کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور ابہا انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حوثی ملیشیا کے حملوں کے نتیجے میں مراکشی، الجزائری اور سوڈانی شہریت رکھنے والے تین افراد ہلاک اور درجنوں شہری زخمی ہو گئے۔
جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 8 اکتوبر 2026 کو بیان کیا، متحدہ عرب امارات نے ان حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔ کیا اس طرح کے حملے خطے کے امن کو متاثر نہیں کریں گے؟
ایمریٹس نیوز ایجنسی کے ذریعے جاری ایک بیان میں متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ یہ حملے سعودی عرب کی خودمختاری کی صریح خلاف ورزی ہیں اور مملکت کی سلامتی اور استحکام کے لیے ایک خطرہ ہیں۔ کیا بین الاقوامی قوانین کی ایسی خلاف ورزیوں پر خاموشی اختیار کی جا سکتی ہے؟
وزارت نے سعودی عرب کے ساتھ اپنی مکمل یکجہتی کا اظہار کیا اور مملکت کی سلامتی اور استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے کی جانے والی تمام کوششوں کے لیے اپنی حمایت کا یقین دلایا۔ کیا سلامتی کے لیے مشترکہ کوششیں ہی واحد حل ہیں؟
متحدہ عرب امارات نے متاثرین کے خاندانوں کے ساتھ اپنی ہمدردی اور دلی تعزیت کا اظہار کیا ہے اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی ہے۔ کیا انسانی جانوں کا یہ ضیاع عالمی برادری کے لیے ایک لمحہ فکریہ نہیں ہے؟
رپورٹ میں حملوں کے طریقہ کار، زخمیوں کی درست تعداد یا کسی مخصوص فوجی ردعمل کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
حملوں میں کتنے لوگ متاثر ہوئے؟ حوثی ملیشیا کے حملوں میں تین افراد ہلاک ہوئے جن کی شہریت مراکشی، الجزائری اور سوڈانی تھی۔ اس کے علاوہ درجنوں شہری زخمی بھی ہوئے ہیں۔
متحدہ عرب امارات کا اس پر کیا ردعمل تھا؟ متحدہ عرب امارات نے ان حملوں کی شدید مذمت کی اور اسے سعودی عرب کی خودمختاری کی صریح خلاف ورزی اور سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا۔
متحدہ عرب امارات نے کس طرح کی حمایت کا اظہار کیا؟ متحدہ عرب امارات نے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا اور مملکت کی سلامتی اور استحکام کے تحفظ کے لیے تمام کوششوں کی حمایت کی۔