Monday, October 26, 2026
سعودی خبریں

جازان، عسیر، الباحہ، مکہ، تبوک، الجوف اور شمالی سرحدوں میں بارش اور ژالہ باری کا امکان

جازان، عسیر، الباحہ، مکہ، تبوک، الجوف اور شمالی سرحدوں میں بارش اور ژالہ باری کا امکان

ریاض سے جاری سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق نیشنل سینٹر فار میٹرولوجی نے ہفتہ کے دن کے موسم کی پیش گوئی میں بتایا ہے کہ جازان، عسیر، الباحہ، مکہ، تبوک، الجوف اور شمالی سرحدوں کے علاقوں کے بعض حصوں میں گرد اٹھانے والی ہوائیں چلیں گی اور درمیانے سے تیز بارش ہو سکتی ہے، جس کے ساتھ ژالہ باری بھی ممکن ہے۔

جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 10 اکتوبر 2026 کو بیان کیا، یہ پیش گوئی نیشنل سینٹر فار میٹرولوجی کی جانب سے جاری کی گئی ہے، جو مملکت میں موسم کی سرکاری نگرانی کرنے والا ادارہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق بارش کا یہ سلسلہ ملک کے جنوبی اور شمالی دونوں حصوں کو متاثر کر سکتا ہے، جبکہ کچھ علاقوں میں بارش کی شدت کم رہنے کا امکان ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مدینہ اور حائل کے علاقوں کے بعض حصوں میں ہلکی سے درمیانی بارش متوقع ہے۔ یعنی جہاں جازان، عسیر، الباحہ، مکہ، تبوک، الجوف اور شمالی سرحدوں میں بارش کے ساتھ ژالہ باری کا امکان ہے، وہیں مدینہ اور حائل میں بارش کی شدت نسبتاً کم رہے گی۔ کیا موسم کی یہ تقسیم بتاتی ہے کہ مملکت کے مختلف خطوں میں ہوا کے دباؤ کے نظام الگ الگ کام کر رہے ہیں؟

مزید برآں، مشرقی علاقے کے جنوبی حصوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش کا سلسلہ جاری رہنے کی توقع ہے۔ رپورٹ کے مطابق رات اور صبح کے ابتدائی اوقات میں مشرقی علاقے کے ساحلی علاقوں کے ساتھ ساتھ مکہ اور مدینہ کے ساحلی علاقوں میں دھند بھی بن سکتی ہے۔ دھند کا یہ امکان خاص طور پر ان علاقوں کے رہائشیوں اور سفر کرنے والوں کے لیے اہم ہے، کیونکہ صبح سویرے سڑکوں پر حد نگاہ کم ہو سکتی ہے۔ کیا ساحلی علاقوں میں دھند کے اس امکان کو دیکھتے ہوئے صبح کے اوقات میں سفر کرنے والوں کو اضافی احتیاط کرنی چاہیے؟

بحیرہ احمر کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وہاں ہوائیں شمال مغرب سے مغرب کی طرف 15 سے 35 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلیں گی، اور جنوب مغرب سے شمال مغرب کی طرف 10 سے 50 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلیں گی۔ لہروں کی بلندی آدھے میٹر سے لے کر دو میٹر سے زیادہ تک رہ سکتی ہے، اور سمندر پرسکون سے لے کر متلاطم تک رہے گا۔ سمندر کی یہ حالت ماہی گیروں اور سمندری سفر کرنے والوں کے لیے خاصی اہمیت رکھتی ہے۔ کیا بحیرہ احمر میں ہوا کی رفتار میں یہ فرق سمندری راستوں پر آنے والے جہازوں کے شیڈول کو متاثر کر سکتا ہے؟

خلیج عرب کے بارے میں رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ وہاں ہوائیں شمال مغرب سے شمال مشرق کی طرف 10 سے 25 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلیں گی، اور شمال مغرب سے جنوب مغرب کی طرف بھی انہی رفتاروں کے ساتھ چلیں گی۔ لہروں کی بلندی آدھے میٹر سے لے کر ایک میٹر تک رہے گی، اور سمندر نسبتاً پرسکون رہے گا۔ خلیج عرب میں سمندر کی یہ نسبتاً پرسکون حالت بحیرہ احمر کے مقابلے میں نمایاں فرق ظاہر کرتی ہے۔ کیا یہ فرق خلیج کے ساحلی شہروں میں ماہی گیری اور سمندری نقل و حمل کے لیے زیادہ سازگار حالات فراہم کرتا ہے؟

نیشنل سینٹر فار میٹرولوجی کی یہ پیش گوئی ہفتہ کے دن کے لیے جاری کی گئی ہے اور اس میں مملکت کے سات مختلف علاقوں میں بارش، ژالہ باری اور گرد اٹھانے والی ہواؤں کا ذکر ہے۔ رپورٹ کے مطابق جازان، عسیر، الباحہ، مکہ، تبوک، الجوف اور شمالی سرحدوں کے علاقوں میں درمیانے سے تیز بارش کے ساتھ ژالہ باری بھی ہو سکتی ہے، جو ان علاقوں کے لیے موسم کی ایک نمایاں تبدیلی ہے۔ کیا ان علاقوں کے کسانوں اور چرواہوں کو اس پیش گوئی کے مطابق اپنے روزمرہ کے کاموں کی منصوبہ بندی کرنی چاہیے؟

مدینہ اور حائل کے علاقوں میں ہلکی سے درمیانی بارش کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔ یہ دونوں علاقے مملکت کے اندرونی حصوں میں واقع ہیں، جہاں عام طور پر بارش کی مقدار کم رہتی ہے۔ رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ ان علاقوں میں بارش کا دورانیہ کتنا ہو گا یا کس وقت سب سے زیادہ بارش متوقع ہے۔ کیا موسم کی ایسی پیش گوئیوں میں وقت کی تفصیل نہ ہونا عام لوگوں کے لیے منصوبہ بندی کو مشکل بناتا ہے؟

مشرقی علاقے کے جنوبی حصوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش کے جاری رہنے کی بات رپورٹ کا ایک اور اہم نکتہ ہے۔ گرج چمک کے ساتھ بارش عام طور پر شدید اور مختصر دورانیے کی ہوتی ہے، اور اس کے ساتھ تیز ہوائیں بھی چل سکتی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ سلسلہ مشرقی علاقے کے جنوبی حصوں میں جاری رہے گا، جبکہ اسی علاقے کے ساحلی حصوں میں رات اور صبح کے ابتدائی اوقات میں دھند بن سکتی ہے۔ کیا ایک ہی علاقے میں بارش اور دھند کا بیک وقت امکان موسمی نظام کی پیچیدگی کو ظاہر کرتا ہے؟

رپورٹ میں مکہ اور مدینہ کے ساحلی علاقوں میں بھی رات اور صبح کے ابتدائی اوقات میں دھند بننے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ یہ علاقے بحیرہ احمر کے ساحل پر واقع ہیں، جہاں نمی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے اور اسی وجہ سے دھند بننے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ دھند کی وجہ سے حد نگاہ کم ہو سکتی ہے، جس کا اثر سڑکوں پر ٹریفک اور ہوائی اڈوں کی پروازوں پر پڑ سکتا ہے۔ کیا ساحلی شہروں میں دھند کے دوران ہوائی اڈوں اور بندرگاہوں کو اضافی حفاظتی انتظامات کرنے چاہئیں؟

بحیرہ احمر میں ہوا کی سمت اور رفتار کے بارے میں رپورٹ میں دو مختلف رینج دی گئی ہیں۔ ایک طرف ہوائیں شمال مغرب سے مغرب کی طرف 15 سے 35 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلیں گی، جبکہ دوسری طرف جنوب مغرب سے شمال مغرب کی طرف 10 سے 50 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلیں گی۔ ہوا کی رفتار میں یہ فرق بتاتا ہے کہ بحیرہ احمر کے مختلف حصوں میں حالات مختلف ہو سکتے ہیں۔ کیا سمندری سفر کرنے والوں کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ اپنے راستے کے مخصوص حصے کا موسم الگ سے چیک کریں؟

لہروں کی بلندی بحیرہ احمر میں آدھے میٹر سے لے کر دو میٹر سے زیادہ تک بتائی گئی ہے، اور سمندر کی حالت پرسکون سے متلاطم تک رہے گی۔ یہ رینج چھوٹی کشتیوں سے لے کر بڑے جہازوں تک مختلف قسم کے سمندری وسائل کے لیے مختلف سطح کے چیلنجز پیدا کر سکتی ہے۔ رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ کس حصے میں لہریں زیادہ بلند ہوں گی اور کس حصے میں کم۔ کیا ماہی گیروں کو ایسی پیش گوئیوں میں علاقائی تفصیل ملنی چاہیے تاکہ وہ محفوظ طریقے سے سمندر میں جا سکیں؟

خلیج عرب میں ہوائیں شمال مغرب سے شمال مشرق اور شمال مغرب سے جنوب مغرب کی طرف 10 سے 25 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلیں گی۔ لہروں کی بلندی آدھے میٹر سے ایک میٹر تک رہے گی اور سمندر نسبتاً پرسکون رہے گا۔ بحیرہ احمر کے مقابلے میں خلیج عرب میں ہوا کی رفتار کم اور لہریں چھوٹی بتائی گئی ہیں۔ کیا یہ فرق خلیج کے ساحلی شہروں میں سمندری سرگرمیوں کے لیے زیادہ مواقع فراہم کرتا ہے؟

رپورٹ کے مطابق یہ پیش گوئی ہفتہ کے دن کے لیے ہے، اور اس میں رات اور صبح کے ابتدائی اوقات میں دھند کے امکان کا ذکر الگ سے کیا گیا ہے۔ یعنی موسم کی حالت دن بھر میں تبدیل ہو سکتی ہے، اور صبح کے اوقات میں دھند جبکہ دن میں بارش اور گرج چمک کا امکان ہے۔ کیا دن بھر میں موسم کی اس تبدیلی کو دیکھتے ہوئے لوگوں کو اپنے سفر اور کام کے شیڈول لچکدار رکھنے چاہئیں؟

نیشنل سینٹر فار میٹرولوجی کی یہ پیش گوئی مملکت کے وسیع جغرافیائی پھیلاؤ کو ظاہر کرتی ہے، جہاں ایک ہی دن میں سات علاقوں میں بارش اور ژالہ باری، دو علاقوں میں ہلکی بارش، ایک علاقے میں گرج چمک، اور متعدد ساحلی علاقوں میں دھند کا امکان ہے۔ یہ تنوع سعودی عرب کے موسمی نظام کی خصوصیت ہے، جہاں شمالی سرحدوں سے لے کر جنوبی جازان تک اور مشرقی ساحل سے لے کر مغربی ساحل تک حالات مختلف ہوتے ہیں۔ کیا اس جغرافیائی تنوع کی وجہ سے موسم کی پیش گوئی کرنا خاصا پیچیدہ کام بن جاتا ہے؟

رپورٹ میں بارش کی مقدار، دورانیے یا کسی خاص شہر کے درجہ حرارت کے بارے میں تفصیل نہیں دی گئی۔ اسی طرح یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ گرد اٹھانے والی ہواؤں کی شدت کتنی ہو گی یا حد نگاہ پر اس کا کیا اثر پڑے گا۔ رپورٹ میں صرف یہ بتایا گیا ہے کہ کون سے علاقے متاثر ہو سکتے ہیں اور کس قسم کا موسم متوقع ہے۔ کیا موسم کی روزانہ کی پیش گوئیوں میں اس قسم کی اضافی تفصیل شامل کرنا عوام کے لیے زیادہ مفید ہو گا؟

بحیرہ احمر اور خلیج عرب دونوں کے لیے دی گئی ہوا اور لہروں کی تفصیلات سمندری سرگرمیوں سے جڑے لوگوں کے لیے خاصی اہمیت رکھتی ہیں۔ بحیرہ احمر میں ہوا کی رفتار 50 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ سکتی ہے اور لہریں دو میٹر سے زیادہ ہو سکتی ہیں، جبکہ خلیج عرب میں ہوا کی رفتار 25 کلومیٹر فی گھنٹہ تک اور لہریں ایک میٹر تک رہ سکتی ہیں۔ کیا ان اعداد و شمار کو دیکھتے ہوئے بحیرہ احمر میں سمندری سفر کرنے والوں کو زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے؟

رپورٹ کے مطابق مشرقی علاقے کے ساحلی حصوں میں رات اور صبح کے ابتدائی اوقات میں دھند بن سکتی ہے، جبکہ اسی علاقے کے جنوبی حصوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش جاری رہ سکتی ہے۔ یعنی مشرقی علاقے کے اندرونی اور ساحلی حصوں میں موسم کی حالت مختلف ہو سکتی ہے۔ کیا اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ساحلی اور اندرونی علاقوں کے موسمی اثرات الگ الگ ہوتے ہیں؟

مکہ اور مدینہ کے ساحلی علاقوں میں دھند کے امکان کا ذکر رپورٹ میں الگ سے کیا گیا ہے، جبکہ مکہ کے علاقے کا ذکر بارش اور ژالہ باری والے علاقوں میں بھی آیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مکہ کے علاقے کے مختلف حصوں میں موسم کی مختلف حالتیں دیکھنے کو مل سکتی ہیں۔ کیا ایک ہی علاقے میں بارش اور دھند دونوں کا امکان رہائشیوں کے لیے روزمرہ کی منصوبہ بندی کو متاثر کرتا ہے؟

رپورٹ میں دی گئی تمام تفصیلات نیشنل سینٹر فار میٹرولوجی کی جانب سے ہیں، اور ایس پی اے نے انہیں 10 اکتوبر 2026 کو شائع کیا۔ رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ پیش گوئی کتنے دنوں تک جاری رہے گی یا اس کے بعد موسم کی حالت کیسی رہے گی۔ اسی طرح کسی قسم کے انتباہ یا وارننگ کا ذکر بھی رپورٹ میں موجود نہیں ہے۔ کیا عوام کو موسم کی شدید حالتوں سے بچنے کے لیے اضافی انتباہات کی ضرورت ہوتی ہے؟

مملکت کے مختلف علاقوں میں بارش، ژالہ باری، گرد اٹھانے والی ہوائیں، گرج چمک اور دھند جیسے موسمی مظاہر ایک ہی دن کے لیے پیش کیے گئے ہیں۔ یہ پیش گوئی ظاہر کرتی ہے کہ سعودی عرب میں موسم کا نظام کس قدر متحرک ہے اور ایک ہی وقت میں مختلف علاقوں میں مختلف حالات پیدا کر سکتا ہے۔ رپورٹ میں دی گئی معلومات کے مطابق عوام کو اپنے علاقے کے موسم کے بارے میں آگاہ رہنے کی ضرورت ہے۔ کیا موسم کی ایسی روزانہ پیش گوئیاں عوام کی حفاظت اور منصوبہ بندی میں مددگار ثابت ہوتی ہیں؟

ہفتہ کے دن کون سے علاقوں میں درمیانے سے تیز بارش اور ژالہ باری متوقع ہے؟ نیشنل سینٹر فار میٹرولوجی کے مطابق جازان، عسیر، الباحہ، مکہ، تبوک، الجوف اور شمالی سرحدوں کے علاقوں کے بعض حصوں میں گرد اٹھانے والی ہوائیں چلیں گی اور درمیانے سے تیز بارش ہو سکتی ہے، جس کے ساتھ ژالہ باری بھی ممکن ہے۔ رپورٹ میں بارش کی مقدار یا دورانیے کی تفصیل نہیں دی گئی۔

مدینہ اور حائل میں بارش کی شدت کیسی رہے گی؟ رپورٹ کے مطابق مدینہ اور حائل کے علاقوں کے بعض حصوں میں ہلکی سے درمیانی بارش متوقع ہے۔ یہ ان علاقوں کے مقابلے میں کم شدت کی بارش ہے جہاں درمیانے سے تیز بارش اور ژالہ باری کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں ان علاقوں کے لیے وقت یا مقدار کی تفصیل موجود نہیں۔

مشرقی علاقے میں موسم کی کیا صورتحال رہے گی؟ رپورٹ کے مطابق مشرقی علاقے کے جنوبی حصوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش کا سلسلہ جاری رہے گا، جبکہ اسی علاقے کے ساحلی حصوں میں رات اور صبح کے ابتدائی اوقات میں دھند بن سکتی ہے۔ یعنی ایک ہی علاقے کے اندرونی اور ساحلی حصوں میں موسم کی حالت مختلف ہو سکتی ہے۔

بحیرہ احمر میں ہوا اور لہروں کی حالت کیسی رہے گی؟ رپورٹ کے مطابق بحیرہ احمر میں ہوائیں شمال مغرب سے مغرب کی طرف 15 سے 35 کلومیٹر فی گھنٹہ اور جنوب مغرب سے شمال مغرب کی طرف 10 سے 50 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلیں گی۔ لہروں کی بلندی آدھے میٹر سے دو میٹر سے زیادہ تک رہ سکتی ہے اور سمندر پرسکون سے متلاطم تک رہے گا۔

خلیج عرب میں سمندری حالات کیسے رہیں گے؟ رپورٹ کے مطابق خلیج عرب میں ہوائیں شمال مغرب سے شمال مشرق اور شمال مغرب سے جنوب مغرب کی طرف 10 سے 25 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلیں گی۔ لہروں کی بلندی آدھے میٹر سے ایک میٹر تک رہے گی اور سمندر نسبتاً پرسکون رہے گا، جو بحیرہ احمر کے مقابلے میں کم شدت کے حالات ہیں۔

دھند کہاں اور کب بن سکتی ہے؟ رپورٹ کے مطابق مشرقی علاقے کے ساحلی علاقوں کے ساتھ ساتھ مکہ اور مدینہ کے ساحلی علاقوں میں رات اور صبح کے ابتدائی اوقات میں دھند بن سکتی ہے۔ دھند کی وجہ سے حد نگاہ کم ہو سکتی ہے، اس لیے ان اوقات میں سفر کرنے والوں کو احتیاط کی ضرورت ہے۔ رپورٹ میں دھند کی شدت کی تفصیل نہیں دی گئی۔