Sunday, October 25, 2026
سعودی خبریں

شاہ سلمان کی ہدایت: 2027 ٹیرف سے قبل شہریوں کے لیے معاونت کے اقدامات

شاہ سلمان کی ہدایت: 2027 ٹیرف سے قبل شہریوں کے لیے معاونت کے اقدامات

ریاض میں 25 اکتوبر 2026 کو خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود نے شہریوں کے لیے معاونت کے اقدامات کی ہدایت دی، جو یکم جنوری 2027 سے نافذ ہونے والی بجلی اور پانی کی کھپت ٹیرف ایڈجسٹمنٹ کے ساتھ ساتھ آتی ہے۔ یہ ہدایت ولی عہد اور وزیر اعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کی تجویز پر دی گئی۔

جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے بیان کیا، سعودی انرجی اور نیشنل واٹر کمپنی نے کھپت ٹیرف میں ایڈجسٹمنٹ کا اعلان کیا ہے جو یکم جنوری 2027 سے مؤثر ہوگی۔ اسی وقت کے ساتھ شہریوں کے لیے معاونت کے اقدامات کا اعلان کیا گیا تاکہ ٹیرف ایڈجسٹمنٹ کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔

معاونت کے اقدامات کے تحت سول سروس کے تنخواہ اسکیلز اور آپریشنل پروگرام کنٹریکٹس پر سول اور ملٹری اہلکاروں کے لیے ماہانہ 500 سعودی ریال الاؤنس میں اضافہ کیا جائے گا۔ یہی اضافہ ریٹائرڈ افراد اور سوشل انشورنس نظام کے تحت مرحوم سبسکرائبرز یا ریٹائرڈ افراد کے اہل مستفیدین کو بھی ملے گا۔

کیا یہ اضافہ ان خاندانوں کے لیے بھی کافی ہوگا جو پہلے سے محدود آمدنی پر گزارہ کر رہے ہیں؟ سوشل سیکیورٹی فوائد حاصل کرنے والے خاندانوں کو قائم ریگولیٹری میکانزم کے تحت ماہانہ 500 سعودی ریال کا وظیفہ دیا جائے گا تاکہ بجلی اور پانی کی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ کے اثرات کو پورا کیا جا سکے۔

نجی شعبے میں کام کرنے والے سعودیوں کے لیے، نطاقات سعودائزیشن پروگرام کے تحت کوٹہ میں مکمل طور پر شمار ہونے کے لیے کارکن کی کم از کم اجرت اقدامات کے مؤثر ہونے کے چھ ماہ بعد 5,000 سعودی ریال اور پہلی اضافے کے بارہ ماہ بعد 6,000 سعودی ریال ہو جائے گی۔ اس سے اجرت کی سطح بلند ہوگی اور شہریوں کے لیے نجی شعبے میں پائیدار روزگار کو تقویت ملے گی۔

کیا کم از کم اجرت میں یہ بتدریج اضافہ نجی شعبے کے آجرین کو مزید سعودی کارکنوں کی بھرتی کی ترغیب دے گا؟ نطاقات پروگرام سعودی عرب کی وزارت انسانی وسائل اور سماجی ترقی کا ایک نظام ہے جو نجی شعبے کی کمپنیوں کو سعودی شہریوں کی بھرتی کی بنیاد پر درجہ بندی کرتا ہے۔

یہ اقدامات ایک ایسے وقت میں آئے ہیں جب مملکت بجلی اور پانی کے شعبوں میں اصلاحات کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ یکم جنوری 2027 کی تاریخ دونوں شعبوں میں کھپت ٹیرف کی ایڈجسٹمنٹ کے لیے مقرر کی گئی ہے، اور معاونت کے اقدامات اسی تاریخ کے ساتھ ہم آہنگ کیے گئے ہیں۔

سول سروس کے تنخواہ اسکیلز پر کام کرنے والے اہلکاروں کے علاوہ آپریشنل پروگرام کنٹریکٹس پر کام کرنے والے افراد بھی اس اضافے کے دائرے میں آئیں گے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہدایت میں سرکاری شعبے کے مختلف زمروں کو شامل کیا گیا ہے۔

کیا ریٹائرڈ افراد اور مرحوم سبسکرائبرز کے اہل مستفیدین کو اس اضافے کی فراہمی میں کوئی اضافی کارروائی درکار ہوگی؟ ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق یہ اضافہ سوشل انشورنس نظام کے تحت آنے والے ان زمروں تک بھی پہنچے گا، تاہم رپورٹ میں ادائیگی کے طریقہ کار کی تفصیل نہیں دی گئی۔

سوشل سیکیورٹی فوائد حاصل کرنے والے خاندانوں کے لیے ماہانہ 500 سعودی ریال کا وظیفہ قائم ریگولیٹری میکانزم کے تحت دیا جائے گا۔ یہ میکانزم پہلے سے موجود ہے، اور رپورٹ کے مطابق اس کے تحت ہی یہ رقم فراہم کی جائے گی۔

کیا یہ وظیفہ ان خاندانوں کی مجموعی معاشی صورتحال میں نمایاں فرق ڈالے گا؟ رپورٹ میں اس بارے میں کوئی تخمینہ یا تجزیہ پیش نہیں کیا گیا، البتہ یہ واضح کیا گیا ہے کہ اس کا مقصد بجلی اور پانی کی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ کے اثرات کو پورا کرنا ہے۔

نجی شعبے سے وابستہ سعودی کارکنوں کے لیے نطاقات کوٹہ میں مکمل شمار ہونے کی کم از کم اجرت کا تعین دو مرحلوں میں کیا گیا ہے۔ پہلا مرحلہ اقدامات کے مؤثر ہونے کے چھ ماہ بعد 5,000 سعودی ریال ہے، اور دوسرا مرحلہ پہلی اضافے کے بارہ ماہ بعد 6,000 سعودی ریال ہے۔

یہ دو مرحلوں والا نظام آجرین کو بتدریج ایڈجسٹمنٹ کا موقع فراہم کرتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس کا مقصد اجرت کی سطح کو بلند کرنا اور شہریوں کے لیے نجی شعبے میں پائیدار روزگار کو تقویت دینا ہے۔

کیا نطاقات کے تحت کم از کم اجرت کی یہ نئی حد دیگر شعبوں میں بھی اجرتوں پر اثر ڈالے گی؟ ایس پی اے کی رپورٹ میں اس سوال کا جواب موجود نہیں، اور نہ ہی کسی دوسرے شعبے کا ذکر کیا گیا ہے۔

معاونت کے اقدامات کا دائرہ کار سول اور ملٹری اہلکاروں، ریٹائرڈ افراد، سوشل انشورنس کے اہل مستفیدین، سوشل سیکیورٹی فوائد حاصل کرنے والے خاندانوں اور نجی شعبے کے سعودی کارکنوں تک پھیلا ہوا ہے۔ یہ پانچ زمرے رپورٹ میں واضح طور پر بیان کیے گئے ہیں۔

ہدایت کی بنیاد ولی عہد اور وزیر اعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کی تجویز ہے۔ رپورٹ کے مطابق خادم الحرمین الشریفین نے اس تجویز کی بنیاد پر یہ ہدایت جاری کی۔

کیا ان اقدامات کا اعلان بجلی اور پانی کی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ کے اعلان کے ساتھ ہی کرنا کوئی حادثاتی امر تھا؟ رپورٹ میں دونوں امور کو ایک ہی وقت میں پیش کیا گیا ہے، اور معاونت کے اقدامات کا مقصد ٹیرف ایڈجسٹمنٹ کے اثرات کو پورا کرنا بتایا گیا ہے۔

سعودی انرجی اور نیشنل واٹر کمپنی کی جانب سے کھپت ٹیرف میں ایڈجسٹمنٹ کا اعلان یکم جنوری 2027 سے مؤثر ہوگا۔ رپورٹ میں ٹیرف کی نئی شرح یا فیصد کے بارے میں کوئی عدد فراہم نہیں کیا گیا۔

اسی طرح رپورٹ میں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ معاونت کے اقدامات پر عمل درآمد کے لیے کون سے ادارے ذمہ دار ہوں گے، سوائے سوشل سیکیورٹی کے وظیفے کے جس کے لیے قائم ریگولیٹری میکانزم کا ذکر کیا گیا ہے۔

کیا سول سروس کے تنخواہ اسکیلز اور آپریشنل پروگرام کنٹریکٹس کے علاوہ کوئی اور سرکاری زمرہ بھی اس اضافے کا حقدار ہوگا؟ رپورٹ میں صرف انہی دو زمروں کا ذکر ہے، اور اس کے علاوہ کسی زمرے کا نام نہیں لیا گیا۔

ریٹائرڈ افراد کے حوالے سے رپورٹ میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ اضافہ انہیں بھی ملے گا، اور ساتھ ہی سوشل انشورنس نظام کے تحت مرحوم سبسکرائبرز یا ریٹائرڈ افراد کے اہل مستفیدین کو بھی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہدایت میں خاندانی تسلسل کو بھی مدنظر رکھا گیا ہے۔

کیا مرحوم سبسکرائبرز کے اہل مستفیدین کی اہلیت کا تعین کس بنیاد پر ہوگا؟ رپورٹ میں اس حوالے سے کوئی تفصیل موجود نہیں، البتہ یہ ضرور کہا گیا ہے کہ وہ سوشل انشورنس نظام کے تحت اہل ہوں گے۔

سوشل سیکیورٹی فوائد حاصل کرنے والے خاندانوں کے لیے ماہانہ 500 سعودی ریال کا وظیفہ الاؤنس میں اضافے سے الگ ہے۔ رپورٹ میں دونوں امور کو علیحدہ علیحدہ بیان کیا گیا ہے، ایک سرکاری اہلکاروں اور ریٹائرڈ افراد کے لیے اور دوسرا سوشل سیکیورٹی فوائد حاصل کرنے والے خاندانوں کے لیے۔

نجی شعبے کے لیے کم از کم اجرت کا تعین نطاقات سعودائزیشن پروگرام کے کوٹہ کے تناظر میں کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ وہ کم از کم اجرت ہے جو کارکن کو کمانی ہوگی تاکہ وہ کوٹہ میں مکمل طور پر شمار ہو۔

کیا اس کم از کم اجرت کا اطلاق ان کارکنوں پر بھی ہوگا جو پہلے سے نجی شعبے میں کام کر رہے ہیں؟ رپورٹ میں اس بارے میں کوئی وضاحت نہیں دی گئی، صرف یہ بتایا گیا ہے کہ یہ حد چھ ماہ اور بارہ ماہ کے دو مرحلوں میں نافذ ہوگی۔

معاونت کے اقدامات کے مؤثر ہونے کی کوئی مخصوص تاریخ رپورٹ میں نہیں دی گئی۔ البتہ یہ واضح ہے کہ یہ اقدامات بجلی اور پانی کی کھپت ٹیرف ایڈجسٹمنٹ کے ساتھ منسلک ہیں جو یکم جنوری 2027 سے نافذ ہوگی۔

کیا ٹیرف ایڈجسٹمنٹ سے حاصل ہونے والی آمدنی انہی معاونت کے اقدامات پر خرچ کی جائے گی؟ رپورٹ میں اس بارے میں کوئی بیان نہیں دیا گیا، اور نہ ہی مالیاتی بندوبست کی کوئی تفصیل فراہم کی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق معاونت کے اقدامات کا مقصد شہریوں پر ٹیرف ایڈجسٹمنٹ کے اثرات کو کم کرنا ہے۔ یہ مقصد سول اور ملٹری اہلکاروں، ریٹائرڈ افراد، سوشل انشورنس کے اہل مستفیدین، سوشل سیکیورٹی فوائد حاصل کرنے والے خاندانوں اور نجی شعبے کے سعودی کارکنوں، سب کے حوالے سے بیان کیا گیا ہے۔

کیا ان اقدامات کے ساتھ ساتھ کوئی طویل مدتی پالیسی بھی متعارف کرائی گئی ہے؟ رپورٹ میں صرف مذکورہ بالا اقدامات کا ذکر ہے، اور اس کے علاوہ کسی پالیسی یا پروگرام کا تذکرہ نہیں کیا گیا۔

ایس پی اے کی رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ معاونت کے اقدامات کا کل مالی حجم کتنا ہوگا، نہ ہی مستفیدین کی تعداد کا کوئی اندازہ دیا گیا ہے۔ اسی طرح ٹیرف ایڈجسٹمنٹ کی نئی شرح کے بارے میں بھی کوئی عدد فراہم نہیں کیا گیا۔

رپورٹ میں یہ بھی واضح نہیں کیا گیا کہ نطاقات کوٹہ میں کم از کم اجرت کی نئی حد کا اطلاق کس تاریخ سے ہوگا، سوائے اس کے کہ یہ اقدامات کے مؤثر ہونے کے چھ ماہ اور بارہ ماہ بعد نافذ ہوگی۔ اقدامات کے مؤثر ہونے کی تاریخ رپورٹ میں درج نہیں۔

کیا سوشل سیکیورٹی فوائد حاصل کرنے والے خاندانوں کے لیے وظیفہ ان کے موجودہ فوائد کے علاوہ ہوگا؟ رپورٹ کے مطابق یہ ماہانہ 500 سعودی ریال کا وظیفہ قائم ریگولیٹری میکانزم کے تحت دیا جائے گا، تاہم یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ موجودہ فوائد میں شامل ہوگا یا اس کے علاوہ۔

خادم الحرمین الشریفین کی ہدایت اور ولی عہد کی تجویز کے اس عمل سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ٹیرف ایڈجسٹمنٹ کے فیصلے کے ساتھ شہریوں کی معاشی حفاظت کو بھی مدنظر رکھا گیا ہے۔ رپورٹ میں اس پہلو کو نمایاں کیا گیا ہے۔

سعودی انرجی اور نیشنل واٹر کمپنی دونوں نے کھپت ٹیرف میں ایڈجسٹمنٹ کا اعلان کیا ہے۔ رپورٹ میں دونوں اداروں کا نام لیا گیا ہے، البتہ ہر ادارے کی جانب سے الگ الگ ٹیرف کی تفصیل فراہم نہیں کی گئی۔

کیا بجلی اور پانی دونوں کے ٹیرف میں یکساں تناسب سے ایڈجسٹمنٹ کی گئی ہے؟ رپورٹ میں اس بارے میں کوئی وضاحت موجود نہیں، صرف یہ کہا گیا ہے کہ دونوں کی کھپت ٹیرف میں ایڈجسٹمنٹ یکم جنوری 2027 سے مؤثر ہوگی۔

معاونت کے اقدامات میں سول اور ملٹری اہلکاروں کا ذکر ایک ساتھ کیا گیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہدایت کا دائرہ دونوں شعبوں پر محیط ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ اضافہ سول سروس کے تنخواہ اسکیلز اور آپریشنل پروگرام کنٹریکٹس پر لاگو ہوگا۔

کیا آپریشنل پروگرام کنٹریکٹس پر کام کرنے والوں کی اہلیت کے لیے کوئی شرائط مقرر کی گئی ہیں؟ رپورٹ میں اس حوالے سے کوئی تفصیل نہیں دی گئی، صرف یہ بتایا گیا ہے کہ انہیں بھی ماہانہ 500 سعودی ریال کا اضافہ ملے گا۔

رپورٹ کے مطابق یہ ہدایت 25 اکتوبر 2026 کو جاری کی گئی، اور اسی دن سعودی انرجی اور نیشنل واٹر کمپنی کے ٹیرف ایڈجسٹمنٹ کے اعلان کا ذکر بھی کیا گیا۔ یہ ہم آہنگی رپورٹ کا مرکزی نکتہ ہے۔

ایس پی اے کی رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ معاونت کے اقدامات کا جائزہ کون لے گا، نہ ہی یہ کہ ان کے نفاذ کی نگرانی کس ادارے کے ذمے ہوگی۔ رپورٹ صرف اقدامات کی نوعیت اور ان کے زمروں تک محدود ہے۔

معاونت کے اقدامات میں کون کون شامل ہیں؟ ایس پی اے کے مطابق سول سروس کے تنخواہ اسکیلز اور آپریشنل پروگرام کنٹریکٹس پر سول اور ملٹری اہلکاروں کے لیے ماہانہ 500 سعودی ریال الاؤنس میں اضافہ کیا جائے گا۔ یہی اضافہ ریٹائرڈ افراد اور سوشل انشورنس نظام کے تحت مرحوم سبسکرائبرز یا ریٹائرڈ افراد کے اہل مستفیدین کو بھی ملے گا۔ اس کے علاوہ سوشل سیکیورٹی فوائد حاصل کرنے والے خاندانوں کو قائم ریگولیٹری میکانزم کے تحت ماہانہ 500 سعودی ریال کا وظیفہ دیا جائے گا۔

نجی شعبے کے سعودی کارکنوں کے لیے کیا تبدیلی آئے گی؟ نطاقات سعودائزیشن پروگرام کے تحت کوٹہ میں مکمل طور پر شمار ہونے کے لیے کارکن کی کم از کم اجرت اقدامات کے مؤثر ہونے کے چھ ماہ بعد 5,000 سعودی ریال ہو جائے گی۔ پہلی اضافے کے بارہ ماہ بعد یہ حد 6,000 سعودی ریال ہو جائے گی۔ رپورٹ کے مطابق اس کا مقصد اجرت کی سطح بلند کرنا اور شہریوں کے لیے نجی شعبے میں پائیدار روزگار کو تقویت دینا ہے۔

ٹیرف ایڈجسٹمنٹ کب سے نافذ ہوگی؟ سعودی انرجی اور نیشنل واٹر کمپنی نے کھپت ٹیرف میں ایڈجسٹمنٹ کا اعلان کیا ہے جو یکم جنوری 2027 سے مؤثر ہوگی۔ ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق معاونت کے اقدامات اسی ایڈجسٹمنٹ کے ساتھ ساتھ آتے ہیں تاکہ شہریوں پر اس کے اثرات کو پورا کیا جا سکے۔ رپورٹ میں ٹیرف کی نئی شرح یا فیصد کے بارے میں کوئی عدد فراہم نہیں کیا گیا۔

یہ ہدایت کس کی تجویز پر جاری کی گئی؟ رپورٹ کے مطابق خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود نے ولی عہد اور وزیر اعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کی تجویز کی بنیاد پر یہ ہدایت جاری کی۔ ہدایت 25 اکتوبر 2026 کو جاری کی گئی، اور اسی دن سعودی انرجی اور نیشنل واٹر کمپنی کے ٹیرف ایڈجسٹمنٹ کے اعلان کا ذکر بھی کیا گیا۔

سوشل سیکیورٹی فوائد حاصل کرنے والے خاندانوں کو کیا ملے گا؟ ایس پی اے کے مطابق سوشل سیکیورٹی فوائد حاصل کرنے والے خاندانوں کو قائم ریگولیٹری میکانزم کے تحت ماہانہ 500 سعودی ریال کا وظیفہ دیا جائے گا۔ اس کا مقصد بجلی اور پانی کی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ کے اثرات کو پورا کرنا ہے۔ رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ وظیفہ موجودہ فوائد کے علاوہ ہوگا یا ان میں شامل کیا جائے گا۔

رپورٹ میں کون سی تفصیلات نہیں دی گئیں؟ رپورٹ میں معاونت کے اقدامات کا کل مالی حجم، مستفیدین کی تعداد، ٹیرف کی نئی شرح، اور اقدامات کے مؤثر ہونے کی مخصوص تاریخ شامل نہیں۔ اسی طرح یہ بھی واضح نہیں کہ نطاقات کوٹہ میں کم از کم اجرت کی نئی حد کس تاریخ سے نافذ ہوگی، سوائے اس کے کہ یہ اقدامات کے مؤثر ہونے کے چھ ماہ اور بارہ ماہ بعد لاگو ہوگی۔