ریاض میں مشترکہ افواج کی کمانڈ کے ہیڈ کوارٹر میں مشترکہ افواج کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل فہد بن حامد السلمان نے یمنی قومی مزاحمتی افواج کے کمانڈر اور صدارتی قیادت کونسل کے رکن جنرل طارق صالح سے ملاقات کی۔ یہ ملاقات 26 ستمبر 2026 کو ہوئی، جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے رپورٹ کیا۔ ملاقات میں یمن کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا اور یمنی مسلح افواج کی تمام محاذوں پر تیاری کو مضبوط اور ہم آہنگ کرنے کے طریقوں پر بات چیت کی گئی تاکہ ریاست اور اس کے قومی اداروں کی بحالی ممکن ہو سکے۔
جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے بیان کیا، ملاقات میں دونوں فریقوں نے یمن کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ مشترکہ افواج کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل فہد بن حامد السلمان نے جنرل طارق صالح کا صدارتی قیادت کونسل میں قیادت کے کردار اور قومی مزاحمتی افواج کی کمانڈ پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے قومی مزاحمت اور اس کے ارکان کی جانب سے ریاست کی بحالی اور بغاوت کے خاتمے کی جنگ میں دی گئی عظیم قربانیوں کو بھی سراہا۔
کیا یمن میں ریاست کی بحالی کے لیے یہ ملاقاتیں فیصلہ کن ثابت ہو سکتی ہیں؟ یہ سوال اس وقت اہمیت اختیار کر جاتا ہے جب مشترکہ افواج کی کمانڈ یمنی مسلح افواج اور قومی مزاحمتی افواج کی صلاحیتوں کو بڑھانے کے لیے مسلسل تعاون فراہم کر رہی ہے۔ جنرل طارق صالح نے مشترکہ افواج کی کمانڈ کے کردار اور یمنی مسلح افواج اور قومی مزاحمتی افواج کو فراہم کی جانے والی بلا محدود معاونت کی تعریف کی۔ انہوں نے ان کوششوں کو بھی سراہا جو صفوں کو متحد کرنے اور افواج کو ان کے قومی فرائض کی انجام دہی کے قابل بنانے کے لیے کی جا رہی ہیں۔
جنرل طارق صالح نے یمنی مسلح افواج کے ارکان پر اپنے اعتماد کا اظہار کیا اور ان کے قومی فرائض کی انجام دہی کے لیے ان کے غیر متزلزل عزم کو اجاگر کیا۔ انہوں نے اس مرحلے پر قابو پانے اور تیاری، ہم آہنگی اور کوششوں کے انضمام کو جاری رکھنے کی اہمیت پر زور دیا، جو کہ اگلے مرحلے کے تقاضوں کے مطابق ہے۔ کیا یمنی افواج کی تنظیم نو اور جنگی تیاری میں اضافہ اس جنگ کے نتائج کا رخ موڑ سکتا ہے؟ یہ وہ سوال ہے جس کا جواب وقت ہی دے گا، لیکن دونوں فریقوں کی جانب سے اس پر زور دینا اس بات کا اشارہ ہے کہ آنے والے مرحلے میں تیاری کو اولین ترجیح دی جا رہی ہے۔
دونوں فریقوں نے اتحاد، مشترکہ کوششوں اور مربوط کردار کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے جاری ہم آہنگی اور مشترکہ اقدامات کی ضرورت پر بھی اتفاق کیا تاکہ حوصلے کو مضبوط کیا جا سکے، یونٹوں کو دوبارہ منظم کیا جا سکے اور ان کی جنگی تیاری کو بلند کیا جا سکے۔ یہ سب کچھ ریاست اور اس کے اداروں کی بحالی کی جنگ میں ہے، جو یمنی عوام کی سلامتی اور استحکام کی بحالی اور مستقبل کی تعمیر کی خواہشات کے حصول میں معاون ثابت ہوگا۔
یمنی صدارتی قیادت کونسل اور قومی مزاحمتی افواج کے درمیان یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب یمن میں مختلف محاذوں پر صورتحال مسلسل تبدیل ہو رہی ہے۔ مشترکہ افواج کی کمانڈ کی جانب سے یمنی مسلح افواج کی صلاحیتوں کو بڑھانے کے لیے فراہم کی جانے والی معاونت اس بات کا ثبوت ہے کہ ریاض یمنی عوام کے ساتھ کھڑا ہے۔ کیا یمنی افواج کی دوبارہ تنظیم اور تربیت اس قابل ہو گی کہ وہ اپنے قومی فرائض کو مؤثر طریقے سے انجام دے سکیں؟ یہ سوال اس وقت مزید اہمیت اختیار کر جاتا ہے جب جنرل طارق صالح نے خود یمنی مسلح افواج کے ارکان کے عزم پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔
ملاقات میں جنرل طارق صالح نے مشترکہ افواج کی کمانڈ کی جانب سے فراہم کردہ بلا محدود معاونت کو سراہا، خاص طور پر ان کوششوں کو جن کا مقصد یمنی مسلح افواج اور قومی مزاحمتی افواج کی صلاحیتوں کو بڑھانا ہے۔ انہوں نے صفوں کے اتحاد اور افواج کی بحالی کے لیے کی جانے والی کوششوں کو بھی خراج تحسین پیش کیا، جو ان کے قومی فرائض کی انجام دہی کے لیے ضروری ہیں۔ کیا یمنی قومی مزاحمتی افواج کی جنگی تیاری میں اضافہ ریاست کی بحالی کے عمل کو تیز کر سکتا ہے؟ اس کا جواب یمنی عوام کی جدوجہد اور ان کی قیادت کے عزم میں پنہاں ہے۔
دونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ مرحلے کو عبور کرنا اور تیاری، ہم آہنگی اور کوششوں کے انضمام کو جاری رکھنا اگلے مرحلے کے تقاضوں کے عین مطابق ہے۔ انہوں نے یمنی مسلح افواج کے ارکان کے حوصلے کو بلند کرنے، یونٹوں کی تنظیم نو اور ان کی جنگی تیاری کو بڑھانے کے لیے مشترکہ اور مربوط اقدامات کی ضرورت پر بھی اتفاق کیا۔ یہ سب کچھ اس جنگ میں ہے جس کا مقصد ریاست اور اس کے اداروں کی بحالی ہے، جو یمنی عوام کی سلامتی، استحکام اور مستقبل کی تعمیر کی خواہشات کے حصول میں اہم کردار ادا کرے گی۔
کیا یمن میں ریاست کی بحالی کے لیے بین الاقوامی اور علاقائی سطح پر مزید تعاون کی ضرورت ہے؟ مشترکہ افواج کی کمانڈ کی جانب سے یمنی افواج کی حمایت کا سلسلہ جاری ہے، اور یہ ملاقات اس عزم کا ایک اور مظاہرہ ہے۔ جنرل طارق صالح نے یمنی مسلح افواج کے ارکان کے غیر متزلزل عزم پر اپنے اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے قومی فرائض کی انجام دہی کے لیے پرعزم ہیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اس مرحلے پر قابو پانا اور تیاری، ہم آہنگی اور کوششوں کے انضمام کو جاری رکھنا انتہائی ضروری ہے۔
یمن کی صورتحال پر نظر رکھنے والے مبصرین کے مطابق، صدارتی قیادت کونسل اور قومی مزاحمتی افواج کے درمیان ہم آہنگی ریاست کی بحالی کے عمل میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ مشترکہ افواج کی کمانڈ کی جانب سے فراہم کی جانے والی معاونت نہ صرف یمنی مسلح افواج کی صلاحیتوں کو بڑھانے میں معاون ہے بلکہ اس سے یمنی عوام کے سلامتی اور استحکام کی بحالی کی خواہشات کو بھی تقویت ملتی ہے۔ کیا یمنی افواج کی تنظیم نو اور ان کی جنگی تیاری میں اضافہ اس بات کو یقینی بنا سکتا ہے کہ ریاست کے ادارے اپنے قومی فرائض مؤثر طریقے سے انجام دے سکیں؟ یہ سوال اس وقت اور بھی اہم ہو جاتا ہے جب دونوں فریقوں نے اتحاد اور مشترکہ کوششوں کی اہمیت پر زور دیا ہے۔
ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے یمن کی موجودہ صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا اور اس بات پر اتفاق کیا کہ ریاست اور اس کے اداروں کی بحالی کے لیے مشترکہ اور مربوط کوششیں ناگزیر ہیں۔ انہوں نے یمنی مسلح افواج کے حوصلے کو بلند کرنے، یونٹوں کی تنظیم نو اور ان کی جنگی تیاری کو بڑھانے کے لیے جاری تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر بھی زور دیا۔ کیا یمنی عوام کی سلامتی اور استحکام کی بحالی کے لیے یہ کوششیں کافی ہوں گی؟ اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ تمام فریق کس حد تک اتحاد اور مشترکہ مقصد کے تحت کام کرتے ہیں۔
جنرل طارق صالح نے مشترکہ افواج کی کمانڈ کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ یمنی مسلح افواج اور قومی مزاحمتی افواج کی صلاحیتوں کو بڑھانے کے لیے فراہم کی جانے والی معاونت قابل ستائش ہے۔ انہوں نے صفوں کے اتحاد اور افواج کی بحالی کے لیے کی جانے والی کوششوں کو بھی سراہا۔ ان کا کہنا تھا کہ یمنی مسلح افواج کے ارکان اپنے قومی فرائض کی انجام دہی کے لیے پرعزم ہیں اور ان کا عزم غیر متزلزل ہے۔ کیا یمنی افواج کی جانب سے یہ عزم ریاست کی بحالی کے عمل کو حتمی شکل دے سکتا ہے؟ یہ وہ سوال ہے جس کا جواب یمن کی مستقبل کی صورتحال سے ملے گا۔
دونوں فریقوں نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ مرحلے کو عبور کرنے کے لیے تیاری، ہم آہنگی اور کوششوں کے انضمام کو جاری رکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے یمنی مسلح افواج کے حوصلے کو بلند کرنے، یونٹوں کی تنظیم نو اور ان کی جنگی تیاری کو بڑھانے کے لیے مشترکہ اقدامات کی اہمیت پر بھی اتفاق کیا۔ یہ سب کچھ ریاست اور اس کے اداروں کی بحالی کی جنگ میں ہے، جو یمنی عوام کی سلامتی اور استحکام کی بحالی اور مستقبل کی تعمیر کی خواہشات کے حصول میں معاون ثابت ہوگا۔
ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق، اس ملاقات میں یمن کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا اور یمنی مسلح افواج کی تمام محاذوں پر تیاری کو مضبوط اور ہم آہنگ کرنے کے طریقوں پر بات چیت کی گئی۔ مشترکہ افواج کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل فہد بن حامد السلمان نے جنرل طارق صالح کے صدارتی قیادت کونسل میں قیادت کے کردار اور قومی مزاحمتی افواج کی کمانڈ پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے قومی مزاحمت اور اس کے ارکان کی جانب سے ریاست کی بحالی اور بغاوت کے خاتمے کی جنگ میں دی گئی عظیم قربانیوں کو بھی سراہا۔
جنرل طارق صالح نے مشترکہ افواج کی کمانڈ کے کردار اور یمنی مسلح افواج اور قومی مزاحمتی افواج کو فراہم کی جانے والی بلا محدود معاونت کی تعریف کی۔ انہوں نے ان کوششوں کو بھی سراہا جو صفوں کو متحد کرنے اور افواج کو ان کے قومی فرائض کی انجام دہی کے قابل بنانے کے لیے کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے یمنی مسلح افواج کے ارکان پر اپنے اعتماد کا اظہار کیا اور ان کے قومی فرائض کی انجام دہی کے لیے ان کے غیر متزلزل عزم کو اجاگر کیا۔
رپورٹ میں اس بات کا ذکر نہیں کیا گیا کہ ملاقات میں کسی خاص فوجی کارروائی، وقت کی حد یا اضافی شرکاء پر بات ہوئی۔ ایس پی اے نے یہ بھی نہیں بتایا کہ اس ملاقات کے نتیجے میں کوئی نیا معاہدہ یا اعلان سامنے آیا۔ رپورٹ کے مطابق، دونوں فریقوں نے اتحاد، مشترکہ کوششوں اور مربوط کردار کی اہمیت پر زور دیا اور جاری ہم آہنگی اور مشترکہ اقدامات کی ضرورت پر اتفاق کیا۔
ملاقات میں کون کون شریک ہوا؟ ریاض میں مشترکہ افواج کی کمانڈ کے ہیڈ کوارٹر میں مشترکہ افواج کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل فہد بن حامد السلمان نے یمنی قومی مزاحمتی افواج کے کمانڈر اور صدارتی قیادت کونسل کے رکن جنرل طارق صالح سے ملاقات کی۔ ایس پی اے کے مطابق یہ ملاقات 26 ستمبر 2026 کو ہوئی۔ دونوں رہنماؤں نے یمن کی پیش رفت کا جائزہ لیا اور یمنی مسلح افواج کی تیاری کو مضبوط کرنے کے طریقوں پر بات کی۔
ملاقات کا بنیادی مقصد کیا تھا؟ ملاقات کا بنیادی مقصد یمن کی پیش رفت کا جائزہ لینا اور یمنی مسلح افواج کی تمام محاذوں پر تیاری کو مضبوط اور ہم آہنگ کرنے کے طریقوں پر بات چیت کرنا تھا۔ اس کا مقصد ریاست اور اس کے قومی اداروں کی بحالی میں معاونت کرنا ہے۔ ایس پی اے کے مطابق دونوں فریقوں نے اتحاد، مشترکہ کوششوں اور مربوط کردار کی اہمیت پر زور دیا اور جاری ہم آہنگی اور مشترکہ اقدامات کی ضرورت پر اتفاق کیا۔
جنرل طارق صالح نے کیا کہا؟ جنرل طارق صالح نے مشترکہ افواج کی کمانڈ کے کردار اور یمنی مسلح افواج اور قومی مزاحمتی افواج کو فراہم کی جانے والی بلا محدود معاونت کی تعریف کی۔ انہوں نے صفوں کو متحد کرنے اور افواج کی بحالی کی کوششوں کو بھی سراہا۔ انہوں نے یمنی مسلح افواج کے ارکان پر اعتماد کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ اپنے قومی فرائض کی انجام دہی کے لیے پرعزم ہیں۔ انہوں نے تیاری، ہم آہنگی اور کوششوں کے انضمام کو جاری رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔
لیفٹیننٹ جنرل فہد السلمان نے کیا پیغام دیا؟ لیفٹیننٹ جنرل فہد بن حامد السلمان نے جنرل طارق صالح کا صدارتی قیادت کونسل میں قیادت کے کردار اور قومی مزاحمتی افواج کی کمانڈ پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے قومی مزاحمت اور اس کے ارکان کی جانب سے ریاست کی بحالی اور بغاوت کے خاتمے کی جنگ میں دی گئی عظیم قربانیوں کو بھی سراہا۔ ایس پی اے کے مطابق انہوں نے یمنی مسلح افواج کی تیاری کو مضبوط کرنے کے لیے مشترکہ کوششوں پر زور دیا۔
دونوں فریقوں نے کن باتوں پر اتفاق کیا؟ دونوں فریقوں نے اتحاد، مشترکہ کوششوں اور مربوط کردار کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے جاری ہم آہنگی اور مشترکہ اقدامات کی ضرورت پر بھی اتفاق کیا تاکہ حوصلے کو مضبوط کیا جا سکے، یونٹوں کو دوبارہ منظم کیا جا سکے اور ان کی جنگی تیاری کو بلند کیا جا سکے۔ یہ سب کچھ ریاست اور اس کے اداروں کی بحالی کی جنگ میں ہے، جو یمنی عوام کی سلامتی اور استحکام کی بحالی اور مستقبل کی تعمیر کی خواہشات کے حصول میں معاون ثابت ہوگا۔
کیا رپورٹ میں کوئی اضافی تفصیل دی گئی؟ ایس پی اے کی رپورٹ میں اس بات کا ذکر نہیں کیا گیا کہ ملاقات میں کسی خاص فوجی کارروائی، وقت کی حد یا اضافی شرکاء پر بات ہوئی۔ رپورٹ میں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ اس ملاقات کے نتیجے میں کوئی نیا معاہدہ یا اعلان سامنے آیا۔ رپورٹ کے مطابق دونوں فریقوں نے اتحاد اور مشترکہ کوششوں کی اہمیت پر زور دیا اور جاری ہم آہنگی اور مشترکہ اقدامات کی ضرورت پر اتفاق کیا۔





