Wednesday, October 28, 2026
سعودی خبریں

سول ڈیفنس نے سعودی فیلکنز اینڈ ہنٹنگ ایگزیبیشن 2026 میں ‘فیلکن’ ڈرون پیش کیا

سول ڈیفنس نے سعودی فیلکنز اینڈ ہنٹنگ ایگزیبیشن 2026 میں ‘فیلکن’ ڈرون پیش کیا

ریاض میں جاری بین الاقوامی سعودی فیلکنز اینڈ ہنٹنگ ایگزیبیشن 2026 میں وزارت داخلہ کے پویلین کے اندر سول ڈیفنس جنرل ڈائریکٹوریٹ نے ‘فیلکن’ نامی ڈرون نمائش کے لیے رکھا ہے، جو مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی سے لیس ہے اور اونچے یا مشکل رسائی والے علاقوں میں آگ بجھانے اور ریسکیو کارروائیوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 5 اکتوبر 2026 کو بیان کیا، یہ ڈرون بارہ گھنٹے تک کام کر سکتا ہے اور تقریباً چالیس کلوگرام وزن اٹھا سکتا ہے۔ اس میں کثیر المقاصد آگ بجھانے کا نظام، ریسکیو، کنٹرول اور حفاظتی نظام، تھرمل کیمرے اور کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر تک براہ راست فیڈ موجود ہے۔

سول ڈیفنس کی اس شرکت کا مقصد اپنی کارروائیوں میں استعمال ہونے والی جدید ترین ٹیکنالوجیز کو اجاگر کرنا، اپنی صلاحیتوں کو بہتر بنانا اور فیلڈ مشنز پر ردعمل کی کارکردگی کو بہتر کرنا ہے۔

کیا یہی وہ لمحہ ہے جب آگ بجھانے کا کام بھی آسمان سے نیچے اتر آیا ہے؟ ریاض کے اس ایگزیبیشن میں وزارت داخلہ کے پویلین کے اندر رکھا گیا یہ ڈرون دراصل ان جگہوں کے لیے تیار کیا گیا ہے جہاں زمینی ٹیمیں پہنچ ہی نہیں سکتیں یا پہنچنے میں خطرہ مول لیتی ہیں۔ اونچی عمارتیں، دشوار گزار پہاڑی راستے یا وہ مقامات جہاں آگ نے راستے بند کر دیے ہوں، ایسے مواقع پر یہ ہوائی گاڑی کام آتی ہے۔

ایس پی اے کے مطابق یہ ڈرون بارہ گھنٹے تک مسلسل کام کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ بارہ گھنٹے کا یہ دورانیہ کسی بھی ہنگامی کارروائی میں کتنا بڑا فرق ڈال سکتا ہے؟ عام طور پر آگ بجھانے والے عملے کو محدود وقت اور محدود رسائی کے اندر کام کرنا پڑتا ہے، جبکہ یہ ڈرون طویل مدت تک فضا میں رہ کر معلومات اور مدد فراہم کرتا رہ سکتا ہے۔

اس کی دوسری نمایاں خصوصیت تقریباً چالیس کلوگرام وزن اٹھانے کی صلاحیت ہے۔ چالیس کلوگرام کا بوجھ کسی مشکل مقام تک پہنچانا کتنی بڑی راحت ہے؟ اس کا مطلب یہ ہے کہ ڈرون صرف دیکھنے کا کام نہیں کرتا بلکہ آگ بجھانے کے نظام، ریسکیو سازوسامان یا دیگر ضروری اشیاء کو بھی اپنے ساتھ لے جا سکتا ہے۔

ڈرون میں کثیر المقاصد آگ بجھانے کا نظام نصب ہے، یعنی یہ ایک ہی وقت میں مختلف قسم کی آگ سے نمٹنے کے لیے استعمال ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ ریسکیو، کنٹرول اور حفاظتی نظام بھی اس میں شامل ہیں، جو ہنگامی صورتحال میں اس کی کارکردگی کو منظم رکھتے ہیں۔ کیا یہ نظام زمینی ٹیموں کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے بنایا گیا ہے؟ ایس پی اے کی رپورٹ میں اس حوالے سے تفصیل نہیں دی گئی، تاہم یہ واضح ہے کہ ڈرون کو فیلڈ مشنز کی معاونت کے لیے پیش کیا گیا ہے۔

تھرمل کیمرے اس ڈرون کا ایک اور اہم حصہ ہیں۔ آگ کے دوران دھواں اتنا گھنا ہو جاتا ہے کہ عام نظر کچھ نہیں آتا، لیکن تھرمل کیمرہ حرارت کے ذریعے تصویر بناتا ہے۔ کیا یہی وجہ ہے کہ مشکل مقامات پر یہ کیمرے ریسکیو ٹیموں کی آنکھ بن جاتے ہیں؟ ایس پی اے کے مطابق ڈرون کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر تک براہ راست فیڈ بھی فراہم کرتا ہے، یعنی جو کچھ کیمرے دیکھتے ہیں وہ فوری طور پر کمانڈ سینٹر تک پہنچ جاتا ہے۔

یہ براہ راست فیڈ کتنی اہمیت رکھتی ہے؟ ہنگامی حالات میں فیصلہ سازی کا وقت بہت کم ہوتا ہے۔ اگر کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کو موقع پر موجود منظر کی براہ راست تصویر ملتی رہے تو وسائل کی تقسیم، ٹیموں کی رہنمائی اور خطرے کی نوعیت کا اندازہ لگانا آسان ہو جاتا ہے۔ یہی وہ تکنیکی رابطہ ہے جو ڈرون کو صرف ایک مشین سے آگے لے جاتا ہے۔

سول ڈیفنس جنرل ڈائریکٹوریٹ کی اس شرکت کو ایس پی اے نے اس طرح بیان کیا ہے کہ اس سے ادارے کی کارروائیوں میں استعمال ہونے والی جدید ٹیکنالوجیز سامنے آتی ہیں، اس کی صلاحیتیں بہتر ہوتی ہیں اور فیلڈ مشنز پر ردعمل کی کارکردگی میں اضافہ ہوتا ہے۔ کیا ٹیکنالوجی کی نمائش بذات خود ایک پیغام نہیں؟ ایگزیبیشن میں پیش کرنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ ادارہ اپنے آپریشنل نظام کو مسلسل بہتر بنانے کے عمل میں ہے۔

بین الاقوامی سعودی فیلکنز اینڈ ہنٹنگ ایگزیبیشن 2026 کا انعقاد ریاض میں ہو رہا ہے اور وزارت داخلہ کا پویلین اس میں ایک اہم مقام رکھتا ہے۔ اس ایگزیبیشن کا نام اگرچہ شکار اور بازوں سے جڑا ہے، لیکن اس کے اندر جدید ٹیکنالوجی کی نمائش بھی ہو رہی ہے۔ کیا یہ اس بات کی علامت ہے کہ روایتی شوق اور جدید دفاعی ٹیکنالوجی ایک ہی چھت کے نیچے جمع ہو سکتے ہیں؟ سول ڈیفنس کا ‘فیلکن’ ڈرون اسی امتزاج کا ایک نمونہ ہے۔

ڈرون کا نام ‘فیلکن’ رکھنا بھی توجہ طلب ہے۔ باز کو عربی روایت میں تیز نظر، بلند پرواز اور نشانہ کی درستگی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ کیا یہ نام اس کی صلاحیتوں کی عکاسی کرتا ہے؟ ایس پی اے کی رپورٹ میں نام کی وجہ نہیں بتائی گئی، لیکن ایگزیبیشن کے سیاق و سباق میں یہ نام فطری طور پر اس کی شناخت بن جاتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ ڈرون اونچے یا مشکل رسائی والے علاقوں میں آگ بجھانے اور ریسکیو کارروائیوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اونچی عمارتوں میں آگ لگنے کی صورت میں کیا ہوتا ہے؟ سیڑھیاں دھوئیں سے بھر جاتی ہیں، لفٹیں کام نہیں کرتیں اور اوپر تک پہنچنا خطرناک ہو جاتا ہے۔ ایسے میں ایک ہوائی گاڑی جو بارہ گھنٹے تک فضا میں رہ سکے اور چالیس کلوگرام تک سامان لے جا سکے، زمینی ٹیموں کے لیے بہت بڑی مدد بن سکتی ہے۔

اسی طرح مشکل رسائی والے علاقوں میں، جہاں پہاڑی ڈھلوانیں یا تنگ گلیاں ہوں، وہاں بھی یہ ڈرون فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔ کیا یہ ڈرون انسانی عملے کی جگہ لے گا؟ ایس پی اے کی رپورٹ میں ایسی کوئی بات نہیں کہی گئی۔ اسے معاونت اور صلاحیت بڑھانے کے تناظر میں پیش کیا گیا ہے، نہ کہ متبادل کے طور پر۔

سول ڈیفنس کا کام صرف آگ بجھانا نہیں بلکہ ریسکیو، حفاظت اور ہنگامی حالات میں فوری ردعمل بھی ہے۔ اس ڈرون میں ریسکیو، کنٹرول اور حفاظتی نظام کی موجودگی بتاتی ہے کہ اسے کثیر المقاصد استعمال کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ کیا ایک ہی ڈرون میں آگ بجھانے اور ریسکیو دونوں صلاحیتیں رکھنا عملی طور پر ممکن ہے؟ رپورٹ کے مطابق یہ نظام ڈرون میں شامل ہیں، اور اسے فیلڈ مشنز کی معاونت کے لیے پیش کیا گیا ہے۔

کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر تک براہ راست فیڈ کا مطلب یہ ہے کہ ڈرون کی آنکھ سے دیکھا گیا منظر فوری طور پر فیصلہ سازوں تک پہنچتا ہے۔ کیا یہ رابطہ ہنگامی کارروائیوں کی رفتار کو تبدیل کر سکتا ہے؟ ایس پی اے کی رپورٹ میں اس فیڈ کی موجودگی کا ذکر ہے، تاہم اس کی تکنیکی تفصیلات یا رینج کے بارے میں کوئی معلومات نہیں دی گئیں۔

ایگزیبیشن میں وزارت داخلہ کے پویلین کے اندر اس ڈرون کی نمائش کا مقصد عوام اور متعلقہ افراد کو ادارے کی جدید صلاحیتوں سے آگاہ کرنا ہے۔ کیا اس طرح کی نمائشیں عوامی اعتماد میں اضافہ کرتی ہیں؟ سول ڈیفنس کی شرکت کو ایس پی اے نے ادارے کی کارروائیوں میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال، صلاحیتوں کی بہتری اور فیلڈ مشنز پر ردعمل کی کارکردگی میں اضافے سے جوڑا ہے۔

رپورٹ میں ڈرون کی تیاری، اس کے آپریٹرز کی تربیت، یا اسے کہاں اور کب تعینات کیا جائے گا، کے بارے میں کوئی تفصیل نہیں دی گئی۔ اسی طرح اس کی پرواز کی بلندی، رفتار یا رینج کا ذکر بھی نہیں ہے۔ کیا یہ معلومات بعد میں سامنے آئیں گی؟ فی الحال ایس پی اے کی رپورٹ صرف ان خصوصیات تک محدود ہے جو اوپر بیان کی گئی ہیں۔

بین الاقوامی سعودی فیلکنز اینڈ ہنٹنگ ایگزیبیشن 2026 ریاض میں جاری ہے اور اس میں وزارت داخلہ کا پویلین سول ڈیفنس کے ‘فیلکن’ ڈرون کی صورت میں ایک نیا تکنیکی پہلو سامنے لایا ہے۔ یہ ڈرون بارہ گھنٹے کی پرواز، چالیس کلوگرام وزن اٹھانے کی صلاحیت، کثیر المقاصد آگ بجھانے کے نظام، ریسکیو، کنٹرول اور حفاظتی نظام، تھرمل کیمروں اور کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر تک براہ راست فیڈ سے لیس ہے۔ یہی وہ خصوصیات ہیں جنہیں سول ڈیفنس اپنی فیلڈ کارروائیوں کی معاونت کے لیے پیش کر رہا ہے۔

‘فیلکن’ ڈرون کیا ہے اور اسے کہاں پیش کیا گیا؟ یہ سول ڈیفنس جنرل ڈائریکٹوریٹ کا ڈرون ہے جو مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی سے لیس ہے اور اونچے یا مشکل رسائی والے علاقوں میں آگ بجھانے اور ریسکیو کارروائیوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ ایس پی اے کے مطابق اسے ریاض میں بین الاقوامی سعودی فیلکنز اینڈ ہنٹنگ ایگزیبیشن 2026 میں وزارت داخلہ کے پویلین کے حصے کے طور پر نمائش کے لیے رکھا گیا ہے۔

ڈرون کتنی دیر تک اور کتنا وزن اٹھا کر کام کر سکتا ہے؟ ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق یہ ڈرون بارہ گھنٹے تک کام کر سکتا ہے اور تقریباً چالیس کلوگرام وزن اٹھا سکتا ہے۔ یہی دو خصوصیات اسے طویل ہنگامی کارروائیوں میں معاون بناتی ہیں، خاص طور پر جب زمینی ٹیموں کی رسائی محدود ہو۔ رپورٹ میں رفتار، بلندی یا رینج کا ذکر نہیں کیا گیا۔

ڈرون میں کون سے نظام نصب ہیں؟ رپورٹ کے مطابق ڈرون میں کثیر المقاصد آگ بجھانے کا نظام، ریسکیو، کنٹرول اور حفاظتی نظام، تھرمل کیمرے اور کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر تک براہ راست فیڈ شامل ہیں۔ تھرمل کیمرے دھوئیں کے اندر بھی حرارت کے ذریعے منظر دکھا سکتے ہیں، جبکہ براہ راست فیڈ کمانڈ سینٹر کو موقع کی معلومات فوری پہنچاتی ہے۔

سول ڈیفنس کی اس شرکت کا مقصد کیا بتایا گیا ہے؟ ایس پی اے کے مطابق سول ڈیفنس جنرل ڈائریکٹوریٹ کی شرکت ادارے کی کارروائیوں میں استعمال ہونے والی جدید ٹیکنالوجیز کو اجاگر کرتی ہے، اس کی صلاحیتوں کو بہتر بناتی ہے اور فیلڈ مشنز پر ردعمل کی کارکردگی کو بہتر کرتی ہے۔ یہی تین نکات رپورٹ میں شرکت کے مقصد کے طور پر بیان کیے گئے ہیں۔

کیا رپورٹ میں ڈرون کی تعیناتی کی تفصیل دی گئی ہے؟ نہیں۔ ایس پی اے کی رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ ڈرون کہاں اور کب تعینات کیا جائے گا، نہ اس کے آپریٹرز کی تربیت، نہ پرواز کی بلندی، رفتار یا رینج کا ذکر ہے۔ رپورٹ صرف یہ بتاتی ہے کہ یہ اونچے یا مشکل رسائی والے علاقوں میں آگ بجھانے اور ریسکیو کے لیے استعمال ہوتا ہے اور ایگزیبیشن میں پیش کیا گیا ہے۔