Friday, October 23, 2026
سعودی خبریں

جی سی سی سربراہ نے سعودی عرب پر حوثی حملوں کی مذمت کی

جی سی سی سربراہ نے سعودی عرب پر حوثی حملوں کی مذمت کی

ریاض میں جی سی سی کے سیکرٹری جنرل جاسم البدیوی نے دمام کے کنگ فہد انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور مشرقی علاقے کے شیبہ آئل فیلڈ پر حوثی ملیشیا کے دو حملوں کی شدید مذمت کی ہے، جن میں ہلاکتیں اور زخم آئے اور نشانہ بننے والی شہری تنصیبات کو مادی نقصان پہنچا۔

جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 22 اکتوبر 2026 کو بیان کیا، البدیوی نے ان حملوں کو بزدلانہ قرار دیا اور کہا کہ یہ حوثی ملیشیا کے شہریوں اور اہم تنصیبات کو نشانہ بنانے کے مجرمانہ رویے کی تسلسل کو ظاہر کرتے ہیں۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خلیجی تعاون کونسل کے رکن ممالک کی جانب سے سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا گیا ہے۔ البدیوی نے کہا کہ جی سی سی ممالک سعودی عرب کے ساتھ مکمل اور غیر متزلزل یکجہتی کے ساتھ کھڑے ہیں اور اس کی سلامتی، خودمختاری اور استحکام کو نشانہ بنانے والے کسی بھی خطرے کا مقابلہ کرنے میں اس کے شانہ بشانہ ہیں۔

انہوں نے جی سی سی رکن ممالک کی جانب سے سعودی عرب کے ان تمام اقدامات کی حمایت کا اعادہ بھی کیا جو وہ اپنی سرزمین، شہریوں اور رہائشیوں کے تحفظ اور اپنے قومی وسائل اور اہم تنصیبات کی حفاظت کے لیے کرتا ہے۔

یہ مذمت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کے واقعات پر تشویش بڑھ رہی ہے۔ کیا ہوائی اڈوں اور تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنانا بین الاقوامی اصولوں کی صریح خلاف ورزی نہیں؟ کیا شہریوں کی جان و مال کی حفاظت ہر ریاست کی بنیادی ذمہ داری نہیں؟

خلیجی یکجہتی اور سعودی عرب کے دفاعی اقدامات

جی سی سی کے سیکرٹری جنرل کا بیان خلیجی تعاون کونسل کے اس موقف کا تسلسل ہے جس میں رکن ممالک کی اجتماعی سلامتی کو اہمیت دی جاتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سعودی عرب کی سلامتی کو نشانہ بنانے والا کوئی بھی اقدام خلیجی تعاون کونسل کے تمام رکن ممالک کے لیے تشویش کا باعث ہے۔

کیا خلیجی ممالک کی مشترکہ سلامتی کا تصور اسی قسم کے خطرات کے مقابلے میں مزید مضبوط ہو رہا ہے؟ کیا ایسے حملے خطے میں تعاون کے نئے راستے کھولتے ہیں یا مزید پیچیدگیاں پیدا کرتے ہیں؟

البدیوی نے زور دیا کہ جی سی سی ممالک سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہیں اور اس کے تمام اقدامات کی حمایت کرتے ہیں جو وہ اپنی سرزمین، شہریوں اور رہائشیوں کے تحفظ کے لیے کرتا ہے۔ انہوں نے قومی وسائل اور اہم تنصیبات کی حفاظت کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔

کنگ فہد انٹرنیشنل ایئرپورٹ دمام کا اہم ترین ہوائی اڈہ ہے جو مشرقی صوبے اور خلیجی خطے کے لیے فضائی رابطے کا مرکز ہے۔ شیبہ آئل فیلڈ مشرقی علاقے میں واقع ہے اور سعودی عرب کے تیل کے ذخائر میں اہم مقام رکھتا ہے۔ کیا ان تنصیبات کو نشانہ بنانے کا مقصد خطے کی معیشت کو نقصان پہنچانا نہیں؟

ایس پی اے کے مطابق ان حملوں کے نتیجے میں ہلاکتیں اور زخم آئے جبکہ نشانہ بننے والی شہری تنصیبات کو مادی نقصان بھی پہنچا۔ رپورٹ میں ہلاکتوں یا زخمیوں کی تعداد، نقصان کی مالیت یا حملوں کے طریقہ کار کی تفصیل نہیں دی گئی۔

کیا شہری تنصیبات پر حملے خطے میں ہوائی سفر اور توانائی کی فراہمی کو متاثر کر سکتے ہیں؟ کیا بین الاقوامی برادری کو ایسے واقعات پر مزید واضح موقف اختیار کرنا چاہیے؟

جی سی سی کے سیکرٹری جنرل نے حوثی ملیشیا کے رویے کو مجرمانہ قرار دیا اور کہا کہ یہ شہریوں اور اہم تنصیبات کو نشانہ بنانے کے سلسلے کا حصہ ہے۔ ان کا بیان سعودی عرب کی خودمختاری اور استحکام کے تحفظ کے لیے خلیجی ممالک کی حمایت کا اعادہ کرتا ہے۔

یہ بیان سعودی عرب کی جانب سے اپنے دفاع اور اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات کی خلیجی حمایت کو بھی ظاہر کرتا ہے۔ کیا خلیجی تعاون کونسل کے رکن ممالک کی متحد آواز خطے میں استحکام کے لیے ایک مضبوط پیغام نہیں؟

ایس پی اے کی رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ حملے کس وقت ہوئے، کس ذریعے سے کیے گئے، یا ان کے نتیجے میں ہونے والے نقصان کی تفصیلات کیا ہیں۔ رپورٹ میں مزید بین الاقوامی ردعمل کا بھی ذکر نہیں ہے۔

جی سی سی کے سیکرٹری جنرل نے کن حملوں کی مذمت کی؟ جی سی سی کے سیکرٹری جنرل جاسم البدیوی نے دمام کے کنگ فہد انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور مشرقی علاقے کے شیبہ آئل فیلڈ پر حوثی ملیشیا کے دو حملوں کی شدید مذمت کی۔ ایس پی اے کے مطابق ان حملوں میں ہلاکتیں اور زخم آئے اور شہری تنصیبات کو مادی نقصان پہنچا۔ رپورٹ میں ہلاکتوں کی تعداد یا نقصان کی تفصیل نہیں دی گئی۔

البدیوی نے حوثی حملوں کو کیسے بیان کیا؟ البدیوی نے ان حملوں کو بزدلانہ قرار دیا اور کہا کہ یہ حوثی ملیشیا کے شہریوں اور اہم تنصیبات کو نشانہ بنانے کے مجرمانہ رویے کی تسلسل کو ظاہر کرتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ یہ حملے شہریوں اور اہم تنصیبات کو نشانہ بنانے کی پالیسی کا حصہ ہیں۔ ایس پی اے نے ان کے بیان کے یہی نکات نقل کیے ہیں۔

جی سی سی ممالک نے سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیسے کیا؟ البدیوی نے کہا کہ جی سی سی ممالک سعودی عرب کے ساتھ مکمل اور غیر متزلزل یکجہتی کے ساتھ کھڑے ہیں اور اس کی سلامتی، خودمختاری اور استحکام کو نشانہ بنانے والے کسی بھی خطرے کا مقابلہ کرنے میں اس کے شانہ بشانہ ہیں۔ انہوں نے سعودی عرب کے ان تمام اقدامات کی حمایت کا اعادہ کیا جو وہ اپنی سرزمین، شہریوں اور رہائشیوں کے تحفظ کے لیے کرتا ہے۔

کنگ فہد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی اہمیت کیا ہے؟ کنگ فہد انٹرنیشنل ایئرپورٹ دمام کا اہم ترین ہوائی اڈہ ہے جو مشرقی صوبے اور خلیجی خطے کے لیے فضائی رابطے کا مرکز ہے۔ ایس پی اے کے مطابق یہ شہری تنصیب حوثی حملے کا نشانہ بنی جس میں مادی نقصان پہنچا۔ رپورٹ میں ہوائی اڈے کی کارروائیوں پر اثرات کی تفصیل نہیں دی گئی۔

شیبہ آئل فیلڈ کہاں واقع ہے اور کیوں اہم ہے؟ شیبہ آئل فیلڈ سعودی عرب کے مشرقی علاقے میں واقع ہے اور سعودی عرب کے تیل کے ذخائر میں اہم مقام رکھتا ہے۔ ایس پی اے کے مطابق یہ بھی حوثی حملے کا نشانہ بنا۔ رپورٹ میں تیل کی پیداوار یا برآمدات پر اثرات کی کوئی تفصیل نہیں دی گئی، نہ ہی نقصان کی مالیت بتائی گئی۔

ایس پی اے کی رپورٹ میں کون سی تفصیلات شامل نہیں ہیں؟ ایس پی اے کی رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ حملے کس وقت ہوئے، کس ذریعے سے کیے گئے، یا ان کے نتیجے میں ہونے والے نقصان کی تفصیلات کیا ہیں۔ ہلاکتوں یا زخمیوں کی تعداد بھی درج نہیں۔ رپورٹ میں مزید بین الاقوامی ردعمل کا بھی ذکر نہیں ہے، صرف جی سی سی کے سیکرٹری جنرل کا بیان شامل ہے۔