ریاض میں 3 اکتوبر 2026 کو یہ اطلاع سامنے آئی کہ عالمی کمپیوٹنگ اور مصنوعی ذہانت کی کمپنی NVIDIA نے سعودی ڈیٹا اینڈ اے آئی اتھارٹی (SDAIA) کے سعودی آڈیو ڈیٹاسیٹ فار عربی (SADA) کو استعمال کرتے ہوئے اپنے کثیراللسانی خودکار تقریر شناخت ماڈل Nemotron 3.5 ASR کی تربیت کی۔ NVIDIA ڈویلپر بلاگ پر شائع ہونے والی تکنیکی تحقیق کے مطابق اس ڈیٹاسیٹ کے انضمام سے سعودی لہجوں میں سمجھنے کی غلطیاں تقریباً آدھی رہ گئیں۔
جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے بیان کیا، یہ ماڈل تقریباً 40 زبانوں اور لہجوں بشمول عربی میں حقیقی وقت میں نقلِ متن کی سہولت دیتا ہے۔ ابتدا میں یہ سعودی لہجوں میں ہر 100 الفاظ میں سے تقریباً 55 الفاظ غلط پہچانتا تھا۔ SADA سے نجدی اور حجازی آڈیو کے 133.7 گھنٹوں پر تربیت کے بعد الفاظ کی غلطی کی شرح تقریباً 30 الفاظ رہ گئی۔
پورے کثیراللہجہ ڈیٹاسیٹ میں غلطی کی شرح 58.8 فیصد سے کم ہو کر 35.6 فیصد رہی، جبکہ حروف کی سطح پر غلطیاں 31.6 فیصد سے 12.2 فیصد پر آ گئیں۔ اس کے ساتھ ساتھ جدید معیاری عربی اور انگریزی میں بھی کارکردگی بہتر ہوئی۔ تربیت صرف ساڑھے چار گھنٹوں میں دو GPUs کے ذریعے مکمل ہوئی۔
کیا یہ تصور کیا جا سکتا ہے کہ صرف ایک ڈیٹاسیٹ کسی عالمی ماڈل کی عربی سمجھنے کی صلاحیت کو اس حد تک بدل دے گا؟ رپورٹ کے مطابق یہ تبدیلی الفاظ اور حروف دونوں سطحوں پر ریکارڈ کی گئی۔
حقیقی وقت کے نظام کے لیے تیار ماڈل
بہتر بنایا گیا ماڈل حقیقی وقت کے متعامل نظاموں کے لیے موزوں ہے اور اس کی تاخیر 80 ملی سیکنڈ سے شروع ہوتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ذہین صوتی معاونین، گفتگو کرنے والے ایجنٹ، براہِ راست نشریات میں سب ٹائٹلنگ، اور کال سینٹرز، میڈیا آرکائیوز اور میٹنگز کی نقلِ متن جیسی ایپلیکیشنز میں اسے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
کیا براہِ راست نشریات میں سب ٹائٹلنگ کے لیے 80 ملی سیکنڈ کی تاخیر کافی ہے؟ NVIDIA نے یہ بھی بتایا کہ اس نے ضروری ورک فلو اور ٹولز شیئر کیے ہیں تاکہ دنیا بھر کے ڈویلپرز یہی طریقہ کار دیگر زبانوں پر دہرا سکیں۔
SDAIA نے SADA ڈیٹاسیٹ پہلے Kaggle پلیٹ فارم پر جاری کیا تھا تاکہ بین الاقوامی محققین اور ڈویلپرز کی مدد ہو سکے۔ یہ ڈیٹاسیٹ تقریباً 667 گھنٹوں کی نقل شدہ آڈیو پر مشتمل ہے، جس میں سعودی براڈکاسٹنگ اتھارٹی کی فراہم کردہ 600 سے زائد گھنٹے کی آڈیو شامل ہے۔ یہ آڈیو 57 ٹیلی ویژن پروگراموں اور سیریز سے لی گئی ہے اور 10 سے زیادہ سعودی لہجوں کا احاطہ کرتی ہے، جبکہ 20 گھنٹے توثیق کے لیے مخصوص کیے گئے۔
ڈیٹاسیٹ میں 125,000 سے زائد درجہ بند کلپس شامل ہیں، جس نے NVIDIA کو نجدی اور حجازی تقریر کے مخصوص ڈیٹا کو نشانہ بنانے کی سہولت دی۔ کیا یہ حیرت کی بات نہیں کہ ایک قومی ڈیٹاسیٹ عالمی ٹیکنالوجی کمپنی کے ماڈل کی بنیاد بن گیا؟
یہ پیش رفت سعودی عرب میں مصنوعی ذہانت کے بنیادی ڈھانچے کی ایک جھلک ہے، جہاں مقامی زبان اور لہجوں کا ڈیٹا عالمی ماڈلز کی کارکردگی کا تعین کر رہا ہے۔ SADA کا مقصد بین الاقوامی محققین اور ڈویلپرز کی مدد کرنا تھا، اور NVIDIA کی تحقیق سے یہ واضح ہوتا ہے کہ یہ ڈیٹاسیٹ اپنے مقصد میں کس حد تک کامیاب رہا۔
کیا دیگر زبانوں کے ماڈلز بھی اسی طریقے سے مقامی ڈیٹاسیٹس سے فائدہ اٹھا سکیں گے؟ NVIDIA نے ورک فلو اور ٹولز شیئر کر کے یہ راستہ کھلا رکھا ہے۔
رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ بہتر ماڈل کب عام صارفین کے لیے دستیاب ہوگا، نہ ہی اس کے استعمال کی لاگت یا کسی مخصوص ادارے کے ساتھ تجارتی معاہدے کا ذکر ہے۔ SADA کے 667 گھنٹوں میں سے صرف 133.7 گھنٹے نجدی اور حجازی آڈیو تربیت کے لیے استعمال ہوئے، اور بقیہ ڈیٹا کی تقسیم کے بارے میں تفصیل فراہم نہیں کی گئی۔
کیا 57 ٹیلی ویژن پروگراموں کا ڈیٹا ہر ممکنہ سعودی لہجے کی نمائندگی کرتا ہے؟ یہ سوال رپورٹ میں اٹھایا گیا نہیں، مگر ڈیٹاسیٹ کی ساخت سے ظاہر ہوتا ہے کہ 10 سے زائد لہجوں کا احاطہ کیا گیا۔
ماڈل کی تربیت دو GPUs پر ساڑھے چار گھنٹوں میں مکمل ہونا اس بات کا اشارہ ہے کہ کم وسائل میں بھی بڑے پیمانے پر بہتری ممکن ہے۔ تاہم رپورٹ میں GPUs کی قسم یا ان کی تفصیلات نہیں دی گئیں۔
کیا 80 ملی سیکنڈ کی تاخیر کال سینٹرز کے لیے موزوں ہے جہاں گفتگو کا تسلسل اہم ہوتا ہے؟ NVIDIA نے ماڈل کو حقیقی وقت کے متعامل نظاموں کے لیے موزوں قرار دیا ہے، جس میں ذہین صوتی معاونین اور گفتگو کرنے والے ایجنٹ شامل ہیں۔
عربی کے جدید معیاری اور انگریزی میں بہتری کے ساتھ ساتھ سعودی لہجوں میں غلطیوں کی کمی یہ ظاہر کرتی ہے کہ کثیراللسانی تربیت میں مقامی ڈیٹا شامل کرنے سے مجموعی کارکردگی متاثر نہیں ہوتی بلکہ بہتر ہوتی ہے۔ یہ نکتہ ان ڈویلپرز کے لیے اہم ہے جو دیگر زبانوں میں اسی طریقے کو آزمانا چاہتے ہیں۔
کیا SADA جیسے ڈیٹاسیٹس کی مانگ بڑھنے سے مقامی زبانوں کی ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری میں بھی اضافہ ہوگا؟ رپورٹ اس سوال کا جواب نہیں دیتی، مگر Kaggle پر ڈیٹاسیٹ کی دستیابی بین الاقوامی تعاون کی طرف اشارہ کرتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق حروف کی سطح پر غلطیاں 31.6 فیصد سے 12.2 فیصد تک گرنا الفاظ کی سطح سے زیادہ نمایاں ہے، جو نقلِ متن کے معیار میں باریک تفصیلات کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ براہِ راست سب ٹائٹلنگ اور میٹنگز کی نقلِ متن میں یہ فرق براہِ راست محسوس ہو سکتا ہے۔
کیا 125,000 کلپس کی درجہ بندی نے مخصوص لہجوں کو نشانہ بنانا آسان بنایا؟ NVIDIA نے نجدی اور حجازی آڈیو کو منتخب کیا، جو ڈیٹاسیٹ کی درجہ بندی کی افادیت کو ظاہر کرتا ہے۔
سعودی براڈکاسٹنگ اتھارٹی کی 57 پروگراموں اور سیریز سے فراہم کردہ 600 سے زائد گھنٹے کی آڈیو اس ڈیٹاسیٹ کا بڑا حصہ ہے، جبکہ 20 گھنٹے توثیق کے لیے مخصوص کیے گئے۔ یہ تقسیم ظاہر کرتی ہے کہ ڈیٹاسیٹ کو تربیت اور جانچ دونوں کے لیے تیار کیا گیا تھا۔
کیا دیگر ممالک بھی اپنی قومی زبانوں کے لیے اسی طرز کے ڈیٹاسیٹس بنا رہے ہیں؟ رپورٹ میں اس کا ذکر نہیں، مگر NVIDIA کا ورک فلو شیئر کرنا اس امکان کو کھلا رکھتا ہے۔
مجموعی طور پر یہ تحقیق مقامی ڈیٹا اور عالمی ماڈل کے امتزاج کا نمونہ پیش کرتی ہے، جس میں غلطیوں کی شرح میں واضح کمی، تیز تربیت اور کم تاخیر شامل ہیں۔ رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ ماڈل کی یہ بہتر شکل کب اور کہاں دستیاب ہوگی، نہ ہی اس کے تجارتی استعمال کی تفصیلات دی گئی ہیں۔
SADA ڈیٹاسیٹ کیا ہے اور اس میں کیا شامل ہے؟ SADA سعودی آڈیو ڈیٹاسیٹ فار عربی ہے جسے سعودی ڈیٹا اینڈ اے آئی اتھارٹی (SDAIA) نے سعودی براڈکاسٹنگ اتھارٹی کے اشتراک سے جاری کیا۔ یہ تقریباً 667 گھنٹوں کی نقل شدہ آڈیو پر مشتمل ہے، جس میں 600 سے زائد گھنٹے 57 ٹیلی ویژن پروگراموں اور سیریز سے لیے گئے اور 20 گھنٹے توثیق کے لیے مخصوص ہیں۔ ڈیٹاسیٹ میں 125,000 سے زائد درجہ بند کلپس اور 10 سے زیادہ سعودی لہجے شامل ہیں۔
NVIDIA نے ماڈل کی تربیت میں کون سا ڈیٹا استعمال کیا؟ NVIDIA نے SADA سے نجدی اور حجازی آڈیو کے 133.7 گھنٹے استعمال کیے۔ تربیت صرف ساڑھے چار گھنٹوں میں دو GPUs کے ذریعے مکمل ہوئی۔ اس مخصوص ڈیٹا کو نشانہ بنانے کی سہولت ڈیٹاسیٹ کی درجہ بندی سے ملی، جس میں 125,000 سے زائد کلپس شامل ہیں۔ رپورٹ میں GPUs کی قسم یا دیگر تفصیلات نہیں دی گئیں۔
غلطیوں کی شرح میں کتنی کمی آئی؟ سعودی لہجوں میں ماڈل ابتدا میں ہر 100 الفاظ میں سے تقریباً 55 غلط پہچانتا تھا، جو تربیت کے بعد تقریباً 30 رہ گیا۔ پورے کثیراللہجہ ڈیٹاسیٹ میں الفاظ کی غلطی 58.8 فیصد سے 35.6 فیصد اور حروف کی غلطی 31.6 فیصد سے 12.2 فیصد رہی۔ جدید معیاری عربی اور انگریزی میں بھی کارکردگی بہتر ہوئی۔
یہ ماڈل کن ایپلیکیشنز میں استعمال ہو سکتا ہے؟ یہ ماڈل حقیقی وقت کے متعامل نظاموں کے لیے موزوں ہے اور اس کی تاخیر 80 ملی سیکنڈ سے شروع ہوتی ہے۔ اسے ذہین صوتی معاونین، گفتگو کرنے والے ایجنٹ، براہِ راست نشریات میں سب ٹائٹلنگ، اور کال سینٹرز، میڈیا آرکائیوز اور میٹنگز کی نقلِ متن میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ماڈل تقریباً 40 زبانوں اور لہجوں بشمول عربی کی سہولت دیتا ہے۔
کیا دیگر ڈویلپرز بھی یہ طریقہ اپنا سکتے ہیں؟ NVIDIA نے ضروری ورک فلو اور ٹولز شیئر کیے ہیں تاکہ دنیا بھر کے ڈویلپرز یہی طریقہ کار دیگر زبانوں پر دہرا سکیں۔ SDAIA نے SADA ڈیٹاسیٹ Kaggle پلیٹ فارم پر بھی جاری کیا تھا تاکہ بین الاقوامی محققین اور ڈویلپرز اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔ رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ بہتر ماڈل کب عام صارفین کے لیے دستیاب ہوگا۔





