Saturday, October 31, 2026
سعودی خبریں

دمام ایئرپورٹ پر 40,000 ایمفیٹامائن گولیاں برآمد، دو گرفتار

دمام ایئرپورٹ پر 40,000 ایمفیٹامائن گولیاں برآمد، دو گرفتار

کنگ فہد انٹرنیشنل ایئرپورٹ دمام کی کسٹمز نے ایک آنے والی پوسٹل پارسل میں چھپائی گئی 40,000 ایمفیٹامائن گولیاں برآمد کر کے اسمگلنگ کی کوشش ناکام بنا دی ہے۔ یہ کارروائی معمول کی کلیئرنس کارروائی کے دوران عمل میں آئی، جس میں جدید سیکیورٹی ڈیٹیکشن سسٹمز اور کینائن یونٹس استعمال کیے گئے۔

جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 2 اکتوبر 2026 کو بیان کیا، زکوٰۃ، ٹیکس اور کسٹمز اتھارٹی (ZATCA) کے ترجمان حمود الحربی نے بتایا کہ کسٹمز انسپکٹرز نے منشیات کو روٹین کلیئرنس کے دوران بے نقاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس مقصد کے لیے جدید سیکیورٹی ڈیٹیکشن سسٹمز اور کینائن یونٹس کو بروئے کار لایا گیا۔

ضبطی کے بعد ZATCA نے جنرل ڈائریکٹوریٹ آف نارکوٹکس کنٹرول کے ساتھ رابطہ قائم کیا تاکہ مملکت کے اندر منشیات کے مطلوبہ وصول کنندگان کا سراغ لگایا جا سکے۔ اس مشترکہ کارروائی کے نتیجے میں دو مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔

کیا پوسٹل پارسل کے ذریعے منشیات کی اسمگلنگ کی یہ کوشش اس بات کا ثبوت ہے کہ اسمگلر نئے طریقے اپنا رہے ہیں؟ حمود الحربی نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ZATCA تمام داخلی راستوں پر سرحدی سلامتی کو مزید مضبوط بنانے اور غیر قانونی اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے پرعزم ہے تاکہ معاشرے کی حفاظت کی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کام وزارت داخلہ اور شراکت دار سیکیورٹی اداروں کے ساتھ مل کر کیا جا رہا ہے۔

کسٹمز حکام کی جانب سے یہ انکشاف کہ منشیات ایک آنے والی پوسٹل پارسل میں چھپائی گئی تھی، اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ اسمگلر سامان کی ترسیل کے عام ذرائع کو استعمال کرتے ہوئے سیکیورٹی چیکوں کو بائی پاس کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسے میں یہ سوال اہم ہے کہ کیا ہوائی اڈوں پر پوسٹل پارسلز کی جانچ کے عمل کو مزید سخت کرنے کی ضرورت ہے؟

ZATCA نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اسمگلنگ کے خلاف کوششوں میں تعاون کریں اور خلاف ورزیوں کی اطلاع خفیہ سیکیورٹی ہاٹ لائن 1910، ای میل [email protected] یا بین الاقوامی نمبر 009661910 پر دیں۔ اتھارٹی نے نوٹ کیا کہ تصدیق شدہ اطلاعات پر مالی انعامات دیے جاتے ہیں۔

کیا عوام کی جانب سے دی گئی معلومات اسمگلنگ کے نیٹ ورکس کو توڑنے میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتی ہیں؟ یہ پہلو خاص طور پر اس لیے اہم ہے کیونکہ منشیات کی اسمگلنگ صرف ایک قانونی مسئلہ نہیں بلکہ سماجی اور صحت عامہ کا بھی مسئلہ ہے۔

ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق یہ کارروائی دمام کے کنگ فہد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ہوئی، جو مملکت کے بڑے ہوائی اڈوں میں سے ایک ہے اور جہاں مسافروں اور کارگو کی آمد و رفت کا حجم بہت زیادہ ہے۔ ایسے بڑے ہوائی اڈے پر 40,000 گولیوں کی ضبطی ظاہر کرتی ہے کہ کسٹمز عملہ کس سطح کی چوکسی سے کام کر رہا ہے۔

کیا یہ واقعہ بتاتا ہے کہ منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف جنگ میں ٹیکنالوجی اور تربیت یافتہ کینائن یونٹس کا امتزاج کتنا مؤثر ثابت ہو رہا ہے؟ رپورٹ میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ منشیات کو روٹین کلیئرنس کے دوران جدید سیکیورٹی ڈیٹیکشن سسٹمز اور کینائن یونٹس کی مدد سے پکڑا گیا۔

ZATCA کے ترجمان نے اس بات پر زور دیا کہ اتھارٹی تمام داخلی راستوں پر سرحدی سلامتی کو مضبوط بنانے اور غیر قانونی اسمگلنگ کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنے عزم میں ثابت قدم ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کوششیں وزارت داخلہ اور دیگر شراکت دار سیکیورٹی اداروں کے ساتھ مل کر کی جا رہی ہیں تاکہ معاشرے کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔

کیا سرحدی سلامتی کے لیے اداروں کے درمیان یہ تعاون اسمگلروں کے لیے راستے مزید تنگ کر رہا ہے؟ اس معاملے میں جنرل ڈائریکٹوریٹ آف نارکوٹکس کنٹرول کے ساتھ ZATCA کا اشتراک اس بات کا مظاہرہ ہے کہ ضبطی کے بعد تفتیش کا سلسلہ بھی جاری رکھا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں دو مشتبہ افراد کی گرفتاری ممکن ہوئی۔

ایس پی اے کی اس رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ گرفتار کیے گئے دو مشتبہ افراد کا تعلق کہاں سے ہے، ان کے خلاف قانونی کارروائی کا کیا مرحلہ ہے، یا منشیات کی کھیپ کی اصل منزل کیا تھی۔ اسی طرح رپورٹ میں اس بات کا ذکر نہیں کہ پوسٹل پارسل کس ملک سے آیا تھا یا اس کی ترسیل کے پیچھے کون سے نیٹ ورک کارفرما تھے۔

کیا ان تفصیلات کی عدم موجودگی میں عوام کے لیے یہ سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے کہ اسمگلنگ کے نیٹ ورکس کس طرح کام کرتے ہیں؟ بہر حال، اتھارٹی کی جانب سے عوام کو خفیہ ہاٹ لائن اور ای میل کے ذریعے اطلاع دینے کی ترغیب اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ شہریوں کا کردار بھی اس جنگ میں اہم سمجھا جاتا ہے۔

ZATCA نے یہ بھی واضح کیا کہ تصدیق شدہ اطلاعات پر مالی انعامات دیے جاتے ہیں، جو عوام کو خلاف ورزیوں کی اطلاع دینے کی ترغیب دیتا ہے۔ کیا اس طرح کے انعامات کی پالیسی طویل مدت میں اسمگلنگ کے خلاف معلومات کے بہاؤ کو بڑھا سکتی ہے؟

یہ واقعہ مملکت میں منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف جاری کوششوں کا ایک حصہ ہے، جہاں ہوائی اڈوں، بندرگاہوں اور زمینی راستوں پر کسٹمز حکام کی جانب سے چوکسی برقرار رکھی جاتی ہے۔ دمام کا کنگ فہد انٹرنیشنل ایئرپورٹ مشرقی صوبے کا اہم ترین ہوائی اڈہ ہے، اور یہاں سے گزرنے والے مسافروں اور سامان کی تعداد بہت زیادہ ہے، جس کی وجہ سے یہ اسمگلروں کے لیے بھی ایک ممکنہ راستہ سمجھا جاتا ہے۔

کیا اس واقعے کے بعد ہوائی اڈے پر پوسٹل پارسلز کی جانچ کے طریقہ کار میں کوئی تبدیلی آئے گی؟ اس بارے میں ایس پی اے کی رپورٹ میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔

ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق یہ کارروائی 2 اکتوبر 2026 کو عمل میں آئی اور اس کی اطلاع دمام سے دی گئی۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ ضبطی کے بعد تفتیشی اداروں نے مملکت کے اندر منشیات کے مطلوبہ وصول کنندگان کا سراغ لگایا، جس کے نتیجے میں دو افراد کی گرفتاری عمل میں آئی۔

کیا منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف اس طرح کی مشترکہ کارروائیاں آئندہ بھی جاری رہیں گی؟ حمود الحربی کے بیان کے مطابق ZATCA اپنے فرائض میں ثابت قدم ہے اور وزارت داخلہ سمیت شراکت دار اداروں کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔

رپورٹ میں اس بات کا کوئی ذکر نہیں کہ ضبط شدہ گولیوں کی مالیت کتنی تھی، ان کی تیاری کہاں ہوئی، یا ان کے پیچھے کون سی تنظیم کارفرما تھی۔ اسی طرح اس بارے میں بھی کوئی تفصیل نہیں دی گئی کہ گرفتار افراد کے خلاف مقدمہ کس عدالت میں یا کس دفعہ کے تحت درج کیا گیا ہے۔

کیا عوام کو اس طرح کے واقعات کی مکمل تفصیلات فراہم کرنا اسمگلنگ کے خلاف شعور بیدار کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے؟ یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ ZATCA خود عوام سے تعاون کی اپیل کر رہی ہے اور انہیں انعامات کی پیشکش کر رہی ہے۔

ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق اتھارٹی نے عوام سے کہا کہ وہ اسمگلنگ کے خلاف کوششوں میں معاونت کریں اور خلاف ورزیوں کی اطلاع خفیہ سیکیورٹی ہاٹ لائن 1910، ای میل [email protected] یا بین الاقوامی نمبر 009661910 پر دیں۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ تصدیق شدہ اطلاعات پر مالی انعامات دیے جاتے ہیں۔

کیا یہ اقدام عوام اور سیکیورٹی اداروں کے درمیان اعتماد کے رشتے کو مضبوط کرنے میں معاون ہے؟ اس کا جواب وقت کے ساتھ ساتھ اس بات سے ملے گا کہ اس طرح کی اطلاعات کس حد تک مؤثر ثابت ہوتی ہیں۔

مجموعی طور پر یہ واقعہ مملکت کی سرحدوں پر کسٹمز حکام کی چوکسی اور منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف ان کی کارروائیوں کا ایک نمونہ ہے۔ 40,000 ایمفیٹامائن گولیوں کی ضبطی اور دو مشتبہ افراد کی گرفتاری اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ ضبطی کے بعد تفتیشی سلسلہ بھی جاری رکھا جاتا ہے۔

کیا اس طرح کے واقعات عوام میں اس بات کا شعور بیدار کرتے ہیں کہ منشیات کی اسمگلنگ کا مقابلہ صرف اداروں کی ذمہ داری نہیں بلکہ اجتماعی ذمہ داری بھی ہے؟ ایس پی اے کی رپورٹ میں اس پہلو پر روشنی ڈالی گئی ہے کہ اتھارٹی عوام کے تعاون کو اہم سمجھتی ہے۔

رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اس کارروائی میں کسٹمز کے کتنے اہلکار شامل تھے، کینائن یونٹس کی تعداد کتنی تھی، یا تفتیش کے دوران مزید کتنے افراد کو حراست میں لیا گیا۔ ان تفصیلات کی عدم موجودگی کے باوجود، یہ واضح ہے کہ ضبطی اور گرفتاریوں کا سلسلہ ایک مربوط کارروائی کا نتیجہ تھا۔

کیا آئندہ اس طرح کے واقعات میں عوام کو مزید تفصیلات فراہم کی جائیں گی؟ اس بارے میں فی الحال کوئی معلومات دستیاب نہیں۔

دمام ایئرپورٹ پر کسٹمز نے کیا ضبط کیا؟ کنگ فہد انٹرنیشنل ایئرپورٹ دمام کی کسٹمز نے ایک آنے والی پوسٹل پارسل میں چھپائی گئی 40,000 ایمفیٹامائن گولیاں ضبط کیں۔ ZATCA کے ترجمان حمود الحربی کے مطابق یہ منشیات روٹین کلیئرنس کارروائی کے دوران جدید سیکیورٹی ڈیٹیکشن سسٹمز اور کینائن یونٹس کی مدد سے بے نقاب ہوئی۔ رپورٹ میں پارسل کی اصل منزل یا اس کی مالیت کے بارے میں کوئی تفصیل نہیں دی گئی۔

ضبطی کے بعد کون سے ادارے شامل ہوئے اور کیا نتیجہ نکلا؟ ضبطی کے بعد ZATCA نے جنرل ڈائریکٹوریٹ آف نارکوٹکس کنٹرول کے ساتھ رابطہ قائم کیا تاکہ مملکت کے اندر منشیات کے مطلوبہ وصول کنندگان کا سراغ لگایا جا سکے۔ اس مشترکہ کارروائی کے نتیجے میں دو مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔ ایس پی اے کی رپورٹ میں گرفتار افراد کے نام، تعلق یا ان کے خلاف قانونی کارروائی کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

ZATCA نے سرحدی سلامتی کے بارے میں کیا کہا؟ ترجمان حمود الحربی نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ZATCA تمام داخلی راستوں پر سرحدی سلامتی کو مزید مضبوط بنانے اور غیر قانونی اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے پرعزم ہے تاکہ معاشرے کی حفاظت کی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کوششیں وزارت داخلہ اور شراکت دار سیکیورٹی اداروں کے ساتھ مل کر کی جا رہی ہیں۔ رپورٹ میں اس سلسلے میں کوئی نئی پالیسی یا اقدام بیان نہیں کیا گیا۔

عوام اسمگلنگ کی اطلاع کیسے دے سکتے ہیں؟ ZATCA نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اسمگلنگ کے خلاف کوششوں میں تعاون کریں اور خلاف ورزیوں کی اطلاع خفیہ سیکیورٹی ہاٹ لائن 1910، ای میل [email protected] یا بین الاقوامی نمبر 009661910 پر دیں۔ اتھارٹی نے نوٹ کیا کہ تصدیق شدہ اطلاعات پر مالی انعامات دیے جاتے ہیں۔ رپورٹ میں انعامات کی رقم یا نوعیت کے بارے میں کوئی تفصیل نہیں دی گئی۔

کیا رپورٹ میں اسمگلنگ کے نیٹ ورک کی تفصیلات دی گئی ہیں؟ نہیں، ایس پی اے کی رپورٹ میں اس بات کا ذکر نہیں کہ پوسٹل پارسل کس ملک سے آیا، منشیات کی کھیپ کی اصل منزل کیا تھی، یا اس کے پیچھے کون سی تنظیم کارفرما تھی۔ اسی طرح ضبط شدہ گولیوں کی مالیت، ان کی تیاری کی جگہ اور گرفتار افراد کے خلاف مقدمے کی تفصیلات بھی فراہم نہیں کی گئیں۔ رپورٹ صرف ضبطی، گرفتاریوں اور عوامی تعاون کی اپیل تک محدود ہے۔

یہ کارروائی کب اور کہاں ہوئی؟ یہ کارروائی دمام کے کنگ فہد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ہوئی اور ایس پی اے کی رپورٹ 2 اکتوبر 2026 کو دمام سے جاری کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق منشیات ایک آنے والی پوسٹل پارسل میں چھپائی گئی تھی اور اسے روٹین کلیئرنس کے دوران پکڑا گیا۔ رپورٹ میں کارروائی کے وقت یا اس میں شامل اہلکاروں کی تعداد کے بارے میں کوئی معلومات نہیں دی گئیں۔