ریاض میں منعقدہ بین الاقوامی سعودی فالکنز اینڈ ہنٹنگ ایگزیبیشن 2026 کے «ٹیکسی ڈرمی ورلڈ» پویلین میں ایک ورکشاپ ایریا بنایا گیا ہے جہاں زائرین جانوروں کی ٹیکسی ڈرمی سیکھ اور اس پر عمل کر سکتے ہیں۔ یہ پویلین بڑی تعداد میں زائرین کو اپنی طرف کھینچ رہا ہے جو یہاں محفوظ کیے گئے جانوروں کو دیکھنے اور ان کی خصوصیات اور رہائش گاہوں کے بارے میں جاننے آتے ہیں، جس سے یہ دورہ مشاہدے اور سیکھنے کا امتزاج بن جاتا ہے۔
جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 4 اکتوبر 2026 کو بیان کیا، ٹیکسی ڈرمی ورلڈ میں نمائش کے لیے رکھے گئے جانوروں میں ایشیائی شیر بھی شامل ہے، جس کے معلوماتی کارڈ میں سعودی عرب کی جنگلی حیات کی تاریخ کا ایک باب یاد دلایا گیا ہے۔ یہ نوع ایک زمانے میں اس خطے میں پائی جاتی تھی لیکن 19ویں صدی کے اواخر تک ماحولیاتی تبدیلیوں اور انسانی دباؤ بشمول شکار کے باعث غائب ہو گئی۔ چٹانوں پر کندہ نقوش پرنس محمد بن سلمان رائل ریزرو کے اندر اس کی تاریخی موجودگی کا ثبوت دیتے ہیں، جبکہ اس کی دوبارہ آبادکاری اب بھی ایک مستقبل کا ہدف ہے۔
کیا آپ نے کبھی سوچا کہ ایک ایسا جانور جو صدیوں پہلے اس سرزمین پر چلتا تھا، آج صرف پتھروں پر بنی تصویروں میں کیوں زندہ ہے؟ ایشیائی شیر کی کہانی اسی سوال کا جواب دیتی ہے۔
زائرین عربی دھاری دار لکڑبگھے کے بارے میں بھی جان سکتے ہیں، جو جزیرہ نما عرب بشمول سعودی عرب میں پایا جاتا ہے۔ یہ اپنی سرمئی، بھوسے جیسے رنگ کی کھال، گہری دھاریوں اور بڑے کانوں سے پہچانا جاتا ہے۔ یہ بنیادی طور پر رات کا جانور ہے اور زیادہ تر مردار خوراک کھاتا ہے، اس کے علاوہ پھل، کیڑے مکوڑے اور کچھ چھوٹے جانور بھی اس کی خوراک میں شامل ہیں۔
کیا آپ جانتے ہیں کہ رات کے اندھیرے میں یہ دھاری دار لکڑبگھا کس طرح اپنے بڑے کانوں کی مدد سے شکار کی بو سونگھتا ہے؟ اس کی رہائش گاہ اور عادات کے بارے میں معلوماتی کارڈ اس تجسس کو مزید بڑھاتا ہے۔
باربری بھیڑ، یا آوڈاڈ، ایک ایسا ممالیہ ہے جو شمالی افریقہ کے پہاڑی اور پتھریلے علاقوں میں رہتا ہے۔ یہ گرم، خشک ماحول اور ناہموار زمین کے مطابق ڈھل چکا ہے، اور نر اور مادہ دونوں کے سینگ مڑے ہوئے ہوتے ہیں۔ یہ گھاس، جھاڑیوں اور پتوں پر گزارہ کرتا ہے۔ اس کے معلوماتی کارڈ میں نوٹ کیا گیا ہے کہ یہ سعودی عرب یا جزیرہ نما عرب کا مقامی جانور نہیں ہے۔
کیا آپ نے کبھی غور کیا کہ ایک غیر مقامی نوع کو نمائش میں کیوں شامل کیا جاتا ہے؟ شاید اس لیے کہ زائرین مقامی اور غیر مقامی جنگلی حیات کے فرق کو سمجھ سکیں۔
ٹیکسی ڈرمی ورلڈ میں ایک ورچوئل رئیلٹی تجربہ بھی پیش کیا گیا ہے، جو اس دورے میں ایک متعامل جہت کا اضافہ کرتا ہے اور زائرین کو جانوروں اور ان کی رہائش گاہوں کے بارے میں جاننے کا ایک اور طریقہ فراہم کرتا ہے۔
کیا آپ تصور کر سکتے ہیں کہ ورچوئل رئیلٹی کے ذریعے آپ خود کو ایک ایسے جنگل میں کھڑا پائیں جہاں یہ جانور آزاد گھومتے ہیں؟ یہ تجربہ مشاہدے کو ایک نئی جہت دیتا ہے۔
یہ پویلین نہ صرف نمائش بلکہ سیکھنے کا مرکز بھی ہے، جہاں زائرین ٹیکسی ڈرمی کی عملی مہارت حاصل کر سکتے ہیں۔ ورکشاپ ایریا میں آنے والے افراد خود اس فن کو سیکھتے اور آزماتے ہیں، جس سے یہ نمائش ایک تعلیمی تجربے میں بدل جاتی ہے۔
کیا آپ نے کبھی سوچا کہ ٹیکسی ڈرمی صرف نمائش کے لیے نہیں بلکہ تحفظ اور تعلیم کا ذریعہ بھی ہو سکتی ہے؟ یہی پیغام اس پویلین میں دہرایا جا رہا ہے۔
ایشیائی شیر کے معلوماتی کارڈ میں بتایا گیا ہے کہ یہ نوع ماحولیاتی تبدیلیوں اور انسانی دباؤ کے باعث 19ویں صدی کے اواخر تک غائب ہو گئی۔ چٹانوں پر کندہ نقوش پرنس محمد بن سلمان رائل ریزرو کے اندر اس کی تاریخی موجودگی کو دستاویزی شکل دیتے ہیں۔ اس کی دوبارہ آبادکاری کو مستقبل کا ہدف قرار دیا گیا ہے۔
کیا یہ ممکن ہے کہ ایک دن یہ شیر انہی چٹانوں کے درمیان دوبارہ دوڑتا نظر آئے؟ یہ سوال ہر زائر کے ذہن میں ابھرتا ہے۔
عربی دھاری دار لکڑبگھے کے بارے میں مزید یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ جزیرہ نما عرب میں پایا جاتا ہے اور اس کی کھال سرمئی بھوسے جیسے رنگ کی ہوتی ہے جس پر گہری دھاریاں بنی ہوتی ہیں۔ اس کے کان بڑے ہوتے ہیں جو اسے رات کے وقت شکار کی آواز سننے میں مدد دیتے ہیں۔ یہ زیادہ تر مردار کھاتا ہے، لیکن پھل، کیڑے مکوڑے اور چھوٹے جانور بھی اس کی خوراک کا حصہ ہیں۔
کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ لکڑبگھا صحرائی ماحول میں صفائی کا کام بھی کرتا ہے؟ مردار خور ہونے کے ناطے یہ ماحول کو صاف رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
باربری بھیڑ کے بارے میں معلوماتی کارڈ واضح کرتا ہے کہ یہ شمالی افریقہ کے پہاڑی اور پتھریلے علاقوں کی رہنے والی ہے، اور یہ سعودی عرب یا جزیرہ نما عرب کی مقامی نہیں۔ یہ گرم خشک ماحول اور ناہموار زمین کے لیے ڈھلی ہوئی ہے، اور دونوں جنسوں کے سینگ مڑے ہوئے ہوتے ہیں۔ یہ گھاس، جھاڑیوں اور پتوں کو کھاتی ہے۔
کیا آپ نے کبھی سوچا کہ ایک غیر مقامی جانور کو نمائش میں رکھنے کا مقصد کیا ہو سکتا ہے؟ شاید یہ زائرین کو یہ سکھانا ہے کہ ہر نوع کا اپنا ماحول ہوتا ہے۔
ورچوئل رئیلٹی تجربہ اس پویلین کا ایک اور پہلو ہے جو دورے کو متعامل بناتا ہے۔ زائرین اس کے ذریعے جانوروں اور ان کی رہائش گاہوں کے بارے میں نئے انداز میں سیکھ سکتے ہیں۔ یہ تجربہ روایتی نمائش سے آگے بڑھ کر ایک عمیق تعلیمی سفر فراہم کرتا ہے۔
کیا آپ ورچوئل رئیلٹی کے ذریعے کسی جانور کی رہائش گاہ میں خود کو کھڑا تصور کر سکتے ہیں؟ یہی تجسس زائرین کو اس پویلین کی طرف کھینچتا ہے۔
مجموعی طور پر، ٹیکسی ڈرمی ورلڈ کا پویلین مشاہدے اور سیکھنے کو یکجا کرتا ہے، جہاں زائرین نہ صرف محفوظ جانوروں کو دیکھتے ہیں بلکہ ان کی خصوصیات اور رہائش گاہوں کے بارے میں بھی آگاہی حاصل کرتے ہیں۔ ورکشاپ ایریا میں عملی تربیت اور ورچوئل رئیلٹی تجربہ اس دورے کو یادگار بناتے ہیں۔
رپورٹ میں نمائش کی مجموعی رقوم، شرکاء کی تعداد یا ورکشاپ کے شیڈول کے بارے میں کوئی تفصیل نہیں دی گئی۔
ٹیکسی ڈرمی ورلڈ پویلین میں زائرین کیا کر سکتے ہیں؟ پویلین میں ایک ورکشاپ ایریا ہے جہاں زائرین جانوروں کی ٹیکسی ڈرمی سیکھ اور اس پر عمل کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ محفوظ جانوروں کو دیکھ سکتے ہیں اور ان کی خصوصیات اور رہائش گاہوں کے بارے میں جان سکتے ہیں۔ ایس پی اے کے مطابق یہ تجربہ مشاہدے اور سیکھنے کو یکجا کرتا ہے، اور ورچوئل رئیلٹی بھی دستیاب ہے۔
ایشیائی شیر کے بارے میں معلوماتی کارڈ میں کیا بتایا گیا ہے؟ کارڈ کے مطابق ایشیائی شیر ایک زمانے میں اس خطے میں پایا جاتا تھا لیکن 19ویں صدی کے اواخر تک ماحولیاتی تبدیلیوں اور انسانی دباؤ بشمول شکار کے باعث غائب ہو گیا۔ چٹانوں پر کندہ نقوش پرنس محمد بن سلمان رائل ریزرو کے اندر اس کی تاریخی موجودگی کا ثبوت دیتے ہیں، اور اس کی دوبارہ آبادکاری مستقبل کا ہدف ہے۔
عربی دھاری دار لکڑبگھے کی خصوصیات کیا ہیں؟ یہ جزیرہ نما عرب بشمول سعودی عرب میں پایا جاتا ہے اور اپنی سرمئی، بھوسے جیسے رنگ کی کھال، گہری دھاریوں اور بڑے کانوں سے پہچانا جاتا ہے۔ یہ بنیادی طور پر رات کا جانور ہے اور زیادہ تر مردار کھاتا ہے، اس کے علاوہ پھل، کیڑے مکوڑے اور کچھ چھوٹے جانور بھی اس کی خوراک میں شامل ہیں۔
باربری بھیڑ یا آوڈاڈ کے بارے میں کیا معلوم ہوتا ہے؟ یہ شمالی افریقہ کے پہاڑی اور پتھریلے علاقوں میں رہتی ہے اور گرم، خشک ماحول اور ناہموار زمین کے مطابق ڈھلی ہوئی ہے۔ نر اور مادہ دونوں کے سینگ مڑے ہوئے ہوتے ہیں، اور یہ گھاس، جھاڑیوں اور پتوں پر گزارہ کرتی ہے۔ اس کے معلوماتی کارڈ میں نوٹ کیا گیا ہے کہ یہ سعودی عرب یا جزیرہ نما عرب کی مقامی نہیں ہے۔
ورچوئل رئیلٹی تجربہ کیا اضافہ کرتا ہے؟ ٹیکسی ڈرمی ورلڈ میں ایک ورچوئل رئیلٹی تجربہ بھی پیش کیا گیا ہے، جو اس دورے میں ایک متعامل جہت کا اضافہ کرتا ہے۔ یہ زائرین کو جانوروں اور ان کی رہائش گاہوں کے بارے میں جاننے کا ایک اور طریقہ فراہم کرتا ہے۔ ایس پی اے کے مطابق یہ تجربہ مشاہدے کے ساتھ سیکھنے کو بھی فروغ دیتا ہے۔
کیا رپورٹ میں نمائش کی مزید تفصیلات دی گئی ہیں؟ رپورٹ میں نمائش کی مجموعی رقوم، شرکاء کی تعداد یا ورکشاپ کے شیڈول کے بارے میں کوئی تفصیل نہیں دی گئی۔ ایس پی اے نے صرف پویلین کی خصوصیات، نمائش شدہ جانوروں اور ورچوئل رئیلٹی تجربے کا ذکر کیا ہے۔ مزید اعداد و شمار یا تاریخوں کے لیے الگ سے اعلان کا انتظار کرنا ہوگا۔





