فیملی افیئرز کونسل نے یکم اکتوبر کو بزرگ شہریوں کے عالمی دن کے موقع پر ایک آگاہی مہم کا آغاز کیا ہے، جس کا مقصد بزرگ شہریوں کے خاندان اور معاشرے میں مقام اور بنیادی کردار کو اجاگر کرنا اور ان کی خدمات کے لیے دیکھ بھال، احترام اور قدر کو فروغ دینا ہے۔
جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے بیان کیا، یہ مہم اقوام متحدہ کے موضوع کے مطابق ہے، جس کا عنوان ہے: The Age of Longevity: Rethinking Systems for Longer Lives۔ اس موضوع کے تحت مہم ان خاندانی اور سماجی ماحول کی تشکیل پر زور دیتی ہے جو بزرگ افراد کے وقار، شمولیت اور مجموعی معیار زندگی کا تحفظ کرتے ہیں۔
کیا ہم نے کبھی سوچا ہے کہ ہمارے بزرگ شہری خاندان کے اندر کس طرح کے کردار ادا کرتے ہیں اور ان کا یہ کردار معاشرے کی تشکیل میں کتنا اہم ہے؟ مہم کا بنیادی پیغام یہی ہے کہ بزرگ افراد صرف دیکھ بھال کے محتاج نہیں بلکہ خاندان اور معاشرے کی مضبوطی میں ان کا حصہ ناقابلِ نظر انداز ہے۔
یہ اقدام بزرگ شہریوں، ان کی دیکھ بھال کرنے والوں، خاندانوں اور عام عوام کو نشانہ بناتا ہے اور تین بنیادی ستونوں پر استوار ہے: قدر اور احترام، شرکت اور شمولیت، اور رفاقت اور تحفظ۔
کیا ہم اپنے روزمرہ کے مصروف معمولات میں ان بزرگوں کے لیے وقت نکالتے ہیں جنہوں نے ہمیں پروان چڑھایا؟ مہم کے پہلے ستون یعنی قدر اور احترام کا تعلق اسی سوال سے ہے، جبکہ دوسرا ستون شرکت اور شمولیت بزرگ افراد کو سماجی زندگی کے مرکزی دھارے میں شامل رکھنے کی بات کرتا ہے۔
مہم میں تعلیمی مواد اور سوشل میڈیا پر آگاہی پیغامات شامل ہیں، جن میں بزرگ افراد کے ساتھ محفوظ طریقے سے سفر کرنے یا ان کی معیت میں رہنے سے متعلق ایک رہنما بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ کونسل کے سرکاری چینلز پر ایک ورچوئل پینل مباحثہ نشر کیا گیا، جس میں صحت کی دیکھ بھال کے نظام، سول سوسائٹی کی معاون خدمات اور سماجی انضمام کے موضوعات کا احاطہ کیا گیا۔
کیا ہم جانتے ہیں کہ بزرگ افراد کے ساتھ محفوظ رفاقت کے کیا اصول ہیں اور یہ اصول روزمرہ زندگی میں کیسے اپنائے جا سکتے ہیں؟ اسی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے مہم میں رہنما مواد شامل کیا گیا ہے، جو دیکھ بھال کرنے والوں اور خاندانوں کے لیے عملی رہنمائی فراہم کرتا ہے۔
رائل کمیشن فار ریاض سٹی کے تعاون سے مہم میں ایک انٹرایکٹو اقدام بھی شامل ہے، جس کا مقصد بزرگ افراد اور بچوں کے درمیان تعلق کو مضبوط بنانا اور نسلوں کے درمیان علم، روایات اور انسانی اقدار کی منتقلی کو فروغ دینا ہے۔
کیا ہمارے بچے اپنے دادا دادی اور نانا نانی سے وہ روایات اور اقدار سیکھ رہے ہیں جو صرف بزرگوں کے پاس محفوظ ہیں؟ یہ انٹرایکٹو اقدام اسی بین النسلی رابطے کو مضبوط کرنے کی کوشش کرتا ہے، تاکہ علم اور روایات ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل ہوتی رہیں۔
واضح رہے کہ بزرگ شہریوں کا عالمی دن ہر سال یکم اکتوبر کو منایا جاتا ہے، اور اس سال کی مہم کا دائرہ کار بزرگ افراد کے وقار، شمولیت اور معیار زندگی کے تحفظ کے گرد گھومتا ہے۔ مہم کا پیغام یہ ہے کہ معاشرتی نظام کو طویل عمر کے تقاضوں کے مطابق ڈھالا جائے، تاکہ بزرگ افراد معاشرے کا فعال حصہ رہیں۔
کیا ہمارے سماجی اور صحت کے نظام طویل عمر پانے والے افراد کی ضروریات کے مطابق ڈھل چکے ہیں؟ اقوام متحدہ کے موضوع کا تقاضا یہی ہے کہ نظامِ زندگی کو نئے سرے سے سوچا جائے، اور مہم اسی سوچ کو مقامی سطح پر اجاگر کرتی ہے۔
مہم کے تینوں ستون ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ قدر اور احترام بزرگ افراد کی عزتِ نفس کو بلند کرتا ہے، شرکت اور شمولیت انہیں فیصلہ سازی اور سماجی زندگی سے جوڑے رکھتا ہے، جبکہ رفاقت اور تحفظ ان کی جسمانی اور جذباتی سلامتی کو یقینی بناتا ہے۔
کیا ہم اپنے محلے، مسجد یا خاندان میں کسی بزرگ فرد کے لیے رفاقت کا ایک لمحہ مختص کر سکتے ہیں؟ مہم کی آگاہی پیغامات اسی قسم کی چھوٹی مگر مؤثر کوششوں کی طرف توجہ دلاتی ہیں، جو اجتماعی طور پر بڑی تبدیلی لا سکتی ہیں۔
ورچوئل پینل مباحثے میں صحت کی دیکھ بھال کے نظام، سول سوسائٹی کی معاون خدمات اور سماجی انضمام پر بات کی گئی۔ یہ تینوں موضوعات بزرگ افراد کی زندگی کے عملی پہلوؤں سے جڑے ہوئے ہیں اور بتاتے ہیں کہ دیکھ بھال صرف خاندان کی ذمہ داری نہیں بلکہ اداروں اور معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
کیا سول سوسائٹی کے ادارے بزرگ افراد کی خدمت میں خاندانوں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں؟ پینل مباحثے کا احاطہ اسی سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش ہے، جس میں صحت، سماجی معاونت اور انضمام کو ایک ساتھ دیکھا گیا۔
رائل کمیشن فار ریاض سٹی کے ساتھ تعاون اس مہم کو ایک ادارہ جاتی شکل دیتا ہے، جہاں آگاہی کے ساتھ ساتھ عملی اور انٹرایکٹو اقدامات بھی شامل ہیں۔ بچوں اور بزرگوں کے درمیان رابطے کا یہ اقدام انسانی اقدار کی منتقلی کا ذریعہ ہے، جو خاندانی بندھنوں کو مضبوط بناتا ہے۔
کیا ہم نے کبھی محسوس کیا کہ بزرگوں کی موجودگی بچوں کی تربیت میں کس قدر مثبت کردار ادا کرتی ہے؟ بین النسلی رابطے کی یہ کوشش اسی احساس کو تقویت دیتی ہے اور بتاتی ہے کہ بزرگ افراد خاندان کے لیے ایک زندہ ورثہ ہیں۔
مہم کے تعلیمی مواد اور سوشل میڈیا پیغامات عام عوام تک رسائی کو آسان بناتے ہیں، جبکہ کونسل کے سرکاری چینلز پر نشر ہونے والا پینل مباحثہ گہرائی سے آگاہی فراہم کرتا ہے۔ اس طرح یہ مہم آگاہی، تعلیم اور عملی رہنمائی کو یکجا کرتی ہے۔
کیا آگاہی مہمات کا اثر صرف ایک دن تک محدود رہتا ہے یا یہ رویوں میں طویل مدتی تبدیلی لا سکتی ہیں؟ بزرگ شہریوں کے عالمی دن کے موقع پر شروع ہونے والی یہ مہم اسی سوال کا جواب تلاش کرنے کی دعوت دیتی ہے، تاکہ احترام اور شمولیت صرف ایک تقریب نہ رہے بلکہ روزمرہ عمل بن جائے۔
ایس پی اے کی رپورٹ میں مہم کے آغاز کی تاریخ، اس کے موضوع، ستونوں، مواد اور شراکت داروں کا ذکر ہے، تاہم اس میں مہم کے دورانیے، بجٹ، متوقع شرکا کی تعداد یا کسی مخصوص ہدف کے اعداد و شمار نہیں دیے گئے۔ رپورٹ میں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ مہم کب تک جاری رہے گی یا اس کے نتائج کی پیمائش کیسے کی جائے گی۔
بزرگ شہریوں کے عالمی دن پر فیملی افیئرز کونسل کی مہم کا مقصد کیا ہے؟ مہم کا مقصد بزرگ شہریوں کے خاندان اور معاشرے میں مقام اور بنیادی کردار کو اجاگر کرنا اور ان کی خدمات کے لیے دیکھ بھال، احترام اور قدر کو فروغ دینا ہے۔ یہ مہم اقوام متحدہ کے موضوع The Age of Longevity: Rethinking Systems for Longer Lives کے مطابق ہے اور ایسے خاندانی و سماجی ماحول کی تشکیل پر زور دیتی ہے جو بزرگ افراد کے وقار، شمولیت اور معیار زندگی کا تحفظ کریں۔
مہم کے تین بنیادی ستون کون سے ہیں؟ مہم تین بنیادی ستونوں پر استوار ہے: قدر اور احترام، شرکت اور شمولیت، اور رفاقت اور تحفظ۔ یہ ستون بزرگ افراد کی عزت، سماجی زندگی میں ان کی شمولیت اور ان کی جسمانی و جذباتی سلامتی کو یکجا طور پر نشانہ بناتے ہیں۔ ایس پی اے کے مطابق مہم بزرگ شہریوں، دیکھ بھال کرنے والوں، خاندانوں اور عام عوام کو نشانہ بناتی ہے۔
مہم میں کون سا تعلیمی اور آگاہی مواد شامل ہے؟ مہم میں تعلیمی مواد اور سوشل میڈیا پر آگاہی پیغامات شامل ہیں، جن میں بزرگ افراد کے ساتھ محفوظ طریقے سے سفر یا معیت سے متعلق ایک رہنما بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ کونسل کے سرکاری چینلز پر ایک ورچوئل پینل مباحثہ نشر کیا گیا، جس میں صحت کی دیکھ بھال کے نظام، سول سوسائٹی کی معاون خدمات اور سماجی انضمام کا احاطہ کیا گیا۔
رائل کمیشن فار ریاض سٹی کے ساتھ تعاون میں کیا شامل ہے؟ رائل کمیشن فار ریاض سٹی کے تعاون سے مہم میں ایک انٹرایکٹو اقدام شامل ہے، جس کا مقصد بزرگ افراد اور بچوں کے درمیان تعلق کو مضبوط بنانا ہے۔ یہ اقدام نسلوں کے درمیان علم، روایات اور انسانی اقدار کی منتقلی کو فروغ دیتا ہے۔ ایس پی اے کے مطابق یہ تعاون مہم کو ادارہ جاتی شکل دیتا ہے۔
بزرگ شہریوں کا عالمی دن کب منایا جاتا ہے؟ بزرگ شہریوں کا عالمی دن ہر سال یکم اکتوبر کو منایا جاتا ہے، اور اسی موقع پر فیملی افیئرز کونسل نے یہ آگاہی مہم شروع کی۔ ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق مہم کا دائرہ کار بزرگ افراد کے وقار، شمولیت اور معیار زندگی کے تحفظ کے گرد گھومتا ہے اور یہ اقوام متحدہ کے رواں موضوع کے مطابق ترتیب دی گئی ہے۔
رپورٹ میں کون سی معلومات شامل نہیں کی گئیں؟ ایس پی اے کی رپورٹ میں مہم کے آغاز کی تاریخ، موضوع، ستونوں، مواد اور شراکت داروں کا ذکر ہے، تاہم اس میں مہم کے دورانیے، بجٹ، متوقع شرکا کی تعداد یا کسی مخصوص ہدف کے اعداد و شمار نہیں دیے گئے۔ رپورٹ میں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ مہم کب تک جاری رہے گی یا اس کے نتائج کی پیمائش کیسے کی جائے گی۔





