Sunday, October 25, 2026
سعودی خبریں

سعودی عرب کے متعدد علاقوں میں معتدل سے تیز بارش، ژالہ باری اور گرد آلود ہواؤں کی پیش گوئی

سعودی عرب کے متعدد علاقوں میں معتدل سے تیز بارش، ژالہ باری اور گرد آلود ہواؤں کی پیش گوئی

ریاض، 11 اکتوبر 2026 — نیشنل سینٹر فار میٹرولوجی کے مطابق سعودی عرب کے کئی علاقوں میں معتدل سے تیز بارش ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں سیلابی ریلے آ سکتے ہیں، اور اس کے ساتھ ژالہ باری اور گرد اڑانے والی ہوائیں بھی چل سکتی ہیں۔ یہ پیش گوئی جازان، عسیر، الباحہ، مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ، تبوک، الجوف اور شمالی سرحدی علاقوں کے کچھ حصوں کے لیے کی گئی ہے۔

جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے بیان کیا، اتوار کے دن کی اس پیش گوئی میں بتایا گیا ہے کہ حائل علاقے کے کچھ حصوں میں ہلکی سے معتدل بارش متوقع ہے، جبکہ مشرقی علاقے کے جنوبی حصوں پر گرج چمک والے بادل بننے کا امکان ہے۔ رات اور صبح سویرے مشرقی، مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ اور تبوک علاقوں کے ساحلی علاقوں پر دھند بھی چھا سکتی ہے۔

بحر احمر اور خلیج عرب میں ہواؤں اور لہروں کی صورتحال

بحر احمر میں ہوائیں شمال مغربی سے مغربی سمت میں 12 سے 32 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلیں گی، اور جنوب مشرقی سے جنوب مغربی سمت میں چلیں گی، جو شام کو بدل کر جنوب مشرقی سے مشرقی سمت میں 15 سے 50 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلیں گی۔ لہروں کی بلندی آدھے میٹر سے لے کر دو میٹر سے زیادہ تک رہے گی، اور سمندر پرسکون سے لے کر متلاطم تک رہے گا۔

خلیج عرب میں ہوائیں شمال مغربی سے مغربی سمت میں 10 سے 35 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلیں گی، اور مغربی سے جنوب مغربی سمت میں 10 سے 25 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلیں گی۔ لہروں کی بلندی آدھے میٹر سے لے کر ایک میٹر تک رہے گی، اور سمندر پرسکون رہے گا۔

کیا آپ جانتے ہیں کہ سیلابی ریلے صرف چند منٹوں میں معمولی بارش کو خطرناک صورتحال میں بدل سکتے ہیں؟ نیشنل سینٹر فار میٹرولوجی کی جانب سے جاری کردہ اس پیش گوئی میں جازان، عسیر، الباحہ، مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ، تبوک، الجوف اور شمالی سرحدی علاقوں کو خاص طور پر نمایاں کیا گیا ہے، کیونکہ ان علاقوں میں معتدل سے تیز بارش کے ساتھ ژالہ باری اور گرد اڑانے والی ہواؤں کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

یہ بات قابل غور ہے کہ ان علاقوں کی جغرافیائی ساخت پہاڑی اور وادیوں پر مشتمل ہے، جہاں بارش کا پانی تیزی سے بہہ کر نشیبی علاقوں میں جمع ہو جاتا ہے۔ کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ پہاڑی ڈھلوانوں پر بارش کا پانی کس تیزی سے وادیوں میں پہنچتا ہے؟ اسی لیے نیشنل سینٹر فار میٹرولوجی کی جانب سے سیلابی ریلوں کے امکان کو واضح طور پر بیان کیا گیا ہے، تاکہ عوام اور متعلقہ ادارے بروقت احتیاطی تدابیر اختیار کر سکیں۔

ژالہ باری کا ذکر بھی اس پیش گوئی کا اہم حصہ ہے۔ ژالہ باری عام طور پر اس وقت ہوتی ہے جب فضا میں شدید عدم استحکام ہو اور بادل بلند ہوں۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ ژالہ باری کے ساتھ آنے والی ہوائیں کس طرح گرد و غبار کو ایک علاقے سے دوسرے علاقے تک پھیلا دیتی ہیں؟ گرد اڑانے والی ہواؤں کا تذکرہ اس لیے بھی اہم ہے کہ یہ نہ صرف حد نگاہ کو کم کرتی ہیں بلکہ سانس کے مریضوں کے لیے بھی مشکلات پیدا کر سکتی ہیں۔

حائل علاقے کے کچھ حصوں میں ہلکی سے معتدل بارش کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ یہ بات اس علاقے کے موسمی رویے کے مطابق ہے، جہاں بارش کی شدت عام طور پر جنوبی اور جنوب مغربی علاقوں کے مقابلے میں کم رہتی ہے۔ کیا آپ نے کبھی محسوس کیا ہے کہ ایک ہی دن میں سعودی عرب کے مختلف شہروں میں موسم کتنا مختلف ہو سکتا ہے؟ یہی تنوع اس پیش گوئی میں بھی جھلکتا ہے، جہاں ایک طرف تیز بارش اور سیلابی ریلوں کا ذکر ہے تو دوسری طرف خلیج عرب میں پرسکون سمندر کا۔

مشرقی علاقے کے جنوبی حصوں پر گرج چمک والے بادلوں کی تشکیل متوقع ہے۔ گرج چمک والے بادل عام طور پر دوپہر کے بعد بنتے ہیں، جب زمین کی سطح گرم ہو کر ہوا کو اوپر اٹھاتی ہے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ گرج چمک والے بادلوں کے ساتھ اکثر تیز ہوائیں اور بارش کے مختصر مگر شدید دورے جڑے ہوتے ہیں؟ ایسی صورتحال میں کھلے میدانوں اور ساحلی علاقوں میں احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔

رات اور صبح سویرے دھند کا امکان مشرقی، مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ اور تبوک علاقوں کے ساحلی علاقوں پر ظاہر کیا گیا ہے۔ دھند عام طور پر اس وقت بنتی ہے جب نمی زیادہ ہو اور ہوا کی رفتار کم ہو۔ کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ ساحلی سڑکوں پر دھند کس طرح حد نگاہ کو کم کر کے ٹریفک کے لیے خطرہ بن سکتی ہے؟ اسی لیے صبح سویرے سفر کرنے والوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ اپنی رفتار کم رکھیں اور احتیاط سے ڈرائیو کریں۔

بحر احمر میں ہواؤں کی سمت اور رفتار میں دن بھر تبدیلی کا ذکر اس پیش گوئی کا اہم حصہ ہے۔ دن کے آغاز میں ہوائیں شمال مغربی سے مغربی سمت میں 12 سے 32 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلیں گی، جبکہ شام کو یہ بدل کر جنوب مشرقی سے مشرقی سمت میں 15 سے 50 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار اختیار کریں گی۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ ہوا کی سمت میں یہ تبدیلی سمندری سفر اور ماہی گیری کے لیے کیا معنی رکھتی ہے؟ لہروں کی بلندی آدھے میٹر سے لے کر دو میٹر سے زیادہ تک رہ سکتی ہے، اور سمندر پرسکون سے لے کر متلاطم تک رہے گا۔

خلیج عرب میں صورتحال نسبتاً پرسکون رہنے کی توقع ہے۔ وہاں ہوائیں شمال مغربی سے مغربی سمت میں 10 سے 35 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلیں گی، اور مغربی سے جنوب مغربی سمت میں 10 سے 25 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلیں گی۔ لہروں کی بلندی آدھے میٹر سے لے کر ایک میٹر تک رہے گی، اور سمندر پرسکون رہے گا۔ کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ ایک ہی دن میں بحر احمر اور خلیج عرب کے موسمی حالات میں اتنا فرق کیوں ہوتا ہے؟

یہ پیش گوئی اتوار کے دن کے لیے جاری کی گئی ہے اور اس میں وقت کے ساتھ ساتھ تبدیلی کا امکان موجود رہتا ہے۔ نیشنل سینٹر فار میٹرولوجی عام طور پر روزانہ کی بنیاد پر موسمی پیش گوئیاں جاری کرتا ہے، جن میں درجہ حرارت، ہوا کی رفتار، لہروں کی بلندی اور بارش کے امکانات شامل ہوتے ہیں۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ موسمی پیش گوئیاں کس طرح ریڈار، سیٹلائٹ اور زمینی مشاہداتی مراکز کے ڈیٹا پر مبنی ہوتی ہیں؟

سیلابی ریلوں کا ذکر اس لیے بھی اہم ہے کہ سعودی عرب کے کئی علاقوں میں بارش کے بعد خشک وادیوں میں پانی کا اچانک بہاؤ عام بات ہے۔ کیا آپ نے کبھی ایسی وادی میں سفر کیا ہے جہاں دور پہاڑوں پر بارش ہو رہی ہو مگر آپ کے مقام پر دھوپ نکل رہی ہو؟ ایسی صورتحال میں سیلابی ریلے کی آمد اچانک ہو سکتی ہے، اسی لیے ماہرین وادیوں اور نشیبی علاقوں سے دور رہنے کی تلقین کرتے ہیں۔

ژالہ باری اور گرد اڑانے والی ہواؤں کے ساتھ بارش کا امتزاج بعض اوقات سڑکوں پر پھسلن پیدا کرتا ہے اور حد نگاہ کو کم کرتا ہے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ ژالہ باری کے دوران گاڑی چلانا کس طرح خطرناک ہو سکتا ہے؟ اس لیے اس پیش گوئی کے تناظر میں ان علاقوں کے رہائشیوں اور مسافروں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ موسمی حالات کو مسلسل دیکھتے رہیں اور غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔

دھند کے حوالے سے یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ یہ عام طور پر رات کے آخری حصے اور صبح کے ابتدائی گھنٹوں میں سب سے زیادہ ہوتی ہے۔ کیا آپ نے کبھی محسوس کیا ہے کہ صبح سویرے سڑک پر دھند کی تہہ کس طرح روشنی کو پھیلا کر فاصلے کا اندازہ مشکل بنا دیتی ہے؟ مشرقی، مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ اور تبوک کے ساحلی علاقوں میں اس امکان کو مدنظر رکھتے ہوئے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔

بحر احمر میں لہروں کی بلندی دو میٹر سے زیادہ تک پہنچنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ خلیج عرب میں لہریں ایک میٹر تک رہنے کی توقع ہے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ لہروں کی بلندی کا انحصار ہوا کی رفتار، دورانیے اور سمندری گہرائی پر ہوتا ہے؟ اسی لیے ایک ہی دن میں دونوں سمندری راستوں میں لہروں کی صورتحال مختلف رہ سکتی ہے۔

یہ بات بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ موسمی پیش گوئیاں مقامی حالات کے مطابق تبدیل ہو سکتی ہیں، اور کسی مخصوص علاقے میں بارش کا ہونا یا نہ ہونا مقامی عوامل پر منحصر ہوتا ہے۔ کیا آپ نے کبھی دیکھا ہے کہ ایک ہی شہر کے دو مختلف حصوں میں بارش کا رجحان کیسے مختلف ہو سکتا ہے؟ یہی وجہ ہے کہ پیش گوئی میں علاقائی سطح پر تفصیل دی جاتی ہے۔

نیشنل سینٹر فار میٹرولوجی کی جانب سے جاری کردہ اس پیش گوئی میں درجہ حرارت کے حوالے سے کوئی تفصیل شامل نہیں کی گئی، نہ ہی بارش کی مقدار یا دورانیے کے بارے میں کوئی تخمینہ دیا گیا ہے۔ اسی طرح یہ بھی واضح نہیں کیا گیا کہ کون سے مخصوص شہر یا مقامات سب سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔ رپورٹ میں صرف علاقائی سطح پر بارش، ژالہ باری، گرد آلود ہواؤں، دھند اور سمندری حالات کا ذکر کیا گیا ہے۔

یہ پیش گوئی اتوار کے دن کے لیے ہے اور اس کا وقت مقامی وقت کے مطابق صبح 08:43 اور گرین وچ مین ٹائم کے مطابق 05:43 درج ہے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ موسمی پیش گوئیوں کے وقت کا تعین کس طرح ان کی درستگی کو متاثر کرتا ہے؟ جتنی تازہ پیش گوئی ہوگی، اتنی ہی اس کی افادیت زیادہ ہوگی۔

خلاصہ یہ کہ سعودی عرب کے جنوبی، مغربی اور شمالی علاقوں کے کچھ حصوں میں معتدل سے تیز بارش، ژالہ باری اور گرد آلود ہواؤں کا امکان ہے، جبکہ حائل میں ہلکی سے معتدل بارش اور مشرقی علاقے کے جنوبی حصوں میں گرج چمک والے بادل متوقع ہیں۔ ساحلی علاقوں میں رات اور صبح سویرے دھند چھا سکتی ہے۔ بحر احمر میں ہواؤں کی سمت دن بھر بدلتی رہے گی اور لہریں دو میٹر سے زیادہ تک جا سکتی ہیں، جبکہ خلیج عرب میں سمندر پرسکون رہنے کی توقع ہے۔

کس علاقے میں کس قسم کی بارش متوقع ہے؟ نیشنل سینٹر فار میٹرولوجی کے مطابق جازان، عسیر، الباحہ، مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ، تبوک، الجوف اور شمالی سرحدی علاقوں کے کچھ حصوں میں معتدل سے تیز بارش ہو سکتی ہے، جس کے ساتھ ژالہ باری اور گرد اڑانے والی ہوائیں بھی چل سکتی ہیں۔ حائل علاقے کے کچھ حصوں میں ہلکی سے معتدل بارش متوقع ہے۔ مشرقی علاقے کے جنوبی حصوں پر گرج چمک والے بادل بننے کا امکان ہے۔

سیلابی ریلوں کا امکان کہاں ظاہر کیا گیا ہے؟ پیش گوئی کے مطابق معتدل سے تیز بارش کے نتیجے میں جازان، عسیر، الباحہ، مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ، تبوک، الجوف اور شمالی سرحدی علاقوں کے کچھ حصوں میں سیلابی ریلے آ سکتے ہیں۔ رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ کون سے مخصوص شہر یا وادیاں سب سے زیادہ متاثر ہو سکتی ہیں، نہ ہی بارش کی مقدار یا دورانیے کا کوئی تخمینہ دیا گیا ہے۔

دھند کہاں اور کب بن سکتی ہے؟ نیشنل سینٹر فار میٹرولوجی کے مطابق رات اور صبح سویرے مشرقی، مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ اور تبوک علاقوں کے ساحلی علاقوں پر دھند چھا سکتی ہے۔ دھند عام طور پر اس وقت بنتی ہے جب نمی زیادہ ہو اور ہوا کی رفتار کم ہو۔ رپورٹ میں دھند کی شدت یا دورانیے کے بارے میں کوئی تفصیل نہیں دی گئی۔

بحر احمر میں ہواؤں اور لہروں کی صورتحال کیا رہے گی؟ بحر احمر میں ہوائیں شمال مغربی سے مغربی سمت میں 12 سے 32 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلیں گی، اور جنوب مشرقی سے جنوب مغربی سمت میں چلیں گی، جو شام کو بدل کر جنوب مشرقی سے مشرقی سمت میں 15 سے 50 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار اختیار کریں گی۔ لہروں کی بلندی آدھے میٹر سے لے کر دو میٹر سے زیادہ تک رہے گی، اور سمندر پرسکون سے لے کر متلاطم تک رہے گا۔

خلیج عرب میں موسم کی صورتحال کیسی رہے گی؟ خلیج عرب میں ہوائیں شمال مغربی سے مغربی سمت میں 10 سے 35 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلیں گی، اور مغربی سے جنوب مغربی سمت میں 10 سے 25 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلیں گی۔ لہروں کی بلندی آدھے میٹر سے لے کر ایک میٹر تک رہے گی، اور سمندر پرسکون رہے گا۔ رپورٹ میں خلیج عرب کے لیے کسی دھند یا بارش کا ذکر نہیں کیا گیا۔

یہ پیش گوئی کس وقت جاری کی گئی؟ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے کے مطابق یہ پیش گوئی ریاض سے 11 اکتوبر 2026 کو جاری کی گئی، اور اس کا وقت مقامی وقت کے مطابق صبح 08:43 اور گرین وچ مین ٹائم کے مطابق 05:43 درج ہے۔ رپورٹ میں درجہ حرارت، بارش کی مقدار یا کسی مخصوص شہر کے حوالے سے تفصیل شامل نہیں کی گئی۔