ریاض میں 11 سے 15 اکتوبر 2026 تک منعقد ہونے والی 25ویں ورلڈ پیٹرولیم کانگریس (WPC Energy) میں سعودی انرجی شرکت کر رہا ہے، جس کا مرکزی تھیم Pathways to an Energy Future for All رکھا گیا ہے۔
جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 12 اکتوبر 2026 کو بیان کیا، کمپنی نیشنل انرجی پارٹنر کے طور پر اس ایونٹ میں حصہ لے رہی ہے، جہاں اس کی قیادت اور ماہرین وزراء، توانائی کمپنیوں کے ایگزیکٹوز، فیصلہ سازوں اور عالمی ماہرین کے ساتھ پینل مباحثوں اور تکنیکی سیشنز میں شرکت کر رہے ہیں۔ کیا عالمی توانائی کے مستقبل کو یقینی بنانے کے لیے اس طرح کے بین الاقوامی تعاون ضروری نہیں ہیں؟
اس کانگریس کا مقصد توانائی کے شعبے کے رہنماؤں، سرکاری حکام، کارپوریٹ ایگزیکٹوز، بین الاقوامی تنظیموں کے سربراہان اور ماہرین کو ایک جگہ جمع کرنا ہے تاکہ سیکٹر کے مستقبل، توانائی کی سپلائی کی سیکیورٹی، سرمایہ کاری، جدید ٹیکنالوجیز اور پائیداری پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔ کیا جدید ٹیکنالوجی کے بغیر توانائی کی سپلائی کی سیکیورٹی حاصل کرنا ممکن ہے؟
کمپنی کی شرکت کی ایک نمایاں خصوصیت سعودی انرجی کے سی ای او انجینئر خالد الغامدی کی Digital Technologies: Enhancing Productivity, Cost-Efficiency, and Performance کے عنوان سے منعقدہ پلینری سیشن میں شرکت ہے۔ اس سیشن میں اس بات کا جائزہ لیا گیا کہ کس طرح جدید ٹیکنالوجیز توانائی کے شعبے میں پیداواری صلاحیت کو بڑھا سکتی ہیں، لاگت کی کارکردگی کو بہتر بنا سکتی ہیں اور آپریشنل کارکردگی کو مزید نکھار سکتی ہیں۔ کیا ڈیجیٹل تبدیلی توانائی کے شعبے میں لاگت کو کم کرنے کا سب سے مؤثر ذریعہ ثابت ہو سکتی ہے؟
کمپنی کے رہنماؤں کے علاوہ ماہرین بھی پینل مباحثوں میں حصہ لے رہے ہیں، جبکہ ماہرین آٹھ تکنیکی مقالے پیش کر رہے ہیں۔ ان مقالوں کے موضوعات میں ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن، مصنوعی ذہانت (AI)، آپریشنل کارکردگی، الیکٹریکل انفراسٹرکچر کی ترقی، قابل تجدید توانائی، حفاظت اور قومی ٹیلنٹ کی ترقی شامل ہیں۔ کیا مصنوعی ذہانت کا استعمال بجلی کے نظام کی کارکردگی کو ایک نئی سطح پر لے جا سکتا ہے؟
یہ شرکت وزارت توانائی کی نگرانی میں سعودی عرب کے بجلی کے نظام کو تیار کرنے میں سعودی انرجی کے کردار کی عکاسی کرتی ہے۔ یہ کوششیں سپلائی کی بھروسہ مندی اور آپریشنل کارکردگی کو بڑھانے کے ساتھ ساتھ قابل تجدید توانائی کے ذرائع کو ضم کرنے کے لیے گرڈ کی تیاری کو مضبوط بنانے کے لیے ہیں، تاکہ توانائی کی منتقلی کو آگے بڑھایا جا سکے اور اقتصادی و صنعتی ترقی کے تقاضوں کو پورا کیا جا سکے۔ کیا گرڈ کی تیاری قابل تجدید توانائی کے بڑے پیمانے پر استعمال کے لیے بنیادی شرط نہیں ہے؟
ساتھ ہی منعقد ہونے والی نمائش میں، سعودی انرجی اپنے منصوبوں، اقدامات اور تکنیکی حل پیش کر رہا ہے جو الیکٹریکل انفراسٹرکچر کی ترقی اور آپریشنل کارکردگی کو بہتر بنانے کی کوششوں کو اجاگر کرتے ہیں۔ کیا ان تکنیکی حل کے ذریعے مستقبل کی توانائی کی ضروریات کو زیادہ بہتر طریقے سے پورا کیا جا سکے گا؟
رپورٹ میں ان تکنیکی مقالوں کے تفصیلی نتائج یا نمائش میں پیش کیے گئے مخصوص منصوبوں کے نام اور بجٹ کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
ورلڈ پیٹرولیم کانگریس کا تھیم کیا ہے؟ 25ویں ورلڈ پیٹرولیم کانگریس کا تھیم Pathways to an Energy Future for All ہے، جو 11 سے 15 اکتوبر 2026 تک سعودی عرب میں منعقد ہو رہی ہے۔ اس میں توانائی کے رہنما اور ماہرین سپلائی سیکیورٹی اور پائیداری پر بات کر رہے ہیں۔
سعودی انرجی کے سی ای او نے کس سیشن میں شرکت کی؟ سعودی انرجی کے سی ای او انجینئر خالد الغامدی نے Digital Technologies: Enhancing Productivity, Cost-Efficiency, and Performance کے عنوان سے پلینری سیشن میں شرکت کی۔ اس میں جدید ٹیکنالوجیز کے ذریعے پیداواری صلاحیت اور آپریشنل کارکردگی بڑھانے پر بحث کی گئی۔
ماہرین نے کن موضوعات پر تکنیکی مقالے پیش کیے؟ کمپنی کے ماہرین نے آٹھ تکنیکی مقالے پیش کیے جن میں ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن، مصنوعی ذہانت (AI)، آپریشنل کارکردگی، الیکٹریکل انفراسٹرکچر، قابل تجدید توانائی، حفاظت اور قومی ٹیلنٹ کی ترقی شامل ہیں۔
سعودی انرجی کا بنیادی مقصد کیا ہے؟ وزارت توانائی کی نگرانی میں سعودی انرجی کا مقصد بجلی کے نظام کی ترقی، سپلائی کی بھروسہ مندی میں اضافہ اور قابل تجدید توانائی کے ذرائع کو گرڈ میں ضم کرنا ہے تاکہ صنعتی اور اقتصادی ترقی کے تقاضے پورے ہوں۔