ثقافتی ترقیاتی فنڈ نے روٹانا میڈیا گروپ کے ساتھ فلموں اور ٹیلی ویژن سیریز کی تیاری کی مالی معاونت کے لیے معاہدہ کیا ہے، جس کی مشترکہ مالیت 39 ملین ریال سے زیادہ ہے۔ معاہدے کا مقصد سعودی ہنرمندوں کو اسکرین پر زیادہ موجودگی فراہم کرنا اور سعودی عرب میں فلمی صنعت کی ترقی کو سہارا دینا ہے۔
جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 5 اکتوبر 2026 کو بیان کیا، معاہدے میں سماجی کامیڈی، ڈرامہ اور ایکشن پر مشتمل فلموں اور ٹیلی ویژن سیریز کی تیاری شامل ہے۔ ان پروڈکشنز میں کئی نامور سعودی اداکار مرکزی کردار ادا کریں گے۔
رپورٹ کے مطابق ان پروڈکشنز سے مجموعی گھریلو پیداوار میں 72 ملین ریال سے زیادہ کا اضافہ متوقع ہے اور 68 ملازمتوں کے مواقع پیدا ہوں گے جو قومی ہنرمندی کو سہارا دیں گے۔ نجی شعبے کی شراکت بھی 12 ملین ریال سے زیادہ رہنے کی توقع ہے۔
معاہدے پر ثقافتی ترقیاتی فنڈ نے ثقافتی شعبے میں مالی بہترین کارکردگی اور بااختیار بنانے کے مرکز کی حیثیت سے دستخط کیے، جو مملکت کے فلمی شعبے کی تیز رفتار ترقی کے عین مطابق ہے۔ کیا یہ واضح نہیں کہ مالی معاونت اور نجی شعبے کی شراکت کے بغیر فلمی صنعت کی یہ رفتار برقرار رہ سکتی ہے؟
فلم کمیشن کی جاری کردہ رپورٹوں کے مطابق 2025 میں باکس آفس کی آمدنی 920 ملین ریال سے تجاوز کر گئی، جو 2024 کے مقابلے میں تقریباً 9 فیصد اضافہ ہے۔ ان آمدنیوں میں سعودی فلموں کا حصہ تقریباً 13 فیصد رہا، جو 122 ملین ریال سے زیادہ ہے۔ یہ حصہ سال کے دوران ریلیز ہونے والی 538 فلموں میں سے 11 سعودی فلموں کے ذریعے حاصل ہوا۔
یہ اعداد و شمار مقامی پروڈکشنز کی بڑھتی ہوئی موجودگی اور اس شعبے میں موجود امید افزا مواقع کی عکاسی کرتے ہیں۔ فنڈ اس ترقی کو سہارا دینے کے لیے مالی اور سہولت بخش حل فراہم کرتا رہتا ہے جو شعبے کے منصوبوں اور اداروں کو بااختیار بناتے ہیں، نجی شعبے کی شرکت کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں اور ثقافتی شعبے کی ترقی کو برقرار رکھنے اور اس کے معاشی اثرات کو بڑھانے میں کردار ادا کرتے ہیں۔
کیا 538 فلموں میں سے صرف 11 سعودی فلموں کا حصہ ہونا اس بات کی نشاندہی نہیں کرتا کہ مقامی پروڈکشن کے لیے ابھی بہت گنجائش موجود ہے؟ اور کیا 39 ملین ریال کی یہ مالی معاونت اسی گنجائش کو بھرنے کی طرف ایک عملی قدم ہے؟
معاہدے کی تفصیلات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس میں سماجی کامیڈی، ڈرامہ اور ایکشن تینوں اصناف شامل ہیں، یعنی یہ کسی ایک قسم کی پروڈکشن تک محدود نہیں۔ کیا یہ تنوع اس بات کا اشارہ ہے کہ سعودی فلمی ذوق بھی متنوع ہو رہا ہے اور پروڈیوسرز اب مختلف النوع مواد پر سرمایہ کاری کرنے کو تیار ہیں؟
رپورٹ کے مطابق ان پروڈکشنز میں کئی نامور سعودی اداکار مرکزی کردار ادا کریں گے، تاہم ایس پی اے نے اداکاروں کے نام، پروڈکشنز کی تعداد یا ان کی ریلیز کی تاریخوں کی تفصیل نہیں دی۔ اسی طرح یہ بھی واضح نہیں کیا گیا کہ 68 ملازمتوں کے مواقع کس نوعیت کے ہوں گے اور یہ پروڈکشن کے کس مرحلے میں پیدا ہوں گے۔
ثقافتی ترقیاتی فنڈ کی جانب سے یہ معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب فلم کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں باکس آفس کی آمدنی میں تقریباً 9 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 920 ملین ریال سے تجاوز کر گئی۔ کیا یہ اضافہ خود اس بات کا ثبوت نہیں کہ سعودی ناظرین سنیما کی طرف واپس لوٹ رہے ہیں؟
اسی عرصے میں سعودی فلموں نے 122 ملین ریال سے زیادہ کی آمدنی حاصل کی، جو کل آمدنی کا تقریباً 13 فیصد بنتی ہے۔ یہ حصہ 11 فلموں کے ذریعے حاصل ہوا جنہیں سال بھر میں ریلیز ہونے والی 538 فلموں کے درمیان پیش کیا گیا۔ کیا یہ تناسب اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ مقامی فلمیں اب بھی بین الاقوامی پروڈکشنز کے مقابلے میں محدود اسکرین وقت حاصل کر رہی ہیں؟
فنڈ کی جانب سے یہ بھی کہا گیا کہ وہ اس ترقی کو سہارا دینے کے لیے مالی اور سہولت بخش حل فراہم کرتا رہے گا، نجی شعبے کی شرکت کی حوصلہ افزائی کرے گا اور ثقافتی شعبے کی ترقی کو برقرار رکھنے میں مدد دے گا۔ نجی شعبے کی 12 ملین ریال سے زیادہ کی متوقع شراکت اسی پالیسی کی عکاسی کرتی ہے۔ کیا نجی سرمایہ کاری کے بغیر یہ شعبہ طویل مدتی پائیداری حاصل کر سکتا ہے؟
معاہدے کی مالیت 39 ملین ریال سے زیادہ بتائی گئی ہے، جبکہ اس سے مجموعی گھریلو پیداوار میں 72 ملین ریال سے زیادہ کا اضافہ متوقع ہے۔ یہ تناسب ظاہر کرتا ہے کہ فنڈ کی سرمایہ کاری سے معیشت پر کئی گنا اثر پڑنے کی توقع ہے۔ کیا یہی وجہ ہے کہ ثقافتی شعبے کو معاشی ترقی کے محرک کے طور پر دیکھا جا رہا ہے؟
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ معاہدے پر ثقافتی ترقیاتی فنڈ نے ثقافتی شعبے میں مالی بہترین کارکردگی اور بااختیار بنانے کے مرکز کی حیثیت سے دستخط کیے۔ یہ کردار اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ فنڈ صرف رقم فراہم نہیں کرتا بلکہ شعبے کے منصوبوں اور اداروں کو بااختیار بنانے کے لیے سہولتیں بھی مہیا کرتا ہے۔ کیا اس طرح کی ادارہ جاتی معاونت فلمی صنعت کے لیے مالی سرمائے سے زیادہ اہم نہیں؟
فلم کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں ریلیز ہونے والی فلموں کی کل تعداد 538 تھی، جس میں سعودی فلموں کی تعداد 11 تھی۔ یہ فرق واضح کرتا ہے کہ مقامی پروڈکشن کا حجم ابھی محدود ہے، حالانکہ اس کی آمدنی کا حصہ 13 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ سعودی فلمیں کم تعداد میں ہونے کے باوجود ناظرین میں مقبول ہو رہی ہیں؟
ایس پی اے کی رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ معاہدے کے تحت کتنی فلمیں اور کتنی ٹیلی ویژن سیریز تیار ہوں گی، نہ ہی یہ کہ پروڈکشن کا آغاز کب ہوگا یا یہ مواد کب ریلیز ہوگا۔ اسی طرح یہ بھی واضح نہیں کہ 39 ملین ریال کی رقم کس تناسب سے فلموں اور سیریز کے درمیان تقسیم ہوگی۔
رپورٹ میں اداکاروں کے نام، ہدایت کاروں کی تفصیل یا پروڈکشن کمپنیوں کے بارے میں بھی کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔ یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ یہ پروڈکشنز کس زبان میں ہوں گی یا ان کا ہدف کون سا ناظرین طبقہ ہوگا۔ کیا یہ تفصیلات بعد میں سامنے آنے کی توقع ہے؟
مجموعی طور پر یہ معاہدہ سعودی فلمی صنعت کی ترقی کے سفر میں ایک اور قدم ہے، جس میں مالی معاونت، نجی شعبے کی شرکت اور قومی ہنرمندی کی شرکت تینوں عناصر شامل ہیں۔ فلم کمیشن کے اعداد و شمار اور فنڈ کی پالیسی دونوں اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ شعبہ ترقی کے مرحلے سے گزر رہا ہے۔ کیا آنے والے برسوں میں سعودی فلموں کا باکس آفس حصہ 13 فیصد سے آگے بڑھ سکے گا؟
ایس پی اے کی رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اس معاہدے کے تحت تیار ہونے والی پروڈکشنز کا بجٹ کتنا ہوگا، نہ ہی یہ کہ ان کی تشہیر یا تقسیم کا ذمہ کون اٹھائے گا۔ رپورٹ میں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ 68 ملازمتوں کے مواقع مستقل ہوں گے یا پروڈکشن کے دوران عارضی۔
معاہدے کی مالیت اور فائدے کیا ہیں؟ ثقافتی ترقیاتی فنڈ اور روٹانا میڈیا گروپ کے درمیان معاہدے کی مشترکہ مالیت 39 ملین ریال سے زیادہ ہے۔ ایس پی اے کے مطابق اس سے مجموعی گھریلو پیداوار میں 72 ملین ریال سے زیادہ کا اضافہ متوقع ہے اور 68 ملازمتوں کے مواقع پیدا ہوں گے۔ نجی شعبے کی شراکت بھی 12 ملین ریال سے زیادہ رہنے کی توقع ہے۔
کس قسم کی پروڈکشنز بنیں گی؟ معاہدہ سماجی کامیڈی، ڈرامہ اور ایکشن پر مشتمل فلموں اور ٹیلی ویژن سیریز کی تیاری کا احاطہ کرتا ہے۔ ایس پی اے کے مطابق ان پروڈکشنز میں کئی نامور سعودی اداکار مرکزی کردار ادا کریں گے۔ رپورٹ میں پروڈکشنز کی تعداد، اداکاروں کے نام یا ریلیز کی تاریخوں کی تفصیل نہیں دی گئی۔
2025 میں باکس آفس کی آمدنی کتنی رہی؟ فلم کمیشن کی رپورٹوں کے مطابق 2025 میں باکس آفس کی آمدنی 920 ملین ریال سے تجاوز کر گئی، جو 2024 کے مقابلے میں تقریباً 9 فیصد اضافہ ہے۔ سعودی فلموں کا حصہ تقریباً 13 فیصد رہا، یعنی 122 ملین ریال سے زیادہ، جو 538 میں سے 11 فلموں کے ذریعے حاصل ہوا۔
ثقافتی ترقیاتی فنڈ کا کردار کیا ہے؟ ایس پی اے کے مطابق معاہدے پر فنڈ نے ثقافتی شعبے میں مالی بہترین کارکردگی اور بااختیار بنانے کے مرکز کی حیثیت سے دستخط کیے۔ فنڈ مالی اور سہولت بخش حل فراہم کرتا ہے جو شعبے کے منصوبوں اور اداروں کو بااختیار بناتے ہیں اور نجی شعبے کی شرکت کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔
کیا رپورٹ میں پروڈکشن کی تفصیلات دی گئی ہیں؟ نہیں، ایس پی اے کی رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ کتنی فلمیں اور کتنی سیریز بنیں گی، نہ پروڈکشن کے آغاز یا ریلیز کی تاریخ۔ اداکاروں کے نام، ہدایت کاروں کی تفصیل اور پروڈکشن کمپنیوں کی معلومات بھی فراہم نہیں کی گئیں۔