الباحہ ریجن میونسپلٹی کے زیرِ عمل الباحہ گرین انیشیٹو نے 25 ملین سعودی ریال سے زائد کی معاشی واپسی حاصل کی ہے اور گلف کوآپریشن کونسل (جی سی سی) میونسپل ورک ایوارڈ کے چھٹے ایڈیشن (2025-2026) میں پہلی پوزیشن حاصل کی ہے۔ یہ ایوارڈ جی سی سی کے تمام رکن ممالک میں پودوں کی افزائش، کمیونٹی شراکت، شہری منظر نامے کی بہتری اور ماحولیاتی پائیداری کے میدان میں بہترین کارکردگی پر دیا گیا۔
جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 23 اکتوبر 2026 کو بیان کیا، الباحہ گرین انیشیٹو کو جی سی سی ریاستوں میں اول انعام ملا۔ یہ اعزاز اس اقدام کو ماحولیاتی اور سماجی شعبوں میں اس کی جامع کارکردگی پر ملا، جس نے خطے میں سبزے کی توسیع اور معیارِ زندگی کی بہتری کے لیے ایک نمونہ قائم کیا۔
کیا آپ جانتے ہیں کہ ایک علاقائی میونسپل منصوبہ کس طرح پورے خلیجی خطے میں پہچانا جاتا ہے؟ الباحہ گرین انیشیٹو نے یہ مقام اپنی منظم حکمت عملی، وسیع شراکت داریوں اور عوامی شرکت کے ذریعے حاصل کیا۔ میونسپلٹی نے مقامی حکومتی اداروں، غیر منافع بخش تنظیموں اور کمیونٹی ارکان کے ساتھ وسیع بین شعبہ جاتی شراکت داریاں قائم کیں تاکہ شجرکاری کی کوششوں کو تیز کیا جا سکے اور علاقائی معیارِ زندگی کو بہتر بنایا جا سکے۔
اس مہم نے 10,150 رضاکاروں کو متحرک کیا، جن میں 3,600 بنیادی عملہ شامل تھا۔ یہ رضاکار 535 رضاکارانہ مواقع میں شامل ہوئے اور 84,500 رضاکارانہ گھنٹے مکمل کیے۔ اس کے علاوہ 151 شراکت داری معاہدے اور 70 مفاہمت نامے قائم کیے گئے، جس سے اس اقدام کے سماجی اثرات کے اشاریے میں 20 فیصد اضافہ ہوا۔ کیا آپ تصور کر سکتے ہیں کہ 84,500 رضاکارانہ گھنٹے کسی علاقے کی فضا اور معاشرے پر کیا اثر ڈال سکتے ہیں؟
اب تک اس پروگرام کے تحت 143 عوامی پارکوں میں دس لاکھ سے زائد زیادہ تر مقامی درخت، جھاڑیاں اور پھول لگائے جا چکے ہیں۔ اس کے علاوہ سعودی گرین انیشیٹو کی معاونت کے لیے 52,000 درخت لگائے گئے اور سڑکوں اور پیدل چلنے کے راستوں کے ساتھ 12 لاکھ 50 ہزار مربع میٹر سے زائد سبز راہداریاں بنائی گئیں۔ کیا یہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ شہری منظر نامے کی بہتری کس طرح ماحولیاتی توازن سے جڑی ہوئی ہے؟
ماحولیاتی محاذ پر اس اقدام نے نائٹروجن آکسائیڈ کے اخراج میں 20 فیصد کمی حاصل کی، سالانہ تقریباً 10,600 سے 18,600 ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کے حصول کو ممکن بنایا اور علاقائی فضائی معیار میں 7 سے 10 فیصد بہتری پیدا کی، جو زیادہ کثافت والے سبز علاقوں کے قریب 20 فیصد تک پہنچ گئی۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ درخت صرف خوبصورتی نہیں بلکہ صحت کا بھی تحفظ کرتے ہیں؟
وسائل کے انتظام میں میونسپلٹی نے پانی کی اعلیٰ پائیداری حاصل کی۔ آبپاشی کی 75 فیصد ضروریات کو ٹریٹڈ پانی سے پورا کیا گیا اور سمارٹ آبپاشی نیٹ ورکس کے ذریعے تازہ پانی کے استعمال میں 40 فیصد کمی کی گئی۔ یہ خودکار نظام ایک مرکزی اثاثہ جات کے انتظام کے پلیٹ فارم اور ماحولیاتی معیار کے پورٹل سے جڑے ہوئے ہیں، جو پیش گوئی پر مبنی دیکھ بھال اور موسم کے مطابق متحرک ایڈجسٹمنٹ کو 97 فیصد درستگی کے ساتھ ممکن بناتے ہیں۔ کیا یہ ٹیکنالوجی خشک علاقوں میں پانی کے بحران کا حل پیش کر سکتی ہے؟
الباحہ ریجن کے میئر ڈاکٹر علی السوات نے اس اقدام کی کامیابی پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ یہ اعزاز ٹیم ورک اور کمیونٹی کی شرکت کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ میونسپلٹی نے مقامی حکومتی اداروں، غیر منافع بخش تنظیموں اور کمیونٹی ارکان کے ساتھ مل کر شجرکاری کو تیز کیا اور علاقے کے معیارِ زندگی کو بہتر بنایا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ کامیابی سعودی گرین انیشیٹو کے اہداف کے ساتھ ہم آہنگ ہے اور مملکت کے وژن 2030 کے تحت ماحولیاتی پائیداری کی کوششوں کو تقویت دیتی ہے۔
یہ اقدام سعودی گرین انیشیٹو کے تحت چلنے والے وسیع تر قومی پروگرام کا حصہ ہے، جس کا مقصد مملکت بھر میں 10 بلین درخت لگانا ہے۔ الباحہ گرین انیشیٹو نے 52,000 درختوں کے ذریعے اس قومی ہدف میں اپنا حصہ ڈالا ہے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ سعودی گرین انیشیٹو کا مقصد مملکت کے 10 بلین درختوں کے منصوبے کا حصہ ہے؟
اس اقدام کی کامیابی کی ایک اہم وجہ اس کی جامع حکمت عملی ہے جو صرف درخت لگانے تک محدود نہیں بلکہ پانی کے موثر استعمال، فضائی معیار کی بہتری اور سماجی شراکت کو بھی شامل کرتی ہے۔ 151 شراکت داری معاہدوں اور 70 مفاہمت ناموں نے اس بات کو یقینی بنایا کہ مختلف شعبے مل کر کام کریں۔ کیا یہ ماڈل دوسرے شہروں کے لیے قابلِ نقل ہے؟
میونسپلٹی نے 535 رضاکارانہ مواقع کے ذریعے عوام کو براہِ راست اس مہم سے جوڑا۔ 3,600 بنیادی عملے کی شمولیت نے اس بات کو یقینی بنایا کہ منصوبہ بندی سے لے کر عمل درآمد تک ہر مرحلے پر ماہرین موجود رہیں۔ 84,500 رضاکارانہ گھنٹوں کا مطلب ہے کہ کمیونٹی نے اس اقدام کو اپنا سماجی مشن سمجھا۔ کیا آپ کے خیال میں رضاکارانہ شرکت کسی بھی ماحولیاتی منصوبے کی کامیابی کی کلید ہے؟
فضائی معیار میں 7 سے 10 فیصد بہتری اور زیادہ کثافت والے علاقوں میں 20 فیصد تک بہتری اس بات کا ثبوت ہے کہ سبز پٹیاں شہری ماحول پر براہِ راست اثر ڈالتی ہیں۔ نائٹروجن آکسائیڈ میں 20 فیصد کمی نے صحت عامہ کے لیے اہم فوائد فراہم کیے ہیں۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ نائٹروجن آکسائیڈ کا اخراج سانس کی بیماریوں سے جڑا ہوا ہے؟
پانی کے شعبے میں 75 فیصد آبپاشی ٹریٹڈ پانی سے پوری کرنا اور تازہ پانی کے استعمال میں 40 فیصد کمی ایک اہم کامیابی ہے، خاص طور پر ایسے خطے میں جہاں پانی کی قلت ایک مستقل چیلنج ہے۔ سمارٹ آبپاشی نیٹ ورکس کی 97 فیصد درستگی اور موسم کے مطابق خودکار ایڈجسٹمنٹ نے پانی کے ضیاع کو کم کیا۔ کیا یہ نظام مملکت کے دیگر خشک علاقوں میں بھی اپنایا جا سکتا ہے؟
الباحہ گرین انیشیٹو کی کامیابی جی سی سی میونسپل ورک ایوارڈ کے چھٹے ایڈیشن میں پہلی پوزیشن کی صورت میں سامنے آئی، جہاں اس نے خلیجی ریاستوں کے دیگر منصوبوں کو پیچھے چھوڑا۔ یہ ایوارڈ پودوں کی افزائش، کمیونٹی شراکت، شہری منظر نامے کی بہتری اور ماحولیاتی پائیداری کے معیارات پر دیا گیا۔ کیا یہ اعزاز سعودی عرب کی ماحولیاتی قیادت کا عکاس ہے؟
میئر ڈاکٹر علی السوات نے اس موقع پر کہا کہ یہ کامیابی اجتماعی کوششوں کا نتیجہ ہے اور اس سے علاقے میں مزید سبز منصوبوں کی راہ ہموار ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ میونسپلٹی اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر آنے والے سالوں میں بھی ان کوششوں کو جاری رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام مملکت کے وژن 2030 کے ماحولیاتی اہداف کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔
ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق اس اقدام نے 143 عوامی پارکوں میں درخت لگائے، 12 لاکھ 50 ہزار مربع میٹر سبز راہداریاں بنائیں اور 52,000 درخت سعودی گرین انیشیٹو کے تحت لگائے۔ رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ منصوبہ کب شروع ہوا، اس کی کل لاگت کتنی تھی، یا آنے والے سالوں میں کتنے درخت مزید لگائے جائیں گے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ اس طرح کے منصوبوں کی طویل مدتی نگرانی کیسے کی جاتی ہے؟
اس اقدام کی کامیابی کی ایک اور وجہ اس کا سماجی اثرات کے اشاریے میں 20 فیصد اضافہ ہے، جو ظاہر کرتا ہے کہ ماحولیاتی منصوبے معاشرتی ہم آہنگی کو بھی فروغ دیتے ہیں۔ 10,150 رضاکاروں کی شمولیت نے کمیونٹی میں ملکیت کا احساس پیدا کیا۔ کیا آپ کے خیال میں عوامی شرکت کے بغیر کوئی ماحولیاتی منصوبہ کامیاب ہو سکتا ہے؟
ماحولیاتی پائیداری کے میدان میں یہ اقدام ایک نمونہ ہے، جس نے نہ صرف درخت لگائے بلکہ پانی کے استعمال کو بہتر بنایا، فضائی معیار کو بہتر کیا اور کاربن کے حصول کو ممکن بنایا۔ سالانہ 10,600 سے 18,600 ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کا حصول مملکت کے کاربن کے اخراج کو کم کرنے کے ہدف میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ کیا یہ اعداد و شمار ماحولیاتی تبدیلی کے خلاف عالمی کوششوں میں سعودی عرب کے کردار کو ظاہر کرتے ہیں؟
الباحہ گرین انیشیٹو نے یہ ثابت کیا کہ مقامی سطح پر کی گئی کوششیں بین الاقوامی سطح پر تسلیم کی جا سکتی ہیں۔ جی سی سی میونسپل ورک ایوارڈ میں پہلی پوزیشن اس بات کا ثبوت ہے کہ مملکت کے شہری منصوبے خطے میں قائدانہ کردار ادا کر رہے ہیں۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ جی سی سی میونسپل ورک ایوارڈ کس بنیاد پر دیا جاتا ہے؟
اس اقدام کے تحت 151 شراکت داری معاہدے اور 70 مفاہمت نامے قائم کیے گئے، جو مختلف اداروں کے ساتھ تعاون کی مضبوطی کو ظاہر کرتے ہیں۔ یہ شراکت داریاں مقامی حکومتی اداروں، غیر منافع بخش تنظیموں اور کمیونٹی ارکان کے ساتھ کی گئیں۔ کیا یہ ماڈل دوسرے علاقوں میں بھی اپنایا جا سکتا ہے؟
ایس پی اے کی رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اس اقدام کے تحت لگائے گئے درختوں میں کون سی اقسام شامل ہیں، ان کی دیکھ بھال کا نظام کیا ہے، یا آنے والے برسوں میں کتنے نئے پارک بنائے جائیں گے۔ رپورٹ میں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ 25 ملین ریال کی معاشی واپسی کس شعبے سے حاصل ہوئی۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ اس طرح کے منصوبوں کی معاشی واپسی کی پیمائش کیسے کی جاتی ہے؟
مجموعی طور پر الباحہ گرین انیشیٹو نے ماحولیاتی، سماجی اور معاشی تینوں محاذوں پر کامیابی حاصل کی۔ 25 ملین ریال کی معاشی واپسی، 20 فیصد سماجی اثرات میں اضافہ، اور ماحولیاتی فوائد اس بات کا ثبوت ہیں کہ پائیدار ترقی ممکن ہے۔ کیا یہ کامیابی مملکت کے دیگر شہری منصوبوں کے لیے ایک مثال قائم کرتی ہے؟
الباحہ گرین انیشیٹو نے کون سا ایوارڈ جیتا؟ اس اقدام نے گلف کوآپریشن کونسل (جی سی سی) میونسپل ورک ایوارڈ کے چھٹے ایڈیشن (2025-2026) میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔ یہ ایوارڈ جی سی سی کے تمام رکن ممالک میں پودوں کی افزائش، کمیونٹی شراکت، شہری منظر نامے کی بہتری اور ماحولیاتی پائیداری کے میدان میں بہترین کارکردگی پر دیا گیا۔ ایس پی اے کے مطابق یہ اعزاز الباحہ ریجن میونسپلٹی کے زیرِ عمل اس اقدام کو ملا۔
اس اقدام نے کتنی معاشی واپسی حاصل کی؟ الباحہ گرین انیشیٹو نے 25 ملین سعودی ریال سے زائد کی معاشی واپسی حاصل کی۔ یہ رقم اس بات کا ثبوت ہے کہ ماحولیاتی منصوبے معاشی طور پر بھی فائدہ مند ہو سکتے ہیں۔ ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق اس اقدام نے سماجی اثرات کے اشاریے میں بھی 20 فیصد اضافہ کیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کے فوائد صرف معاشی نہیں بلکہ سماجی بھی ہیں۔
اس اقدام میں کتنے رضاکاروں نے حصہ لیا؟ اس مہم نے 10,150 رضاکاروں کو متحرک کیا، جن میں 3,600 بنیادی عملہ شامل تھا۔ یہ رضاکار 535 رضاکارانہ مواقع میں شامل ہوئے اور 84,500 رضاکارانہ گھنٹے مکمل کیے۔ ایس پی اے کے مطابق اس کے علاوہ 151 شراکت داری معاہدے اور 70 مفاہمت نامے قائم کیے گئے، جس سے اس اقدام کے سماجی اثرات کے اشاریے میں 20 فیصد اضافہ ہوا۔
کیا ماحولیاتی فوائد حاصل ہوئے؟ جی ہاں، اس اقدام نے نائٹروجن آکسائیڈ کے اخراج میں 20 فیصد کمی حاصل کی اور سالانہ تقریباً 10,600 سے 18,600 ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کے حصول کو ممکن بنایا۔ اس نے علاقائی فضائی معیار میں 7 سے 10 فیصد بہتری پیدا کی، جو زیادہ کثافت والے سبز علاقوں کے قریب 20 فیصد تک پہنچ گئی۔ ایس پی اے کے مطابق یہ فوائد درختوں کی بڑی تعداد میں شجرکاری کا نتیجہ ہیں۔
پانی کے استعمال میں کیا بہتری آئی؟ میونسپلٹی نے آبپاشی کی 75 فیصد ضروریات کو ٹریٹڈ پانی سے پورا کیا اور سمارٹ آبپاشی نیٹ ورکس کے ذریعے تازہ پانی کے استعمال میں 40 فیصد کمی کی۔ یہ خودکار نظام ایک مرکزی اثاثہ جات کے انتظام کے پلیٹ فارم اور ماحولیاتی معیار کے پورٹل سے جڑے ہوئے ہیں، جو پیش گوئی پر مبنی دیکھ بھال اور موسم کے مطابق متحرک ایڈجسٹمنٹ کو 97 فیصد درستگی کے ساتھ ممکن بناتے ہیں۔
کتنے درخت لگائے گئے اور کہاں؟ اب تک اس پروگرام کے تحت 143 عوامی پارکوں میں دس لاکھ سے زائد زیادہ تر مقامی درخت، جھاڑیاں اور پھول لگائے جا چکے ہیں۔ اس کے علاوہ سعودی گرین انیشیٹو کی معاونت کے لیے 52,000 درخت لگائے گئے اور سڑکوں اور پیدل چلنے کے راستوں کے ساتھ 12 لاکھ 50 ہزار مربع میٹر سے زائد سبز راہداریاں بنائی گئیں۔ ایس پی اے کے مطابق یہ اعداد و شمار اس اقدام کی وسیع پیمانے پر کامیابی کو ظاہر کرتے ہیں۔