مدینہ منورہ میں مسجد نبوی کے امام شیخ علی الحذیفی نے جمعہ کے خطبے میں کلمہ شہادت کے گہرے معنی پر روشنی ڈالی اور کہا کہ حقیقی ایمان کا تقاضا ہے کہ تمام عبادات خالصتاً اللہ کے لیے ہوں اور نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کی پیروی کی جائے۔
جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 23 اکتوبر 2026 کو بیان کیا، خطبہ مسجد نبوی میں ادا کیا گیا، جہاں امام نے عقیدے کو قرآن و سنت کی رہنمائی پر استوار کرنے کی تلقین کی۔
شیخ الحذیفی نے کہا کہ اللہ کی صفات کو بغیر تحریف اور بغیر انکار کے تسلیم کرنا چاہیے، اور مشترکہ عقائد کو عملی اتحاد میں بدلنا چاہیے۔ کیا یہی وہ راستہ نہیں جو امت کو آپس میں جوڑتا ہے؟
انہوں نے مزید کہا کہ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنے ایمان کی بنیاد قرآن و سنت پر رکھیں، اور عقیدے کے معاملات میں واضح اور متوازن موقف اختیار کریں۔ کیا عقیدے کی درستی کے بغیر عملی اتحاد ممکن ہے؟
خطبے کے اختتام پر انہوں نے اختلاف اور تقسیم سے خبردار کیا اور زور دیا کہ معاشرے مشکلات پر صبر، ہمدردی اور اسلامی اقدار پر مضبوطی سے قائم رہ کر قابو پاتے ہیں۔ کیا تقسیم کبھی کسی قوم کو مضبوط کیا ہے؟
امام مسجد نبوی نے کہا کہ باہمی تعاون اور رحم دلی وہ بنیاد ہے جس پر کمیونٹیز مشکل وقت میں کھڑی رہتی ہیں۔ انہوں نے اسلامی اقدار پر ثابت قدمی کو اجتماعی استحکام کا ذریعہ قرار دیا۔ کیا ہمدردی کے بغیر کوئی معاشرہ اپنی آزمائشوں کا سامنا کر سکتا ہے؟
انہوں نے کلمہ شہادت کی اہمیت پر بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ صرف زبانی اقرار نہیں بلکہ زندگی کے ہر شعبے میں اللہ کی وحدانیت کا عملی اعتراف ہے۔ کیا ایمان کا دعویٰ اور ایمان کا عمل ایک جیسے ہوتے ہیں؟
خطبے میں نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کی پیروی پر زور دیا گیا، اور کہا گیا کہ سچا ایمان عبادت کو صرف اللہ کے لیے خالص کرنے اور سنت کی راہ پر چلنے سے پہچانا جاتا ہے۔ کیا سنت سے دوری ہی اختلاف کی جڑ نہیں؟
شیخ الحذیفی نے قرآن و سنت کی رہنمائی کو عقیدے کی بنیاد قرار دیا اور کہا کہ اللہ کی صفات کو نہ بدلا جائے اور نہ ان کا انکار کیا جائے۔ انہوں نے مشترکہ عقائد کو عملی اتحاد میں ڈھالنے کی ضرورت پر زور دیا۔ کیا عقیدہ اور عمل کے درمیان خلا کو پُر کرنا وقت کی ضرورت نہیں؟
انہوں نے خبردار کیا کہ اختلاف اور تقسیم معاشروں کو کمزور کرتی ہے، جبکہ یکجہتی، باہمی ہمدردی اور اسلامی اقدار پر مضبوطی سے قائم رہنا مشکلات پر قابو پانے کا راستہ ہے۔ کیا یکجہتی کے بغیر کوئی مشکل آسان ہوتی ہے؟
یہ خطبہ مسجد نبوی میں ادا کیا گیا، جہاں ہر جمعہ کو ہزاروں نمازی جمع ہوتے ہیں۔ ایس پی اے کے مطابق خطبے کا وقت مقامی وقت کے مطابق 15:00 اور جی ایم ٹی کے مطابق 12:00 تھا۔
امام نے اپنے خطبے میں مسلمانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ایمان کی حقیقت عبادت کو خالصتاً اللہ کے لیے کرنے میں ہے، اور یہ کہ نبی کی تعلیمات کی پیروی ایمان کا لازمی حصہ ہے۔ کیا عبادت میں اخلاص کے بغیر ایمان مکمل ہوتا ہے؟
انہوں نے عقیدے کے معاملے میں قرآن و سنت کی رہنمائی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اللہ کی صفات کو تسلیم کرنا ضروری ہے، بغیر کسی تحریف اور بغیر کسی انکار کے۔ انہوں نے کہا کہ مشترکہ عقائد کو عملی اتحاد میں بدلنا چاہیے۔
خطبے کے آخری حصے میں انہوں نے اختلاف اور تقسیم کے خلاف تنبیہ کی اور کہا کہ معاشرے مشکلات کا مقابلہ یکجہتی، باہمی ہمدردی اور اسلامی اقدار پر ثابت قدمی سے کرتے ہیں۔ کیا اسلامی اقدار پر عمل ہی اجتماعی طاقت کا راز نہیں؟
ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق خطبے میں یہ پیغام دیا گیا کہ ایمان کا اصل مفہوم عبادت کو اللہ کے لیے خالص کرنا اور نبی کی سنت کی پیروی کرنا ہے۔ امام نے قرآن و سنت کی رہنمائی کو عقیدے کی بنیاد قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ اللہ کی صفات کو بغیر تحریف اور بغیر انکار کے ماننا چاہیے، اور مشترکہ عقائد کو عملی اتحاد میں ڈھالنا چاہیے۔ کیا عقیدے کی وضاحت اور عملی اتحاد ایک دوسرے کے مخالف ہیں؟
خطبے میں اختلاف اور تقسیم سے خبردار کرتے ہوئے کہا گیا کہ معاشرے یکجہتی، ہمدردی اور اسلامی اقدار پر قائم رہ کر مشکلات پر قابو پاتے ہیں۔ یہ پیغام مسجد نبوی میں جمعہ کے خطبے کا مرکزی نکتہ تھا۔
ایس پی اے کے مطابق یہ خطبہ 23 اکتوبر 2026 کو ادا کیا گیا، اور اس کا وقت مقامی وقت کے مطابق 15:00 اور جی ایم ٹی کے مطابق 12:00 تھا۔ رپورٹ میں خطبے کے شرکا کی تعداد یا دیگر تفصیلات نہیں دی گئیں۔
امام مسجد نبوی نے اپنے خطبے میں کلمہ شہادت کے معنی پر زور دیا اور کہا کہ سچا ایمان تمام عبادات کو خالصتاً اللہ کے لیے کرنے اور نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کی پیروی سے ظاہر ہوتا ہے۔ کیا یہی ایمان کی سب سے سادہ اور واضح تعریف نہیں؟
انہوں نے مسلمانوں کو دعوت دی کہ وہ اپنے عقیدے کو قرآن و سنت کی رہنمائی پر استوار کریں، اللہ کی صفات کو بغیر تحریف اور بغیر انکار کے تسلیم کریں، اور مشترکہ عقائد کو عملی اتحاد میں بدلیں۔ کیا عقیدے اور عمل کا یہ رشتہ ہی امت کی طاقت ہے؟
خطبے کے اختتام پر انہوں نے اختلاف اور تقسیم سے خبردار کیا اور کہا کہ معاشرے مشکلات پر یکجہتی، باہمی ہمدردی اور اسلامی اقدار پر ثابت قدمی سے قابو پاتے ہیں۔ کیا ہمدردی اور یکجہتی کے بغیر کوئی معاشرہ ترقی کر سکتا ہے؟
ایس پی اے کی رپورٹ میں خطبے کے مقام، وقت اور تاریخ کے علاوہ کوئی اضافی تفصیل نہیں دی گئی، نہ ہی شرکا کی تعداد یا خطبے کے دیگر موضوعات کا ذکر کیا گیا۔
خطبے میں کلمہ شہادت کے بارے میں کیا کہا گیا؟ امام مسجد نبوی شیخ علی الحذیفی نے کہا کہ کلمہ شہادت کا گہرا مفہوم یہ ہے کہ تمام عبادات خالصتاً اللہ کے لیے ہوں اور نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کی پیروی کی جائے۔ ایس پی اے کے مطابق انہوں نے کہا کہ سچا ایمان اسی اخلاص اور اتباع سے پہچانا جاتا ہے۔
امام نے عقیدے کے بارے میں کیا تلقین کی؟ شیخ الحذیفی نے مسلمانوں کو دعوت دی کہ وہ اپنے عقیدے کو قرآن و سنت کی رہنمائی پر استوار کریں اور اللہ کی صفات کو بغیر تحریف اور بغیر انکار کے تسلیم کریں۔ انہوں نے کہا کہ مشترکہ عقائد کو عملی اتحاد میں بدلنا چاہیے۔
خطبے میں اختلاف اور تقسیم کے بارے میں کیا تنبیہ کی گئی؟ خطبے کے اختتام پر امام نے اختلاف اور تقسیم سے خبردار کیا اور کہا کہ معاشرے مشکلات پر یکجہتی، باہمی ہمدردی اور اسلامی اقدار پر ثابت قدمی سے قابو پاتے ہیں۔ ایس پی اے کے مطابق یہی خطبے کا مرکزی پیغام تھا۔
یہ خطبہ کب اور کہاں ادا کیا گیا؟ ایس پی اے کے مطابق یہ خطبہ 23 اکتوبر 2026 کو مسجد نبوی، مدینہ منورہ میں جمعہ کے موقع پر ادا کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق خطبے کا وقت مقامی وقت کے مطابق 15:00 اور جی ایم ٹی کے مطابق 12:00 تھا۔
امام نے اتحاد کے حوالے سے کیا کہا؟ شیخ الحذیفی نے کہا کہ مشترکہ عقائد کو عملی اتحاد میں ڈھالنا چاہیے اور معاشرے یکجہتی اور باہمی ہمدردی سے مشکلات پر قابو پاتے ہیں۔ انہوں نے اسلامی اقدار پر ثابت قدمی کو اجتماعی استحکام کا ذریعہ قرار دیا۔
رپورٹ میں کون سی تفصیلات شامل نہیں تھیں؟ ایس پی اے کی رپورٹ میں خطبے کے مقام، تاریخ اور وقت کے علاوہ شرکا کی تعداد، خطبے کا مکمل متن یا دیگر موضوعات کا ذکر نہیں کیا گیا۔ رپورٹ میں صرف امام کے بیان کردہ نکات کا خلاصہ دیا گیا ہے۔