Saturday, October 31, 2026
سعودی خبریں

سعودی اٹارنی جنرل نے روس میں ایس سی او پراسیکیوٹرز جنرل کے 24ویں اجلاس میں شرکت کی

سعودی اٹارنی جنرل نے روس میں ایس سی او پراسیکیوٹرز جنرل کے 24ویں اجلاس میں شرکت کی

قازان، روس میں ایس سی او ممبر ممالک کے پراسیکیوٹرز جنرل کے 24ویں اجلاس میں سعودی عرب کی نمائندگی اٹارنی جنرل اور پبلک پراسیکیوشن کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر خالد الیوسف نے کی، جس میں 20 ممالک کے نمائندوں نے شرکت کی۔

جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 4 اکتوبر 2026 کو بیان کیا، اجلاس میں بین الاقوامی تعاون بڑھانے، نابالغوں کے تحفظ، غیر قانونی مواد اور سائبر جرائم سے نمٹنے اور مہارت اور بہترین طریقوں کے تبادلے پر بات چیت کی گئی۔

ڈاکٹر خالد الیوسف نے اپنے خطاب میں سعودی عرب کی سعودی وژن 2030 کے تحت معاشرے کی تعمیر اور خاندانوں اور نوجوانوں کے تحفظ پر توجہ اجاگر کی۔ انہوں نے نابالغوں کو سائبر جرائم سے بچانے کے لیے پبلک پراسیکیوشن کی کوششوں کا جائزہ پیش کیا، جس میں خصوصی خاندانی امور کی پراسیکیوشنز کے ذریعے کام کیا جا رہا ہے اور بچوں کے حقوق کے تحفظ اور نقصان دہ ڈیجیٹل مواد سے نمٹنے کے لیے متعلقہ حکام کے ساتھ تعاون کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے بین الاقوامی تعاون کو مضبوط بنانے اور نابالغوں کو نشانہ بنانے والے ابھرتے ہوئے مجرمانہ طریقوں کا مقابلہ کرنے کے لیے تکنیکی ترقی کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنے کی ضرورت پر زور دیا۔

یہ اجلاس شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے پراسیکیوٹرز جنرل کا 24واں اجلاس تھا، جو روسی فیڈریشن کے شہر قازان میں منعقد ہوا۔ ایس پی اے کے مطابق اس اجلاس میں 20 ممالک کے نمائندوں نے شرکت کی۔

اجلاس کا ایجنڈا تین اہم موضوعات پر مرکوز تھا: بین الاقوامی تعاون کو بڑھانا، نابالغوں کا تحفظ، اور غیر قانونی مواد اور سائبر جرائم سے نمٹنا۔ شرکاء نے مہارت اور بہترین طریقوں کے تبادلے پر بھی بات چیت کی۔

سعودی اٹارنی جنرل نے اپنے خطاب میں سعودی وژن 2030 کے تحت معاشرے کی تعمیر اور خاندانوں اور نوجوانوں کے تحفظ پر سعودی عرب کی توجہ کو نمایاں کیا۔ انہوں نے پبلک پراسیکیوشن کی ان کوششوں کا جائزہ لیا جو نابالغوں کو سائبر جرائم سے بچانے کے لیے کی جا رہی ہیں۔

ان کوششوں میں خصوصی خاندانی امور کی پراسیکیوشنز کے ذریعے کام کرنا شامل ہے، جہاں بچوں کے حقوق کے تحفظ اور نقصان دہ ڈیجیٹل مواد سے نمٹنے کے لیے متعلقہ حکام کے ساتھ تعاون کیا جاتا ہے۔

ڈاکٹر خالد الیوسف نے بین الاقوامی تعاون کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ نابالغوں کو نشانہ بنانے والے ابھرتے ہوئے مجرمانہ طریقوں کا مقابلہ کرنے کے لیے تکنیکی ترقی کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنا ضروری ہے۔

کیا نابالغوں کو نشانہ بنانے والے ڈیجیٹل جرائم کی نوعیت تیزی سے بدل رہی ہے؟ کیا سرحدوں کے پار تعاون کے بغیر ان جرائم کا مؤثر مقابلہ ممکن ہے؟ کیا خصوصی خاندانی امور کی پراسیکیوشنز کا ماڈل دوسرے ممالک کے لیے قابل تقلید ہے؟ کیا 20 ممالک کی مشترکہ کوششیں نقصان دہ ڈیجیٹل مواد کے خلاف کافی ہیں؟

شنگھائی تعاون تنظیم کا یہ اجلاس ایک ایسے وقت میں ہوا جب ڈیجیٹل جرائم اور آن لائن نقصان دہ مواد کے خلاف بین الاقوامی سطح پر تعاون کی ضرورت بڑھ رہی ہے۔ رکن ممالک کے پراسیکیوٹرز جنرل کی سطح پر ہونے والی یہ ملاقاتیں قانونی تعاون کے فریم ورک کو مضبوط بنانے کا موقع فراہم کرتی ہیں۔

سعودی عرب کی شرکت اس بات کا عکاس ہے کہ مملکت بین الاقوامی قانونی تعاون کے میدان میں فعال کردار ادا کر رہی ہے۔ سعودی وژن 2030 کے تحت معاشرے کی تعمیر اور خاندان اور نوجوانوں کے تحفظ کو ترجیح دی جا رہی ہے، اور یہ ترجیحات بین الاقوامی فورمز پر بھی پیش کی جا رہی ہیں۔

پبلک پراسیکیوشن کی جانب سے نابالغوں کے تحفظ کے لیے خصوصی خاندانی امور کی پراسیکیوشنز کا قیام ایک ایسا اقدام ہے جو بچوں کے حقوق کے تحفظ اور نقصان دہ ڈیجیٹل مواد سے نمٹنے کے لیے کام کرتا ہے۔ یہ پراسیکیوشنز متعلقہ حکام کے ساتھ مل کر کام کرتی ہیں تاکہ بچوں کو سائبر جرائم سے بچایا جا سکے۔

اجلاس میں غیر قانونی مواد اور سائبر جرائم سے نمٹنے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ تکنیکی ترقی کے ساتھ ساتھ مجرمانہ طریقے بھی بدل رہے ہیں، اس لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی جدید طریقوں سے لیس ہونا چاہیے۔

کیا بین الاقوامی فورمز پر ہونے والی بات چیت زمینی سطح پر مؤثر تبدیلی لا سکتی ہے؟ کیا رکن ممالک کے درمیان معلومات کے تبادلے کے لیے کوئی مستقل میکانزم موجود ہے؟ کیا نوجوانوں کے تحفظ کے لیے ٹیکنالوجی کمپنیوں کو بھی ذمہ دار ٹھہرایا جانا چاہیے؟

ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق اجلاس میں 20 ممالک کے نمائندوں نے شرکت کی۔ یہ تعداد اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم کے فریم ورک کے تحت قانونی تعاون کو وسیع پیمانے پر اہمیت دی جا رہی ہے۔

سعودی اٹارنی جنرل کا خطاب اس بات پر مرکوز تھا کہ نابالغوں کا تحفظ اور خاندانوں کی حفاظت کس طرح قومی ترجیحات کا حصہ ہیں۔ انہوں نے سعودی وژن 2030 کے تحت معاشرے کی تعمیر کے پہلو کو اجاگر کیا، جو سماجی ترقی اور نوجوان نسل کی حفاظت پر زور دیتا ہے۔

انہوں نے پبلک پراسیکیوشن کی کوششوں کا جائزہ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ کس طرح خصوصی پراسیکیوشنز بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے کام کر رہی ہیں اور نقصان دہ ڈیجیٹل مواد کے خلاف اقدامات کر رہی ہیں۔

ڈاکٹر خالد الیوسف نے بین الاقوامی تعاون کو مضبوط بنانے کی اپیل کی اور کہا کہ ابھرتے ہوئے مجرمانہ طریقوں کا مقابلہ کرنے کے لیے تکنیکی ترقی کے ساتھ ہم آہنگ رہنا ضروری ہے۔ ان کا یہ موقف اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ سائبر جرائم کی روک تھام کے لیے صرف قومی سطح پر اقدامات کافی نہیں ہیں۔

کیا ڈیجیٹل دور میں بچوں کا تحفظ قانون سازی سے زیادہ آگاہی اور تعلیم کا معاملہ ہے؟ کیا والدین اور اسکولوں کا کردار اس سلسلے میں حکومتوں سے کم اہم ہے؟ کیا بین الاقوامی تنظیمیں نابالغوں کے خلاف آن لائن جرائم کے خلاف کوئی مشترکہ معیار قائم کر سکتی ہیں؟

شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاسوں میں پراسیکیوٹرز جنرل کی سطح پر ہونے والی ملاقاتیں قانونی تعاون کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کرتی ہیں۔ اس طرح کے فورمز پر ممالک اپنے تجربات اور بہترین طریقوں کا تبادلہ کرتے ہیں، جس سے مشترکہ چیلنجوں سے نمٹنے میں مدد ملتی ہے۔

سعودی عرب کی اس اجلاس میں شرکت اس بات کا مظاہرہ کرتی ہے کہ مملکت بین الاقوامی قانونی تعاون کے میدان میں سرگرم ہے اور عالمی سطح پر درپیش چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے دوسرے ممالک کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہے۔

اجلاس میں نابالغوں کے تحفظ کے موضوع پر بات چیت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ بچوں کے خلاف آن لائن جرائم کو بین الاقوامی سطح پر ایک سنگین مسئلہ تسلیم کیا جا رہا ہے۔ شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششیں ضروری ہیں۔

غیر قانونی مواد اور سائبر جرائم کے حوالے سے ہونے والی بات چیت میں اس بات پر زور دیا گیا کہ تکنیکی ترقی کے ساتھ ساتھ مجرمانہ طریقے بھی تبدیل ہو رہے ہیں، اس لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مسلسل اپ ڈیٹ رہنا چاہیے۔

کیا سائبر جرائم کے خلاف عالمی سطح پر کوئی واحد قانونی فریم ورک ممکن ہے؟ کیا مختلف ممالک کے قانونی نظاموں میں فرق مؤثر تعاون کی راہ میں رکاوٹ ہے؟ کیا پراسیکیوٹرز جنرل کی سطح پر ہونے والی ملاقاتیں عملی نتائج پیدا کرتی ہیں؟

ایس پی اے کی رپورٹ میں اجلاس کے دوران ہونے والی بات چیت کی تفصیلات کے بارے میں محدود معلومات فراہم کی گئی ہیں۔ رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اجلاس میں کوئی قرارداد یا مشترکہ بیان جاری ہوا یا نہیں، اور نہ ہی اس بات کا ذکر ہے کہ آئندہ اجلاس کہاں منعقد ہوگا۔

رپورٹ میں سعودی اٹارنی جنرل کے خطاب کے علاوہ دیگر شرکاء کے خطابات یا اجلاس کے دوران ہونے والے دیگر امور کی تفصیلات شامل نہیں ہیں۔ اس طرح کی معلومات عام طور پر اس نوعیت کے بین الاقوامی اجلاسوں کے بعد جاری ہونے والے سرکاری بیانات میں شامل ہوتی ہیں۔

سعودی عرب کی جانب سے اس اجلاس میں شرکت اور نابالغوں کے تحفظ کے موضوع پر خطاب اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ مملکت بین الاقوامی قانونی تعاون کے میدان میں اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہی ہے اور عالمی چیلنجوں سے نمٹنے میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

پبلک پراسیکیوشن کی جانب سے نابالغوں کے تحفظ کے لیے کی جانے والی کوششیں سعودی وژن 2030 کے اہداف کے مطابق ہیں، جو معاشرے کی تعمیر اور نوجوان نسل کی حفاظت کو ترجیح دیتے ہیں۔ یہ کوششیں قومی سطح پر بچوں کے حقوق کے تحفظ اور نقصان دہ ڈیجیٹل مواد کے خلاف اقدامات پر مرکوز ہیں۔

اجلاس میں 20 ممالک کی شرکت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم کے فریم ورک کے تحت قانونی تعاون کو وسیع پیمانے پر اہمیت حاصل ہے اور رکن ممالک مشترکہ چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے مل کر کام کرنے کے خواہاں ہیں۔

ایس سی او پراسیکیوٹرز جنرل کے 24ویں اجلاس میں سعودی عرب کی نمائندگی کس نے کی؟ سعودی عرب کی نمائندگی اٹارنی جنرل اور پبلک پراسیکیوشن کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر خالد الیوسف نے کی۔ ایس پی اے کے مطابق یہ اجلاس روسی فیڈریشن کے شہر قازان میں منعقد ہوا اور اس میں 20 ممالک کے نمائندوں نے شرکت کی۔ ڈاکٹر خالد الیوسف نے اجلاس سے خطاب بھی کیا۔

اجلاس میں کون سے موضوعات پر بات چیت کی گئی؟ اجلاس میں بین الاقوامی تعاون بڑھانے کے طریقوں، نابالغوں کے تحفظ، غیر قانونی مواد اور سائبر جرائم سے نمٹنے، اور مہارت اور بہترین طریقوں کے تبادلے پر بات چیت کی گئی۔ ایس پی اے کے مطابق یہ موضوعات اجلاس کے ایجنڈے کا حصہ تھے اور شرکاء نے ان پر تبادلہ خیال کیا۔

ڈاکٹر خالد الیوسف نے اپنے خطاب میں کیا کہا؟ انہوں نے سعودی وژن 2030 کے تحت معاشرے کی تعمیر اور خاندانوں اور نوجوانوں کے تحفظ پر سعودی عرب کی توجہ اجاگر کی۔ انہوں نے نابالغوں کو سائبر جرائم سے بچانے کے لیے پبلک پراسیکیوشن کی کوششوں کا جائزہ پیش کیا، جن میں خصوصی خاندانی امور کی پراسیکیوشنز کے ذریعے بچوں کے حقوق کے تحفظ اور نقصان دہ ڈیجیٹل مواد سے نمٹنے کے لیے متعلقہ حکام کے ساتھ تعاون شامل ہے۔

پبلک پراسیکیوشن نابالغوں کے تحفظ کے لیے کیا کر رہی ہے؟ ایس پی اے کے مطابق پبلک پراسیکیوشن خصوصی خاندانی امور کی پراسیکیوشنز کے ذریعے نابالغوں کو سائبر جرائم سے بچانے کے لیے کام کر رہی ہے۔ یہ پراسیکیوشنز بچوں کے حقوق کے تحفظ اور نقصان دہ ڈیجیٹل مواد سے نمٹنے کے لیے متعلقہ حکام کے ساتھ تعاون کرتی ہیں۔ ڈاکٹر خالد الیوسف نے اجلاس میں ان کوششوں کا جائزہ پیش کیا۔

ڈاکٹر خالد الیوسف نے بین الاقوامی تعاون کے بارے میں کیا کہا؟ انہوں نے بین الاقوامی تعاون کو مضبوط بنانے کی اپیل کی اور کہا کہ نابالغوں کو نشانہ بنانے والے ابھرتے ہوئے مجرمانہ طریقوں کا مقابلہ کرنے کے لیے تکنیکی ترقی کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنا ضروری ہے۔ ایس پی اے کے مطابق انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ابھرتے ہوئے مجرمانہ طریقوں سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششیں درکار ہیں۔

اجلاس میں کتنے ممالک کے نمائندوں نے شرکت کی؟ ایس پی اے کے مطابق قازان میں ہونے والے اس اجلاس میں 20 ممالک کے نمائندوں نے شرکت کی۔ یہ اجلاس شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے پراسیکیوٹرز جنرل کا 24واں اجلاس تھا۔ رپورٹ میں شرکاء ممالک کی تفصیلی فہرست یا اجلاس کے دیگر انتظامی امور کی تفصیلات نہیں دی گئیں۔