ورلڈ اسمبلی آف مسلم یوتھ (وامی) نے وسطی ایشیا میں رمضان کے دوران 92,200 افطار کھانے تقسیم کیے، جن میں کرغزستان کی مسجدوں اور اسلامی مراکز میں 91,800 افطار کھانے، اداروں، اسکولوں اور طلبہ رہائش گاہوں کے طلبہ کے لیے 400 کھانے، اور کمزور خاندانوں کے لیے 1,350 فوڈ باسکٹ شامل ہیں۔
جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 24 مارچ 2025 کو بیان کیا، وامی کے کرغزستان دفتر کے ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد مادی نے بتایا کہ تقسیم پورے وسطی ایشیا کے علاقے پر محیط تھی، جس سے منگولیا کی تین مسجدوں اور قازقستان کی چھ مسجدوں کو فائدہ پہنچا، جبکہ باقی کھانے کرغزستان میں تقسیم کیے گئے۔
ڈاکٹر محمد مادی کے مطابق توجہ مسجدوں میں نماز ادا کرنے والوں، وامی کے قائم کردہ مراکز، اور یونیورسٹیوں، اسکولوں اور طلبہ رہائش گاہوں کے طلبہ پر مرکوز تھی۔ یہ تقسیم رمضان کے مہینے میں کی گئی، جس کا مقصد روزہ داروں کو افطار فراہم کرنا تھا۔
انہوں نے نوٹ کیا کہ فوڈ باسکٹ سب سے زیادہ کمزور گروہوں، بشمول یتیموں اور کرغزستان کے کمزور خاندانوں کو پہنچائے گئے۔ یہ باسکٹ ان خاندانوں کی مدد کے لیے تھے جو بنیادی ضروریات پوری کرنے میں دشواری کا سامنا کرتے ہیں۔
مستفید افراد نے رمضان کے دوران انسانی ہمدردی کی کوششوں پر مملکت کی حکومت اور عوام کا شکریہ ادا کیا۔ یہ تقسیم سعودی عرب کی جانب سے دنیا بھر میں انسانی امداد کے سلسلے کا حصہ ہے، جس کا مقصد مسلمانوں کی مدد کرنا ہے۔
کیا رمضان کے دوران ایسی امدادی سرگرمیاں مسلم ممالک کے درمیان یکجہتی کو مضبوط کرتی ہیں؟ وامی نے کرغزستان، قازقستان اور منگولیا میں مسجدوں اور اسلامی مراکز کا انتخاب کیوں کیا؟ کیا آپ جانتے ہیں کہ وسطی ایشیا میں مسلمانوں کی تعداد کتنی ہے؟ کیا یتیموں اور کمزور خاندانوں تک فوڈ باسکٹ پہنچانا سب سے اہم ضرورت ہے؟ کیا اس طرح کے منصوبے طویل مدتی ترقی میں مدد دیتے ہیں؟ کیا دیگر انسانی ادارے بھی اس طرح کی مہمات چلاتے ہیں؟ کیا رمضان کے بعد بھی ایسی امداد جاری رہنی چاہیے؟
وامی ایک بین الاقوامی اسلامی تنظیم ہے جو نوجوانوں کی تعلیم، تربیت اور فلاح و بہبود کے لیے کام کرتی ہے۔ اس کے دفاتر دنیا کے کئی ممالک میں موجود ہیں، اور یہ رمضان کے دوران افطار اور فوڈ باسکٹ کی تقسیم جیسی سرگرمیاں منعقد کرتی ہے۔
رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ تقسیم کی کل لاگت کتنی تھی، نہ ہی یہ کہ کتنے رضاکاروں نے اس میں حصہ لیا، اور نہ ہی یہ کہ تقسیم کا آغاز کب ہوا اور کب اختتام پذیر ہوا۔
وامی نے وسطی ایشیا میں کتنے افطار کھانے تقسیم کیے؟ ورلڈ اسمبلی آف مسلم یوتھ (وامی) نے کرغزستان کی مسجدوں اور اسلامی مراکز میں 91,800 افطار کھانے تقسیم کیے۔ اس کے علاوہ اداروں، اسکولوں اور طلبہ رہائش گاہوں کے طلبہ کے لیے 400 کھانے بھی فراہم کیے گئے۔ اس طرح کل 92,200 کھانے تقسیم ہوئے، جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 24 مارچ 2025 کو رپورٹ کیا۔
تقسیم کا دائرہ کون سے ممالک تک پھیلا؟ ڈاکٹر محمد مادی کے مطابق تقسیم پورے وسطی ایشیا کے علاقے پر محیط تھی۔ اس میں منگولیا کی تین مسجدوں اور قازقستان کی چھ مسجدوں کو فائدہ پہنچا، جبکہ باقی کھانے کرغزستان میں تقسیم کیے گئے۔ اس طرح یہ مہم کرغزستان، قازقستان اور منگولیا تک پھیلی، جیسا کہ ایس پی اے کی رپورٹ میں بتایا گیا۔
فوڈ باسکٹ کس کو دیے گئے؟ ڈاکٹر محمد مادی نے نوٹ کیا کہ فوڈ باسکٹ سب سے زیادہ کمزور گروہوں، بشمول یتیموں اور کرغزستان کے کمزور خاندانوں کو پہنچائے گئے۔ یہ باسکٹ ان خاندانوں کی مدد کے لیے تھے جو بنیادی ضروریات پوری کرنے میں دشواری کا سامنا کرتے ہیں۔ کل 1,350 فوڈ باسکٹ تقسیم کیے گئے، جیسا کہ ایس پی اے نے رپورٹ کیا۔
مستفید افراد نے کیا ردعمل دیا؟ مستفید افراد نے رمضان کے دوران انسانی ہمدردی کی کوششوں پر مملکت کی حکومت اور عوام کا شکریہ ادا کیا۔ یہ تقسیم سعودی عرب کی جانب سے دنیا بھر میں انسانی امداد کے سلسلے کا حصہ ہے، جس کا مقصد مسلمانوں کی مدد کرنا ہے۔ ایس پی اے کے مطابق مستفید افراد نے اپنی گہری تشکر کا اظہار کیا۔
وامی کیا ہے اور اس کا دفتر کہاں ہے؟ ورلڈ اسمبلی آف مسلم یوتھ (وامی) ایک بین الاقوامی اسلامی تنظیم ہے جو نوجوانوں کی تعلیم، تربیت اور فلاح و بہبود کے لیے کام کرتی ہے۔ اس کے دفاتر دنیا کے کئی ممالک میں موجود ہیں۔ کرغزستان میں وامی کے دفتر کے ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد مادی نے تقسیم کی تفصیلات بتائیں، جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 24 مارچ 2025 کو رپورٹ کیا۔
کیا رپورٹ میں تقسیم کی لاگت یا رضاکاروں کا ذکر ہے؟ نہیں، رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ تقسیم کی کل لاگت کتنی تھی، نہ ہی یہ کہ کتنے رضاکاروں نے اس میں حصہ لیا، اور نہ ہی یہ کہ تقسیم کا آغاز کب ہوا اور کب اختتام پذیر ہوا۔ ایس پی اے کی رپورٹ صرف تقسیم شدہ کھانوں اور باسکٹس کی تعداد، مقامات اور مستفید افراد کے ردعمل پر مرکوز ہے۔