Friday, October 30, 2026
سعودی خبریں

روڈز اتھارٹی مملکت بھر میں 4,100 سے زائد پلوں کا انتظام کر رہی ہے

روڈز اتھارٹی مملکت بھر میں 4,100 سے زائد پلوں کا انتظام کر رہی ہے

سعودی عرب میں فی الوقت 4,100 سے زائد پل روڈز جنرل اتھارٹی کے آپریشنل انتظام میں ہیں، اور ان میں سب سے پرانا پل شرعی–حائل روڈ برج ہے جو 57 سال سے زائد عرصے سے فعال ہے۔

جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 6 اکتوبر 2026 کو بیان کیا، اتھارٹی نے یہ اعداد و شمار مملکت بھر میں پلوں کے موجودہ آپریشنل انتظام کے حوالے سے جاری کیے۔ یہ تعداد بتاتی ہے کہ سڑکوں کا نیٹ ورک کس حد تک پلوں پر انحصار کرتا ہے، اور ان پلوں کی دیکھ بھال کا کام کتنی بڑی ذمہ داری ہے۔

سب سے پرانے پل کا تذکرہ سامنے آتے ہی یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ 57 سال سے زائد عرصے تک مسلسل استعمال میں رہنے والا ڈھانچہ کس طرح آج بھی ٹریفک کو سنبھال رہا ہے؟ شرعی–حائل روڈ برج کو اتھارٹی نے سب سے پرانا فعال پل قرار دیا ہے، یعنی یہ نہ صرف ماضی کا حصہ ہے بلکہ آج بھی روزانہ کی آمدورفت کا ذریعہ ہے۔

دوسری طرف، صفویٰ–رحیمہ سی برج سب سے نیا پل ہے اور یہ مملکت کے طویل ترین ڈوئل میرین پلوں میں شمار ہوتا ہے، جس کی لمبائی 3.2 کلومیٹر ہے۔ سمندری پلوں کا یہ سلسلہ ظاہر کرتا ہے کہ انجینئرنگ کا دائرہ کار خشکی سے سمندر تک پھیل چکا ہے۔ کیا سمندری پلوں کی تعمیر میں خشکی کے پلوں سے مختلف چیلنجز درپیش آتے ہیں؟

اتھارٹی کے مطابق مملکت کا سب سے بلند پل 55 میٹر اونچا ہے، جو الجوہ پاس پر واقع ہے اور ابھا شہر کو محائل عسیر گورنریٹ سے جوڑتا ہے۔ پہاڑی علاقے میں 55 میٹر کی بلندی پر بنایا گیا یہ پل ان خطوں کی جغرافیائی پیچیدگیوں کی عکاسی کرتا ہے جہاں سڑکوں کو سطح زمین سے بلند کرنا پڑتا ہے۔ ایسے مقامات پر پل صرف سہولت نہیں بلکہ رابطے کی بنیادی شرط بن جاتے ہیں۔

اتھارٹی نے زور دیا کہ مملکت بھر میں پلوں کے ڈیزائن سعودی روڈ کوڈ کے مطابق ہیں۔ یہ کوڈ حفاظت، پائیداری اور استحکام کو یقینی بناتا ہے، اور ہر علاقے کے مخصوص ماحولیاتی اور موسمی حالات کو مدنظر رکھتا ہے۔ سعودی عرب کا جغرافیہ انتہائی متنوع ہے — کچھ علاقے شدید گرمی، کچھ پہاڑی بارشیں، اور کچھ سمندری نمی کا سامنا کرتے ہیں۔ کیا ایک ہی کوڈ مختلف موسموں میں یکساں طور پر کارآمد ثابت ہو سکتا ہے؟

اتھارٹی کے مطابق پلوں کے ڈیزائن اور ساخت میں تنوع پایا جاتا ہے، جن میں باکس گرڈر، آرچ، بیم اور سلیب پل شامل ہیں۔ ہر قسم کا ڈھانچہ مخصوص ضروریات کے مطابق منتخب کیا جاتا ہے۔ باکس گرڈر پل عام طور پر لمبے اور مسلسل دباؤ کو برداشت کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں، جبکہ آرچ پل قدرتی طور پر بوجھ کو کناروں کی طرف منتقل کرتے ہیں۔ بیم اور سلیب پل چھوٹے دہانوں اور ہلکے بوجھ کے لیے موزوں سمجھے جاتے ہیں۔ یہ تنوع بتاتا ہے کہ ہر پل کا انتخاب مقام کی ضرورت کے مطابق کیا جاتا ہے، نہ کہ ایک ہی فارمولے کے تحت۔

کیا مختلف ڈیزائنوں کا یہ تنوع دیکھ بھال کے کام کو مزید پیچیدہ بنا دیتا ہے؟ اسی تناظر میں اتھارٹی نے برج مینجمنٹ سسٹم (بی ایم ایس) کا ذکر کیا ہے، جو دیکھ بھال اور آپریشنل تقاضوں کو سنبھالتا ہے۔ یہ ایک مربوط ڈیجیٹل پلیٹ فارم ہے جو انجینئرنگ طریقہ کار اور ضوابط کو یکجا کرتا ہے تاکہ پلوں کے ڈیٹا اور ڈھانچوں کی دستاویز سازی، معائنہ اور جانچ ان کے پورے لائف سائیکل کے دوران کی جا سکے۔

ڈیجیٹل نگرانی اور طویل مدتی پائیداری

بی ایم ایس کا تصور یہ بتاتا ہے کہ پلوں کا انتظام صرف تعمیر تک محدود نہیں بلکہ ایک مسلسل عمل ہے۔ دستاویز سازی سے مراد ہر پل کے ریکارڈ کو محفوظ رکھنا ہے، معائنہ سے مراد باقاعدہ جسمانی جائزہ ہے، اور جانچ سے مراد ڈھانچے کی کارکردگی کا تجزیہ ہے۔ ان تینوں مراحل کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کا مقصد یہ ہے کہ کسی بھی پل کی حالت کے بارے میں فیصلہ ڈیٹا کی بنیاد پر کیا جائے۔

کیا 4,100 سے زائد پلوں کے ڈیٹا کو ایک ہی نظام میں سنبھالنا آسان کام ہے؟ یہ تعداد خود بتاتی ہے کہ ریکارڈ کی مقدار کتنی بڑی ہوگی، اور ہر پل کے لیے معائنے کی تعدد، مرمت کی ترجیح اور بجٹ کی تقسیم کا فیصلہ کیسے کیا جاتا ہوگا۔

سعودی روڈ کوڈ کا حوالہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ڈیزائن کے مرحلے سے ہی حفاظت اور پائیداری کو بنیادی شرط قرار دیا گیا ہے۔ ماحولیاتی اور موسمی حالات کو مدنظر رکھنا اس لیے ضروری ہے کہ ایک ہی ملک میں درجہ حرارت، بارش اور نمی کے لحاظ سے بڑے فرق پائے جاتے ہیں۔ کیا یہی وجہ ہے کہ پلوں کی ساخت میں بھی علاقائی فرق دیکھنے کو ملتا ہے؟

سب سے بلند پل کا الجوہ پاس پر واقع ہونا اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ پہاڑی سڑکوں پر بلندی ایک انجینئرنگ ضرورت ہے۔ ابھا اور محائل عسیر کے درمیان یہ پل نہ صرف فاصلہ کم کرتا ہے بلکہ ایسے علاقوں میں رسائی کو ممکن بناتا ہے جہاں سطح زمین پر سڑک بنانا مشکل یا ناممکن ہو سکتا ہے۔

صفویٰ–رحیمہ سی برج کی 3.2 کلومیٹر لمبائی اور اس کا ڈوئل میرین ہونا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ سمندری راستوں پر بھی پلوں کی تعمیر جاری ہے۔ ڈوئل میرین پل عام طور پر دو الگ الگ حصوں پر مشتمل ہوتے ہیں، جو بڑے پانی کے راستوں پر استعمال ہوتے ہیں۔ کیا ایسے پلوں کی دیکھ بھال میں نمکیات اور سمندری ہوا کا اثر اہم کردار ادا کرتا ہے؟

شرعی–حائل روڈ برج کا 57 سال سے زائد عرصے تک فعال رہنا اس بات کا ثبوت ہے کہ پرانے ڈھانچے بھی مناسب دیکھ بھال کے ساتھ طویل عرصہ کام دے سکتے ہیں۔ یہ پل اتھارٹی کے آپریشنل انتظام کا حصہ ہے، یعنی اس کی نگرانی اور معائنہ بھی اسی نظام کے تحت ہوتا ہے۔

اتھارٹی نے اپنے بیان میں پلوں کی کل تعداد، سب سے پرانے پل کی عمر، سب سے نئے پل کی لمبائی، سب سے بلند پل کی اونچائی اور اس کے مقام کا ذکر کیا۔ اس نے ڈیزائن کی اقسام، سعودی روڈ کوڈ کی مطابقت، اور برج مینجمنٹ سسٹم کے کردار کی بھی وضاحت کی۔ تاہم رپورٹ میں ہر پل کی انفرادی تفصیلات، دیکھ بھال کے اخراجات، یا کسی مخصوص منصوبے کی تکمیل کی تاریخ نہیں دی گئی۔

کیا 4,100 سے زائد پلوں کی تعداد میں آنے والے برسوں میں اضافہ متوقع ہے؟ اس کا جواب موجودہ اور زیر تعمیر منصوبوں کی تفصیل کے بغیر ممکن نہیں، اور ایس پی اے کی رپورٹ میں یہ تفصیل شامل نہیں ہے۔

مجموعی طور پر یہ اعداد و شمار مملکت کے سڑکوں کے نیٹ ورک کی وسعت کو سامنے لاتے ہیں، جہاں پل خشکی، پہاڑ اور سمندر کے درمیان رابطے کا ذریعہ ہیں۔ ان کی دیکھ بھال، معائنہ اور ڈیجیٹل نگرانی ایک مربوط نظام کے تحت کی جا رہی ہے، اور سعودی روڈ کوڈ ان ڈھانچوں کے ڈیزائن کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔

مملکت میں کتنے پل روڈز جنرل اتھارٹی کے آپریشنل انتظام میں ہیں؟ روڈز جنرل اتھارٹی کے مطابق مملکت بھر میں 4,100 سے زائد پل اس کے آپریشنل انتظام میں ہیں۔ یہ اعداد و شمار سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 6 اکتوبر 2026 کو جاری کیے۔ اتھارٹی نے یہ بھی بتایا کہ پلوں کے ڈیزائن اور ساخت میں تنوع پایا جاتا ہے، جن میں باکس گرڈر، آرچ، بیم اور سلیب پل شامل ہیں۔

سب سے پرانا فعال پل کون سا ہے اور کتنا عرصہ سے کام کر رہا ہے؟ اتھارٹی کے مطابق شرعی–حائل روڈ برج سب سے پرانا پل ہے جو اب بھی فعال ہے، اور یہ 57 سال سے زائد عرصے سے کام کر رہا ہے۔ یہ پل اتھارٹی کے آپریشنل انتظام کا حصہ ہے۔ رپورٹ میں اس پل کی لمبائی، چوڑائی یا موجودہ ٹریفک کی گنجائش کے بارے میں کوئی تفصیل نہیں دی گئی۔

سب سے نیا پل کون سا ہے اور اس کی لمبائی کتنی ہے؟ اتھارٹی کے مطابق صفویٰ–رحیمہ سی برج سب سے نیا پل ہے اور یہ مملکت کے طویل ترین ڈوئل میرین پلوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس کی لمبائی 3.2 کلومیٹر ہے۔ ڈوئل میرین پل عام طور پر بڑے پانی کے راستوں پر بنائے جاتے ہیں۔ رپورٹ میں اس پل کی تکمیل کی تاریخ یا لاگت کا ذکر نہیں کیا گیا۔

مملکت کا سب سے بلند پل کہاں واقع ہے اور کتنا اونچا ہے؟ اتھارٹی کے مطابق مملکت کا سب سے بلند پل 55 میٹر اونچا ہے اور یہ الجوہ پاس پر واقع ہے۔ یہ پل ابھا شہر کو محائل عسیر گورنریٹ سے جوڑتا ہے۔ پہاڑی علاقے میں اتنی بلندی پر پل بنانے کی ضرورت جغرافیائی حالات کی وجہ سے پیش آتی ہے۔ رپورٹ میں اس پل کی لمبائی یا دہانوں کی تعداد نہیں بتائی گئی۔

پلوں کے ڈیزائن کس ضابطے کے مطابق بنائے جاتے ہیں؟ اتھارٹی نے زور دیا کہ مملکت بھر میں پلوں کے ڈیزائن سعودی روڈ کوڈ کے مطابق ہیں۔ یہ کوڈ حفاظت، پائیداری اور استحکام کو یقینی بناتا ہے اور ہر علاقے کے مخصوص ماحولیاتی اور موسمی حالات کو مدنظر رکھتا ہے۔ رپورٹ میں کوڈ کے کسی مخصوص آرٹیکل یا تکنیکی معیار کی تفصیل شامل نہیں ہے۔

برج مینجمنٹ سسٹم کیا کام کرتا ہے؟ اتھارٹی کے مطابق برج مینجمنٹ سسٹم (بی ایم ایس) دیکھ بھال اور آپریشنل تقاضوں کو سنبھالتا ہے۔ یہ ایک مربوط ڈیجیٹل پلیٹ فارم ہے جو انجینئرنگ طریقہ کار اور ضوابط کو یکجا کرتا ہے تاکہ پلوں کے ڈیٹا اور ڈھانچوں کی دستاویز سازی، معائنہ اور جانچ ان کے پورے لائف سائیکل کے دوران کی جا سکے۔ رپورٹ میں اس نظام کے آغاز کی تاریخ نہیں دی گئی۔