ریاض میں وزیر مواصلات اور انفارمیشن ٹیکنالوجی اور کمیونیکیشنز، اسپیس اینڈ ٹیکنالوجی کمیشن (CST) کے بورڈ کے چیئرمین عبداللہ السواہا کی سرپرستی میں پیر کو “گلوبل اسپیس کنیکٹیویٹی اور سسٹین ایبلٹی ایونٹس” کا آغاز ہو رہا ہے۔ یہ ایونٹ “Connected Earth, Sustainable Space” کے تھیم کے تحت CST کے ہیڈ کوارٹر میں انٹرنیشنل ٹیلی کمیونیکیشن یونین (ITU) کے ساتھ شراکت داری میں تین دن تک جاری رہے گا۔
جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 8 اکتوبر 2026 کو بیان کیا، اس پروگرام میں “Connecting the World from the Skies Forum (NTN)” اور “Space Sustainability Forum (SSF)” کے تیسرے ایڈیشنز کو ایک چھتری تلے جمع کیا گیا ہے۔ کیا یہ عالمی تعاون نان ٹیرسٹریل نیٹ ورکس میں جدت لانے کے لیے ایک اہم قدم ثابت ہوگا؟ یہ اقدام نان ٹیرسٹریل نیٹ ورکس اور خلائی پائیداری کے حوالے سے مشترکہ بین الاقوامی عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
اس ایونٹ کا بنیادی مقصد سیٹلائٹ کنیکٹیویٹی کے مستقبل کے لیے بین الاقوامی سمتوں پر تبادلہ خیال کرنا اور ٹیرسٹریل اور نان ٹیرسٹریل نیٹ ورکس کے درمیان انٹیگریشن کو مضبوط بنانا ہے۔ کیا ڈیجیٹل تقسیم کو ختم کرنے میں ان نیٹ ورکس کا کردار کلیدی ہوگا؟ پروگرام میں نان ٹیرسٹریل نیٹ ورکس میں ریگولیٹری اور تکنیکی پیش رفت کا جائزہ لیا جائے گا تاکہ عالمی سطح پر کنیکٹیویٹی کو وسعت دی جا سکے اور ڈیجیٹل خلا کو پُر کیا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ، تجربات اور بین الاقوامی بہترین طریقوں کے تبادلے کے ذریعے خلائی پائیداری اور خلائی وسائل کے ذمہ دارانہ استعمال پر روشنی ڈالی جائے گی۔
CST نے واضح کیا ہے کہ ایونٹ کے دوران اہم سیشنز منعقد کیے جائیں گے، جن میں “Integrated Connectivity for the 6G Era”، “Paving the Way to WRC-27” اور “Opening Horizons for Direct-to-Device (D2D) Satellite Connectivity” شامل ہیں۔ کیا 6G دور میں مربوط کنیکٹیویٹی مواصلاتی نظام کو مکمل طور پر بدل دے گی؟ مزید برآں، “Space Economies & Emerging Markets” اور “Space as Critical Infrastructure” جیسے موضوعات پر بھی بحث کی جائے گی۔
ایونٹ کے ایجنڈے میں “Space-Enabled Sustainability on Earth”، “Global Governance and Responsible Behavior in Space” کے علاوہ “Managing Congestion, Mitigating Interference and Preventing Debris” جیسے اہم مسائل شامل ہیں۔ کیا خلائی ملبے کی روک تھام مستقبل کے خلائی مشنز کے لیے ناگزیر نہیں ہے؟ یہ سیشنز خلائی ماحول کے تحفظ اور عالمی گورننس کے اصولوں پر توجہ مرکوز کریں گے۔
اس پروگرام میں نان ٹیرسٹریل نیٹ ورکس کے ذریعے کنیکٹیویٹی سلوشنز اور اہم تکنیکی ٹرائلز کے نتائج بھی پیش کیے جائیں گے۔ کیا یہ تکنیکی تجربات مستقبل کے مواصلاتی ڈھانچے کی بنیاد بنیں گے؟ اس کے علاوہ، “Non-Terrestrial Networks International Research Competition (NTN 2026)” کے فاتحین کے ناموں کا اعلان بھی کیا جائے گا۔
رپورٹ میں ایونٹ کے شرکاء کی کل تعداد یا کسی مخصوص مالیاتی بجٹ کا ذکر نہیں کیا گیا۔
گلوبل اسپیس کنیکٹیویٹی ایونٹ کا تھیم کیا ہے؟ اس ایونٹ کا تھیم “Connected Earth, Sustainable Space” رکھا گیا ہے۔ یہ پروگرام CST کے ہیڈ کوارٹر ریاض میں انٹرنیشنل ٹیلی کمیونیکیشن یونین (ITU) کے تعاون سے منعقد ہو رہا ہے۔
اس ایونٹ میں کون سے فورمز شامل ہیں؟ اس ایونٹ میں “Connecting the World from the Skies Forum (NTN)” اور “Space Sustainability Forum (SSF)” کے تیسرے ایڈیشنز کو ایک ساتھ شامل کیا گیا ہے تاکہ نان ٹیرسٹریل نیٹ ورکس اور خلائی پائیداری پر توجہ دی جا سکے۔
ایونٹ کے دوران کن اہم موضوعات پر بحث ہوگی؟ سیشنز میں 6G دور کے لیے مربوط کنیکٹیویٹی، WRC-27 کی تیاری، Direct-to-Device (D2D) سیٹلائٹ کنیکٹیویٹی، خلائی معیشت، اور خلائی ملبے کی روک تھام جیسے موضوعات شامل ہیں۔
اس پروگرام کا بنیادی مقصد کیا ہے؟ اس کا مقصد سیٹلائٹ کنیکٹیویٹی کے مستقبل پر تبادلہ خیال کرنا، ٹیرسٹریل اور نان ٹیرسٹریل نیٹ ورکس کی انٹیگریشن کو مضبوط بنانا اور خلائی وسائل کے ذمہ دارانہ استعمال کو فروغ دینا ہے۔