ریاض، 17 اکتوبر 2026: نیشنل سینٹر فار پام اینڈ ڈیٹس کی قیادت میں 19 سے زائد سعودی کھجور کمپنیاں اور انٹرنیشنل ڈیٹس کونسل فرانس کے دارالحکومت پیرس میں 17 سے 21 اکتوبر تک جاری رہنے والی SIAL پيرس 2026 نمائش میں شرکت کریں گی۔
جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے بیان کیا، یہ شرکت سعودی کھجوروں اور ان کی مصنوعات کی بین الاقوامی منڈیوں میں موجودگی کو مضبوط بنانے، سعودی کمپنیوں کے لیے سرمایہ کاری اور تجارتی مواقع بڑھانے اور ان کی برآمدات کی مالیت میں اضافے کے قومی اقدامات کی حمایت کرتی ہے، جو سعودی وژن 2030 کے اہداف کے مطابق ہے۔
یورپ کی بڑی خوراک و مشروبات نمائش میں سعودی کھجوروں کی موجودگی
SIAL پيرس یورپ کی خوراک اور مشروبات سے متعلق سب سے بڑی بین الاقوامی تجارتی نمائشوں میں سے ایک ہے۔ اس نمائش میں شرکت کے ذریعے مرکز اس شعبے کی کامیابیوں کو آگے بڑھانا چاہتا ہے۔ اس کا مقصد سعودی کھجور کمپنیوں کو نئی منڈیوں تک رسائی فراہم کرنا اور درآمد کنندگان، تقسیم کاروں، خوردہ فروشوں اور خوراک کی صنعت کے نمائندوں کے ساتھ ان کے کاروباری نیٹ ورک کو وسعت دینا ہے۔ ان کوششوں سے سعودی مصنوعات کی مسابقت بڑھنے اور ان کے عالمی قدموں کے نشان کو مضبوط ہونے کی توقع ہے۔
مرکز نے کھجور اور پام کے شعبے میں ہونے والی پیش رفت کو اجاگر کیا، خاص طور پر سعودی عرب کی مسلسل چوتھے سال مالیت کے لحاظ سے دنیا کی سب سے بڑی کھجور برآمد کنندہ کے طور پر پوزیشن، جو انٹرنیشنل ٹریڈ سینٹر کے اعداد و شمار کے مطابق ہے۔ 2025 میں مملکت کی کھجور کی برآمدات تقریباً 1.938 بلین سعودی ریال تک پہنچ گئیں، جو 2024 کے مقابلے میں 14.3 فیصد اضافے کو ظاہر کرتی ہیں۔
مرکز نے مزید بتایا کہ اس نمائش میں شرکت، جس میں 135 ممالک سے 7,500 سے زائد نمائش کنندگان حصہ لیں گے، کا مقصد سعودی کھجوروں کے تنوع اور معیار کو اجاگر کرنا اور ویلیو ایڈڈ کھجور کی مصنوعات کی نمائش کرنا ہے۔ نمائش میں انٹرایکٹو سرگرمیوں کے ذریعے کھجوروں کے مختلف پکوانوں کے استعمال کا مظاہرہ بھی کیا جائے گا، جن میں چکھنے کے سیشن شامل ہیں جو بین الاقوامی منڈیوں میں صارفین کی ترجیحات کے مطابق جدید پکوان اور ترکیبیں پیش کرتے ہیں۔
مرکز نے زور دیا کہ اس کی شرکت جاری کوششوں کی عکاسی کرتی ہے۔ کیا یہ نمائش سعودی کھجوروں کو نئی بین الاقوامی منڈیوں میں داخل ہونے کا موقع فراہم کرے گی؟ کیا 19 سے زائد کمپنیوں کی اجتماعی شرکت برآمدات کے حجم میں مزید اضافے کا باعث بنے گی؟ کیا یورپی صارفین سعودی کھجوروں کے معیار اور تنوع کو قبول کریں گے؟ کیا انٹرنیشنل ڈیٹس کونسل کی موجودگی عالمی سطح پر کھجور کی صنعت کے لیے مشترکہ حکمت عملی تشکیل دے سکے گی؟ کیا چکھنے کے سیشن اور جدید ترکیبیں بین الاقوامی منڈیوں میں کھجور کی مانگ بڑھانے میں معاون ثابت ہوں گی؟ کیا یہ شرکت سعودی وژن 2030 کے غیر تیل برآمدات کے اہداف کو حاصل کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی؟
یہ نمائش 17 سے 21 اکتوبر 2026 تک فرانس کے دارالحکومت پیرس میں منعقد ہو رہی ہے۔ اس میں 135 ممالک سے 7,500 سے زائد نمائش کنندگان شرکت کریں گے، جو اسے خوراک اور مشروبات کے شعبے میں دنیا کی سب سے بڑی تجارتی نمائشوں میں شامل کرتا ہے۔ سعودی وفد کی قیادت نیشنل سینٹر فار پام اینڈ ڈیٹس کر رہا ہے، جبکہ 19 سے زائد سعودی کھجور کمپنیاں اور انٹرنیشنل ڈیٹس کونسل بھی اس میں شامل ہیں۔
مرکز کے مطابق، اس شرکت کا مقصد سعودی کھجوروں اور ان کی مصنوعات کی بین الاقوامی منڈیوں میں موجودگی کو مضبوط بنانا، سعودی کمپنیوں کے لیے سرمایہ کاری اور تجارتی مواقع میں اضافہ کرنا اور ان کی برآمدات کی مالیت میں اضافہ کرنا ہے۔ یہ سب سعودی وژن 2030 کے اہداف کے ساتھ ہم آہنگ ہے، جو مملکت کی معیشت کو تنوع بخشنے اور غیر تیل برآمدات کو بڑھانے پر زور دیتا ہے۔
کھجور کی صنعت سعودی عرب کی معیشت کا ایک اہم ستون ہے۔ مملکت دنیا بھر میں کھجور کی سب سے بڑی برآمد کنندہ ہے، اور 2025 میں 1.938 بلین سعودی ریال کی برآمدات نے اس پوزیشن کو مزید مستحکم کیا۔ 2024 کے مقابلے میں 14.3 فیصد اضافہ اس شعبے کی مسلسل ترقی کو ظاہر کرتا ہے۔ انٹرنیشنل ٹریڈ سینٹر کے اعداد و شمار کے مطابق، سعودی عرب مسلسل چوتھے سال مالیت کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا کھجور برآمد کنندہ رہا ہے۔
SIAL پيرس 2026 میں سعودی شرکت صرف تجارتی نہیں بلکہ ثقافتی اور اقتصادی سفارت کاری کا بھی حصہ ہے۔ کیا یہ نمائش سعودی کھجوروں کو یورپی منڈیوں میں ایک نئی شناخت دے سکے گی؟ کیا 7,500 سے زائد نمائش کنندگان کے درمیان سعودی پویلین توجہ کا مرکز بن سکے گا؟ کیا بین الاقوامی درآمد کنندگان اور تقسیم کار سعودی کھجور کمپنیوں کے ساتھ طویل مدتی معاہدے کرنے میں دلچسپی لیں گے؟ کیا کھجور کی ویلیو ایڈڈ مصنوعات عالمی منڈی میں مسابقتی قیمتوں پر دستیاب ہو سکیں گی؟ کیا یہ شرکت سعودی کھجور کے کسانوں اور پروسیسرز کے لیے براہ راست فائدہ مند ثابت ہوگی؟
مرکز نے بتایا کہ نمائش میں انٹرایکٹو سرگرمیاں بھی شامل ہوں گی، جن میں چکھنے کے سیشن اور جدید پکوانوں اور ترکیبوں کی نمائش شامل ہے جو بین الاقوامی منڈیوں میں صارفین کی ترجیحات کے مطابق تیار کی گئی ہیں۔ اس کا مقصد سعودی کھجوروں کے تنوع اور معیار کو اجاگر کرنا اور ان کی مختلف پکوانوں میں استعمال کو فروغ دینا ہے۔
یہ شرکت سعودی عرب کی کھجور کی صنعت کے لیے ایک اہم موقع ہے۔ 19 سے زائد کمپنیوں کی موجودگی اس شعبے کی اجتماعی طاقت کو ظاہر کرتی ہے۔ انٹرنیشنل ڈیٹس کونسل کی شرکت عالمی سطح پر کھجور کی صنعت کے لیے مشترکہ کوششوں کی عکاسی کرتی ہے۔ کیا یہ مشترکہ شرکت عالمی کھجور کی منڈی میں سعودی عرب کی پوزیشن کو مزید مضبوط کرے گی؟ کیا یورپی صارفین سعودی کھجوروں کے ذائقے اور معیار سے متاثر ہوں گے؟ کیا اس نمائش کے بعد سعودی کھجوروں کی برآمدات میں مزید اضافہ دیکھنے کو ملے گا؟
سعودی وژن 2030 کے تحت، مملکت اپنی معیشت کو تنوع بخشنے اور غیر تیل برآمدات کو بڑھانے کے لیے کوشاں ہے۔ کھجور کی صنعت اس میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ SIAL پيرس 2026 میں شرکت اس سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ مرکز کی کوشش ہے کہ سعودی کھجور کمپنیوں کو نئی منڈیوں تک رسائی ملے اور وہ بین الاقوامی درآمد کنندگان، تقسیم کاروں، خوردہ فروشوں اور خوراک کی صنعت کے نمائندوں کے ساتھ اپنے کاروباری نیٹ ورک کو وسعت دے سکیں۔
اس نمائش میں شرکت سے سعودی مصنوعات کی مسابقت بڑھنے اور ان کے عالمی قدموں کے نشان کو مضبوط ہونے کی توقع ہے۔ مرکز نے کھجور اور پام کے شعبے میں ہونے والی پیش رفت کو اجاگر کیا، خاص طور پر مالیت کے لحاظ سے دنیا کی سب سے بڑی برآمد کنندہ کی پوزیشن۔ 2025 میں 1.938 بلین سعودی ریال کی برآمدات اور 14.3 فیصد اضافہ اس شعبے کی مضبوطی کو ظاہر کرتا ہے۔
نمائش میں 135 ممالک سے 7,500 سے زائد نمائش کنندگان شرکت کریں گے، جو اسے خوراک اور مشروبات کے شعبے میں ایک عالمی پلیٹ فارم بناتا ہے۔ سعودی شرکت اس پلیٹ فارم کو اپنی مصنوعات کی تشہیر اور نئی منڈیوں تک رسائی کے لیے استعمال کرے گی۔ کیا یہ نمائش سعودی کھجوروں کے لیے یورپ میں دروازہ کھولے گی؟ کیا 19 سے زائد کمپنیوں کی شرکت سے برآمدات کے حجم میں ریکارڈ اضافہ ہوگا؟ کیا انٹرنیشنل ڈیٹس کونسل کی موجودگی عالمی کھجور کی صنعت کے لیے نئے معیارات قائم کرے گی؟
مرکز نے زور دیا کہ اس کی شرکت جاری کوششوں کی عکاسی کرتی ہے۔ تاہم، رپورٹ میں اس بات کا ذکر نہیں کیا گیا کہ سعودی وفد کی قیادت کون کرے گا، نمائش میں کتنے معاہدے متوقع ہیں، یا سعودی پویلین کی تفصیلات کیا ہوں گی۔ نیز یہ بھی واضح نہیں کہ چکھنے کے سیشنز میں کون سی مخصوص ترکیبیں پیش کی جائیں گی یا ان کی تیاری میں کون سے سعودی کھجور کے برانڈز شامل ہوں گے۔
SIAL پيرس 2026 میں کون شرکت کر رہا ہے؟ نیشنل سینٹر فار پام اینڈ ڈیٹس کی قیادت میں 19 سے زائد سعودی کھجور کمپنیاں اور انٹرنیشنل ڈیٹس کونسل شرکت کریں گی۔ یہ نمائش 17 سے 21 اکتوبر 2026 تک فرانس کے دارالحکومت پیرس میں منعقد ہوگی۔ اس میں 135 ممالک سے 7,500 سے زائد نمائش کنندگان بھی حصہ لیں گے۔
سعودی کھجور کی برآمدات کا حجم کیا ہے؟ انٹرنیشنل ٹریڈ سینٹر کے اعداد و شمار کے مطابق، 2025 میں مملکت کی کھجور کی برآمدات تقریباً 1.938 بلین سعودی ریال تک پہنچ گئیں، جو 2024 کے مقابلے میں 14.3 فیصد اضافے کو ظاہر کرتی ہیں۔ سعودی عرب مسلسل چوتھے سال مالیت کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا کھجور برآمد کنندہ رہا ہے۔
اس شرکت کا مقصد کیا ہے؟ اس شرکت کا مقصد سعودی کھجوروں اور ان کی مصنوعات کی بین الاقوامی منڈیوں میں موجودگی کو مضبوط بنانا، سعودی کمپنیوں کے لیے سرمایہ کاری اور تجارتی مواقع بڑھانا اور ان کی برآمدات کی مالیت میں اضافہ کرنا ہے۔ یہ سب سعودی وژن 2030 کے اہداف کے مطابق ہے، جو معیشت کو تنوع بخشنے پر زور دیتا ہے۔
نمائش میں کون سی سرگرمیاں ہوں گی؟ نمائش میں سعودی کھجوروں کے تنوع اور معیار کو اجاگر کیا جائے گا اور ویلیو ایڈڈ کھجور کی مصنوعات کی نمائش کی جائے گی۔ اس کے علاوہ انٹرایکٹو سرگرمیاں بھی شامل ہوں گی، جن میں چکھنے کے سیشن اور جدید پکوانوں اور ترکیبوں کی نمائش شامل ہے جو بین الاقوامی منڈیوں میں صارفین کی ترجیحات کے مطابق تیار کی گئی ہیں۔
اس نمائش سے سعودی کمپنیوں کو کیا فائدہ ہوگا؟ اس نمائش کے ذریعے سعودی کھجور کمپنیوں کو نئی منڈیوں تک رسائی ملے گی اور وہ بین الاقوامی درآمد کنندگان، تقسیم کاروں، خوردہ فروشوں اور خوراک کی صنعت کے نمائندوں کے ساتھ اپنے کاروباری نیٹ ورک کو وسعت دے سکیں گی۔ ان کوششوں سے سعودی مصنوعات کی مسابقت بڑھنے اور ان کے عالمی قدموں کے نشان کو مضبوط ہونے کی توقع ہے۔
کیا رپورٹ میں کوئی تفصیلات نہیں دی گئیں؟ رپورٹ میں اس بات کا ذکر نہیں کیا گیا کہ سعودی وفد کی قیادت کون کرے گا، نمائش میں کتنے معاہدے متوقع ہیں، یا سعودی پویلین کی تفصیلات کیا ہوں گی۔ نیز یہ بھی واضح نہیں کہ چکھنے کے سیشنز میں کون سی مخصوص ترکیبیں پیش کی جائیں گی یا ان کی تیاری میں کون سے سعودی کھجور کے برانڈز شامل ہوں گے۔