Sunday, November 8, 2026
سعودی خبریں

جدہ میں چھٹی حج کانفرنس اور نمائش 8 نومبر سے شروع ہوگی

جدہ میں چھٹی حج کانفرنس اور نمائش 8 نومبر سے شروع ہوگی

جدہ 8 سے 11 نومبر 2026 تک جدہ سپرڈوم میں چھٹی حج کانفرنس اور نمائش کی میزبانی کرے گا، جو خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کی سرپرستی میں ہوگی۔ یہ اعلان سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 5 نومبر 2026 کو کیا۔

جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے بیان کیا، اس ایڈیشن کا انعقاد وزارت حج و عمرہ نے پیلگرم ایکسپیرینس پروگرام کے تعاون سے کیا ہے، جو سعودی وژن 2030 کا ایک پروگرام ہے۔ تقریب کا موضوع ”From Makkah to the World“ ہے، جو حجاج کی خدمت کے لیے سعودی قیادت کے مسلسل عزم کی عکاسی کرتا ہے۔

کیا آپ جانتے ہیں کہ اس بار کتنے ممالک اور ادارے ایک چھت کے نیچے جمع ہوں گے؟ چھٹے ایڈیشن میں سعودی عرب اور بیرون ملک سے 520 سے زائد سرکاری، نجی اور غیر منافع بخش ادارے شرکت کریں گے، جبکہ 150 سے زائد ممالک سے شرکاء اور حاضرین آئیں گے۔ نمائش 67,000 مربع میٹر سے زائد رقبے پر پھیلی ہوگی اور اس میں آپریشنز، علم کے تبادلے، ٹیکنالوجی، کاروبار، جدت، آگاہی اور تربیت پر مشتمل 15 سے زائد بڑے زونز اور پروگرام شامل ہوں گے۔

یہ کانفرنس حج 1448 ہجری کی تیاریوں کا حصہ ہے، جس میں حج امور کے دفاتر، خدمت فراہم کرنے والے ادارے اور متعلقہ حکام جمع ہوں گے تاکہ طریقہ کار، انتظامات اور معاہدوں کو حتمی شکل دی جا سکے، آنے والے سیزن کے لیے دستیاب خدمات اور حل کا جائزہ لیا جا سکے، اور حجاج کی خدمت کو بہتر بنانے کے طریقوں پر غور کیا جا سکے۔

کیا آپ جانتے ہیں کہ کانفرنس کے پروگرام کو کتنے اہم ٹریکس پر ترتیب دیا گیا ہے؟ پروگرام تین بنیادی ٹریکس پر مبنی ہے: بنیادی ڈھانچہ اور آپریشنل خدمات؛ بااختیار بنانا اور انضمام؛ اور ترقی و پائیداری۔ سیشنز میں ٹرانسپورٹ اور لاجسٹکس، بنیادی ڈھانچہ اور سہولیات کا انتظام، رہائش اور مہمان نوازی، کیٹرنگ اور خوراک کی خدمات، سیکیورٹی اور حفاظت، صحت کی دیکھ بھال، میڈیا اور مواصلات، ٹیکنالوجی اور جدت، تربیت اور پیشہ ورانہ ترقی، اور حاجیوں کے تجربے کو بھرپور بنانے جیسے موضوعات شامل ہوں گے۔

حج کونسل میں 32 سیشنز اور 42 مقررین شامل ہوں گے، جو ٹرانسپورٹ، کیٹرنگ، ٹیکنالوجی، صحت کی دیکھ بھال، رہائش، پائیداری، میڈیا، ہجوم کے انتظام اور حاجیوں کے تجربے کو بہتر بنانے جیسے عملی اور تحقیقی موضوعات کا احاطہ کریں گے۔

کیا آپ تصور کر سکتے ہیں کہ 67,000 مربع میٹر سے زائد رقبے پر پھیلی اس نمائش میں کتنے زونز اور پروگرام ہوں گے؟ نمائش میں 15 سے زائد بڑے زونز اور پروگرام شامل ہیں جو آپریشنز، علم کے تبادلے، ٹیکنالوجی، کاروبار، جدت، آگاہی اور تربیت کا احاطہ کرتے ہیں۔ یہ تنوع اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ شرکاء کو حج کے شعبے سے متعلق ہر پہلو پر تازہ ترین معلومات اور حل دستیاب ہوں۔

یہ کانفرنس حج 1448 ہجری کے سیزن کی ابتدائی تیاریوں کا حصہ ہے۔ اس کا مقصد حج امور کے دفاتر، خدمت فراہم کرنے والوں اور متعلقہ حکام کو ایک پلیٹ فارم پر لانا ہے تاکہ وہ طریقہ کار، انتظامات اور معاہدوں کو حتمی شکل دے سکیں، آنے والے سیزن کے لیے دستیاب خدمات اور حل تلاش کر سکیں، اور حجاج کی خدمت کو بہتر بنانے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کر سکیں۔

کیا آپ جانتے ہیں کہ اس کانفرنس کا موضوع ”From Makkah to the World“ کیا پیغام دیتا ہے؟ یہ موضوع سعودی قیادت کے اس مسلسل عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ حجاج کی خدمت کو عالمی سطح پر تسلیم کیا جائے اور مکہ مکرمہ سے پوری دنیا تک حاجیوں کی خدمت کا پیغام پہنچایا جائے۔ یہ وژن 2030 کے اہداف کے ساتھ ہم آہنگ ہے، جس میں پیلگرم ایکسپیرینس پروگرام کے ذریعے حاجیوں کے تجربے کو بہتر بنانا شامل ہے۔

کانفرنس کے پروگرام میں تین بنیادی ٹریکس شامل ہیں: پہلا ٹریک بنیادی ڈھانچہ اور آپریشنل خدمات پر مرکوز ہے، جس میں ٹرانسپورٹ اور لاجسٹکس، بنیادی ڈھانچہ اور سہولیات کا انتظام، رہائش اور مہمان نوازی، کیٹرنگ اور خوراک کی خدمات، سیکیورٹی اور حفاظت، اور صحت کی دیکھ بھال جیسے موضوعات شامل ہیں۔ دوسرا ٹریک بااختیار بنانے اور انضمام سے متعلق ہے، جبکہ تیسرا ٹریک ترقی اور پائیداری پر زور دیتا ہے۔

کیا آپ جانتے ہیں کہ حج کونسل میں کتنے سیشنز اور مقررین حصہ لیں گے؟ حج کونسل میں 32 سیشنز اور 42 مقررین شامل ہوں گے، جو ٹرانسپورٹ، کیٹرنگ، ٹیکنالوجی، صحت کی دیکھ بھال، رہائش، پائیداری، میڈیا، ہجوم کے انتظام اور حاجیوں کے تجربے کو بہتر بنانے جیسے عملی اور تحقیقی موضوعات کا احاطہ کریں گے۔ یہ سیشنز شرکاء کو حج کے شعبے میں جدید ترین طریقوں اور حل سے روشناس کرائیں گے۔

اس کانفرنس میں 520 سے زائد سرکاری، نجی اور غیر منافع بخش ادارے شرکت کریں گے، جو سعودی عرب اور بیرون ملک سے ہوں گے۔ 150 سے زائد ممالک سے شرکاء اور حاضرین کی شرکت اس ایڈیشن کو بین الاقوامی سطح پر نمایاں بناتی ہے۔ نمائش کا رقبہ 67,000 مربع میٹر سے زائد ہے، جس میں 15 سے زائد بڑے زونز اور پروگرام شامل ہیں۔

کیا آپ سمجھ سکتے ہیں کہ یہ کانفرنس حج 1448 ہجری کی تیاریوں میں کتنا اہم کردار ادا کرے گی؟ یہ کانفرنس حج امور کے دفاتر، خدمت فراہم کرنے والوں اور متعلقہ حکام کو ایک ساتھ لاتی ہے تاکہ وہ طریقہ کار، انتظامات اور معاہدوں کو حتمی شکل دے سکیں۔ اس سے آنے والے سیزن کے لیے دستیاب خدمات اور حل کو تلاش کرنے اور حجاج کی خدمت کو بہتر بنانے کے طریقوں پر غور کرنے کا موقع ملتا ہے۔

یہ ایونٹ وزارت حج و عمرہ کے زیر اہتمام اور پیلگرم ایکسپیرینس پروگرام کے تعاون سے منعقد ہو رہا ہے، جو سعودی وژن 2030 کا ایک پروگرام ہے۔ یہ تعاون اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ کانفرنس کے تمام پہلوؤں میں حاجیوں کے تجربے کو بہتر بنانے پر زور دیا جائے۔

کیا آپ جانتے ہیں کہ اس کانفرنس کے انعقاد کا مقام جدہ سپرڈوم کیوں منتخب کیا گیا؟ جدہ سپرڈوم ایک بڑا اور جدید ترین ایونٹ مقام ہے جو 67,000 مربع میٹر سے زائد رقبے پر پھیلی نمائش کی میزبانی کے قابل ہے۔ یہ مقام سعودی عرب کے مغربی علاقے میں واقع ہے، جو حجاج کی آمد و رفت کے لیے ایک اہم مرکز ہے۔

کانفرنس کے سیشنز میں ٹرانسپورٹ اور لاجسٹکس، بنیادی ڈھانچہ اور سہولیات کا انتظام، رہائش اور مہمان نوازی، کیٹرنگ اور خوراک کی خدمات، سیکیورٹی اور حفاظت، صحت کی دیکھ بھال، میڈیا اور مواصلات، ٹیکنالوجی اور جدت، تربیت اور پیشہ ورانہ ترقی، اور حاجیوں کے تجربے کو بھرپور بنانے جیسے موضوعات شامل ہوں گے۔ یہ تمام موضوعات حج کے سیزن کی کامیابی کے لیے بنیادی اہمیت کے حامل ہیں۔

کیا آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ 150 سے زائد ممالک کی شرکت اس کانفرنس کو کتنا وسیع بین الاقوامی پلیٹ فارم بناتی ہے؟ یہ شرکت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ حج کا انتظام صرف سعودی عرب کا معاملہ نہیں بلکہ پوری اسلامی دنیا کے لیے اہم ہے۔ مختلف ممالک کے شرکاء اپنے تجربات اور بہترین طریقوں کا تبادلہ کر سکیں گے۔

یہ کانفرنس حج 1448 ہجری کے سیزن کی تیاریوں کا حصہ ہے، جس میں حج امور کے دفاتر، خدمت فراہم کرنے والے ادارے اور متعلقہ حکام جمع ہوں گے۔ اس کا مقصد طریقہ کار، انتظامات اور معاہدوں کو حتمی شکل دینا، آنے والے سیزن کے لیے دستیاب خدمات اور حل کو تلاش کرنا، اور حجاج کی خدمت کو بہتر بنانے کے طریقوں پر غور کرنا ہے۔

رپورٹ میں کانفرنس کے شرکاء کی تعداد، نمائش کے رقبے، زونز کی تعداد، سیشنز اور مقررین کی تفصیلات تو دی گئی ہیں، لیکن کانفرنس کے انعقاد کے اخراجات، رجسٹریشن کے طریقہ کار، یا شرکت کے لیے مخصوص شرائط کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔

چھٹی حج کانفرنس اور نمائش کب اور کہاں منعقد ہوگی؟ یہ کانفرنس 8 سے 11 نومبر 2026 تک جدہ سپرڈوم میں منعقد ہوگی۔ اس کا انعقاد خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کی سرپرستی میں ہوگا۔ وزارت حج و عمرہ اسے پیلگرم ایکسپیرینس پروگرام کے تعاون سے منعقد کر رہی ہے، جو سعودی وژن 2030 کا ایک پروگرام ہے۔ تقریب کا موضوع ”From Makkah to the World“ ہے۔

کانفرنس میں کتنے ادارے اور ممالک شرکت کریں گے؟ چھٹے ایڈیشن میں سعودی عرب اور بیرون ملک سے 520 سے زائد سرکاری، نجی اور غیر منافع بخش ادارے شرکت کریں گے۔ اس کے علاوہ 150 سے زائد ممالک سے شرکاء اور حاضرین آئیں گے۔ نمائش 67,000 مربع میٹر سے زائد رقبے پر پھیلی ہوگی اور اس میں 15 سے زائد بڑے زونز اور پروگرام شامل ہوں گے۔

کانفرنس کے پروگرام کے کون سے بنیادی ٹریکس ہیں؟ کانفرنس کا پروگرام تین بنیادی ٹریکس پر مبنی ہے: بنیادی ڈھانچہ اور آپریشنل خدمات؛ بااختیار بنانا اور انضمام؛ اور ترقی و پائیداری۔ سیشنز میں ٹرانسپورٹ، لاجسٹکس، رہائش، کیٹرنگ، سیکیورٹی، صحت کی دیکھ بھال، میڈیا، ٹیکنالوجی، تربیت اور حاجیوں کے تجربے کو بہتر بنانے جیسے موضوعات شامل ہوں گے۔

حج کونسل میں کتنے سیشنز اور مقررین ہوں گے؟ حج کونسل میں 32 سیشنز اور 42 مقررین شامل ہوں گے۔ یہ سیشنز ٹرانسپورٹ، کیٹرنگ، ٹیکنالوجی، صحت کی دیکھ بھال، رہائش، پائیداری، میڈیا، ہجوم کے انتظام اور حاجیوں کے تجربے کو بہتر بنانے جیسے عملی اور تحقیقی موضوعات کا احاطہ کریں گے۔

یہ کانفرنس حج 1448 ہجری کی تیاریوں میں کیا کردار ادا کرے گی؟ یہ کانفرنس حج 1448 ہجری کے سیزن کی ابتدائی تیاریوں کا حصہ ہے۔ اس میں حج امور کے دفاتر، خدمت فراہم کرنے والے ادارے اور متعلقہ حکام جمع ہوں گے تاکہ طریقہ کار، انتظامات اور معاہدوں کو حتمی شکل دی جا سکے، آنے والے سیزن کے لیے دستیاب خدمات اور حل کا جائزہ لیا جا سکے، اور حجاج کی خدمت کو بہتر بنایا جا سکے۔

کانفرنس کے انعقاد کا مقام جدہ سپرڈوم کیوں ہے؟ جدہ سپرڈوم ایک بڑا اور جدید ایونٹ مقام ہے جو 67,000 مربع میٹر سے زائد رقبے پر پھیلی نمائش کی میزبانی کے قابل ہے۔ یہ سعودی عرب کے مغربی علاقے میں واقع ہے، جو حجاج کی آمد و رفت کے لیے ایک اہم مرکز ہے۔ رپورٹ میں مقام کے انتخاب کی مزید وجوہات نہیں بتائی گئیں۔