ریاض میں ڈیجیٹل گورنمنٹ اتھارٹی (DGA) نے انوویشن چیلنج ایکسیلیریٹر (GovJam) کے نئے ایڈیشن کا آغاز کیا ہے، جس میں 15 سے زائد سرکاری ادارے اور 15 اسٹارٹ اپس حصہ لے رہے ہیں۔ یہ چیلنج سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز جنرل اتھارٹی (Monsha’at)، STV، مائیکروسافٹ سعودی عرب، NVIDIA، TASAMA، امجد وطن اور GIE کے اشتراک سے شروع کیا گیا ہے۔
جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 5 اکتوبر 2026 کو بیان کیا، اس چیلنج کا مقصد حکومت اور نجی شعبے کے درمیان تعاون کو مضبوط بنانا، اسٹارٹ اپس اور کاروباری افراد کو جدید اور پائیدار ڈیجیٹل خدمات تیار کرنے کے قابل بنانا، ڈیجیٹل صلاحیتوں کی تعمیر اور جدت کی ثقافت کو فروغ دینا ہے۔
کیا یہ چیلنج سرکاری اور نجی شعبے کے درمیان شراکت داری کے نئے دروازے کھول سکے گا؟ رپورٹ کے مطابق یہ اقدام جدت پسندوں اور تخلیقی پیشہ ور افراد کو راغب کرنے، مستفید ہونے والوں کو ڈیجیٹل سرکاری خدمات کی ڈیزائننگ اور بہتری میں شامل کرنے، ٹیکنالوجی کے استعمال کو تیز کرنے، شرکاء کی ڈیجیٹل مہارتوں کو بہتر بنانے اور صارفین کی اطمینان کو بڑھانے کی کوشش کرتا ہے۔
ایکسپریس ایکسیلیریٹر جدت، ڈیجیٹل سروس ڈیزائن اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے شعبوں میں ماہرین کی مہارت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے سیکھنے اور ترقی کا ایک پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔ کیا مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے جدت پسندوں کا یہ نیٹ ورک آنے والے سالوں میں مزید پھیلے گا؟ اس پروگرام میں پینل مباحثے اور خصوصی ورکشاپس جیسی سرگرمیاں شامل ہیں، جبکہ DGA کا انوویشن ہب بزنس ایکسیلیریٹرز، تکنیکی مہارت اور تکنیکی و مالی معاون ذرائع کے ذریعے معاونت فراہم کرتا ہے تاکہ شرکاء جدید اور قابل عمل حل تیار کر سکیں۔
اس سال کے ایڈیشن میں 15 سے زائد سرکاری اداروں اور 15 اسٹارٹ اپس کی شرکت ڈیجیٹل جدت اور ڈیجیٹل خدمات اور مستفید ہونے والوں کے تجربے کو بہتر بنانے میں اس کے کردار میں بڑھتی ہوئی دلچسپی کو ظاہر کرتی ہے۔ کیا سرکاری اداروں کی یہ شرکت آنے والے ایڈیشنز میں مزید بڑھے گی؟ رپورٹ میں شرکاء کی تعداد کے علاوہ کسی مخصوص ادارے، اسٹارٹ اپ یا منصوبے کے نام، انعامات کی رقم، پروگرام کی مدت یا اہم تاریخوں کا ذکر نہیں کیا گیا۔
انوویشن چیلنج 2026 کیا ہے؟ ڈیجیٹل گورنمنٹ اتھارٹی نے انوویشن چیلنج ایکسیلیریٹر (GovJam) کا نیا ایڈیشن شروع کیا ہے۔ یہ چیلنج حکومت اور نجی شعبے کے تعاون کو مضبوط بنانے، اسٹارٹ اپس اور کاروباری افراد کو جدید اور پائیدار ڈیجیٹل خدمات تیار کرنے کے قابل بنانے اور ڈیجیٹل صلاحیتوں کی تعمیر کے لیے ہے۔ ایس پی اے کے مطابق اس کا مقصد جدت کی ثقافت کو فروغ دینا بھی ہے۔
اس چیلنج کے شراکت دار کون ہیں؟ یہ چیلنج سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز جنرل اتھارٹی (Monsha’at)، STV، مائیکروسافٹ سعودی عرب، NVIDIA، TASAMA، امجد وطن اور GIE کے اشتراک سے شروع کیا گیا ہے۔ ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق ڈیجیٹل گورنمنٹ اتھارٹی خود اس کا مرکزی منتظم ہے اور اپنے انوویشن ہب کے ذریعے معاونت فراہم کرتی ہے۔
اس سال کتنے ادارے اور اسٹارٹ اپس حصہ لے رہے ہیں؟ ایس پی اے کے مطابق اس سال کے ایڈیشن میں 15 سے زائد سرکاری ادارے اور 15 اسٹارٹ اپس حصہ لے رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ شرکت ڈیجیٹل جدت اور ڈیجیٹل خدمات اور مستفید ہونے والوں کے تجربے کو بہتر بنانے میں اس کے کردار میں بڑھتی ہوئی دلچسپی کو ظاہر کرتی ہے۔
پروگرام میں کون سی سرگرمیاں شامل ہیں؟ پروگرام میں پینل مباحثے اور خصوصی ورکشاپس جیسی سرگرمیاں شامل ہیں۔ ڈیجیٹل گورنمنٹ اتھارٹی کا انوویشن ہب بزنس ایکسیلیریٹرز، تکنیکی مہارت اور تکنیکی و مالی معاون ذرائع کے ذریعے معاونت فراہم کرتا ہے تاکہ شرکاء جدید اور قابل عمل حل تیار کر سکیں۔ ایس پی اے کے مطابق یہ پلیٹ فارم سیکھنے اور ترقی کے لیے ہے۔
اس چیلنج کے اہداف کیا ہیں؟ ایس پی اے کے مطابق چیلنج کا مقصد حکومت اور نجی شعبے کے تعاون کو مضبوط بنانا، اسٹارٹ اپس اور کاروباری افراد کو جدید اور پائیدار ڈیجیٹل خدمات تیار کرنے کے قابل بنانا، ڈیجیٹل صلاحیتوں کی تعمیر اور جدت کی ثقافت کو فروغ دینا ہے۔ اس کے علاوہ جدت پسندوں کو راغب کرنا، مستفید ہونے والوں کو ڈیجیٹل سرکاری خدمات کی ڈیزائننگ میں شامل کرنا، ٹیکنالوجی کے استعمال کو تیز کرنا، شرکاء کی ڈیجیٹل مہارتوں کو بہتر بنانا اور صارفین کی اطمینان کو بڑھانا بھی شامل ہے۔