Tuesday, October 27, 2026
عمومی

متحدہ عرب امارات کی حوثی ملیشیا کی جانب سے سعودی اثاثوں اور جہازوں کو نشانہ بنانے کی شدید مذمت

متحدہ عرب امارات کی حوثی ملیشیا کی جانب سے سعودی اثاثوں اور جہازوں کو نشانہ بنانے کی شدید مذمت

سعودی عرب میں شہریوں، شہری اور اقتصادی اثاثوں کے ساتھ ساتھ جنوبی بحیرہ احمر اور باب المندب کی خلیج میں سعودی جہازوں کو مسلسل نشانہ بنانے پر متحدہ عرب امارات نے شدید مذمت کا اظہار کیا ہے۔

جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 7 اکتوبر 2026 کو بیان کیا، متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں ان حملوں کو سعودی عرب کی خودمختاری کی صریح خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے۔ کیا ایسی مسلسل جارحیت کسی بھی خطے کے استحکام کے لیے خطرہ نہیں ہے؟

وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں اس بات پر زور دیا کہ حوثی دہشت گرد ملیشیا کی جانب سے کیے جانے والے یہ اقدامات مملکت کی سلامتی اور استحکام کے لیے ایک بڑا خطرہ ہیں۔ کیا بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے ان اقدامات کا کوئی جواز ہو سکتا ہے؟

متحدہ عرب امارات نے سعودی عرب کے ساتھ اپنی مکمل یکجہتی کا اعلانیہ اظہار کیا ہے۔ کیا دو ممالک کے درمیان یہ مضبوط تعلقات خطے میں امن کے قیام کے لیے ضروری نہیں ہیں؟ وزارت نے واضح کیا کہ وہ مملکت کی سلامتی اور استحکام کے تحفظ کے لیے اٹھائے گئے تمام اقدامات کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔

اس بیان میں اس بات کی نشاندہی کی گئی کہ شہری اثاثوں اور بحری جہازوں کو نشانہ بنانا نہ صرف سعودی عرب بلکہ عالمی تجارتی راستوں کے لیے بھی تشویشناک ہے۔ کیا بحیرہ احمر اور باب المندب جیسے اہم تجارتی راستوں پر حملے عالمی معیشت کو متاثر نہیں کرتے؟

متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ نے ایک بار پھر مملکت کی سلامتی کے لیے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔ کیا سلامتی کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کسی بھی ریاست کا بنیادی حق نہیں ہیں؟

اس بیان کی تفصیلات Emirates News Agency (WAM) کے ذریعے بھی نشر کی گئی ہیں، جس میں حوثی ملیشیا کے دہشت گردانہ اقدامات کی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی ہے۔ کیا دہشت گردی کے خلاف اس مشترکہ موقف سے خطے میں امن کی امید پیدا نہیں ہوتی؟

رپورٹ میں کسی خاص جہاز کے نام، نقصانات کی مقدار یا کسی مخصوص مقام کے علاوہ جنوبی بحیرہ احمر اور باب المندب کا ذکر نہیں کیا گیا۔

متحدہ عرب امارات نے کن حملوں کی مذمت کی ہے؟ متحدہ عرب امارات نے سعودی عرب میں شہریوں، شہری اور اقتصادی اثاثوں کو نشانہ بنانے کے ساتھ ساتھ جنوبی بحیرہ احمر اور باب المندب کی خلیج میں سعودی جہازوں پر ہونے والے حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔ ایس پی اے کے مطابق یہ بیان 7 اکتوبر 2026 کو جاری کیا گیا۔

متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ کا اس بارے میں کیا موقف ہے؟ وزارت خارجہ نے بیان دیا کہ حوثی ملیشیا کی جانب سے جاری یہ نشانہ بنانا سعودی عرب کی خودمختاری کی صریح خلاف ورزی ہے۔ اس کے علاوہ اسے مملکت کی سلامتی اور استحکام کے لیے ایک خطرہ قرار دیا گیا ہے۔

سعودی عرب کے لیے کیا حمایت کا اعلان کیا گیا ہے؟ متحدہ عرب امارات نے سعودی عرب کے ساتھ اپنی مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ وزارت خارجہ نے مملکت کی سلامتی اور استحکام کے تحفظ کے لیے اٹھائے گئے تمام اقدامات کی بھرپور حمایت کی یقین دہانی کرائی ہے۔

یہ بیان کن ذرائع سے جاری کیا گیا؟ یہ بیان متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کیا گیا، جسے Emirates News Agency (WAM) نے نشر کیا اور سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے رپورٹ کیا۔