Saturday, October 31, 2026
سعودی خبریں

سعودی نائب وزیر خارجہ کا منامہ ڈائیلاگ میں خطے کے بحرانوں پر اظہار خیال

سعودی نائب وزیر خارجہ کا منامہ ڈائیلاگ میں خطے کے بحرانوں پر اظہار خیال

سعودی عرب کے نائب وزیر خارجہ ولید الخریجی نے بحرین کے دارالحکومت منامہ میں منعقدہ 22ویں منامہ ڈائیلاگ کے ایک اجلاس میں شرکت کی، جس کا موضوع خطے میں تبدیلی لانے والے تنازعات کے اثرات تھے۔ یہ اجلاس 31 اکتوبر 2026 کو منعقد ہوا۔

جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے بیان کیا، نائب وزیر خارجہ نے اپنے خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ اس نازک علاقائی مرحلے میں بحرانوں کو قابو میں رکھنا اور سلامتی و استحکام کو مضبوط بنانا انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ تنازعات کے علاقے پھیل رہے ہیں، انسانی مصائب بڑھ رہے ہیں، اور سمندری سلامتی، توانائی کی فراہمی اور عالمی معیشت کو بڑھتے ہوئے خطرات لاحق ہیں۔

الخریجی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ قوموں کی حفاظت اور ایسے حل کی تلاش ضروری ہے جو تنازعات کی جڑوں کو ختم کرے تاکہ ان کا دوبارہ جنم نہ ہو۔ کیا خطے کی موجودہ صورتحال میں جڑوں تک پہنچنے والے حل کے بغیر مستقل امن ممکن ہے؟ انہوں نے واضح کیا کہ سعودی عرب کی پالیسی اپنی سلامتی کو براہ راست علاقائی استحکام سے جوڑتی ہے، اور پائیدار امن ہی ترقی اور خوشحالی کی بنیاد ہے۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب ایک طرف بین الاقوامی قانون کے تحت اپنی خودمختاری کے تحفظ کے لیے دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے اور دوسری طرف خودمختاری، اچھے ہمسائیگی اور عدم مداخلت کی بنیاد پر سفارتی مصروفیات کے درمیان توازن قائم رکھتا ہے۔ کیا سفارت کاری اور دفاعی تیاری کا یہ توازن ہی خطے میں پائیدار استحکام کی کلید ہے؟

نائب وزیر خارجہ نے دوبارہ اس عزم کا اعادہ کیا کہ سعودی عرب خطے کی سلامتی کے تحفظ کے لیے کشیدگی میں کمی اور تنازعات کے پرامن حل کے لیے شراکت داروں کے ساتھ مسلسل سفارتی رابطہ کاری جاری رکھے گا۔ انہوں نے یمن کی قانونی حکومت کی مستقل حمایت کا اعادہ کیا اور یمن کے اتحاد اور سلامتی کو برقرار رکھنے والے جامع سیاسی حل کی کوششوں کی حمایت کی۔

انہوں نے یمن اور سعودی عرب کے خلاف دہشت گرد حوثی ملیشیا کی مسلسل کارروائیوں کی مذمت کی، جن میں شہری بنیادی ڈھانچے پر حملے، سمندری سلامتی کو لاحق خطرات، سفارتی روڈ میپ کو سبوتاژ کرنے کی کوششیں اور دشمنی کو مزید پھیلانے کی کوششیں شامل ہیں۔ کیا ان حملوں کے باوجود سفارتی راستہ کھلا رہ سکتا ہے؟

انہوں نے مشاہدہ کیا کہ علاقائی چیلنجز ریاستی استحکام کی تعمیر کی ضرورت کو اجاگر کرتے ہیں۔ اس تناظر میں سعودی عرب دفاعی صلاحیتوں کو فروغ دے رہا ہے، اہم بنیادی ڈھانچے کو محفوظ بنا رہا ہے، سائبر سیکیورٹی کو بہتر کر رہا ہے، خدمات کے تسلسل کو یقینی بنا رہا ہے، اور وسیع تر دفاعی شراکت داریوں کے ساتھ ساتھ خلیجی تعاون کو گہرا کر رہا ہے۔ کیا خطے کے ممالک کے لیے اجتماعی دفاعی تعاون ایک ناگزیر ضرورت بن چکا ہے؟

الخریجی نے اپنے خطاب کے اختتام پر اس بات پر زور دیا کہ سعودی عرب خطے کے ممالک کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے تاکہ مشترکہ چیلنجوں کا مقابلہ کیا جا سکے اور خطے میں امن و استحکام کو فروغ دیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کی خارجہ پالیسی کی بنیاد بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں پر ہے، اور یہ کہ مملکت ہمیشہ پرامن حل اور مکالمے کی راہ کو ترجیح دیتی ہے۔

منامہ ڈائیلاگ مشرق وسطیٰ اور عالمی سطح پر سلامتی کے امور پر تبادلہ خیال کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم ہے، جس میں ہر سال خطے اور دنیا بھر سے رہنما، وزرائے خارجہ، ماہرین اور محققین شرکت کرتے ہیں۔ اس سال کے اجلاس کا موضوع خطے میں تبدیلی لانے والے تنازعات کے اثرات تھے، جس میں شرکاء نے سمندری سلامتی، توانائی کی فراہمی اور عالمی معیشت پر پڑنے والے اثرات پر تبادلہ خیال کیا۔ کیا اس طرح کے بین الاقوامی فورمز خطے کے بحرانوں کے حل میں حقیقی کردار ادا کر سکتے ہیں؟

سعودی عرب کی خارجہ پالیسی ہمیشہ سے خطے میں استحکام اور امن کے قیام پر مرکوز رہی ہے۔ مملکت نے متعدد مواقع پر تنازعات کے پرامن حل، انسانی ہمدردی کی امداد اور سفارتی کوششوں میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔ یمن کے بحران میں سعودی عرب کی کوششیں جامع سیاسی حل، یمن کے اتحاد اور اس کی قانونی حکومت کی بحالی پر مرکوز رہی ہیں۔ کیا یمن میں جامع سیاسی حل کے بغیر خطے میں پائیدار امن ممکن ہے؟

نائب وزیر خارجہ کے خطاب میں اس بات پر بھی روشنی ڈالی گئی کہ ریاستی استحکام کی تعمیر صرف فوجی صلاحیتوں تک محدود نہیں بلکہ اس میں اقتصادی، سائبر اور بنیادی ڈھانچے کے تحفظ کے پہلو بھی شامل ہیں۔ سعودی عرب ان شعبوں میں مسلسل سرمایہ کاری کر رہا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹا جا سکے۔ کیا جدید دور میں سائبر سیکیورٹی قومی سلامتی کا لازمی حصہ نہیں بن چکی؟

انہوں نے خلیجی تعاون کو بھی اجاگر کیا، جس سے مراد خلیجی ممالک کے درمیان مشترکہ سلامتی اور دفاعی تعاون ہے۔ سعودی عرب نے ہمیشہ خلیجی ممالک کے ساتھ مل کر خطے کے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے پر زور دیا ہے۔ کیا خلیجی اتحاد خطے میں استحکام کی سب سے مضبوط بنیاد ہے؟

منامہ ڈائیلاگ کے اس اجلاس میں نائب وزیر خارجہ کی شرکت سعودی عرب کی اس مسلسل سفارتی مصروفیت کا حصہ ہے جو مملکت خطے میں امن اور استحکام کے لیے جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سعودی عرب اپنی سلامتی کو علاقائی استحکام سے الگ نہیں سمجھتا، اور یہ کہ پائیدار امن ہی ترقی اور خوشحالی کی ضمانت ہے۔

ان کے خطاب میں یہ پیغام بھی تھا کہ خطے کے ممالک کو اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ سفارتی راستے کو بھی کھلا رکھنا ہوگا۔ انہوں نے بین الاقوامی قانون اور خودمختاری کے اصولوں پر زور دیا، اور کہا کہ سعودی عرب عدم مداخلت اور اچھے ہمسائیگی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ کیا خودمختاری اور عدم مداخلت کے اصولوں پر مبنی سفارت کاری ہی خطے میں دیرپا امن کی ضمانت ہے؟

رپورٹ میں اس بات کا ذکر نہیں کیا گیا کہ اجلاس میں کون سے دیگر شرکاء موجود تھے، نہ ہی اس بات کی تفصیل دی گئی کہ نائب وزیر خارجہ نے کس سے ملاقاتیں کیں۔ ایس پی اے کی رپورٹ میں خطاب کے متن کے علاوہ کوئی اضافی اعداد و شمار یا اعلانات شامل نہیں ہیں۔

منامہ ڈائیلاگ کے اس اجلاس کا موضوع کیا تھا؟ اجلاس کا موضوع خطے میں تبدیلی لانے والے تنازعات کے اثرات تھا۔ سعودی نائب وزیر خارجہ ولید الخریجی نے اس میں شرکت کی اور خطے کے نازک مرحلے میں بحرانوں کو قابو میں رکھنے اور سلامتی و استحکام کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ یہ اجلاس 22ویں منامہ ڈائیلاگ کے دوران 31 اکتوبر 2026 کو بحرین کے دارالحکومت منامہ میں منعقد ہوا۔

نائب وزیر خارجہ نے کن خطرات کا ذکر کیا؟ انہوں نے کہا کہ تنازعات کے علاقے پھیل رہے ہیں، انسانی مصائب بڑھ رہے ہیں، اور سمندری سلامتی، توانائی کی فراہمی اور عالمی معیشت کو بڑھتے ہوئے خطرات لاحق ہیں۔ انہوں نے قوموں کی حفاظت اور ایسے حل کی ضرورت پر زور دیا جو تنازعات کی جڑوں کو ختم کریں تاکہ ان کا دوبارہ جنم نہ ہو۔

سعودی عرب کی پالیسی کے بارے میں کیا کہا گیا؟ الخریجی نے کہا کہ سعودی عرب اپنی سلامتی کو براہ راست علاقائی استحکام سے جوڑتا ہے اور پائیدار امن ہی ترقی اور خوشحالی کی بنیاد ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مملکت بین الاقوامی قانون کے تحت اپنی خودمختاری کے تحفظ کے لیے دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے اور خودمختاری، اچھی ہمسائیگی اور عدم مداخلت کی بنیاد پر سفارتی مصروفیات کے درمیان توازن رکھتی ہے۔

یمن کے بارے میں کیا موقف بیان کیا گیا؟ انہوں نے یمن کی قانونی حکومت کی مستقل حمایت کا اعادہ کیا اور یمن کے اتحاد اور سلامتی کو برقرار رکھنے والے جامع سیاسی حل کی کوششوں کی حمایت کی۔ انہوں نے یمن اور سعودی عرب کے خلاف دہشت گرد حوثی ملیشیا کی مسلسل کارروائیوں کی مذمت کی، جن میں شہری بنیادی ڈھانچے پر حملے، سمندری سلامتی کو لاحق خطرات، سفارتی روڈ میپ کو سبوتاژ کرنے کی کوششیں اور دشمنی کو مزید پھیلانے کی کوششیں شامل ہیں۔

ریاستی استحکام کے لیے کون سے اقدامات کا ذکر ہوا؟ انہوں نے کہا کہ علاقائی چیلنجز ریاستی استحکام کی تعمیر کی ضرورت کو اجاگر کرتے ہیں۔ اس تناظر میں سعودی عرب دفاعی صلاحیتوں کو فروغ دے رہا ہے، اہم بنیادی ڈھانچے کو محفوظ بنا رہا ہے، سائبر سیکیورٹی کو بہتر کر رہا ہے، خدمات کے تسلسل کو یقینی بنا رہا ہے، اور وسیع تر دفاعی شراکت داریوں کے ساتھ ساتھ خلیجی تعاون کو گہرا کر رہا ہے۔

سفارتی رابطہ کاری کے بارے میں کیا کہا گیا؟ الخریجی نے دوبارہ اس عزم کا اعادہ کیا کہ سعودی عرب خطے کی سلامتی کے تحفظ کے لیے کشیدگی میں کمی اور تنازعات کے پرامن حل کے لیے شراکت داروں کے ساتھ مسلسل سفارتی رابطہ کاری جاری رکھے گا۔ انہوں نے اپنے خطاب کے اختتام پر زور دیا کہ مملکت خطے کے ممالک کے ساتھ مل کر مشترکہ چیلنجوں کا مقابلہ کرنے اور امن و استحکام کو فروغ دینے کے لیے کام کر رہی ہے۔