Tuesday, October 27, 2026
سعودی خبریں

عرب پارلیمنٹ کے صدر: حوثی حملے سعودی عرب اور علاقائی سلامتی کے لیے براہ راست خطرہ ہیں

عرب پارلیمنٹ کے صدر: حوثی حملے سعودی عرب اور علاقائی سلامتی کے لیے براہ راست خطرہ ہیں

قاہرہ میں جمعرات 8 اکتوبر 2026 کو عرب پارلیمنٹ کے صدر محمد بن احمد الیماحی نے کہا کہ حوثی ملیشیا کے بار بار کیے جانے والے دہشت گردانہ حملے سعودی عرب اور اس کی شہری و تیل تنصیبات کے خلاف ہیں اور یہ علاقائی سلامتی کے لیے براہ راست خطرہ ہیں۔

جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے بیان کیا، الیماحی نے یہ بات تنزانیہ کے شہر اروشا میں انٹر پارلیمنٹری یونین کی 153ویں اسمبلی سے خطاب کے دوران کہی۔ انہوں نے اپنی تقریر میں ایران کے ان حملوں کا بھی ذکر کیا جو کئی عرب ممالک کو نشانہ بناتے ہیں اور شہریوں، بنیادی ڈھانچے اور اہم تنصیبات کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔

عرب پارلیمنٹ کے صدر نے علاقائی کشیدگی اور عرب ممالک کی سلامتی کو لاحق متعلقہ خطرات پر بھی بات کی۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ محض مذمت سے آگے بڑھے اور ریاستوں اور ان کی خودمختاری کے تحفظ کے لیے اقدامات کرے، نیز فریقین کو بین الاقوامی قانون کے احترام پر مجبور کرے۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں سلامتی کی صورتحال مسلسل زیر بحث ہے اور عرب ممالک کی پارلیمانی سطح پر نمائندگی کرنے والا ادارہ ان خطرات کو بین الاقوامی فورمز پر اٹھا رہا ہے۔ انٹر پارلیمنٹری یونین کا یہ اجلاس اروشا میں منعقد ہوا، جہاں مختلف ممالک کے پارلیمانی نمائندے موجود تھے۔

کیا بار بار ہونے والے یہ حملے صرف ایک ملک کا مسئلہ ہیں یا پورے خطے کی سلامتی کا سوال؟ الیماحی کا موقف واضح ہے کہ سعودی عرب اور اس کی شہری و تیل تنصیبات کو نشانہ بنانے والے حملے علاقائی سلامتی کے لیے براہ راست خطرہ ہیں۔ انہوں نے اس خطرے کو محدود یا مقامی نوعیت کا مسئلہ قرار نہیں دیا، بلکہ اسے علاقائی سطح پر دیکھا۔

عرب پارلیمنٹ کے صدر نے اپنی تقریر میں ایران کے ان حملوں کا تذکرہ بھی کیا جو کئی عرب ممالک کو نشانہ بناتے ہیں۔ ان حملوں سے شہریوں، بنیادی ڈھانچے اور اہم تنصیبات کو خطرات لاحق ہوتے ہیں۔ یہ بات اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ خطے میں خطرات کا دائرہ وسیع ہے اور متعدد عرب ممالک اس سے متاثر ہو رہے ہیں۔

کیا عالمی برادری محض مذمتی بیانات تک محدود رہے گی یا ٹھوس اقدامات کرے گی؟ الیماحی نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ مذمت سے آگے بڑھے اور ایسے اقدامات کرے جو ریاستوں اور ان کی خودمختاری کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ فریقین کو بین الاقوامی قانون کے احترام پر مجبور کرنا ضروری ہے۔

انہوں نے علاقائی کشیدگی اور عرب ممالک کی سلامتی کو لاحق متعلقہ خطرات پر بھی روشنی ڈالی۔ یہ موضوع انٹر پارلیمنٹری یونین کے اجلاس میں ان کی تقریر کا مرکزی حصہ رہا۔ عرب پارلیمنٹ کے صدر کی حیثیت سے ان کا یہ بیان عرب ممالک کی پارلیمانی نمائندگی کے پلیٹ فارم سے سامنے آیا۔

کیا بین الاقوامی قانون کے احترام کو یقینی بنانے کے لیے کوئی واضح طریقہ کار موجود ہے؟ الیماحی نے اس سوال کا براہ راست جواب نہیں دیا، لیکن انہوں نے فریقین کو بین الاقوامی قانون کے احترام پر مجبور کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کا مؤقف یہ تھا کہ محض مذمت کافی نہیں بلکہ عملی اقدامات درکار ہیں۔

عرب پارلیمنٹ کے صدر کی تقریر میں یہ بات نمایاں تھی کہ انہوں نے سعودی عرب کے خلاف حوثی حملوں کو علاقائی سلامتی سے جوڑ کر دیکھا۔ ان کے مطابق یہ حملے نہ صرف سعودی عرب بلکہ پورے خطے کے لیے خطرہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے عالمی برادری سے ریاستوں اور ان کی خودمختاری کے تحفظ کے لیے اقدامات کا مطالبہ کیا۔

کیا خطے میں کشیدگی میں کمی کے لیے پارلیمانی سطح پر کی جانے والی کوششیں کافی ہیں؟ انٹر پارلیمنٹری یونین کے اجلاس میں عرب پارلیمنٹ کے صدر کی شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ معاملہ بین الاقوامی پارلیمانی فورمز پر اٹھایا جا رہا ہے۔ تاہم انہوں نے خود اس بات پر زور دیا کہ مذمت سے آگے بڑھ کر اقدامات کی ضرورت ہے۔

الیماحی نے اپنی تقریر میں ایرانی حملوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ حملے کئی عرب ممالک کو نشانہ بناتے ہیں اور شہریوں، بنیادی ڈھانچے اور اہم تنصیبات کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔ ان کا یہ بیان خطے میں سلامتی کے چیلنجز کی وسعت کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے ان حملوں کو علاقائی کشیدگی کے تناظر میں دیکھا۔

کیا عرب ممالک کی خودمختاری کو لاحق خطرات کے حوالے سے کوئی مشترکہ حکمت عملی بن سکتی ہے؟ الیماحی نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ ریاستوں اور ان کی خودمختاری کے تحفظ کے لیے اقدامات کرے۔ انہوں نے فریقین کو بین الاقوامی قانون کے احترام پر مجبور کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ یہ مطالبہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ان کے نزدیک موجودہ صورتحال میں بین الاقوامی قانون کا احترام یقینی بنانا بنیادی مسئلہ ہے۔

عرب پارلیمنٹ کے صدر نے اپنی تقریر میں علاقائی کشیدگی اور عرب ممالک کی سلامتی کو لاحق متعلقہ خطرات کا بھی جائزہ پیش کیا۔ انہوں نے ان خطرات کو نظر انداز نہ کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کا خطاب انٹر پارلیمنٹری یونین کی 153ویں اسمبلی سے تھا جو تنزانیہ کے شہر اروشا میں منعقد ہوئی۔

کیا عالمی برادری کے اقدامات میں ریاستوں کی خودمختاری کے تحفظ کو مرکزی حیثیت حاصل ہوگی؟ الیماحی کا مطالبہ اسی طرف اشارہ کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کو مذمت سے آگے بڑھ کر ایسے اقدامات کرنے چاہئیں جو ریاستوں اور ان کی خودمختاری کا تحفظ کریں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ فریقین کو بین الاقوامی قانون کے احترام پر مجبور کیا جانا چاہیے۔

سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے کے مطابق یہ بیان قاہرہ سے جاری ہوا اور اس میں عرب پارلیمنٹ کے صدر کے عہدے کا حوالہ دیا گیا۔ انہوں نے سعودی عرب اور اس کی شہری و تیل تنصیبات کے خلاف حوثی ملیشیا کے بار بار کیے جانے والے دہشت گردانہ حملوں کو علاقائی سلامتی کے لیے براہ راست خطرہ قرار دیا۔

ان کی تقریر کا ایک اہم نکتہ یہ تھا کہ انہوں نے ایرانی حملوں کا ذکر کیا جو کئی عرب ممالک کو نشانہ بناتے ہیں۔ ان حملوں سے شہریوں، بنیادی ڈھانچے اور اہم تنصیبات کو خطرات لاحق ہوتے ہیں۔ انہوں نے ان حملوں کو علاقائی کشیدگی کے ساتھ جوڑ کر دیکھا اور عرب ممالک کی سلامتی کو لاحق خطرات پر بات کی۔

کیا انٹر پارلیمنٹری یونین جیسے فورمز پر اٹھائے گئے مسائل عملی تبدیلی لا سکتے ہیں؟ الیماحی کی تقریر میں اس سوال کا براہ راست جواب موجود نہیں، تاہم انہوں نے عالمی برادری سے ٹھوس اقدامات کا مطالبہ ضرور کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ محض مذمت کافی نہیں بلکہ ریاستوں اور ان کی خودمختاری کے تحفظ کے لیے اقدامات کرنے ہوں گے۔

عرب پارلیمنٹ کے صدر نے اپنی تقریر میں فریقین کو بین الاقوامی قانون کے احترام پر مجبور کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کا یہ مطالبہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ان کے نزدیک بین الاقوامی قانون کی پاسداری اس صورتحال کے حل کا ایک اہم ستون ہے۔ انہوں نے عالمی برادری سے کہا کہ وہ اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرے۔

سعودی عرب اور اس کی شہری و تیل تنصیبات کے خلاف حوثی حملوں کا معاملہ عرب پارلیمنٹ کے صدر کی تقریر کا مرکزی نکتہ تھا۔ انہوں نے ان حملوں کو نہ صرف سعودی عرب بلکہ پورے خطے کے لیے خطرہ قرار دیا۔ ان کا یہ بیان علاقائی سلامتی کے حوالے سے عرب پارلیمنٹ کے مؤقف کی عکاسی کرتا ہے۔

انہوں نے اپنی تقریر میں علاقائی کشیدگی اور عرب ممالک کی سلامتی کو لاحق متعلقہ خطرات پر بھی بات کی۔ انہوں نے ان خطرات کے تناظر میں عالمی برادری سے اقدامات کا مطالبہ کیا۔ ان کا مؤقف تھا کہ ریاستوں اور ان کی خودمختاری کا تحفظ یقینی بنایا جانا چاہیے اور فریقین کو بین الاقوامی قانون کا احترام کرنے پر مجبور کیا جانا چاہیے۔

ایس پی اے کے مطابق یہ بیان 8 اکتوبر 2026 کو قاہرہ سے جاری ہوا۔ عرب پارلیمنٹ کے صدر محمد بن احمد الیماحی نے یہ بات تنزانیہ کے شہر اروشا میں انٹر پارلیمنٹری یونین کی 153ویں اسمبلی سے خطاب کے دوران کہی۔ ان کی تقریر میں سعودی عرب کے خلاف حوثی حملوں، ایرانی حملوں اور علاقائی کشیدگی کے موضوعات شامل تھے۔

رپورٹ میں اس بات کا ذکر نہیں کہ عالمی برادری کی جانب سے کسی خاص اقدام کا اعلان ہوا یا نہیں، نہ ہی کسی ردعمل کا تذکرہ ہے۔ ایس پی اے کی رپورٹ میں صرف عرب پارلیمنٹ کے صدر کے بیان اور ان کے مطالبات کا احاطہ کیا گیا ہے۔

عرب پارلیمنٹ کے صدر نے سعودی عرب کے خلاف حوثی حملوں کے بارے میں کیا کہا؟ عرب پارلیمنٹ کے صدر محمد بن احمد الیماحی نے کہا کہ حوثی ملیشیا کے بار بار کیے جانے والے دہشت گردانہ حملے سعودی عرب اور اس کی شہری و تیل تنصیبات کے خلاف ہیں اور یہ علاقائی سلامتی کے لیے براہ راست خطرہ ہیں۔ یہ بیان انہوں نے تنزانیہ کے شہر اروشا میں انٹر پارلیمنٹری یونین کی 153ویں اسمبلی سے خطاب کے دوران دیا۔ ایس پی اے کے مطابق یہ بیان 8 اکتوبر 2026 کو قاہرہ سے جاری ہوا۔

الیماحی نے ایرانی حملوں کے حوالے سے کیا کہا؟ الیماحی نے اپنی تقریر میں ایرانی حملوں کا بھی ذکر کیا جو کئی عرب ممالک کو نشانہ بناتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ حملے شہریوں، بنیادی ڈھانچے اور اہم تنصیبات کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔ انہوں نے ان حملوں کو علاقائی کشیدگی کے تناظر میں دیکھا اور عرب ممالک کی سلامتی کو لاحق خطرات پر بات کی۔ ایس پی اے کی رپورٹ میں ان حملوں کی مزید تفصیلات یا اعداد و شمار نہیں دیے گئے۔

عالمی برادری سے کیا مطالبہ کیا گیا؟ الیماحی نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ محض مذمت سے آگے بڑھے اور ریاستوں اور ان کی خودمختاری کے تحفظ کے لیے اقدامات کرے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ فریقین کو بین الاقوامی قانون کے احترام پر مجبور کرنا ضروری ہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ محض مذمتی بیانات کافی نہیں بلکہ ٹھوس اقدامات درکار ہیں۔ رپورٹ میں اس بات کا ذکر نہیں کہ کسی خاص اقدام کا اعلان ہوا۔

یہ تقریر کہاں اور کب دی گئی؟ یہ تقریر تنزانیہ کے شہر اروشا میں انٹر پارلیمنٹری یونین کی 153ویں اسمبلی سے خطاب کے دوران دی گئی۔ ایس پی اے کے مطابق بیان 8 اکتوبر 2026 کو قاہرہ سے جاری ہوا۔ عرب پارلیمنٹ کے صدر محمد بن احمد الیماحی نے اسمبلی سے خطاب میں سعودی عرب کے خلاف حوثی حملوں، ایرانی حملوں اور علاقائی کشیدگی کے موضوعات پر بات کی۔

کیا رپورٹ میں کسی ردعمل یا اقدام کا ذکر ہے؟ ایس پی اے کی رپورٹ میں اس بات کا ذکر نہیں کہ عالمی برادری کی جانب سے کسی خاص اقدام کا اعلان ہوا یا نہیں۔ نہ ہی کسی فریق کے ردعمل کا تذکرہ ہے۔ رپورٹ میں صرف عرب پارلیمنٹ کے صدر کے بیان اور ان کے مطالبات کا احاطہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری سے ریاستوں اور ان کی خودمختاری کے تحفظ اور بین الاقوامی قانون کے احترام کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔