مدینہ منورہ میں اسلامک یونیورسٹی آف مدینہ کی سینٹرل لائبریری نے 34,615 مائیکرو فلم شدہ اور 916 اصل کاغذ کے نسخہ جات کو ڈیجیٹلائز کرنے کا کام مکمل کر لیا ہے، جن میں ساتویں صدی ہجری تک کے قدیم نسخے شامل ہیں۔
جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 27 اکتوبر 2026 کو بیان کیا، یہ مجموعہ طلباء اور محققین کے لیے ایک علمی ذریعے کے طور پر کام کرتا ہے، جو انہیں اسلامی ورثے کے بنیادی ذرائع سے جوڑتا ہے۔ کیا یہ ڈیجیٹل تبدیلی قدیم علم تک رسائی کو مزید آسان نہیں بنائے گی؟
یونیورسٹی کے مطابق، یہ اقدام محققین کو تحقیق اور تنقیدی ایڈیشنز کے لیے اصل ہاتھ سے لکھے ہوئے متن سے رجوع کرنے کے قابل بناتا ہے۔ اس کے ذریعے صدیوں کے دوران علماء کی تحریر اور نسخہ جات کی نقل کرنے کے طریقوں کے بارے میں بصیرت حاصل کی جا سکتی ہے۔ کیا یہ طریقہ کار قدیم علمی روایات کو سمجھنے میں مددگار ثابت نہیں ہوگا؟
یونیورسٹی نے مزید واضح کیا کہ یہ منصوبہ ڈیجیٹل تبدیلی کو آگے بڑھانے اور سینٹرل لائبریری کی خدمات کے صارف تجربے کو بہتر بنانے کی وسیع تر کوششوں کا حصہ ہے۔ کیا ٹیکنالوجی کا یہ استعمال لائبریری کے نظام کو جدید بنانے میں کلیدی کردار ادا نہیں کرے گا؟
اس ڈیجیٹلائزیشن کے ذریعے اب ہزاروں نایاب دستاویزات محفوظ ہو چکی ہیں جو اسلامی تاریخ اور علم کی عکاسی کرتی ہیں۔ کیا یہ کوششیں آنے والی نسلوں کے لیے علم کے ذخیرے کو محفوظ کرنے کا بہترین طریقہ نہیں ہیں؟
یونیورسٹی کا یہ قدم علمی تحقیق کے معیار کو بلند کرنے اور عالمی سطح پر اسلامی علوم کی دستیابی کو یقینی بنانے کی جانب ایک قدم ہے۔ کیا ڈیجیٹل لائبریریوں کا پھیلاؤ روایتی تحقیق کے انداز کو تبدیل نہیں کر دے گا؟
رپورٹ میں اس منصوبے کے لیے استعمال ہونے والے مخصوص سافٹ ویئر، ڈیجیٹلائزیشن کے عمل میں لگنے والے وقت یا اس پر آنے والے اخراجات کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
اسلامک یونیورسٹی آف مدینہ نے کتنے نسخہ جات ڈیجیٹلائز کیے ہیں؟ یونیورسٹی کی سینٹرل لائبریری نے مجموعی طور پر 34,615 مائیکرو فلم شدہ اور 916 اصل کاغذ کے نسخہ جات کو ڈیجیٹلائز کیا ہے۔ ان میں ساتویں صدی ہجری کے قدیم نسخے بھی شامل ہیں۔
اس ڈیجیٹلائزیشن منصوبے کا مقصد کیا ہے؟ اس منصوبے کا مقصد طلباء اور محققین کو اسلامی ورثے کے بنیادی ذرائع سے جوڑنا ہے تاکہ وہ تحقیق کے لیے اصل ہاتھ سے لکھے ہوئے متن کا مطالعہ کر سکیں۔ یہ ڈیجیٹل تبدیلی اور لائبریری کے صارف تجربے کو بہتر بنانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔
محققین کو اس مجموعے سے کیا فائدہ ہوگا؟ محققین اصل تحریروں کے ذریعے تنقیدی ایڈیشنز تیار کر سکیں گے اور صدیوں کے دوران علماء کے لکھنے اور نسخہ جات کی نقل کرنے کے طریقوں کا جائزہ لے سکیں گے۔