاظت، حدود کے نشانات اور معلوماتی علامات کے ذریعے جنگلاتی علاقوں کی حفاظت، اور جنگلات کے لیے اسٹریٹجک منصوبے اور وادیوں کی بحالی اور تحفظ کے لیے عملی منصوبے پر عمل درآمد کرنا چاہتا ہے۔

این سی وی سی کے دیگر منصوبے کون سے ہیں؟ این سی وی سی قومی جنگلاتی سروے کا منصوبہ بھی نافذ کر رہا ہے، جنگلاتی زمینوں کے لیے قومی نگرانی کا نظام قائم کر رہا ہے، اور جنگلات کی آگ پر نظر رکھ رہا ہے۔ یہ کوششیں سعودی گرین انیشیٹو اور سعودی وژن 2030 کا حصہ ہیں۔ مرکز قدیم درختوں کی شناخت اور حفاظت اور جنگلاتی علاقوں کی حفاظت کے لیے بھی کام کر رہا ہے۔

یہ کوششیں کس وسیع تر اقدام کا حصہ ہیں؟ یہ کوششیں سعودی گرین انیشیٹو اور سعودی وژن 2030 کا حصہ ہیں۔ این سی وی سی جنگلات کی بحالی اور بحالی کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے اور قومی جنگلاتی سروے کا منصوبہ بھی نافذ کر رہا ہے۔ یہ اقدامات سعودی عرب کی ماحولیاتی پائیداری کی حکمت عملی کے مرکزی عناصر ہیں۔