Sunday, October 25, 2026
سعودی خبریں

مکہ ریجن میں 2026 کا قومی شجرکاری سیزن شروع، 7.7 ملین درخت لگائے گئے

مکہ ریجن میں 2026 کا قومی شجرکاری سیزن شروع، 7.7 ملین درخت لگائے گئے

مکہ مکرمہ ریجن کے نائب گورنر شہزادہ سعود بن مشعل بن عبدالعزیز نے 2026 کے قومی شجرکاری سیزن کا افتتاح کیا، جو قومی شجرکاری پروگرام کی کوششوں کا حصہ ہے۔ یہ پروگرام سعودی گرین انیشیٹو کے اہداف کے حصول، پودوں کی افزائش اور ماحولیاتی پائیداری کو بہتر بنانے کے لیے کام کر رہا ہے۔

جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 11 اکتوبر 2026 کو جدہ سے بیان کیا، پروگرام کے مطابق 2021 سے رواں سال تک مکہ ریجن بھر میں 7.7 ملین سے زیادہ درخت لگائے جا چکے ہیں۔ یہ تعداد 2030 کے لیے مقرر کردہ تقریباً 31.3 ملین درختوں کے ہدف کا 24.7 فیصد بنتی ہے۔

افتتاح کے موقع پر نائب گورنر کی موجودگی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ علاقائی سطح پر شجرکاری مہم کو کس سطح کی توجہ دی جا رہی ہے۔ کیا یہ توجہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ماحولیاتی منصوبے اب صرف مرکزی حکومت کے ایجنڈے کا حصہ نہیں بلکہ علاقائی قیادت کی براہ راست ذمہ داری بن چکے ہیں؟

سعودی گرین انیشیٹو اور قومی شجرکاری پروگرام کا پس منظر

سعودی گرین انیشیٹو کے تحت ملک بھر میں پودوں کی افزائش، صحرا بندی کا مقابلہ اور ماحولیاتی پائیداری کے اہداف مقرر کیے گئے ہیں۔ قومی شجرکاری پروگرام ان اہداف کو عملی جامہ پہنانے کا ذریعہ ہے، اور مکہ ریجن اس پروگرام کے نفاذ کا ایک اہم میدان ہے۔

مکہ ریجن کی اہمیت صرف مذہبی نہیں بلکہ جغرافیائی بھی ہے۔ یہاں کی آب و ہوا اور زمینی ساخت شجرکاری کے لیے مخصوص چیلنجز پیش کرتی ہے۔ کیا خشک اور گرم علاقوں میں درخت لگانا آسان کام ہے؟ یقیناً نہیں، اور اسی لیے ہر درخت کی بقا کو یقینی بنانا ایک الگ کوشش کا تقاضا کرتا ہے۔

2021 سے اب تک 7.7 ملین درخت لگانے کا مطلب ہے کہ اوسطاً ہر سال لاکھوں پودے زمین میں منتقل کیے گئے۔ یہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ مہم مسلسل جاری ہے، لیکن 2030 تک 31.3 ملین درختوں کے ہدف تک پہنچنے کے لیے رفتار مزید تیز کرنی ہوگی۔

کیا موجودہ رفتار کافی ہے؟ 24.7 فیصد ہدف پانچ سال کے دوران حاصل ہوا ہے، جبکہ باقی 75.3 فیصد کے لیے مزید چند سال دستیاب ہیں۔ اس حساب سے دیکھا جائے تو آنے والے سالوں میں سالانہ اوسط تعداد میں اضافہ ناگزیر معلوم ہوتا ہے۔

ایس پی اے کی رپورٹ میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ لگائے گئے درختوں میں کون سی اقسام شامل ہیں، نہ یہ بتایا گیا کہ ان کی بقا کی شرح کیا رہی۔ کیا صرف لگائے گئے درختوں کی تعداد کامیابی کا پیمانہ ہونی چاہیے، یا ان کے زندہ رہنے اور بڑھنے کو بھی اسی اہمیت سے دیکھا جانا چاہیے؟

مکہ ریجن میں شجرکاری کا کام صرف ماحولیاتی نہیں، سماجی بھی ہے۔ درختوں کی افزائش مقامی آبادی کے لیے سایہ، صاف ہوا اور بہتر ماحول کا باعث بنتی ہے۔ کیا اس طرح کے منصوبے عام شہری کی روزمرہ زندگی میں فرق محسوس کرانے کے قابل ہیں؟

قومی شجرکاری پروگرام کی کوششیں سعودی گرین انیشیٹو کے وسیع تر فریم ورک کا حصہ ہیں، جس کا مقصد پودوں کی افزائش، ماحولیاتی پائیداری اور زمینی انحطاط کا مقابلہ ہے۔ مکہ ریجن میں 2021 سے جاری یہ سلسلہ اس وسیع تر حکمت عملی کا علاقائی مظہر ہے۔

2026 کے سیزن کا افتتاح اس بات کا اشارہ ہے کہ مہم رواں سال بھی جاری رہے گی۔ نائب گورنر کی جانب سے افتتاح کا مطلب یہ ہے کہ علاقائی انتظامیہ اس عمل میں براہ راست شامل ہے۔ کیا اس قسم کی اعلیٰ سطحی شمولیت منصوبے کی نگرانی اور جوابدہی کو مضبوط بناتی ہے؟

اعداد و شمار کے مطابق 2030 کا ہدف تقریباً 31.3 ملین درختوں پر مشتمل ہے۔ یہ ہدف مکہ ریجن کے لیے مخصوص ہے، اور اس کا تعلق قومی سطح کے مجموعی اہداف سے جوڑا جاتا ہے۔ 7.7 ملین درخت اس ہدف کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ ہیں۔

کیا ایک چوتھائی ہدف حاصل کرنا کم کارکردگی ہے یا قابل قبول پیش رفت؟ اس کا جواب اس بات پر منحصر ہے کہ بقیہ عرصے میں کس رفتار سے کام ہوگا۔ اگر آنے والے سالوں میں اسی اوسط کو برقرار رکھا جائے تو ہدف تک پہنچنا ممکن نظر آتا ہے، بشرطیکہ کوئی رکاوٹ نہ آئے۔

ماحولیاتی منصوبوں میں ایک اہم پہلو یہ ہوتا ہے کہ ان کے نتائج فوری طور پر نظر نہیں آتے۔ درخت لگانا ایک طویل مدتی سرمایہ کاری ہے جس کا اثر برسوں بعد ظاہر ہوتا ہے۔ کیا عوام اور پالیسی ساز دونوں اس طویل مدتی نقطہ نظر کو قبول کرنے کے لیے تیار ہیں؟

ایس پی اے کی رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ 2026 کے سیزن میں کتنے درخت لگانے کا منصوبہ ہے، نہ یہ کہ افتتاح کی تقریب کہاں منعقد ہوئی۔ رپورٹ میں یہ بھی واضح نہیں کہ اس مہم میں کون سے سرکاری یا نجی ادارے براہ راست شریک ہیں۔

مکہ ریجن میں شجرکاری کی کوششیں ماحولیاتی پائیداری کے ساتھ ساتھ زمین کی بحالی سے بھی جڑی ہیں۔ پودوں کی افزائش مٹی کے کٹاؤ کو کم کرنے اور مقامی ماحولیاتی نظام کو سہارا دینے میں مددگار سمجھی جاتی ہے۔ کیا یہ فوائد طویل عرصے میں اس علاقے کی مجموعی ماحولیاتی صحت میں نمایاں تبدیلی لا سکتے ہیں؟

سعودی گرین انیشیٹو کے تحت ملک گیر سطح پر متعدد منصوبے چل رہے ہیں، جن میں شجرکاری کے علاوہ دیگر ماحولیاتی اقدامات بھی شامل ہیں۔ مکہ ریجن کا قومی شجرکاری پروگرام ان میں سے ایک نمایاں جزو ہے، جس کی پیش رفت کو اعداد و شمار کی صورت میں رپورٹ کیا جاتا ہے۔

2021 سے رواں سال تک کا عرصہ پانچ سال پر محیط ہے۔ اس دوران 7.7 ملین درخت لگانا ایک قابل ذکر مقدار ہے، لیکن یہ سوال بھی اہم ہے کہ ان درختوں کی دیکھ بھال کا نظام کیسا ہے۔ کیا پودے لگانے کے بعد ان کی حفاظت اور آبپاشی کے لیے مستقل انتظامات موجود ہیں؟

رپورٹ کے مطابق ہدف 2030 تک مکمل کرنا ہے۔ اس میں تقریباً چار سال باقی ہیں۔ اگر ہر سال اوسطاً ڈیڑھ ملین سے زیادہ درخت لگائے جائیں تو ہدف تک پہنچا جا سکتا ہے۔ کیا یہ رفتار حاصل کرنا عملی طور پر ممکن ہے؟

مقامی سطح پر شجرکاری مہمات میں رضاکاروں اور کمیونٹی کی شرکت کو عام طور پر اہمیت دی جاتی ہے۔ ایس پی اے کی رپورٹ میں اس پہلو کا ذکر نہیں، لیکن عوامی شمولیت کے بغیر اس نوعیت کے منصوبوں کو کامیابی سے ہمکنار کرنا مشکل ہوتا ہے۔ کیا شہریوں کی شرکت اس مہم کا لازمی حصہ ہے؟

مکہ ریجن کی جغرافیائی خصوصیات اسے دیگر علاقوں سے ممتاز کرتی ہیں۔ یہاں کے درجہ حرارت اور بارش کی مقدار شجرکاری کے لیے مخصوص حکمت عملی کا تقاضا کرتی ہے۔ اسی لیے ہر علاقے کے لیے الگ منصوبہ بندی کی ضرورت ہوتی ہے۔

ایس پی اے کی رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ 7.7 ملین درختوں میں سے کتنے زندہ ہیں یا ان کی نشوونما کی شرح کیا ہے۔ یہ معلومات اس لیے اہم ہیں کہ صرف لگائے گئے پودوں کی تعداد حتمی کامیابی کی عکاسی نہیں کرتی۔ کیا شفافیت کے لیے ایسے اعداد و شمار جاری کرنا ضروری نہیں؟

قومی شجرکاری پروگرام کے اہداف میں پودوں کی افزائش کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی پائیداری کو بہتر بنانا بھی شامل ہے۔ یہ دونوں پہلو ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، کیونکہ پودوں کی افزائش ماحولیاتی نظام کے توازن میں معاون ثابت ہوتی ہے۔

2026 کے سیزن کا آغاز اس لحاظ سے اہم ہے کہ یہ گزشتہ برسوں کی کوششوں کا تسلسل ہے۔ نائب گورنر کی جانب سے افتتاح اس بات کی علامت ہے کہ علاقائی قیادت اس عمل کو اہمیت دیتی ہے۔ کیا اس سے آنے والے سالوں میں مزید وسائل اور توجہ ملنے کی توقع کی جا سکتی ہے؟

سعودی گرین انیشیٹو کے تحت ہونے والی پیش رفت کو وقتاً فوقتاً رپورٹ کیا جاتا ہے، جس سے عوام کو منصوبوں کی صورتحال کا علم ہوتا ہے۔ مکہ ریجن کے اعداد و شمار اس سلسلے کی ایک کڑی ہیں، جو 2021 سے اب تک کے کام کا خلاصہ پیش کرتے ہیں۔

ماحولیاتی منصوبوں کی کامیابی کا انحصار نہ صرف منصوبہ بندی بلکہ مسلسل نگرانی اور دیکھ بھال پر بھی ہوتا ہے۔ درخت لگانا پہلا قدم ہے، جبکہ ان کی حفاظت اور پرورش طویل سفر ہے۔ کیا اس طویل سفر کے لیے ضروری وسائل مختص کیے گئے ہیں؟

ایس پی اے کی رپورٹ مختصر ہے اور اس میں بنیادی اعداد و شمار پیش کیے گئے ہیں۔ اس میں یہ نہیں بتایا گیا کہ افتتاح کے موقع پر کون سے دیگر حکام موجود تھے، نہ یہ کہ تقریب کا مقام کیا تھا۔ رپورٹ میں یہ بھی ذکر نہیں کہ 2026 کے سیزن کے لیے کوئی مخصوص ہدف مقرر کیا گیا ہے یا نہیں۔

مکہ ریجن میں جاری شجرکاری مہم کے سماجی اثرات بھی قابل غور ہیں۔ درختوں کی افزائش مقامی آبادی کے لیے بہتر ماحول، صاف ہوا اور قدرتی مناظر میں اضافے کا سبب بن سکتی ہے۔ کیا یہ اثرات اس علاقے میں رہنے والوں کے معیار زندگی کو بلند کرنے میں معاون ہوں گے؟

2030 کا ہدف تقریباً 31.3 ملین درختوں پر مشتمل ہے، جو مکہ ریجن کے لیے مقرر کیا گیا ہے۔ یہ تعداد اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ علاقے میں شجرکاری کو کس پیمانے پر دیکھا جا رہا ہے۔ 7.7 ملین درخت اس ہدف کا 24.7 فیصد ہیں، یعنی تقریباً ایک چوتھائی۔

کیا ایک چوتھائی ہدف پانچ سال میں حاصل کرنا متوازن پیش رفت ہے؟ اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ ابتدائی سالوں میں تیاری اور منصوبہ بندی پر کتنا وقت صرف ہوا۔ اکثر ایسے منصوبوں میں ابتدائی مرحلے سست ہوتے ہیں اور بعد میں رفتار بڑھ جاتی ہے۔

قومی شجرکاری پروگرام کی کوششیں سعودی گرین انیشیٹو کے اہداف کے حصول کے لیے کی جا رہی ہیں، جن میں پودوں کی افزائش اور ماحولیاتی پائیداری شامل ہے۔ مکہ ریجن میں 2021 سے جاری کام اس وسیع تر کوشش کا حصہ ہے، جس کی پیش رفت اعداد و شمار میں ظاہر ہوتی ہے۔

2026 کے سیزن کے افتتاح کے بعد آنے والے مہینوں میں یہ دیکھنا ہوگا کہ کس رفتار سے شجرکاری کا کام آگے بڑھتا ہے۔ ایس پی اے کی رپورٹ میں اس حوالے سے کوئی تفصیل نہیں دی گئی، نہ یہ بتایا گیا کہ رواں سال کے لیے کوئی عددی ہدف مقرر ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی واضح نہیں کہ لگائے گئے درختوں کی اقسام، ان کی بقا کی شرح یا دیکھ بھال کے انتظامات کیا ہیں۔

مکہ ریجن میں 2021 سے اب تک کتنے درخت لگائے گئے ہیں؟ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے کے مطابق 2021 سے رواں سال تک مکہ ریجن بھر میں 7.7 ملین سے زیادہ درخت لگائے جا چکے ہیں۔ یہ تعداد 2030 کے لیے مقرر کردہ تقریباً 31.3 ملین درختوں کے ہدف کا 24.7 فیصد بنتی ہے۔ رپورٹ میں درختوں کی اقسام یا ان کی بقا کی شرح کے بارے میں کوئی تفصیل نہیں دی گئی۔

2026 کے قومی شجرکاری سیزن کا افتتاح کس نے کیا؟ مکہ مکرمہ ریجن کے نائب گورنر شہزادہ سعود بن مشعل بن عبدالعزیز نے 2026 کے قومی شجرکاری سیزن کا افتتاح کیا۔ یہ افتتاح قومی شجرکاری پروگرام کی کوششوں کے تحت ہوا، جو سعودی گرین انیشیٹو کے اہداف کے حصول، پودوں کی افزائش اور ماحولیاتی پائیداری کو بہتر بنانے کے لیے کام کر رہا ہے۔ رپورٹ میں تقریب کے مقام یا دیگر شرکا کا ذکر نہیں کیا گیا۔

2030 کے لیے مکہ ریجن کا شجرکاری ہدف کیا ہے؟ ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق مکہ ریجن کے لیے 2030 تک تقریباً 31.3 ملین درخت لگانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ 2021 سے اب تک لگائے گئے 7.7 ملین درخت اس ہدف کا 24.7 فیصد ہیں۔ رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ باقی ہدف حاصل کرنے کے لیے سالانہ کتنی تعداد درکار ہوگی یا کیا شیڈول مقرر ہے۔

قومی شجرکاری پروگرام کا مقصد کیا ہے؟ قومی شجرکاری پروگرام سعودی گرین انیشیٹو کے اہداف کے حصول کے لیے کام کر رہا ہے، جن میں پودوں کی افزائش، ماحولیاتی پائیداری کو بہتر بنانا اور زمینی انحطاط کا مقابلہ شامل ہے۔ مکہ ریجن میں 2021 سے جاری شجرکاری اس وسیع تر کوشش کا علاقائی حصہ ہے۔ ایس پی اے کی رپورٹ میں پروگرام کے دیگر اجزاء یا تفصیلی حکمت عملی کا ذکر نہیں کیا گیا۔

کیا رپورٹ میں درختوں کی دیکھ بھال کا ذکر ہے؟ نہیں، ایس پی اے کی رپورٹ میں لگائے گئے درختوں کی دیکھ بھال، آبپاشی یا ان کی بقا کی شرح کے بارے میں کوئی معلومات نہیں دی گئیں۔ رپورٹ صرف یہ بتاتی ہے کہ 2021 سے اب تک 7.7 ملین سے زیادہ درخت لگائے گئے، جو 2030 کے ہدف کا 24.7 فیصد ہیں۔ درختوں کی اقسام یا ان کی نشوونما کے اعداد و شمار بھی شامل نہیں۔

2026 کے سیزن کے لیے کوئی عددی ہدف مقرر ہے؟ ایس پی اے کی رپورٹ میں 2026 کے قومی شجرکاری سیزن کے لیے کوئی مخصوص عددی ہدف نہیں بتایا گیا۔ رپورٹ میں صرف یہ ذکر ہے کہ نائب گورنر نے سیزن کا افتتاح کیا اور 2021 سے اب تک 7.7 ملین درخت لگائے گئے۔ رواں سال کے دوران کتنے درخت لگانے کا منصوبہ ہے، اس بارے میں کوئی تفصیل دستیاب نہیں۔