بوریڈہ، 19 اکتوبر 2026: اورینڈ میٹیور شاور بدھ کی شام سے جمعرات کی صبح تک اپنے عروج پر ہوگا، اور سعودی عرب کے تاریک علاقوں سے رہائشی اسے ننگی آنکھ سے دیکھ سکیں گے۔ یہ سالانہ مظہر اس وقت پیش آتا ہے جب ہیلی کے دومکیت کے پیچھے چھوڑے گئے گرد و غبار کے ذرات تیز رفتاری سے زمین کی فضا میں داخل ہوتے ہیں اور روشنی کی تیز لکیریں بناتے ہیں۔
جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے بیان کیا، نور فلکیاتی ایسوسی ایشن کے مطابق اورینڈ شاور اکتوبر سے نومبر کے شروع تک فعال رہتا ہے اور اسے تاریک مقامات سے ننگی آنکھ سے دیکھا جا سکتا ہے۔ کچھ شہاب ثاقب خاص طور پر روشن دکھائی دے سکتے ہیں یا اپنے پیچھے چمکتی دم چھوڑ سکتے ہیں۔
نور فلکیاتی ایسوسی ایشن کے صدر عیسیٰ الغفیلی نے کہا کہ یہ شاور ہیلی کے دومکیت کے آثار مشاہدہ کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے، جو تقریباً 40 سال قبل زمین کے قریب آیا تھا اور اگلے 36 سال تک واپس آنے کی توقع نہیں ہے۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ ہر شہاب ثاقب دراصل دومکیت کے پیچھے چھوڑے گئے مواد کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا ہے جو کئی دہائیوں یا حتیٰ کہ صدیوں پرانا ہو سکتا ہے۔
کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ آسمان میں چمکتی ایک لکیر کس قدر پرانا سفر طے کر کے آپ تک پہنچتی ہے؟ الغفیلی کے مطابق مشاہدے کے بہترین اوقات آدھی رات سے صبح تک ہیں، اور اس کے لیے کسی دوربین کی ضرورت نہیں۔ مشاہدین کو چاہیے کہ وہ مصنوعی روشنی سے دور مقامات کا انتخاب کریں اور اپنی آنکھوں کو اندھیرے کے مطابق ڈھلنے کا وقت دیں۔
اس سال موم کی گبوس چاند (waxing gibbous moon) کی روشنی کمزور شہاب ثاقب کو دیکھنا مزید مشکل بنا سکتی ہے۔ ایسوسی ایشن نے مشاہدین کو مشورہ دیا کہ وہ صرف اورین برج پر توجہ مرکوز کرنے کے بجائے آسمان کے وسیع حصے کا مشاہدہ کریں، کیونکہ شہاب ثاقب برج سے کافی دور بھی ظاہر ہو سکتے ہیں۔
کیا آپ جانتے ہیں کہ اورینڈ شاور کا نام اورین برج سے کیوں منسوب ہے، حالانکہ شہاب ثاقب اس سے دور بھی نظر آ سکتے ہیں؟ یہ شاور ہر سال اکتوبر میں اس وقت عروج پر آتا ہے جب زمین ہیلی کے دومکیت کے چھوڑے گئے ملبے کی پٹی سے گزرتی ہے۔ یہ ملبہ خلا میں کئی دہائیوں سے موجود ہے اور ہر گزرتے سال کے ساتھ زمین کی فضا میں داخل ہوتا رہتا ہے۔
الغفیلی نے وضاحت کی کہ ہیلی کے دومکیت نے زمین کے قریب آخری بار تقریباً 40 سال قبل آمد کی تھی، اور یہ اگلے 36 سال تک واپس نہیں آئے گا۔ اس کا مطلب ہے کہ آج رات آسمان میں نظر آنے والا ہر ذرہ اس دومکیت کے سفر کا حصہ ہے، جو انسانی زندگی کے پیمانے سے کہیں زیادہ طویل عرصے پر محیط ہے۔
کیا آپ تصور کر سکتے ہیں کہ ایک لمحے کی چمک کسی ایسے جسم کے سفر کی گواہی دے رہی ہو جو صدیوں سے خلا میں سفر کر رہا ہے؟ نور فلکیاتی ایسوسی ایشن کے مطابق اورینڈ شاور اکتوبر کے مہینے سے نومبر کے شروع تک فعال رہتا ہے، جس کا مطلب ہے کہ بدھ کی رات کے بعد بھی کچھ دنوں تک شہاب ثاقب دیکھے جا سکتے ہیں، اگرچہ عروج کے مقابلے میں تعداد کم ہوگی۔
مشاہدے کے لیے بہترین حکمت عملی یہ ہے کہ آپ کسی ایسے مقام کا انتخاب کریں جہاں شہر کی روشنیاں افق کو نہ ڈھانپتی ہوں۔ آنکھوں کو اندھیرے کے مطابق ڈھلنے میں کچھ وقت لگتا ہے، اس لیے مشاہدے سے قبل موبائل فون یا دیگر روشن اسکرینوں کے استعمال سے گریز کریں۔ ایسوسی ایشن نے یہ بھی کہا کہ دوربین کی ضرورت نہیں، کیونکہ یہ شاور ننگی آنکھ سے دیکھا جا سکتا ہے۔
کیا آپ نے کبھی رات کے آسمان کو اتنی دیر تک دیکھا ہے کہ آپ کی آنکھیں اندھیرے کی عادی ہو جائیں؟ یہی وہ تجربہ ہے جو اورینڈ شاور کے مشاہدے کو خاص بناتا ہے۔ جب آپ اپنی نظر کو آسمان کے وسیع حصے پر پھیلاتے ہیں تو اچانک کہیں سے ایک روشن لکیر گزرتی ہے، اور پھر خاموشی۔ یہ لمحہ ہی اصل مشاہدہ ہے۔
اس سال چاند کی چمک ایک چیلنج ہے۔ موم کی گبوس چاند آسمان میں کافی روشنی پھیلائے گی، جس سے کمزور شہاب ثاقب نظر نہیں آئیں گے۔ تاہم، روشن شہاب ثاقب اور وہ ذرات جو چمکتی دم چھوڑتے ہیں، پھر بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔ ایسوسی ایشن نے مشورہ دیا کہ مشاہدین مایوس نہ ہوں اور آسمان کے وسیع حصے پر نظر رکھیں۔
کیا آپ جانتے ہیں کہ شہاب ثاقب کا مشاہدہ کرنے کے لیے کسی خاص جگہ پر جانا ضروری نہیں، بلکہ صرف روشنی سے دور ہونا کافی ہے؟ سعودی عرب کے بہت سے علاقے، خاص طور پر ریگستان اور دیہی علاقے، رات کے آسمان کے مشاہدے کے لیے موزوں ہیں۔ بوریڈہ جیسے شہروں کے قریب بھی کچھ ایسے مقامات مل سکتے ہیں جہاں مصنوعی روشنی کم ہو۔
الغفیلی کا کہنا ہے کہ ہر شہاب ثاقب ہیلی کے دومکیت کے پیچھے چھوڑے گئے مواد کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا ہے، جو کئی دہائیوں یا صدیوں پرانا ہو سکتا ہے۔ یہ بات اس مشاہدے کو ایک قسم کی فلکیاتی یادگار بناتی ہے، کیونکہ دومکیت خود 36 سال تک واپس نہیں آئے گا۔ اس دوران ہم صرف اس کے ملبے کو دیکھ سکتے ہیں، جو زمین کی فضا میں جل کر روشنی پیدا کرتا ہے۔
کیا آپ نے کبھی سوچا کہ اگر ہیلی کا دومکیت 36 سال بعد واپس آئے گا تو اس کے ملبے کا مشاہدہ کیوں جاری رہے گا؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ دومکیت اپنے مدار میں گرد و غبار کی ایک لمبی پٹی چھوڑ جاتا ہے، اور زمین ہر سال اکتوبر میں اس پٹی سے گزرتی ہے۔ اس لیے شاور ہر سال واپس آتا ہے، چاہے دومکیت خود دور ہو۔
نور فلکیاتی ایسوسی ایشن نے مشاہدین کو یاد دلایا کہ اورین برج آسمان میں ایک نشان ہے، لیکن شہاب ثاقب اس کے آس پاس کہیں بھی ظاہر ہو سکتے ہیں۔ اس لیے صرف ایک نقطے پر نظر جمائے رکھنے کے بجائے پورے آسمان کو دیکھنا بہتر ہے۔ یہ مشورہ خاص طور پر اس سال اہم ہے جب چاند کی روشنی کمزور شہاب ثاقب کو چھپا سکتی ہے۔
کیا آپ جانتے ہیں کہ شہاب ثاقب کی رفتار کتنی تیز ہوتی ہے؟ ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق یہ ذرات تیز رفتاری سے زمین کی فضا میں داخل ہوتے ہیں اور روشنی کی تیز لکیریں بناتے ہیں۔ یہی تیز رفتار انہیں دیگر آسمانی اجسام سے ممتاز کرتی ہے اور انہیں اورینڈ شاور کی پہچان بناتی ہے۔
مشاہدے کے دوران صبر ضروری ہے۔ آسمان کو کچھ منٹ تک دیکھنے کے بعد آنکھیں اندھیرے کی عادی ہو جاتی ہیں، اور پھر کمزور شہاب ثاقب بھی نظر آنے لگتے ہیں۔ ایسوسی ایشن نے مشورہ دیا کہ مشاہدین آرام دہ پوزیشن میں لیٹ جائیں اور آسمان کے وسیع حصے کو دیکھیں، تاکہ گردن میں درد نہ ہو اور مشاہدہ طویل ہو سکے۔
کیا آپ نے کبھی ایک ہی رات میں کئی شہاب ثاقب دیکھے ہیں؟ اورینڈ شاور کے عروج پر ایسا ممکن ہے، خاص طور پر آدھی رات کے بعد۔ اگرچہ چاند کی روشنی اس سال کچھ رکاوٹ ڈالے گی، پھر بھی روشن شہاب ثاقب اور چمکتی دم والے ذرات مشاہدے کا لطف بڑھائیں گے۔
ایس پی اے کی رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ سعودی عرب کے کن مخصوص شہروں یا مقامات سے مشاہدہ سب سے بہتر ہوگا، نہ ہی شہاب ثاقب کی متوقع تعداد کا کوئی تخمینہ دیا گیا ہے۔ رپورٹ میں صرف یہ کہا گیا کہ تاریک مقامات اور آدھی رات سے صبح تک کے اوقات بہترین ہیں۔
کیا آپ اس بدھ کی رات آسمان کی طرف دیکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں؟ اگر ہاں، تو یاد رکھیں کہ دوربین کی ضرورت نہیں، صرف ایک تاریک مقام، صبر، اور آسمان کے وسیع حصے پر نظر رکھنا کافی ہے۔ اورینڈ شاور اکتوبر سے نومبر کے شروع تک فعال رہتا ہے، لیکن بدھ کی رات سے جمعرات کی صبح تک کا وقت اس کا عروج ہے۔
ہیلی کے دومکیت کے بارے میں یہ جاننا دلچسپ ہے کہ یہ تقریباً 40 سال قبل زمین کے قریب آیا تھا اور اگلے 36 سال تک واپس نہیں آئے گا۔ اس کا مطلب ہے کہ آج رات جو روشنی آپ دیکھیں گے، وہ کسی ایسے جسم کے سفر کا حصہ ہے جس نے انسانی تاریخ کے کئی ابواب دیکھے ہیں۔ یہ مشاہدہ صرف ایک فلکیاتی مظہر نہیں، بلکہ وقت کے ساتھ ایک قسم کا رابطہ بھی ہے۔
نور فلکیاتی ایسوسی ایشن نے یہ بھی واضح کیا کہ شہاب ثاقب کو دیکھنے کے لیے کسی خاص سامان کی ضرورت نہیں۔ یہ شاور ننگی آنکھ سے دیکھا جا سکتا ہے، جو اسے عام لوگوں کے لیے قابل رسائی بناتا ہے۔ بس شرط یہ ہے کہ مقام تاریک ہو اور آپ کی آنکھیں اندھیرے کے مطابق ڈھل چکی ہوں۔
کیا آپ جانتے ہیں کہ چاند کی روشنی اس سال کمزور شہاب ثاقب کو دیکھنا مشکل بنا سکتی ہے؟ موم کی گبوس چاند آسمان میں کافی چمک پیدا کرے گی۔ اس کے باوجود، روشن شہاب ثاقب اور چمکتی دم والے ذرات پھر بھی نظر آ سکتے ہیں، خاص طور پر اگر آپ آسمان کے وسیع حصے کا مشاہدہ کریں۔
ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق یہ مظہر ہر سال اکتوبر میں ہوتا ہے، جب زمین ہیلی کے دومکیت کے چھوڑے گئے ملبے سے گزرتی ہے۔ یہ ملبہ خلا میں بکھرا ہوا ہے اور زمین کی فضا میں داخل ہو کر جلتا ہے، جس سے روشنی کی لکیریں بنتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اورینڈ شاور کو ہیلی کے دومکیت سے منسوب کیا جاتا ہے۔
مشاہدے کے لیے ایک اور اہم مشورہ یہ ہے کہ آپ اپنے موبائل فون کی اسکرین سے دور رہیں۔ ایک بار جب آنکھیں اندھیرے کی عادی ہو جائیں، تو روشن اسکرین دیکھنے سے یہ عمل دوبارہ شروع کرنا پڑتا ہے۔ ایسوسی ایشن نے مشاہدین کو مشورہ دیا کہ وہ آسمان کے وسیع حصے پر نظر رکھیں اور صبر سے انتظار کریں۔
کیا آپ نے کبھی کسی ایسے مقام پر رات گزاری ہے جہاں شہر کی روشنیاں بالکل نہ ہوں؟ سعودی عرب کے ریگستانی علاقے ایسے تجربات کے لیے موزوں ہیں، جہاں رات کا آسمان غیر معمولی طور پر صاف نظر آتا ہے۔ اگر آپ ایسے مقام پر ہیں، تو بدھ کی رات اورینڈ شاور کا مشاہدہ ایک یادگار تجربہ ہو سکتا ہے۔
الغفیلی کے مطابق ہر شہاب ثاقب دومکیت کے ملبے کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا ہے، جو کئی دہائیوں یا صدیوں پرانا ہو سکتا ہے۔ یہ بات اس مشاہدے کو ایک خاص معنویت دیتی ہے، کیونکہ آپ دراصل کسی ایسے مواد کو دیکھ رہے ہوتے ہیں جو انسانی زندگی سے کہیں زیادہ پرانا ہے۔
ایس پی اے کی رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اورینڈ شاور کے دوران کتنے شہاب ثاقب فی گھنٹہ دیکھے جا سکتے ہیں، نہ ہی کسی خاص مقام کا ذکر کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں صرف یہ کہا گیا کہ شاور اکتوبر سے نومبر کے شروع تک فعال رہتا ہے اور بدھ کی شام سے جمعرات کی صبح تک عروج پر ہوگا۔
کیا آپ جانتے ہیں کہ اورینڈ شاور کا نام اورین برج سے کیوں آیا؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ شہاب ثاقب آسمان میں اس برج کی سمت سے نکلتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ تاہم، ایسوسی ایشن نے واضح کیا کہ شہاب ثاقب برج سے کافی دور بھی ظاہر ہو سکتے ہیں، اس لیے صرف ایک نقطے پر نظر رکھنا مناسب نہیں۔
اگر آپ اس بدھ کی رات مشاہدے کا ارادہ رکھتے ہیں، تو بہتر ہے کہ آپ آدھی رات سے پہلے کسی تاریک مقام پر پہنچ جائیں اور اپنی آنکھوں کو اندھیرے کے مطابق ڈھلنے کا وقت دیں۔ ایسوسی ایشن کے مطابق بہترین اوقات آدھی رات سے صبح تک ہیں، اور دوربین کی ضرورت نہیں۔
ایس پی اے کی رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ سعودی عرب میں کسی خاص شہر یا علاقے کے لیے موسم کی صورتحال کیسی رہے گی، نہ ہی بادلوں کے امکان کا کوئی ذکر ہے۔ رپورٹ میں صرف یہ کہا گیا کہ مشاہدین کو مصنوعی روشنی سے دور مقامات کا انتخاب کرنا چاہیے اور آسمان کے وسیع حصے کا مشاہدہ کرنا چاہیے۔
اورینڈ میٹیور شاور کب عروج پر ہوگا؟ نور فلکیاتی ایسوسی ایشن کے مطابق یہ شاور بدھ کی شام سے جمعرات کی صبح تک عروج پر ہوگا۔ ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق یہ سالانہ مظہر اکتوبر سے نومبر کے شروع تک فعال رہتا ہے۔ مشاہدے کے بہترین اوقات آدھی رات سے صبح تک بتائے گئے ہیں، اور اس کے لیے کسی دوربین کی ضرورت نہیں۔
اورینڈ شاور کیسے بنتا ہے؟ ایس پی اے کے مطابق یہ مظہر اس وقت پیش آتا ہے جب ہیلی کے دومکیت کے پیچھے چھوڑے گئے گرد و غبار کے ذرات تیز رفتاری سے زمین کی فضا میں داخل ہوتے ہیں اور روشنی کی تیز لکیریں بناتے ہیں۔ نور فلکیاتی ایسوسی ایشن کے صدر عیسیٰ الغفیلی نے کہا کہ ہر شہاب ثاقب دومکیت کے چھوڑے گئے مواد کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا ہے جو کئی دہائیوں یا صدیوں پرانا ہو سکتا ہے۔
کیا شہاب ثاقب دیکھنے کے لیے دوربین ضروری ہے؟ نہیں، نور فلکیاتی ایسوسی ایشن کے مطابق اورینڈ شاور ننگی آنکھ سے دیکھا جا سکتا ہے اور اس کے لیے کسی دوربین کی ضرورت نہیں۔ ایسوسی ایشن نے مشورہ دیا کہ مشاہدین مصنوعی روشنی سے دور مقامات کا انتخاب کریں اور اپنی آنکھوں کو اندھیرے کے مطابق ڈھلنے کا وقت دیں۔ بہترین اوقات آدھی رات سے صبح تک ہیں۔
اس سال مشاہدے میں کیا رکاوٹ ہو سکتی ہے؟ ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق اس سال موم کی گبوس چاند کمزور شہاب ثاقب کو دیکھنا مزید مشکل بنا سکتی ہے۔ تاہم، کچھ شہاب ثاقب خاص طور پر روشن دکھائی دے سکتے ہیں یا اپنے پیچھے چمکتی دم چھوڑ سکتے ہیں۔ ایسوسی ایشن نے مشورہ دیا کہ مشاہدین صرف اورین برج پر توجہ مرکوز کرنے کے بجائے آسمان کے وسیع حصے کا مشاہدہ کریں۔
ہیلی کے دومکیت کا اورینڈ شاور سے کیا تعلق ہے؟ ایس پی اے کے مطابق اورینڈ شاور ہیلی کے دومکیت کے پیچھے چھوڑے گئے گرد و غبار سے بنتا ہے۔ نور فلکیاتی ایسوسی ایشن کے صدر عیسیٰ الغفیلی نے کہا کہ یہ دومکیت تقریباً 40 سال قبل زمین کے قریب آیا تھا اور اگلے 36 سال تک واپس آنے کی توقع نہیں ہے۔ اس دوران زمین ہر سال اکتوبر میں اس کے ملبے کی پٹی سے گزرتی ہے۔
مشاہدے کے لیے کون سی احتیاطی تدابیر بتائی گئی ہیں؟ نور فلکیاتی ایسوسی ایشن کے مطابق مشاہدین کو مصنوعی روشنی سے دور مقامات کا انتخاب کرنا چاہیے اور اپنی آنکھوں کو اندھیرے کے مطابق ڈھلنے کا وقت دینا چاہیے۔ ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق بہترین اوقات آدھی رات سے صبح تک ہیں اور دوربین کی ضرورت نہیں۔ ایسوسی ایشن نے یہ بھی مشورہ دیا کہ صرف اورین برج پر توجہ نہ دی جائے بلکہ آسمان کے وسیع حصے کا مشاہدہ کیا جائے۔