Monday, October 26, 2026
سعودی خبریں

ریاض کے گورنر اتوار کو ساتویں بین الاقوامی کانفرنس برائے معذوری و بحالی کا افتتاح کریں گے

ریاض کے گورنر اتوار کو ساتویں بین الاقوامی کانفرنس برائے معذوری و بحالی کا افتتاح کریں گے

ریاض کے گورنر شہزادہ فیصل بن بندر بن عبدالعزیز اتوار 11 اکتوبر کو خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کی جانب سے ساتویں بین الاقوامی کانفرنس برائے معذوری و بحالی کا افتتاح کریں گے۔ یہ کانفرنس 11 سے 13 اکتوبر تک انٹرکانٹینینٹل ریاض ہوٹل میں منعقد ہوگی۔

جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 9 اکتوبر 2026 کو بیان کیا، کانفرنس خادم حرمین شریفین کے خصوصی مشیر اور کنگ سلمان سینٹر فار ڈس ایبلٹی ریسرچ کی بورڈ آف ٹرسٹیز کے چیئرمین شہزادہ سلطان بن سلمان بن عبدالعزیز کی زیر صدارت ہوگی، جو اس تقریب کے منتظم بھی ہیں۔

کانفرنس کا موضوع «Daring Toward the Future» ہے۔ یہ موضوع ایک سائنسی نقطہ نظر کی عکاسی کرتا ہے جو موجودہ دستیاب حل سے آگے بڑھتا ہے اور تحقیق کے نئے افق کھولتا ہے۔ اس کا مقصد انسانی صلاحیتوں کی بحالی اور بینائی، سماعت اور حرکت پذیری میں اختراعی ٹیکنالوجیز کی ترقی ہے، تاکہ سائنسی خواہشات کو عملی اطلاق کے قریب لایا جا سکے جس سے معذور افراد مستفید ہوں۔

دنیا بھر سے ممتاز سائنسدان، محققین اور اختراع کار اس کانفرنس میں شرکت کریں گے۔ وہ تازہ ترین سائنسی دریافتوں اور امید افزا ٹیکنالوجیز پر گفتگو کریں گے جو معذور افراد اور ان کے خاندانوں کی زندگیوں میں نمایاں بہتری لا سکتی ہیں۔ کیا یہ کانفرنس واقعی ان ٹیکنالوجیز کو عام زندگی میں لاگو کرنے کا راستہ ہموار کرے گی؟

کنگ سلمان بین الاقوامی ایوارڈ اور مصنوعی ذہانت ہیکاتھون

کانفرنس میں کنگ سلمان انٹرنیشنل ایوارڈ فار ڈس ایبلٹی ریسرچ کے فاتحین کو بھی اعزاز سے نوازا جائے گا۔ اس ایوارڈ کے لیے 111 ممالک سے 770 نامزدگیاں موصول ہوئی ہیں۔ اتنی وسیع عالمی شرکت کیا اس بات کا ثبوت نہیں کہ معذوری کی تحقیق اب عالمی ترجیح بن چکی ہے؟

کانفرنس کی ایک اور نمایاں خصوصیت معذور افراد کے لیے مصنوعی ذہانت کا ہیکاتھون ہے۔ اس ہیکاتھون میں مختلف قومیتوں کی 918 ٹیموں کی نمائندگی کرتے ہوئے 2,250 سے زیادہ شرکاء نے حصہ لیا ہے۔ یہ شرکاء معذور افراد کو درپیش چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے اختراعی حل تیار کریں گے۔ 918 ٹیمیں اور 2,250 شرکاء کا یہ اجتماع کس حد تک حقیقی مسائل کا حل نکال پائے گا؟

کانفرنس کی سرگرمیاں وسیع تر کمیونٹی تک بھی پھیلیں گی۔ اس سلسلے میں انٹرایکٹو شام کی نشستیں اور ورکشاپس منعقد ہوں گی جن میں انفلوئنسرز اور ماہرین شامل ہوں گے۔ یہ سرگرمیاں معذور افراد کو نشانہ بنائیں گی۔ کیا یہ کمیونٹی پر مبنی ماڈل معذور افراد کو معاشرے کے مرکزی دھارے میں لانے میں کامیاب ہوگا؟

کانفرنس کا انعقاد کنگ سلمان سینٹر فار ڈس ایبلٹی ریسرچ کر رہا ہے۔ یہ مرکز معذوری سے متعلق سائنسی تحقیق کے میدان میں اپنی خدمات کے لیے جانا جاتا ہے۔ کانفرنس کا تھیم «Daring Toward the Future» اس عزم کا اظہار کرتا ہے کہ موجودہ حل کافی نہیں بلکہ نئی راہیں تلاش کرنا ضروری ہیں۔ کیا معذوری کی تحقیق میں روایتی طریقوں سے ہٹ کر سوچنا وقت کی ضرورت ہے؟

افتتاحی تقریب اتوار 11 اکتوبر کو ہوگی جبکہ کانفرنس کے سیشنز 13 اکتوبر تک جاری رہیں گے۔ ریاض کے گورنر شہزادہ فیصل بن بندر بن عبدالعزیز خادم حرمین شریفین کی جانب سے اس تقریب کا افتتاح کریں گے۔ شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کی سرپرستی میں ہونے والی یہ کانفرنس معذوری کے شعبے میں سعودی عرب کی قیادت کو ظاہر کرتی ہے۔ کیا اس سطح کی سرپرستی سے معذور افراد کے لیے پالیسی سازی میں کوئی ٹھوس تبدیلی آئے گی؟

کانفرنس میں بینائی، سماعت اور حرکت پذیری کے شعبوں میں اختراعی ٹیکنالوجیز پر خاص توجہ دی جائے گی۔ مقصد یہ ہے کہ سائنسی تحقیق کو عملی اطلاق تک پہنچایا جائے تاکہ معذور افراد کی زندگیوں میں حقیقی بہتری آئے۔ یہ کانفرنس انسانی صلاحیتوں کی بحالی کو مرکزی حیثیت دیتی ہے۔ کیا گمشدہ انسانی صلاحیتوں کی بحالی کا خواب حقیقت کا روپ دھار سکتا ہے؟

ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق کانفرنس میں دنیا بھر سے سائنسدان، محققین اور اختراع کار شرکت کریں گے۔ یہ شرکاء تازہ ترین سائنسی دریافتوں اور امید افزا ٹیکنالوجیز پر تبادلہ خیال کریں گے۔ کانفرنس کا دائرہ کار صرف علمی بحث تک محدود نہیں بلکہ اس میں عملی پہلو بھی شامل ہیں۔ کیا عالمی تعاون کے بغیر معذوری کے چیلنجوں پر قابو پانا ممکن ہے؟

کنگ سلمان انٹرنیشنل ایوارڈ فار ڈس ایبلٹی ریسرچ کے لیے 111 ممالک سے 770 نامزدگیاں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ اس شعبے میں عالمی سطح پر کافی کام ہو رہا ہے۔ ایوارڈ کا مقصد بہترین تحقیقی کاوشوں کو تسلیم کرنا اور ان کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔ کیا اس طرح کے ایوارڈز تحقیق کے معیار کو بلند کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں؟

مصنوعی ذہانت کا ہیکاتھون کانفرنس کا ایک اہم جزو ہے۔ 918 ٹیموں اور 2,250 سے زائد شرکاء کی شرکت اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ نوجوان نسل معذوری کے مسائل کے حل میں دلچسپی رکھتی ہے۔ ہیکاتھون کا مقصد معذور افراد کو درپیش چیلنجوں کے لیے اختراعی حل تیار کرنا ہے۔ کیا مصنوعی ذہانت معذوری کے شعبے میں انقلابی تبدیلی لا سکتی ہے؟

کانفرنس کی شام کی نشستیں اور ورکشاپس انفلوئنسرز اور ماہرین کی شرکت سے ہوں گی۔ یہ سرگرمیاں معذور افراد کو نشانہ بنائیں گی اور انہیں معاشرے کے ساتھ جوڑنے کا کام کریں گی۔ اس طرح کانفرنس کا اثر صرف ہوٹل کی دیواروں تک محدود نہیں رہے گا بلکہ وسیع تر کمیونٹی تک پہنچے گا۔ کیا کمیونٹی کی شمولیت کے بغیر کوئی بھی سماجی اقدام کامیاب ہو سکتا ہے؟

یہ کانفرنس 11 سے 13 اکتوبر تک جاری رہے گی اور اس کا میزبان شہر ریاض ہے۔ انٹرکانٹینینٹل ریاض ہوٹل میں ہونے والی اس تقریب میں شرکت کے لیے دنیا بھر سے ماہرین کو مدعو کیا گیا ہے۔ کانفرنس کا انعقاد کنگ سلمان سینٹر فار ڈس ایبلٹی ریسرچ کر رہا ہے جو معذوری کی تحقیق کے میدان میں ایک معروف ادارہ ہے۔ کیا سعودی عرب اس شعبے میں عالمی مرکز بننے کی طرف گامزن ہے؟

رپورٹ میں کانفرنس کے ایجنڈے، شرکاء کی حتمی فہرست یا کسی مخصوص اعلان کا ذکر نہیں کیا گیا۔ ایس پی اے نے یہ بھی نہیں بتایا کہ کانفرنس کے اختتام پر کوئی قرارداد یا سفارشات جاری کی جائیں گی یا نہیں۔ اس طرح کچھ اہم تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئیں۔

کانفرنس کا افتتاح کون کریں گے اور کس کی جانب سے؟ ریاض کے گورنر شہزادہ فیصل بن بندر بن عبدالعزیز اتوار 11 اکتوبر کو خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کی جانب سے کانفرنس کا افتتاح کریں گے۔ ایس پی اے کے مطابق یہ تقریب خادم حرمین شریفین کی سرپرستی میں ہو رہی ہے۔ کانفرنس 11 سے 13 اکتوبر تک انٹرکانٹینینٹل ریاض ہوٹل میں منعقد ہوگی۔

کانفرنس کی صدارت کون کریں گے اور منتظم ادارہ کون ہے؟ کانفرنس کی صدارت خادم حرمین شریفین کے خصوصی مشیر اور کنگ سلمان سینٹر فار ڈس ایبلٹی ریسرچ کی بورڈ آف ٹرسٹیز کے چیئرمین شہزادہ سلطان بن سلمان بن عبدالعزیز کریں گے۔ یہی مرکز کانفرنس کا منتظم بھی ہے۔ ایس پی اے کے مطابق کانفرنس کا موضوع «Daring Toward the Future» ہے۔

کانفرنس میں کون کون شرکت کرے گا؟ دنیا بھر سے ممتاز سائنسدان، محققین اور اختراع کار کانفرنس میں شرکت کریں گے۔ وہ تازہ ترین سائنسی دریافتوں اور امید افزا ٹیکنالوجیز پر گفتگو کریں گے جو معذور افراد اور ان کے خاندانوں کی زندگیوں میں بہتری لا سکتی ہیں۔ ایس پی اے کے مطابق کانفرنس بینائی، سماعت اور حرکت پذیری میں اختراعی ٹیکنالوجیز پر توجہ دے گی۔

کنگ سلمان بین الاقوامی ایوارڈ کے بارے میں کیا معلومات ہیں؟ کانفرنس میں کنگ سلمان انٹرنیشنل ایوارڈ فار ڈس ایبلٹی ریسرچ کے فاتحین کو اعزاز سے نوازا جائے گا۔ ایس پی اے کے مطابق اس ایوارڈ کے لیے 111 ممالک سے 770 نامزدگیاں موصول ہوئی ہیں۔ یہ ایوارڈ معذوری کی تحقیق کے میدان میں بہترین کاوشوں کو تسلیم کرنے کے لیے دیا جاتا ہے۔

مصنوعی ذہانت کے ہیکاتھون میں کتنے شرکاء نے حصہ لیا؟ کانفرنس میں معذور افراد کے لیے مصنوعی ذہانت کا ہیکاتھون بھی شامل ہے جس میں 2,250 سے زیادہ شرکاء نے حصہ لیا۔ ایس پی اے کے مطابق یہ شرکاء مختلف قومیتوں کی 918 ٹیموں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ہیکاتھون کا مقصد معذور افراد کو درپیش چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے اختراعی حل تیار کرنا ہے۔

کانفرنس کی کمیونٹی سرگرمیاں کیا ہوں گی؟ کانفرنس کی سرگرمیاں وسیع تر کمیونٹی تک پھیلیں گی جن میں انٹرایکٹو شام کی نشستیں اور ورکشاپس شامل ہیں۔ ایس پی اے کے مطابق ان نشستوں میں انفلوئنسرز اور ماہرین شرکت کریں گے۔ یہ سرگرمیاں معذور افراد کو نشانہ بنائیں گی اور انہیں معاشرے کے ساتھ جوڑنے کا کام کریں گی۔