Thursday, October 22, 2026
سعودی خبریں

جنیوا میں سوڈان امن کوششوں پر چھٹا مشاورتی اجلاس، سعودی عرب کی شرکت

جنیوا میں سوڈان امن کوششوں پر چھٹا مشاورتی اجلاس، سعودی عرب کی شرکت

سعودی عرب کے نائب وزیر خارجہ ولید الخریجی نے جنیوا، سوئٹزرلینڈ میں سوڈان میں امن اقدامات اور کوششوں کی ہم آہنگی بڑھانے سے متعلق چھٹے مشاورتی اجلاس میں شرکت کی۔ یہ اجلاس 21 اکتوبر 2026 کو منعقد ہوا، جس کا مقصد سوڈان کے بحران کے حل کے لیے جاری علاقائی اور بین الاقوامی کوششوں میں تعاون کو مضبوط بنانا تھا۔

جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے بیان کیا، نائب وزیر خارجہ ولید الخریجی نے اپنی تقریر میں سوڈان میں فائر بندی کو یقینی بنانے، ملک کی وحدت کو برقرار رکھنے اور ریاستی اداروں کو ٹوٹنے سے بچانے کے لیے سعودی عرب کی کوششوں کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ کوششیں سوڈان کے شہریوں کے تحفظ کے لیے جدہ اعلامیہ برائے عزم پر مبنی ہیں، جو 11 مئی 2023 کو دستخط کیا گیا تھا، اور قلیل مدتی فائر بندی اور انسانی انتظامات کے معاہدے پر بھی۔

الخریجی نے پانچ ملکوں کے گروپ (کوئنٹیٹ) کی پہل اور دیگر علاقائی و بین الاقوامی کوششوں کی حمایت کا اظہار کیا جو سیاسی حل تک پہنچنے کے لیے کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ ایسا سیاسی حل سوڈان کی خودمختاری، وحدت اور علاقائی سالمیت کو برقرار رکھنے والا ہونا چاہیے۔ کیا سوڈان کے بحران میں بیرونی فریقوں کی کوششیں واقعی ملک کے اندر سے آنے والے حل کی جگہ لے سکتی ہیں؟

انہوں نے سوڈانی حکومت کی کوششوں کی حمایت کی اہمیت پر بھی زور دیا کہ وہ ملک کے اندر سوڈانی قیادت میں ہونے والے مکالمے کو آسان بنائے۔ انہوں نے کہا کہ سوڈانی حکومت اور عبوری خودمختاری کونسل کو ان ملیشیا گروہوں کے برابر نہیں رکھا جا سکتا جنہوں نے سوڈانی عوام کے خلاف جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔ کیا ریاستی اداروں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کے درمیان فرق کو نظر انداز کرنا کسی بھی امن عمل کے لیے خطرہ نہیں؟

نائب وزیر خارجہ نے سوڈان کی وحدت کو خطرے میں ڈالنے والے متوازی اداروں اور سرکاری ریاستی اداروں سے باہر غیر قانونی اقدامات کو مسترد کرنے کا اعادہ کیا، اور کہا کہ ایسے اقدامات سوڈانی عوام کی مرضی کی عکاسی نہیں کرتے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سوڈان کی خودمختاری، وحدت اور علاقائی سالمیت کو نقصان پہنچانے والے کسی بھی متوازی ڈھانچے کی سعودی عرب حمایت نہیں کرتا۔

انسانی ہمدردی کے پہلو پر بات کرتے ہوئے، الخریجی نے کہا کہ سعودی عرب نے سوڈانی عوام کے مصائب کو کم کرنے کے لیے 100 ملین ڈالر کی امداد کا اعلان کیا اور سہم پلیٹ فارم کے ذریعے ایک فنڈ ریزنگ مہم شروع کی۔ سوڈان کو سعودی امداد کی مجموعی مالیت 3.2 بلین ڈالر سے تجاوز کر گئی ہے۔ کیا انسانی امداد کی یہ بڑی رقم سوڈان میں جنگ کے خاتمے اور استحکام کی بحالی کے لیے کافی ہے؟

انہوں نے مزید بتایا کہ سعودی عرب نے 15 اپریل 2026 کو برلن میں منعقدہ انسانی ہم آہنگی کے اجلاس کے دوران اضافی 145 ملین ڈالر کی امداد کا اعلان بھی کیا تھا۔ یہ اعلان سوڈان میں بگڑتی ہوئی انسانی صورتحال کے تناظر میں کیا گیا، جہاں لاکھوں افراد بے گھر ہو چکے ہیں اور بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ کیا بین الاقوامی برادری سوڈان کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کر رہی ہے؟

الخریجی نے سوڈان میں جنگ کے خاتمے اور استحکام کی بحالی کے لیے سعودی عرب کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ مملکت اپنی کوششیں جاری رکھے گی تاکہ سوڈانی عوام کو امن اور استحکام مل سکے اور ملک کے ریاستی ادارے مضبوط رہیں۔

اس اجلاس میں سوئٹزرلینڈ میں اقوام متحدہ کے لیے سعودی عرب کے مستقل نمائندے سفیر عبدالمحسن بن خثیلہ بھی موجود تھے۔ اجلاس کا انعقاد جنیوا میں ہوا، جہاں سوڈان کے بحران پر علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر مشاورت کا سلسلہ جاری ہے۔ کیا جنیوا میں ہونے والی یہ مشاورتی کوششیں سوڈان کے لیے کوئی ٹھوس نتیجہ دے پائیں گی؟

سوڈان میں تنازعہ 2023 سے جاری ہے، جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر انسانی بحران پیدا ہوا ہے۔ سعودی عرب نے جدہ میں مذاکرات کی میزبانی کی تھی جس کے نتیجے میں 11 مئی 2023 کو سوڈان کے شہریوں کے تحفظ کے لیے جدہ اعلامیہ برائے عزم پر دستخط ہوئے تھے۔ اس اعلامیے کو سوڈان میں انسانی بنیادوں پر فائر بندی اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ایک اہم سنگ بنیاد سمجھا جاتا ہے۔

سعودی عرب کی خارجہ پالیسی میں سوڈان کے بحران کا حل ایک اہم مقام رکھتا ہے، کیونکہ مملکت سوڈان کے ساتھ تاریخی، ثقافتی اور جغرافیائی روابط رکھتی ہے۔ سعودی عرب نے نہ صرف سیاسی سطح پر بلکہ انسانی ہمدردی کی سطح پر بھی سوڈان کے عوام کی مدد کے لیے اپنے وسائل بروئے کار لائے ہیں۔ کیا سوڈان کے پڑوسی ملک ہونے کے ناطے سعودی عرب کی کوششیں خطے کے استحکام کے لیے زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتی ہیں؟

چھٹا مشاورتی اجلاس اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ سوڈان کے بحران پر بین الاقوامی سطح پر مشاورت کا عمل جاری ہے اور مختلف فریق ایک مشترکہ حل کی تلاش میں ہیں۔ تاہم، ابھی تک کوئی حتمی سیاسی حل سامنے نہیں آیا، اور سوڈان میں انسانی صورتحال بدستور تشویشناک ہے۔

سعودی عرب کی جانب سے سوڈان کو دی جانے والی امداد کی مجموعی رقم 3.2 بلین ڈالر سے تجاوز کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ مملکت سوڈانی عوام کے ساتھ کھڑی ہے۔ 100 ملین ڈالر کی امداد اور سہم پلیٹ فارم کے ذریعے فنڈ ریزنگ مہم عوام کی سطح پر بھی سوڈان کی مدد کے لیے کی گئی کوششیں ہیں۔

برلن میں 15 اپریل 2026 کو ہونے والے انسانی ہم آہنگی کے اجلاس میں 145 ملین ڈالر کی اضافی امداد کا اعلان اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ سعودی عرب انسانی بحران کے حل کے لیے مسلسل کوشاں ہے۔ کیا انسانی امداد کی فراہمی میں کوئی رکاوٹیں حائل ہیں؟

الخریجی کی تقریر میں سوڈانی حکومت اور عبوری خودمختاری کونسل کی حمایت اور ملیشیا گروہوں سے فرق واضح کرنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ سعودی عرب سوڈان میں ریاستی اداروں کے تحفظ کو اہمیت دیتا ہے۔ انہوں نے متوازی اداروں اور غیر قانونی اقدامات کو مسترد کیا، جو سوڈان کی وحدت کے لیے خطرہ ہیں۔

سوڈان میں سوڈانی قیادت میں ہونے والے مکالمے کی حمایت بھی سعودی عرب کی پالیسی کا حصہ ہے، جس کا مقصد ملک کے اندر سے ایک پائیدار حل نکالنا ہے۔ کیا سوڈان کے اندرونی مکالمے کو کامیاب بنانے کے لیے تمام فریقوں کی شرکت ضروری ہے؟

اقوام متحدہ میں سعودی عرب کے مستقل نمائندے سفیر عبدالمحسن بن خثیلہ کی اجلاس میں موجودگی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ سعودی عرب کثیرالجہتی سطح پر بھی سوڈان کے بحران کے حل کے لیے سرگرم ہے۔

سوڈان کا بحران خطے کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے، اور اس کے حل کے لیے علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر مشترکہ کوششیں درکار ہیں۔ سعودی عرب کی جانب سے جدہ اعلامیہ اور قلیل مدتی فائر بندی کے معاہدے کی بنیاد پر کی جانے والی کوششیں اس سمت میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔

رپورٹ میں اس بات کا ذکر نہیں کیا گیا کہ اجلاس میں کون سے دیگر ممالک یا ادارے شریک ہوئے، نہ ہی اجلاس کے نتائج یا کسی مشترکہ بیان کا ذکر ہے۔ اس کے علاوہ، فائر بندی یا سیاسی حل کے حوالے سے کوئی ٹائم لائن بھی نہیں دی گئی۔

سعودی عرب نے سوڈان کے لیے کتنی امداد کا اعلان کیا؟ سعودی عرب نے سوڈانی عوام کے مصائب کو کم کرنے کے لیے 100 ملین ڈالر کی امداد کا اعلان کیا اور سہم پلیٹ فارم کے ذریعے فنڈ ریزنگ مہم شروع کی۔ سوڈان کو سعودی امداد کی مجموعی مالیت 3.2 بلین ڈالر سے تجاوز کر گئی ہے۔ اس کے علاوہ 15 اپریل 2026 کو برلن میں انسانی ہم آہنگی کے اجلاس میں اضافی 145 ملین ڈالر کی امداد کا اعلان کیا گیا۔

سعودی عرب کی کوششیں کس معاہدے پر مبنی ہیں؟ نائب وزیر خارجہ ولید الخریجی کے مطابق سعودی عرب کی کوششیں سوڈان کے شہریوں کے تحفظ کے لیے جدہ اعلامیہ برائے عزم پر مبنی ہیں، جو 11 مئی 2023 کو دستخط کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ قلیل مدتی فائر بندی اور انسانی انتظامات کے معاہدے پر بھی یہ کوششیں استوار ہیں۔ دونوں دستاویزات سوڈان میں فائر بندی اور شہریوں کے تحفظ کے لیے بنیاد فراہم کرتی ہیں۔

الخریجی نے سوڈان کے سیاسی حل کے بارے میں کیا کہا؟ الخریجی نے کہا کہ سیاسی حل سوڈان کی خودمختاری، وحدت اور علاقائی سالمیت کو برقرار رکھنے والا ہونا چاہیے۔ انہوں نے پانچ ملکوں کے گروپ کی پہل اور دیگر علاقائی و بین الاقوامی کوششوں کی حمایت کا اظہار کیا۔ انہوں نے سوڈانی حکومت کی کوششوں کی حمایت پر زور دیا کہ وہ ملک کے اندر سوڈانی قیادت میں ہونے والے مکالمے کو آسان بنائے۔

اجلاس میں سعودی عرب کی نمائندگی کس نے کی؟ سعودی عرب کے نائب وزیر خارجہ ولید الخریجی نے جنیوا میں ہونے والے چھٹے مشاورتی اجلاس میں شرکت کی۔ اس اجلاس میں سوئٹزرلینڈ میں اقوام متحدہ کے لیے سعودی عرب کے مستقل نمائندے سفیر عبدالمحسن بن خثیلہ بھی موجود تھے۔ اجلاس کا مقصد سوڈان میں امن اقدامات اور کوششوں کی ہم آہنگی بڑھانا تھا۔

الخریجی نے متوازی اداروں کے بارے میں کیا موقف اپنایا؟ الخریجی نے سوڈان کی وحدت کو خطرے میں ڈالنے والے متوازی اداروں اور سرکاری ریاستی اداروں سے باہر غیر قانونی اقدامات کو مسترد کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات سوڈانی عوام کی مرضی کی عکاسی نہیں کرتے۔ انہوں نے زور دیا کہ سوڈانی حکومت اور عبوری خودمختاری کونسل کو ان ملیشیا گروہوں کے برابر نہیں رکھا جا سکتا جنہوں نے سوڈانی عوام کے خلاف جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔

اس اجلاس کے نتائج کے بارے میں کیا معلوم ہوا؟ رپورٹ میں اجلاس کے نتائج یا کسی مشترکہ بیان کا ذکر نہیں کیا گیا۔ یہ چھٹا مشاورتی اجلاس تھا جو جنیوا، سوئٹزرلینڈ میں منعقد ہوا۔ رپورٹ میں اس بات کا بھی ذکر نہیں کہ اجلاس میں کون سے دیگر ممالک یا ادارے شریک ہوئے، نہ ہی فائر بندی یا سیاسی حل کے حوالے سے کوئی ٹائم لائن دی گئی۔