Tuesday, October 27, 2026
معیشت

منامہ میں تجارتی وزراء کے اجلاس میں GCC سیکرٹری جنرل کا نجی شعبے کے کردار پر زور

منامہ میں تجارتی وزراء کے اجلاس میں GCC سیکرٹری جنرل کا نجی شعبے کے کردار پر زور

منامہ میں منعقدہ تجارتی وزراء اور GCC چیمبرز کے فیڈریشنز کے سربراہان کے درمیان 15ویں مشاورتی اجلاس میں خلیجی تعاون کونسل (GCC) کے سیکرٹری جنرل Jasem Albudaiwi نے نجی شعبے کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ اجلاس پالیسی سازوں، فیصلہ سازوں اور نجی شعبے کے نمائندوں کے درمیان ایک اسٹریٹجک مکالمے کا پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔

جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 7 اکتوبر 2026 کو بیان کیا، Jasem Albudaiwi نے اس بات کی تصدیق کی کہ یہ ملاقات سرکاری حکام اور نجی شعبے کے درمیان مشغولیت کی بلند ترین سطح کی نمائندگی کرتی ہے۔ اس اقدام کا مقصد رکن ممالک کے درمیان تعاون کو مضبوط بنانا، اقتصادی ترقی کو تحریک دینا اور ان علاقائی و عالمی معاشی چیلنجوں سے نمٹنا ہے جن کا سامنا خلیجی نجی شعبے کو ہے۔ کیا یہ تعاون خلیجی ممالک کی معاشی خودمختاری کو مزید تقویت دے گا؟

یہ اجلاس بدھ کے روز بحرین کے دارالحکومت منامہ میں منعقد ہوا، جس کی صدارت بحرین کے صنعت اور تجارت کے وزیر Abdulla bin Adel Fakhro نے کی، جو موجودہ سیشن کے چیئرمین ہیں۔ اجلاس میں GCC رکن ریاستوں کے وزراء تجارت اور چیمبرز کے سربراہان نے شرکت کی۔ کیا اس طرح کے اعلیٰ سطحی اجلاسوں سے نجی سرمایہ کاری میں اضافہ ممکن ہے؟

اپنے خطاب کے دوران، سیکرٹری جنرل نے اس اہم کردار کی نشاندہی کی جو نجی شعبہ GCC رکن ریاستوں کے قومی اہداف کے حصول اور خلیجی تعاون کو آگے بڑھانے میں ادا کرتا ہے۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ مشاورتی اجلاس کا مقصد خلیجی نجی شعبے کو درپیش مشکلات کو اجاگر کرنا اور مناسب حل کے ذریعے انہیں دور کرنا ہے۔ کیا نجی شعبے کی بااختیاری سے معاشی تنوع کے اہداف جلد حاصل ہوں گے؟

Jasem Albudaiwi نے مزید کہا کہ یہ کوششیں GCC ریاستوں کے رہنماؤں کی دانشمندانہ ہدایات کے مطابق ہیں، جو اس شعبے کی حمایت اور اسے رکن ریاستوں کے درمیان اقتصادی انضمام کے حصول میں فعال کردار ادا کرنے کے لیے بااختیار بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔ کیا اقتصادی انضمام خلیجی خطے کو عالمی منڈی میں زیادہ مسابقتی بنائے گا؟

اپنے خطاب کے اختتام پر، سیکرٹری جنرل نے امید ظاہر کی کہ 15ویں مشاورتی اجلاس ایجنڈا کے نکات پر توجہ مرکوز کرے گا تاکہ ایسی initiates تیار کی جا سکیں جو رکن ممالک میں نجی شعبے کی ترقی میں معاون ثابت ہوں۔ انہوں نے اسے ایک طاقتور اقتصادی انجن قرار دیا جو معاشی استحکام اور ترقی میں حصہ ڈالتا ہے اور ممالک کی صلاحیتوں کو بڑھاتا ہے۔ کیا نجی شعبہ مستقبل میں خلیجی معیشت کا بنیادی ستون بن سکتا ہے؟

اس رپورٹ میں کسی مخصوص مالیاتی ہدف، معاہدوں کی تعداد یا مستقبل کی کسی خاص تاریخ کا ذکر نہیں کیا گیا۔

15ویں مشاورتی اجلاس کا بنیادی مقصد کیا تھا؟ اس اجلاس کا مقصد پالیسی سازوں اور نجی شعبے کے نمائندوں کے درمیان اسٹریٹجک مکالمہ قائم کرنا تھا۔ اس کا مقصد تعاون کو مضبوط بنانا، اقتصادی ترقی کو تحریک دینا اور خلیجی نجی شعبے کو درپیش علاقائی اور عالمی معاشی چیلنجوں کا حل تلاش کرنا تھا۔

اجلاس کی صدارت کس نے کی اور کون شریک تھا؟ اجلاس کی صدارت بحرین کے صنعت اور تجارت کے وزیر Abdulla bin Adel Fakhro نے کی، جو موجودہ سیشن کے چیئرمین ہیں۔ اس میں GCC رکن ریاستوں کے وزراء تجارت اور چیمبرز کے فیڈریشنز کے سربراہان نے شرکت کی۔

نجی شعبے کے حوالے سے Jasem Albudaiwi کا کیا موقف تھا؟ سیکرٹری جنرل نے کہا کہ نجی شعبہ رکن ریاستوں کے قومی اہداف کے حصول اور خلیجی تعاون کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ انہوں نے اسے ایک طاقتور اقتصادی انجن قرار دیا جو معاشی استحکام اور ترقی میں معاون ہے۔

رکن ریاستوں کے رہنماؤں کا اس حوالے سے کیا عزم ہے؟ GCC ریاستوں کے رہنما اس شعبے کی حمایت اور اسے بااختیار بنانے کے لیے پرعزم ہیں تاکہ نجی شعبہ رکن ممالک کے درمیان اقتصادی انضمام کے حصول میں فعال کردار ادا کر سکے۔