ریاض میں سعودی میڈیا فورم نے اپنے اقدام The Storm Room کے تحت “From Idea to Impact” کے عنوان سے ورکشاپ منعقد کی، جس میں میڈیا کے نامور پیشہ ور افراد، ماہرین تعلیم، صحافیوں اور سرمایہ کاری، مواصلات، جدت اور مواد کے شعبوں کے ماہرین نے شرکت کی تاکہ میڈیا انڈسٹری کی بدلتی ہوئی ضروریات کا جائزہ لیا جا سکے اور ایسے آئیڈیاز کی نشاندہی کی جا سکے جنہیں مؤثر اور پائیدار اقدامات میں ڈھالا جا سکے۔
جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے یکم اکتوبر 2026 کو بیان کیا، ورکشاپ میں سعودی میڈیا فورم کے صدر محمد الحارثی نے شرکت کی اور اس بات پر زور دیا کہ اصل چیلنج محض آئیڈیاز پیدا کرنا نہیں بلکہ امید افزا تصورات کو ایسے اقدامات میں بدلنا ہے جو ٹھوس اثر پیدا کر سکیں۔
الحارثی نے کہا کہ برین اسٹورمنگ سیشنز درجنوں آئیڈیاز پیدا کر سکتے ہیں، لیکن اصل چیلنج ان کی نشاندہی اور ترقی ہے جنہیں ایسے اقدامات میں تبدیل کیا جا سکے جو بامعنی اثر پیدا کریں اور میڈیا انڈسٹری کی خدمت کریں۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ میڈیا انڈسٹری اپنی تاریخ کی تیز ترین تبدیلی سے گزر رہی ہے، جس کے گہرے اثرات انڈسٹری کی ساخت، مواد کی تخلیق، سامعین کی شمولیت، اعتماد کی تعمیر، ڈیٹا کی پروسیسنگ اور مصنوعی ذہانت کے استعمال پر پڑ رہے ہیں۔
بدلتی ہوئی میڈیا ضروریات اور وژن 2030
الحارثی نے ان پیش رفتوں کے ساتھ ہم آہنگ رہنے کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ ایسے اقدامات بنانے چاہئیں جو بدلتے ہوئے میڈیا منظر نامے کے تقاضوں کا جواب دیں اور تیز رفتار تکنیکی تبدیلی سے پیدا ہونے والے مواقع اور چیلنجز سے نمٹیں۔ کیا میڈیا ادارے واقعی ان تبدیلیوں کی رفتار کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چل رہے ہیں؟
ورکشاپ کا آغاز ایک تعارفی سیشن سے ہوا جس میں سعودی میڈیا فورم کے سفر، اہم کامیابیوں اور بڑے اقدامات کو اجاگر کیا گیا۔ اس کے بعد برین اسٹورمنگ سیشنز کا سلسلہ چلا جس میں میڈیا انڈسٹری کی ضروریات کا جائزہ لیا گیا اور سعودی وژن 2030 کے اہداف کے مطابق پائیدار اقدامات تیار کرنے کے طریقے تلاش کیے گئے۔
بات چیت کا مرکز یہ سوال تھا کہ امید افزا آئیڈیاز کو برین اسٹورمنگ کے مرحلے سے آگے بڑھا کر ترقی، عمل درآمد اور قابل پیمائش اثر کی طرف کیسے لے جایا جائے۔ ورکشاپ کے اختتام پر اس بات پر زور دیا گیا کہ قابل عمل تصورات کو پائیدار میڈیا اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔ کیا برین اسٹورمنگ کے درجنوں آئیڈیاز میں سے واقعی وہ چند چنے جا سکتے ہیں جو دیرپا اثر چھوڑ سکیں؟
ورکشاپ میں میڈیا کے پیشہ ور افراد، ماہرین تعلیم، صحافیوں کے ساتھ ساتھ سرمایہ کاری، مواصلات، جدت اور مواد کے ماہرین بھی موجود تھے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ فورم مختلف شعبوں کے تجربات کو یکجا کر کے میڈیا کے مستقبل پر غور کر رہا ہے۔ کیا مختلف شعبوں کے ماہرین کی یہ موجودگی میڈیا کے مسائل کے حل میں نیا پن پیدا کر سکتی ہے؟
سعودی میڈیا فورم کی جانب سے The Storm Room کے تحت یہ ورکشاپ ایسے وقت میں ہوئی جب میڈیا انڈسٹری مصنوعی ذہانت، ڈیٹا کی پروسیسنگ اور سامعین کی شمولیت کے نئے طریقوں سے بنیادی تبدیلیوں سے گزر رہی ہے۔ الحارثی کے مطابق یہ تبدیلیاں انڈسٹری کی ساخت، مواد کی تخلیق اور اعتماد کی تعمیر کو گہرائی سے متاثر کر رہی ہیں۔ کیا روایتی میڈیا ادارے ان تبدیلیوں کے لیے تیار ہیں؟
ورکشاپ کا ایک نمایاں پہلو یہ تھا کہ اس میں صرف نظریاتی بحث تک محدود نہیں رہا بلکہ میڈیا انڈسٹری کی ضروریات کو عملی طور پر سمجھنے اور ان کے حل کے لیے پائیدار اقدامات تجویز کرنے پر توجہ دی گئی۔ شرکاء نے اس بات پر غور کیا کہ کون سے آئیڈیاز ایسے ہیں جنہیں ترقی دے کر عمل درآمد کے قابل بنایا جا سکتا ہے اور جن کا اثر قابل پیمائش ہو۔ کیا قابل پیمائش اثر کے بغیر کوئی میڈیا اقدام کامیاب کہلا سکتا ہے؟
سعودی وژن 2030 کے اہداف کے ساتھ ہم آہنگی اس ورکشاپ کی ایک اہم جہت تھی، جہاں شرکاء نے میڈیا کے شعبے میں پائیدار اقدامات کی ترقی پر تبادلہ خیال کیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ فورم میڈیا کو قومی ترقی کے وسیع تر فریم ورک کا حصہ سمجھتا ہے۔ کیا میڈیا کے شعبے میں جدت کو وژن 2030 کے دیگر شعبوں کے ساتھ جوڑا جا سکتا ہے؟
ورکشاپ کے شرکاء میں صحافیوں کے ساتھ ساتھ ماہرین تعلیم بھی شامل تھے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ میڈیا کی تربیت اور تحقیق کو عملی میدان سے جوڑنے پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔ تعارفی سیشن میں فورم کے سفر اور کامیابیوں کو اجاگر کرنا شرکاء کو موجودہ اقدامات کے تناظر میں نئے آئیڈیاز پر غور کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ کیا ماضی کی کامیابیاں نئے آئیڈیاز کی راہ ہموار کرتی ہیں یا انہیں محدود کر دیتی ہیں؟
الحارثی نے میڈیا انڈسٹری کی تیز ترین تبدیلی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس کے اثرات انڈسٹری کی ساخت، مواد کی تخلیق، سامعین کی شمولیت، اعتماد کی تعمیر، ڈیٹا کی پروسیسنگ اور مصنوعی ذہانت کے استعمال پر پڑ رہے ہیں۔ یہ چھ شعبے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ میڈیا کے سامنے چیلنجز کتنے وسیع ہیں۔ کیا ان چھ شعبوں میں سے کسی ایک کو نظر انداز کرنا میڈیا اداروں کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے؟
ورکشاپ کے دوران برین اسٹورمنگ سیشنز کا مقصد میڈیا انڈسٹری کی ضروریات کو سمجھنا اور ان کے مطابق پائیدار اقدامات تیار کرنا تھا۔ شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ آئیڈیاز کو صرف جمع کرنے کے بجائے ان کی چھانٹی اور ترقی پر توجہ دی جائے تاکہ وہ حقیقی اثر پیدا کر سکیں۔ کیا آئیڈیاز کی کثرت ان کی افادیت کی ضمانت دیتی ہے؟
ورکشاپ کے اختتام پر قابل عمل تصورات کو پائیدار میڈیا اقدامات میں تبدیل کرنے پر زور دیا گیا، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ فورم کا مقصد طویل مدتی نتائج حاصل کرنا ہے۔ تاہم ایس پی اے کی رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ ان تصورات میں کون سے مخصوص آئیڈیاز شامل تھے، ان کی ترقی کے لیے کوئی ٹائم لائن دی گئی یا کوئی مالی یا ادارہ جاتی فریم ورک طے کیا گیا۔
رپورٹ میں ورکشاپ کے شرکاء کی تعداد، ان کے ناموں کی مکمل فہرست یا اس بات کی تفصیل بھی نہیں دی گئی کہ برین اسٹورمنگ سیشنز میں کون سے مخصوص موضوعات زیر بحث آئے۔ اسی طرح یہ بھی واضح نہیں کہ The Storm Room کے تحت آئندہ کون سی سرگرمیاں منعقد ہوں گی یا ان آئیڈیاز کو کس مرحلے پر عمل درآمد کے لیے منتخب کیا جائے گا۔
سعودی میڈیا فورم کی جانب سے The Storm Room کے تحت یہ ورکشاپ میڈیا کے شعبے میں جدت اور پائیداری کے موضوع پر ایک اہم مکالمے کی عکاسی کرتی ہے، جس میں پیشہ ور افراد، ماہرین تعلیم، صحافیوں اور مختلف شعبوں کے ماہرین نے مل کر میڈیا کے مستقبل کے لیے قابل عمل راستے تلاش کرنے کی کوشش کی۔
ورکشاپ کا بنیادی مقصد کیا تھا؟ ورکشاپ کا مقصد میڈیا انڈسٹری کی بدلتی ہوئی ضروریات کا جائزہ لینا اور ایسے آئیڈیاز کی نشاندہی کرنا تھا جنہیں مؤثر اور پائیدار اقدامات میں ڈھالا جا سکے۔ ایس پی اے کے مطابق اس میں میڈیا کے پیشہ ور افراد، ماہرین تعلیم، صحافیوں اور سرمایہ کاری، مواصلات، جدت اور مواد کے ماہرین شامل تھے۔ ورکشاپ کا آغاز تعارفی سیشن سے ہوا جس میں فورم کے سفر اور اہم کامیابیوں کو اجاگر کیا گیا۔
محمد الحارثی نے کیا پیغام دیا؟ سعودی میڈیا فورم کے صدر محمد الحارثی نے کہا کہ اصل چیلنج محض آئیڈیاز پیدا کرنا نہیں بلکہ انہیں ایسے اقدامات میں بدلنا ہے جو ٹھوس اثر پیدا کریں۔ انہوں نے کہا کہ برین اسٹورمنگ سیشنز درجنوں آئیڈیاز پیدا کر سکتے ہیں لیکن اصل چیلنج ان کی نشاندہی اور ترقی ہے۔ انہوں نے میڈیا انڈسٹری کی تیز ترین تبدیلی کا بھی ذکر کیا۔
میڈیا انڈسٹری میں کون سی تبدیلیاں زیر بحث آئیں؟ الحارثی کے مطابق میڈیا انڈسٹری اپنی تاریخ کی تیز ترین تبدیلی سے گزر رہی ہے، جس کے اثرات انڈسٹری کی ساخت، مواد کی تخلیق، سامعین کی شمولیت، اعتماد کی تعمیر، ڈیٹا کی پروسیسنگ اور مصنوعی ذہانت کے استعمال پر پڑ رہے ہیں۔ ورکشاپ میں ان پیش رفتوں کے ساتھ ہم آہنگ رہنے اور ایسے اقدامات بنانے پر زور دیا گیا جو بدلتے ہوئے منظر نامے کے تقاضوں کا جواب دیں۔
ورکشاپ کا وژن 2030 سے کیا تعلق تھا؟ ورکشاپ کے برین اسٹورمنگ سیشنز میں میڈیا انڈسٹری کی ضروریات کا جائزہ لیا گیا اور سعودی وژن 2030 کے اہداف کے مطابق پائیدار اقدامات تیار کرنے کے طریقے تلاش کیے گئے۔ ایس پی اے کے مطابق شرکاء نے امید افزا آئیڈیاز کو برین اسٹورمنگ کے مرحلے سے آگے بڑھا کر ترقی، عمل درآمد اور قابل پیمائش اثر کی طرف لے جانے پر تبادلہ خیال کیا۔ ورکشاپ کے اختتام پر قابل عمل تصورات کو پائیدار میڈیا اقدامات میں تبدیل کرنے پر زور دیا گیا۔
رپورٹ میں کون سی تفصیلات شامل نہیں تھیں؟ ایس پی اے کی رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ برین اسٹورمنگ سیشنز میں کون سے مخصوص آئیڈیاز شامل تھے، ان کی ترقی کے لیے کوئی ٹائم لائن دی گئی یا کوئی مالی یا ادارہ جاتی فریم ورک طے کیا گیا۔ شرکاء کی تعداد اور ان کے ناموں کی مکمل فہرست بھی درج نہیں۔ یہ بھی واضح نہیں کہ The Storm Room کے تحت آئندہ کون سی سرگرمیاں منعقد ہوں گی۔





