Friday, October 23, 2026
سعودی خبریں

اقوام متحدہ کے سربراہ نے سعودی عرب پر حوثی حملوں پر تشویش کا اظہار کیا

اقوام متحدہ کے سربراہ نے سعودی عرب پر حوثی حملوں پر تشویش کا اظہار کیا

نیویارک میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے سعودی عرب میں شہری اہداف پر حوثی حملوں کے جاری رہنے اور یمن کے علاقے تعز کے نواحی علاقوں میں دشمنی کے بڑھنے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 22 اکتوبر 2026 کو بیان کیا، گوتریس نے نیویارک میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ پیش رفت شہریوں میں بے پناہ تکلیف کا باعث بن رہی ہے اور خطے میں کشیدگی بڑھا رہی ہے۔

انہوں نے گھروں، ہسپتالوں، اسکولوں، ہوائی اڈوں اور توانائی کی سہولیات پر حملوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔ کیا شہریوں کی زندگیوں کو نشانہ بنانا کسی بھی مقصد کا جواز بن سکتا ہے؟

گوتریس نے خبردار کیا کہ بڑھتے ہوئے تنازعات انسانی مصائب کو مزید گہرا کرتے ہیں، جس کے اثرات توانائی کی منڈیوں، سپلائی چینز اور مالیاتی نظاموں پر پڑتے ہیں اور دنیا بھر میں زندگی کی لاگت کے دباؤ میں اضافہ ہوتا ہے۔

اقوام متحدہ کے سربراہ نے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور یمن میں سیاسی راستہ اختیار کرنے کی اپیل کی اور اس سلسلے میں اقوام متحدہ کی کوششوں کی طرف اشارہ کیا۔ کیا خطے میں مستقل امن کے لیے فوجی راستے کے بجائے مذاکرات ہی واحد قابل عمل حل ہیں؟

انہوں نے لڑائی کے خاتمے، بین الاقوامی قانون کے احترام، شہریوں کے تحفظ اور بین الاقوامی بحری نقل و حمل کے حقوق اور آزادیوں کے تحفظ کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

گوتریس کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سعودی عرب میں شہری اہداف کو نشانہ بنانے والے حملوں کے تسلسل پر بین الاقوامی سطح پر تشویش بڑھ رہی ہے۔ کیا بین الاقوامی برادری ان حملوں کو روکنے کے لیے ٹھوس اقدامات کر رہی ہے؟

اقوام متحدہ کے سربراہ نے توانائی کی سہولیات کا ذکر کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ تنازعات کے اثرات صرف میدان جنگ تک محدود نہیں رہتے بلکہ عالمی معیشت تک پہنچتے ہیں۔ کیا توانائی کی منڈیوں میں عدم استحکام عام شہریوں کی روزمرہ زندگی کو متاثر نہیں کرتا؟

انہوں نے یمن کے علاقے تعز کے نواحی علاقوں میں دشمنی کے بڑھنے کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ یہ صورتحال شہریوں کے لیے مزید مصائب پیدا کر رہی ہے۔ کیا یمن کے عوام کو مزید طویل تنازعے کا بوجھ اٹھانا پڑے گا؟

گوتریس نے بین الاقوامی بحری نقل و حمل کے حقوق اور آزادیوں کے تحفظ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ان اصولوں کا احترام ضروری ہے۔ کیا بحری راستوں کی حفاظت کے بغیر عالمی تجارت کا تسلسل ممکن ہے؟

اقوام متحدہ کے سربراہ نے شہریوں کے تحفظ اور بین الاقوامی قانون کے احترام کو اپنی اپیل کا مرکزی نکتہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ یمن میں سیاسی راستے کے قیام کے لیے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ کیا سیاسی حل کے بغیر شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکتا ہے؟

انہوں نے خبردار کیا کہ بڑھتی ہوئی کشیدگی خطے میں مزید عدم استحکام کا سبب بن سکتی ہے اور اس کے اثرات عالمی سطح پر محسوس کیے جائیں گے۔ کیا خطے کے ممالک کو اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت نہیں؟

گوتریس نے اپنے بیان میں گھروں، ہسپتالوں، اسکولوں، ہوائی اڈوں اور توانائی کی سہولیات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان پر حملے روکنے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ شہریوں کو نشانہ بنانے سے انسانی بحران مزید گہرا ہوتا ہے۔

اقوام متحدہ کے سربراہ نے یمن میں لڑائی کے خاتمے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تنازعے کا کوئی فوجی حل نہیں ہے اور سیاسی راستہ ہی پائیدار امن کی ضمانت دے سکتا ہے۔ کیا تنازعات کے خاتمے کے لیے بین الاقوامی دباؤ کافی ہے؟

انہوں نے کہا کہ تنازعات کے اثرات سپلائی چینز اور مالیاتی نظاموں پر بھی پڑتے ہیں، جس سے دنیا بھر میں زندگی کی لاگت کے دباؤ میں اضافہ ہوتا ہے۔ کیا عالمی معیشت خطے میں عدم استحکام کا بوجھ مزید اٹھا سکتی ہے؟

گوتریس نے بین الاقوامی قانون کے احترام اور شہریوں کے تحفظ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ان اصولوں پر عمل درآمد ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ اس سلسلے میں اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔

اقوام متحدہ کے سربراہ کا یہ بیان نیویارک میں صحافیوں سے بات چیت کے دوران سامنے آیا، جہاں انہوں نے سعودی عرب میں شہری اہداف پر حملوں کے تسلسل اور یمن کے علاقے تعز کے نواحی علاقوں میں دشمنی کے بڑھنے پر تشویش کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ یہ پیش رفت شہریوں میں بے پناہ تکلیف کا باعث بن رہی ہے اور خطے میں کشیدگی کو بڑھا رہی ہے، جس کے اثرات صرف مقامی سطح تک محدود نہیں رہتے۔ کیا بین الاقوامی برادری کو انسانی مصائب کے خاتمے کے لیے مزید ٹھوس اقدامات کرنے چاہئیں؟

گوتریس نے تحمل کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ یمن میں سیاسی راستہ اختیار کرنا ضروری ہے اور اقوام متحدہ اس سلسلے میں کوششیں کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ لڑائی کا خاتمہ، بین الاقوامی قانون کا احترام، شہریوں کا تحفظ اور بین الاقوامی بحری نقل و حمل کے حقوق اور آزادیوں کا تحفظ ضروری ہے۔

رپورٹ میں ان حملوں کی تفصیلات، متاثرین کی تعداد، نقصان کی مقدار یا کسی مخصوص جگہ کا ذکر نہیں کیا گیا، اور نہ ہی یمن میں تعز کے نواحی علاقوں میں دشمنی کے بڑھنے کی وجوہات بیان کی گئی ہیں۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کس پیش رفت پر تشویش کا اظہار کیا؟ انتونیو گوتریس نے سعودی عرب میں شہری اہداف پر حوثی حملوں کے تسلسل اور یمن کے علاقے تعز کے نواحی علاقوں میں دشمنی کے بڑھنے پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پیش رفت شہریوں میں بے پناہ تکلیف کا باعث بن رہی ہے اور خطے میں کشیدگی بڑھا رہی ہے۔ ایس پی اے کے مطابق انہوں نے یہ بات نیویارک میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔

گوتریس نے کن مقامات پر حملوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا؟ گوتریس نے گھروں، ہسپتالوں، اسکولوں، ہوائی اڈوں اور توانائی کی سہولیات پر حملوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ شہریوں کو نشانہ بنانے سے انسانی مصائب مزید گہرے ہوتے ہیں۔ انہوں نے بین الاقوامی قانون کے احترام اور شہریوں کے تحفظ پر بھی زور دیا۔ ایس پی اے کی رپورٹ میں ان حملوں کی مزید تفصیلات نہیں دی گئیں۔

گوتریس کے مطابق تنازعات کے کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں؟ گوتریس نے خبردار کیا کہ بڑھتے ہوئے تنازعات انسانی مصائب کو مزید گہرا کرتے ہیں، جس کے اثرات توانائی کی منڈیوں، سپلائی چینز اور مالیاتی نظاموں پر پڑتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سے دنیا بھر میں زندگی کی لاگت کے دباؤ میں اضافہ ہوتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ پیش رفت خطے میں کشیدگی بڑھا رہی ہے۔

گوتریس نے یمن کے حوالے سے کیا اپیل کی؟ گوتریس نے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور یمن میں سیاسی راستہ اختیار کرنے کی اپیل کی اور اس سلسلے میں اقوام متحدہ کی کوششوں کی طرف اشارہ کیا۔ انہوں نے لڑائی کے خاتمے، بین الاقوامی قانون کے احترام، شہریوں کے تحفظ اور بین الاقوامی بحری نقل و حمل کے حقوق اور آزادیوں کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیا۔ ایس پی اے کے مطابق انہوں نے یہ بات نیویارک میں کہی۔

گوتریس نے بین الاقوامی بحری نقل و حمل کے بارے میں کیا کہا؟ گوتریس نے بین الاقوامی بحری نقل و حمل کے حقوق اور آزادیوں کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی قانون کا احترام اور شہریوں کا تحفظ ضروری ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ تنازعات کے اثرات سپلائی چینز پر پڑتے ہیں، جس سے عالمی معیشت متاثر ہوتی ہے۔ ایس پی اے کی رپورٹ میں بحری راستوں سے متعلق مزید تفصیلات نہیں دی گئیں۔

یہ بیان کب اور کہاں دیا گیا؟ ایس پی اے کے مطابق یہ بیان 22 اکتوبر 2026 کو نیویارک میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران دیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق یہ مقامی وقت کے مطابق 20:49 اور جی ایم ٹی کے مطابق 17:49 پر جاری کیا گیا۔ گوتریس نے اس موقع پر سعودی عرب میں شہری اہداف پر حملوں اور یمن کے علاقے تعز کے نواحی علاقوں میں دشمنی کے بڑھنے پر تشویش کا اظہار کیا۔