ترائف میں ہفتہ کے روز دوپہر ایک بجے سے رات نو بجے تک بارش، تیز ہواؤں، افقی حد نگاہ میں کمی اور گرج چمک کے ساتھ بجلی گرنے کا امکان ہے۔ نیشنل سینٹر فار میٹرولوجی (این سی ایم) نے یہ وارننگ ایک روز قبل جاری کی، جس کا اطلاق ترائف گورنریٹ اور شمالی سرحدی علاقے پر ہوگا۔
جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے بیان کیا، این سی ایم نے اپنی وارننگ میں بارش کے ساتھ تیز ہواؤں، افقی حد نگاہ میں کمی اور گرج چمک کے ساتھ بجلی گرنے کا ذکر کیا۔ یہ وارننگ ایک روز قبل جاری کی گئی تھی، جبکہ موسمی اثرات ہفتہ کے روز متوقع ہیں۔
کیا آپ جانتے ہیں کہ ترائف گورنریٹ میں موسمی تبدیلی کا یہ سلسلہ کس طرح علاقے کی روزمرہ زندگی کو متاثر کر سکتا ہے؟ این سی ایم کے مطابق بارش کا آغاز ہفتہ کے روز دوپہر ایک بجے ہوگا اور یہ سلسلہ رات نو بجے تک جاری رہے گا۔ اس دوران تیز ہوائیں چلنے، افقی حد نگاہ کم ہونے اور گرج چمک کے ساتھ بجلی گرنے کے امکانات شامل ہیں۔
شمالی سرحدی علاقہ سعودی عرب کے شمالی حصے میں واقع ہے اور ترائف اس کا ایک اہم گورنریٹ ہے۔ یہاں موسم سرما اور خزاں کے دوران ایسی موسمی کیفیتیں عام طور پر دیکھنے کو ملتی ہیں، جب ہوا کے دباؤ میں تبدیلی کے باعث بادلوں کی تشکیل ہوتی ہے اور بارش کے ساتھ تیز ہوائیں چلتی ہیں۔
کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ افقی حد نگاہ میں کمی کا مطلب کیا ہوتا ہے؟ اس کا مطلب یہ ہے کہ فضا میں گرد و غبار، بارش یا دیگر ذرات کی وجہ سے دور کی اشیاء واضح طور پر نظر نہیں آتیں۔ ایسی صورتحال میں سڑکوں پر گاڑی چلانا یا کھلے میدانوں میں کام کرنا خطرناک ہو سکتا ہے۔
این سی ایم نے اپنی وارننگ میں واضح طور پر بتایا کہ یہ موسمی کیفیت ترائف گورنریٹ میں ہفتہ کے روز دوپہر ایک بجے سے شروع ہوگی اور رات نو بجے تک جاری رہے گی۔ اس دوران بارش کے ساتھ تیز ہوائیں، افقی حد نگاہ میں کمی اور گرج چمک کے ساتھ بجلی گرنے کے امکانات موجود ہیں۔
کیا آپ جانتے ہیں کہ گرج چمک کے ساتھ بجلی گرنے کا مطلب کیا ہے؟ یہ ایک موسمی مظہر ہے جس میں بادلوں کے درمیان یا بادل اور زمین کے درمیان بجلی کی چمک پیدا ہوتی ہے، جس کے ساتھ گرج کی آواز آتی ہے۔ ایسی صورتحال میں کھلے میدانوں، درختوں کے نیچے یا بلند مقامات پر رہنے سے گریز کرنا چاہیے۔
شمالی سرحدی علاقے میں اس طرح کی موسمی وارننگز عام طور پر موسمی تبدیلیوں کے دوران جاری کی جاتی ہیں۔ این سی ایم کا یہ اقدام علاقے کے رہائشیوں، مسافروں اور مقامی انتظامیہ کو پیشگی اطلاع فراہم کرنے کے لیے ہے تاکہ وہ احتیاطی تدابیر اختیار کر سکیں۔
کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ موسمی وارننگ کا وقت اور دورانیہ کیوں اہم ہوتا ہے؟ این سی ایم نے اس وارننگ میں واضح طور پر وقت کا تعین کیا ہے: ہفتہ کے روز دوپہر ایک بجے سے رات نو بجے تک۔ اس سے متاثرہ علاقے کے لوگ اپنے روزمرہ کے کاموں کی منصوبہ بندی کر سکتے ہیں اور ضروری احتیاطی تدابیر اختیار کر سکتے ہیں۔
ترائف گورنریٹ شمالی سرحدی علاقے کا حصہ ہے اور یہاں کی آبادی مختلف دیہاتوں اور قصبوں میں پھیلی ہوئی ہے۔ موسمی وارننگز کے جاری ہونے پر مقامی حکام عام طور پر سڑکوں کی صورتحال، بجلی کی فراہمی اور ہنگامی خدمات کی تیاری کا جائزہ لیتے ہیں۔
کیا آپ جانتے ہیں کہ تیز ہوائیں کس طرح افقی حد نگاہ کو متاثر کرتی ہیں؟ تیز ہوائیں مٹی، گرد و غبار اور دیگر ذرات کو فضا میں اٹھا کر پھیلا دیتی ہیں، جس سے دور کی اشیاء دھندلی نظر آتی ہیں۔ اس کے نتیجے میں سڑکوں پر ٹریفک کی رفتار کم کرنی پڑتی ہے اور فضائی آپریشنز بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔
این سی ایم کی یہ وارننگ ایک روز قبل جاری کی گئی، جس کا مطلب ہے کہ علاقے کے لوگوں کو ہفتہ کے روز متوقع موسمی کیفیت کے بارے میں پہلے سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔ یہ پیشگی اطلاع ہنگامی تیاریوں اور احتیاطی تدابیر کے لیے وقت فراہم کرتی ہے۔
کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ موسمی وارننگز میں افقی حد نگاہ کا ذکر کیوں کیا جاتا ہے؟ افقی حد نگاہ ہوائی، زمینی اور سمندری سفر کے لیے ایک اہم عنصر ہے۔ کم افقی حد نگاہ کے باعث گاڑیوں، طیاروں اور بحری جہازوں کی نقل و حرکت متاثر ہو سکتی ہے، اس لیے اس کا ذکر وارننگز میں ضروری سمجھا جاتا ہے۔
شمالی سرحدی علاقے میں بارش کے بعد عام طور پر موسم خوشگوار ہو جاتا ہے، لیکن اس کے ساتھ کچھ چیلنجز بھی آتے ہیں۔ نچلے علاقوں میں پانی جمع ہو سکتا ہے، سڑکیں کیچڑ آلود ہو سکتی ہیں اور بجلی کی فراہمی میں خلل پڑ سکتا ہے۔
کیا آپ جانتے ہیں کہ گرج چمک کے دوران کیا احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہئیں؟ ماہرین کے مطابق ایسی صورتحال میں کھلے میدانوں، بلند مقامات، درختوں اور بجلی کے کھمبوں سے دور رہنا چاہیے۔ گھروں کے اندر رہنا، بجلی کے آلات سے دور رہنا اور کھڑکیوں اور دروازوں کو بند رکھنا محفوظ طریقہ ہے۔
این سی ایم کا یہ اقدام سعودی عرب کے مختلف علاقوں میں موسمی نگرانی کے نظام کا حصہ ہے۔ یہ مرکز ملک بھر میں موسمی صورتحال کی نگرانی کرتا ہے اور بروقت وارننگز جاری کرتا ہے تاکہ عوام اور متعلقہ ادارے پیشگی تیاری کر سکیں۔
کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ موسمی وارننگز کس طرح تیار کی جاتی ہیں؟ این سی ایم جدید موسمی آلات، سیٹلائٹ ڈیٹا اور کمپیوٹر ماڈلز کی مدد سے موسمی پیش گوئیاں تیار کرتا ہے۔ جب کسی علاقے میں شدید موسمی کیفیت کا امکان ہو تو وہاں وارننگ جاری کی جاتی ہے۔
ترائف گورنریٹ میں ہفتہ کے روز متوقع بارش کے سلسلے میں این سی ایم نے تیز ہواؤں، افقی حد نگاہ میں کمی اور گرج چمک کے ساتھ بجلی گرنے کا ذکر کیا ہے۔ یہ تمام عناصر مل کر موسمی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں اور احتیاط کی ضرورت کو بڑھاتے ہیں۔
کیا آپ جانتے ہیں کہ شمالی سرحدی علاقے کی جغرافیائی خصوصیات موسم کو کس طرح متاثر کرتی ہیں؟ یہ علاقہ سعودی عرب کے شمال میں واقع ہے اور اس کی سرحدیں اردن اور عراق سے ملتی ہیں۔ یہاں کے موسم پر مختلف ہوائی نظاموں کا اثر پڑتا ہے، جس کے باعث بارش اور تیز ہوائیں عام ہیں۔
این سی ایم کی وارننگ میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ موسمی کیفیت ہفتہ کے روز دوپہر ایک بجے شروع ہوگی اور رات نو بجے تک جاری رہے گی۔ اس دورانیے میں علاقے کے لوگوں کو باہر نکلتے وقت احتیاط برتنی چاہیے اور غیر ضروری سفر سے گریز کرنا چاہیے۔
کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ موسمی وارننگز کا اطلاق صرف ایک گورنریٹ پر کیوں ہوتا ہے؟ این سی ایم ہر علاقے کی مخصوص موسمی صورتحال کا جائزہ لے کر وارننگ جاری کرتا ہے۔ اس سے متعلقہ علاقے کے لوگوں کو زیادہ درست اور مخصوص معلومات ملتی ہیں، جس سے وہ بہتر تیاری کر سکتے ہیں۔
شمالی سرحدی علاقے میں اس طرح کی موسمی وارننگز کے بعد عام طور پر مقامی انتظامیہ ہنگامی خدمات کو الرٹ کر دیتی ہے۔ سڑکوں کی صفائی، پانی کی نکاسی اور بجلی کی بحالی کے عملے کو تیار رکھا جاتا ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹا جا سکے۔
کیا آپ جانتے ہیں کہ بارش کے دوران افقی حد نگاہ میں کمی کس طرح ٹریفک حادثات کا سبب بن سکتی ہے؟ کم افقی حد نگاہ کے باعث ڈرائیور دور کی گاڑیوں، سڑک کے موڑ اور رکاوٹوں کو بروقت نہیں دیکھ پاتے۔ اس سے ٹکراؤ کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، اس لیے رفتار کم کرنا اور ہیڈ لائٹس استعمال کرنا ضروری ہے۔
این سی ایم نے اپنی وارننگ میں بارش، تیز ہواؤں، افقی حد نگاہ میں کمی اور گرج چمک کے ساتھ بجلی گرنے کا ذکر کیا ہے۔ یہ چاروں عناصر مل کر موسمی صورتحال کی شدت کو ظاہر کرتے ہیں اور علاقے کے لوگوں کو احتیاط کی تلقین کرتے ہیں۔
کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ موسمی وارننگز میں وقت کا تعین کس طرح کیا جاتا ہے؟ این سی ایم موسمی ماڈلز اور سیٹلائٹ ڈیٹا کی مدد سے اندازہ لگاتا ہے کہ موسمی کیفیت کب شروع ہوگی اور کب ختم ہوگی۔ اس کے بعد وہ عوامی وارننگ جاری کرتا ہے تاکہ لوگ بروقت آگاہ ہو سکیں۔
شمالی سرحدی علاقے کے رہائشیوں کے لیے یہ وارننگ ایک یاد دہانی ہے کہ موسمی تبدیلیوں کے دوران احتیاط ضروری ہے۔ گھروں کی چھتوں، بجلی کے آلات اور کھلی جگہوں میں رکھی اشیاء کو محفوظ بنانا، اور ضروری سامان ساتھ رکھنا مفید ثابت ہو سکتا ہے۔
کیا آپ جانتے ہیں کہ گرج چمک کے ساتھ بجلی گرنے کے دوران گھر کے اندر کیا احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہئیں؟ بجلی کے آلات کو بند کر دینا، کھڑکیوں اور دروازوں کو بند رکھنا، اور پانی کے پائپوں اور دھاتی اشیاء سے دور رہنا محفوظ طریقہ ہے۔
این سی ایم کی یہ وارننگ ترائف گورنریٹ اور شمالی سرحدی علاقے کے لیے جاری کی گئی ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ موسمی کیفیت ہفتہ کے روز دوپہر ایک بجے سے رات نو بجے تک جاری رہے گی۔ اس دوران بارش، تیز ہوائیں، افقی حد نگاہ میں کمی اور گرج چمک کے ساتھ بجلی گرنے کے امکانات ہیں۔
کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ موسمی وارننگز کا مقصد صرف خبردار کرنا ہوتا ہے یا اس کے ساتھ عملی رہنمائی بھی؟ این سی ایم کی وارننگز میں عام طور پر موسمی کیفیت کی نوعیت، وقت اور دورانیہ شامل ہوتا ہے، جس سے لوگ اپنے کاموں کی منصوبہ بندی کر سکتے ہیں اور احتیاطی تدابیر اختیار کر سکتے ہیں۔
شمالی سرحدی علاقے میں موسمی وارننگز کے جاری ہونے کے بعد مقامی میڈیا اور سوشل میڈیا پر بھی اس کی اطلاع پھیلائی جاتی ہے۔ اس سے زیادہ سے زیادہ لوگوں تک معلومات پہنچتی ہیں اور وہ بروقت احتیاط کر سکتے ہیں۔
کیا آپ جانتے ہیں کہ بارش کے بعد شمالی سرحدی علاقے میں موسم کیسا ہوتا ہے؟ بارش کے بعد عام طور پر درجہ حرارت میں کمی آتی ہے اور موسم خوشگوار ہو جاتا ہے۔ تاہم، کیچڑ، پانی کے جمع ہونے اور سڑکوں کی خرابی جیسے مسائل بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔
این سی ایم نے اپنی وارننگ میں واضح طور پر بتایا کہ یہ موسمی کیفیت ترائف گورنریٹ میں ہفتہ کے روز دوپہر ایک بجے سے رات نو بجے تک جاری رہے گی۔ اس میں بارش کے ساتھ تیز ہوائیں، افقی حد نگاہ میں کمی اور گرج چمک کے ساتھ بجلی گرنے کے امکانات شامل ہیں۔
کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ موسمی وارننگز میں دی گئی معلومات کس حد تک درست ہوتی ہیں؟ این سی ایم جدید ترین ٹیکنالوجی اور ماڈلز استعمال کرتا ہے، لیکن موسمی پیش گوئیاں کبھی کبھی تبدیل بھی ہو سکتی ہیں۔ اس لیے لوگوں کو تازہ ترین معلومات حاصل کرتے رہنا چاہیے۔
شمالی سرحدی علاقے کے لوگوں کے لیے یہ وارننگ ایک اہم اطلاع ہے، خاص طور پر ان کے لیے جو کھلے میدانوں میں کام کرتے ہیں یا سفر کرتے ہیں۔ انہیں چاہیے کہ وہ موسمی صورتحال کا مسلسل جائزہ لیتے رہیں اور احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔
کیا آپ جانتے ہیں کہ موسمی وارننگز کے بعد عام طور پر کون سے ادارے متحرک ہوتے ہیں؟ این سی ایم کے علاوہ سول ڈیفنس، ٹریفک پولیس، بلدیات اور بجلی کی کمپنیاں بھی متحرک ہو جاتی ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹا جا سکے۔
این سی ایم کی یہ وارننگ ایک روز قبل جاری کی گئی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مرکز موسمی تبدیلیوں پر گہری نظر رکھتا ہے اور بروقت اطلاع فراہم کرتا ہے۔ اس سے علاقے کے لوگوں کو پیشگی تیاری کا موقع ملتا ہے۔
کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ موسمی وارننگز میں افقی حد نگاہ کی کمی کا ذکر کس لیے اہم ہے؟ یہ معلومات ڈرائیوروں، پائلٹوں اور بحری جہازوں کے عملے کے لیے خاص طور پر اہم ہوتی ہیں، کیونکہ کم افقی حد نگاہ میں سفر خطرناک ہو سکتا ہے۔
شمالی سرحدی علاقے میں بارش کے دوران تیز ہوائیں چلنے سے گرد و غبار بھی اٹھ سکتا ہے، جس سے سانس کے مریضوں کو دشواری ہو سکتی ہے۔ ایسے لوگوں کو چاہیے کہ وہ باہر نکلتے وقت ماسک استعمال کریں اور احتیاط برتیں۔
کیا آپ جانتے ہیں کہ موسمی وارننگز کا اطلاق کس طرح کیا جاتا ہے؟ این سی ایم علاقے کی جغرافیائی حدود، آبادی اور موسمی نمونوں کو مدنظر رکھتے ہوئے وارننگ جاری کرتا ہے۔ اس سے متعلقہ علاقے کے لوگوں کو درست اور مخصوص معلومات ملتی ہیں۔
این سی ایم کی وارننگ کے مطابق ترائف گورنریٹ میں ہفتہ کے روز دوپہر ایک بجے سے رات نو بجے تک بارش، تیز ہوائیں، افقی حد نگاہ میں کمی اور گرج چمک کے ساتھ بجلی گرنے کا امکان ہے۔ یہ معلومات ایس پی اے نے جاری کی ہیں۔
کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ موسمی وارننگز کے بعد لوگوں کو کیا کرنا چاہیے؟ ماہرین کے مطابق لوگوں کو چاہیے کہ وہ تازہ ترین معلومات حاصل کریں، غیر ضروری سفر سے گریز کریں، اور گھر میں محفوظ رہنے کی کوشش کریں۔
شمالی سرحدی علاقے میں اس طرح کی موسمی وارننگز عام طور پر موسم خزاں اور سرما میں جاری کی جاتی ہیں، جب ہوائی نظاموں میں تبدیلی کے باعث بارش اور تیز ہوائیں چلتی ہیں۔ این سی ایم ان تبدیلیوں پر مسلسل نظر رکھتا ہے۔
کیا آپ جانتے ہیں کہ موسمی وارننگز میں دی گئی معلومات کس طرح عوام تک پہنچائی جاتی ہیں؟ این سی ایم اپنی وارننگز سرکاری خبر رساں ادارے، میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے پھیلاتا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ بروقت آگاہ ہو سکیں۔
این سی ایم کی یہ وارننگ ترائف گورنریٹ اور شمالی سرحدی علاقے کے لیے ایک اہم اطلاع ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ موسمی کیفیت ہفتہ کے روز دوپہر ایک بجے سے رات نو بجے تک جاری رہے گی۔ ایس پی اے نے یہ معلومات جاری کی ہیں۔
کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ موسمی وارننگز کا مقصد لوگوں کو خوفزدہ کرنا ہے یا آگاہ کرنا؟ این سی ایم کا مقصد لوگوں کو پیشگی اطلاع فراہم کرنا ہے تاکہ وہ احتیاطی تدابیر اختیار کر سکیں اور کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بچ سکیں۔
شمالی سرحدی علاقے کے رہائشیوں کے لیے یہ وارننگ ایک یاد دہانی ہے کہ موسمی تبدیلیوں کے دوران چوکس رہنا ضروری ہے۔ این سی ایم کی وارننگ کے مطابق ہفتہ کے روز دوپہر ایک بجے سے رات نو بجے تک بارش، تیز ہوائیں، افقی حد نگاہ میں کمی اور گرج چمک کے ساتھ بجلی گرنے کا امکان ہے۔
رپورٹ میں اس بات کا ذکر نہیں کیا گیا کہ وارننگ کے نتیجے میں کسی قسم کی ہنگامی خدمات یا انخلا کا اعلان کیا گیا ہے، نہ ہی کسی نقصان یا متاثرین کی کوئی اطلاع دی گئی ہے۔ ایس پی اے نے صرف این سی ایم کی وارننگ کی تفصیلات جاری کی ہیں۔
این سی ایم نے کس علاقے کے لیے وارننگ جاری کی ہے؟ نیشنل سینٹر فار میٹرولوجی نے ترائف گورنریٹ اور شمالی سرحدی علاقے کے لیے موسمی وارننگ جاری کی ہے۔ یہ وارننگ ایک روز قبل جاری کی گئی تھی اور اس کا اطلاق ہفتہ کے روز متوقع موسمی کیفیت پر ہوگا۔ ایس پی اے کے مطابق وارننگ میں بارش، تیز ہواؤں، افقی حد نگاہ میں کمی اور گرج چمک کے ساتھ بجلی گرنے کا ذکر کیا گیا ہے۔
موسمی کیفیت کا آغاز اور اختتام کب ہوگا؟ این سی ایم کے مطابق موسمی کیفیت ہفتہ کے روز دوپہر ایک بجے شروع ہوگی اور رات نو بجے تک جاری رہے گی۔ یہ دورانیہ آٹھ گھنٹوں پر محیط ہے، جس میں بارش، تیز ہوائیں، افقی حد نگاہ میں کمی اور گرج چمک کے ساتھ بجلی گرنے کے امکانات شامل ہیں۔ ایس پی اے نے یہ معلومات اپنی رپورٹ میں جاری کی ہیں۔
وارننگ میں کن موسمی عناصر کا ذکر کیا گیا ہے؟ این سی ایم کی وارننگ میں چار اہم موسمی عناصر کا ذکر کیا گیا ہے: بارش، تیز ہوائیں، افقی حد نگاہ میں کمی، اور گرج چمک کے ساتھ بجلی گرنا۔ یہ تمام عناصر ترائف گورنریٹ اور شمالی سرحدی علاقے میں ہفتہ کے روز دوپہر ایک بجے سے رات نو بجے تک متوقع ہیں۔ ایس پی اے نے یہ تفصیلات جاری کی ہیں۔
افقی حد نگاہ میں کمی کا کیا مطلب ہے؟ افقی حد نگاہ میں کمی کا مطلب یہ ہے کہ فضا میں گرد و غبار، بارش یا دیگر ذرات کی وجہ سے دور کی اشیاء واضح طور پر نظر نہیں آتیں۔ این سی ایم نے اپنی وارننگ میں اس عنصر کا ذکر کیا ہے، جو ترائف گورنریٹ میں ہفتہ کے روز متوقع ہے۔ ایس پی اے کے مطابق یہ صورتحال سڑکوں پر سفر کرنے والوں کے لیے احتیاط کی ضرورت کو بڑھاتی ہے۔
گرج چمک کے ساتھ بجلی گرنے کا کیا مطلب ہے؟ گرج چمک کے ساتھ بجلی گرنا ایک موسمی مظہر ہے جس میں بادلوں کے درمیان یا بادل اور زمین کے درمیان بجلی کی چمک پیدا ہوتی ہے، جس کے ساتھ گرج کی آواز آتی ہے۔ این سی ایم نے اپنی وارننگ میں اس کا ذکر کیا ہے اور یہ ترائف گورنریٹ میں ہفتہ کے روز دوپہر ایک بجے سے رات نو بجے تک متوقع ہے۔
کیا رپورٹ میں کسی نقصان یا ہنگامی اقدام کا ذکر ہے؟ نہیں، ایس پی اے کی رپورٹ میں کسی نقصان، متاثرین یا ہنگامی اقدامات کا ذکر نہیں کیا گیا۔ رپورٹ میں صرف این سی ایم کی وارننگ کی تفصیلات دی گئی ہیں، جس میں بارش، تیز ہواؤں، افقی حد نگاہ میں کمی اور گرج چمک کے ساتھ بجلی گرنے کا ذکر ہے۔ وارننگ ایک روز قبل جاری کی گئی تھی اور یہ ہفتہ کے روز دوپہر ایک بجے سے رات نو بجے تک نافذ العمل رہے گی۔