Sunday, November 8, 2026
سیاحت

سعودی ڈائیونگ انڈسٹری: سمندری ورثے سے بلیو اکانومی کے ستون تک

سعودی ڈائیونگ انڈسٹری: سمندری ورثے سے بلیو اکانومی کے ستون تک

سعودی عرب کی بحیرہ احمر اور خلیج عرب کے ساتھ ہزاروں کلومیٹر پر پھیلی ساحلی پٹی ڈائیونگ اور سمندری سیاحت کے تیزی سے پھیلتے شعبے کو آگے بڑھا رہی ہے۔ فراسان جزائر اور خلیجی بندرگاہوں کی تاریخی موتی نکالنے کی روایت میں جڑی ڈائیونگ اب ایک منظم اور اعلیٰ قیمت سرمایہ کاری کا شعبہ بن چکی ہے جو سعودی وژن 2030 کے ساتھ ہم آہنگ ہے اور قومی بلیو اکانومی کو مضبوط کرتی ہے۔

جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 26 ستمبر 2026 کو بیان کیا، مملکت کے پانی سمندری حیاتیاتی تنوع میں غیر معمولی برتری رکھتے ہیں۔ نیشنل سینٹر فار وائلڈ لائف کے مطالعات میں 1,200 سے زائد مچھلیوں کی اقسام، 300 سے زائد مرجان کی اقسام ریکارڈ کی گئی ہیں اور دنیا کا سب سے بڑا بحیرہ احمر حیاتیاتی تنوع ڈیٹا بیس تیار کیا گیا ہے جس میں 12.8 بلین سے زائد جینیاتی سلسلے شامل ہیں۔

بحیرہ احمر کی مرجانی دیواریں، قدیم جزائر اور ینبع، املج، بیادہ اور فراسان جزائر جیسے مقامات پر گہرے اتار اعلیٰ درجے کے غوطہ خوروں اور فوٹوگرافروں کو اپنی طرف کھینچتے ہیں، جبکہ جبیل اور جانا آئی لینڈ کے قریب خلیج عرب کے پرسکون پانی اور تاریخی جہازوں کے ملبے جہازوں کی کھوج، رات کے غوطے اور ابتدائی تربیت کے لیے بہترین مقامات فراہم کرتے ہیں۔ کیا یہ تنوع سعودی عرب کو عالمی ڈائیونگ نقشے پر ایک منفرد مقام نہیں دیتا؟

نسل در نسل ورثہ اس شعبے کی انسانی کہانی کی بنیاد ہے۔ 89 سالہ علی، جو سمندر میں 60 سال گزار چکے ہیں، کے چار بیٹوں نے خاندانی کشتیاں ورثے میں پائیں اور وہ ڈائیو انسٹرکٹر اور سائنسی مہمات کے سمندری گائیڈ کے طور پر کام کرتے ہیں، جبکہ وہ خود اپنی دکان سے تازہ پکڑ فروخت کرتے ہیں۔ اسی طرح 68 سالہ عبداللہ حسین چار دہائیاں یاد کرتے ہیں جو موتی نکالنے کی مشقت سے عبارت تھیں، اور یہ ورثہ اب ثقافتی تقریبات کے ذریعے جدید سامعین کو دکھایا جاتا ہے۔ کیا یہ کہانیاں اس بات کا ثبوت نہیں کہ سمندر سعودی معاشرے کی یادداشت میں کیسے بسا ہوا ہے؟

جدید شوقین اس کھیل کے پیشہ ورانہ ارتقا کی عکاسی کرتے ہیں۔ انجینئر عبداللہ الدوسری نے 2017 میں غوطہ لگانا شروع کیا اور پروفیشنل ایسوسی ایشن آف ڈائیونگ انسٹرکٹرز (PADI) کے سخت سرٹیفیکیشنز سے گزرتے ہوئے ایڈوانسڈ اوپن واٹر ڈائیور لائسنس حاصل کیا۔ ان کی تربیت میں حفاظتی پروٹوکول، ڈیکمپریشن کے حسابات اور مرجانی ماحولیاتی نظام کے تحفظ کے لیے بویانسی کنٹرول شامل تھے۔

یہ پیشہ ورانہ راستہ بتاتا ہے کہ ڈائیونگ محض تفریح نہیں رہی بلکہ ایک مہارت بن گئی ہے جس کے اپنے ضوابط، اپنی تربیت اور اپنے معیارات ہیں۔ کیا سعودی نوجوان اس شعبے کو روزگار کے طور پر اپنانے کے لیے تیار ہیں؟

ساحلی پٹی کی لمبائی اور جغرافیائی تنوع اس شعبے کی بنیادی طاقت ہے۔ بحیرہ احمر کے ساحل پر ینبع، املج اور بیادہ جیسے مقامات گہرے پانیوں اور مرجانی دیواروں کے لیے جانے جاتے ہیں، جبکہ فراسان جزائر اپنی تاریخی موتی نکالنے کی روایت اور حیاتیاتی تنوع کے لیے مشہور ہیں۔ دوسری طرف خلیج عرب کا ساحل جبیل اور جانا آئی لینڈ کے قریب پرسکون پانیوں اور تاریخی جہازوں کے ملبوں کا میزبان ہے۔

یہ دو مختلف سمندری ماحول ایک ہی ملک میں دو مختلف اقسام کے ڈائیونگ تجربات فراہم کرتے ہیں۔ ایک طرف مرجانی دیواروں اور گہرے اتار کا سامنا، دوسری طرف پرسکون پانیوں میں جہازوں کی کھوج اور رات کے غوطے۔ کیا یہ تنوع سعودی عرب کو ہر سطح کے غوطہ خور کے لیے ایک مکمل منزل نہیں بناتا؟

نیشنل سینٹر فار وائلڈ لائف کے مطالعات اس شعبے کی سائنسی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ 1,200 سے زائد مچھلیوں کی اقسام اور 300 سے زائد مرجان کی اقسام کی ریکارڈنگ صرف اعداد و شمار نہیں بلکہ ایک ایسا ذخیرہ ہے جس پر تحقیق، تحفظ اور سیاحت کی پالیسیاں استوار ہو سکتی ہیں۔ دنیا کا سب سے بڑا بحیرہ احمر حیاتیاتی تنوع ڈیٹا بیس، جس میں 12.8 بلین سے زائد جینیاتی سلسلے شامل ہیں، اس خطے کی حیاتیاتی اہمیت کو عالمی سطح پر اجاگر کرتا ہے۔

یہ ڈیٹا بیس محققین، ماحولیاتی ماہرین اور پالیسی سازوں کے لیے ایک مشترکہ حوالہ ہے۔ کیا اس طرح کا سائنسی ذخیرہ سعودی عرب کو سمندری تحفظ کی عالمی کوششوں میں ایک اہم کھلاڑی نہیں بنا دیتا؟

تاریخی پس منظر اس شعبے کی جڑوں کو سمجھنے کے لیے ناگزیر ہے۔ فراسان جزائر اور خلیجی بندرگاہوں میں موتی نکالنے کی روایت صدیوں پر محیط ہے۔ عبداللہ حسین جیسے بزرگوں کی چار دہائیوں پر مشتمل یادداشت اس بات کا ثبوت ہے کہ سمندر سے روزی کمانا کبھی محض معاشی عمل نہیں تھا بلکہ ایک طرز زندگی تھا جس میں خطرہ، مہارت اور صبر شامل تھے۔

آج یہی ورثہ ثقافتی تقریبات کے ذریعے نئی نسل تک پہنچایا جا رہا ہے۔ علی کے بیٹے جو کبھی خاندانی کشتیوں پر مچھلیاں پکڑتے تھے، اب ڈائیو انسٹرکٹر اور سائنسی مہمات کے گائیڈ ہیں۔ یہ تبدیلی بتاتی ہے کہ روایتی سمندری مہارت جدید پیشہ ورانہ مہارت میں کیسے ڈھل سکتی ہے۔ کیا یہ ارتقا سعودی سمندری ورثے کے تسلسل کی سب سے واضح مثال نہیں؟

سعودی وژن 2030 کے تناظر میں یہ شعبہ اقتصادی تنوع کی کوششوں کا حصہ ہے۔ ڈائیونگ اور سمندری سیاحت اعلیٰ قیمت سرمایہ کاری کے طور پر ابھر رہے ہیں، جن میں تربیت، سازوسامان، گائیڈنگ، تحقیقی مہمات اور ثقافتی تجربات شامل ہیں۔ یہ شعبہ نہ صرف سیاحوں کو راغب کرتا ہے بلکہ مقامی روزگار اور مہارت کی ترقی کا ذریعہ بھی بنتا ہے۔

عبداللہ الدوسری جیسے انجینئرز کا اس شعبے میں داخل ہونا بتاتا ہے کہ ڈائیونگ اب صرف سمندری پیشہ ور افراد تک محدود نہیں رہی۔ PADI سرٹیفیکیشنز، ایڈوانسڈ اوپن واٹر لائسنس، حفاظتی پروٹوکول اور ڈیکمپریشن کے حسابات جیسے تقاضے اسے ایک منظم پیشہ بناتے ہیں۔ کیا یہ پیشہ ورانہ ڈھانچہ اس شعبے کو طویل مدتی سرمایہ کاری کے قابل نہیں بناتا؟

ماحولیاتی تحفظ اس ترقی کا لازمی جزو ہے۔ مرجانی ماحولیاتی نظام نازک ہوتے ہیں اور غوطہ خوروں کی تربیت میں بویانسی کنٹرول کو خاص اہمیت دی جاتی ہے تاکہ مرجان کو نقصان نہ پہنچے۔ نیشنل سینٹر فار وائلڈ لائف کی ریکارڈنگ اور ڈیٹا بیس تحفظ کی کوششوں کی سائنسی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔

اگر سیاحت اور تحفظ میں توازن بگڑ جائے تو کیا یہی حیاتیاتی تنوع خطرے میں نہیں پڑ سکتا؟ یہ سوال اس شعبے کی پائیداری کے لیے مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔

ثقافتی پہلو بھی اہم ہے۔ موتی نکالنے کی روایت، خاندانی کشتیاں، بزرگوں کی یادداشت اور ثقافتی تقریبات سب اس کہانی کا حصہ ہیں جو سعودی عرب اپنے سمندری ورثے کے طور پر پیش کرتا ہے۔ یہ ورثہ سیاحوں کے لیے کشش کا باعث بھی ہے اور مقامی شناخت کا حصہ بھی۔

علی کی 60 سالہ سمندری زندگی اور عبداللہ حسین کی چار دہائیوں پر محیط موتی نکالنے کی یادداشت اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ سمندر سعودی معاشرے کی معیشت اور ثقافت دونوں میں کیسے پیوست رہا ہے۔ کیا یہ ورثہ جدید ڈائیونگ انڈسٹری کی سب سے مضبوط بنیاد نہیں؟

خلاصہ یہ کہ سعودی عرب کی ساحلی پٹی، حیاتیاتی تنوع، تاریخی ورثہ اور پیشہ ورانہ تربیت کے امتزاج نے ڈائیونگ اور سمندری سیاحت کو ایک ابھرتے ہوئے شعبے میں تبدیل کر دیا ہے۔ بحیرہ احمر اور خلیج عرب کے مختلف ماحول ہر سطح کے غوطہ خوروں کے لیے مواقع فراہم کرتے ہیں، جبکہ نیشنل سینٹر فار وائلڈ لائف کا ڈیٹا بیس اس شعبے کو سائنسی بنیاد دیتا ہے۔

رپورٹ میں اس شعبے کے مالی حجم، سرمایہ کاری کی مخصوص رقوم، ملازمتوں کی تعداد یا کسی مخصوص منصوبے کی تکمیل کی تاریخ نہیں دی گئی۔ یہ تفصیلات ایس پی اے کی رپورٹ میں شامل نہیں تھیں۔

سعودی عرب کے پانیوں میں حیاتیاتی تنوع کتنا ہے؟ نیشنل سینٹر فار وائلڈ لائف کے مطالعات کے مطابق مملکت کے پانیوں میں 1,200 سے زائد مچھلیوں کی اقسام اور 300 سے زائد مرجان کی اقسام ریکارڈ کی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ دنیا کا سب سے بڑا بحیرہ احمر حیاتیاتی تنوع ڈیٹا بیس تیار کیا گیا ہے جس میں 12.8 بلین سے زائد جینیاتی سلسلے شامل ہیں۔ یہ اعداد و شمار ایس پی اے کی 26 ستمبر 2026 کی رپورٹ میں دیے گئے۔

کون سے مقامات غوطہ خوروں کو راغب کرتے ہیں؟ بحیرہ احمر کی طرف ینبع، املج، بیادہ اور فراسان جزائر اپنی مرجانی دیواروں، قدیم جزائر اور گہرے اتاروں کے لیے مشہور ہیں، جو اعلیٰ درجے کے غوطہ خوروں اور فوٹوگرافروں کو راغب کرتے ہیں۔ خلیج عرب کی طرف جبیل اور جانا آئی لینڈ کے قریب پرسکون پانی اور تاریخی جہازوں کے ملبے جہازوں کی کھوج، رات کے غوطے اور ابتدائی تربیت کے لیے بہترین مقامات فراہم کرتے ہیں۔

موتی نکالنے کی روایت کا کیا کردار ہے؟ فراسان جزائر اور خلیجی بندرگاہوں میں موتی نکالنے کی روایت صدیوں پر محیط ہے اور یہی ڈائیونگ کے شعبے کی تاریخی بنیاد ہے۔ 68 سالہ عبداللہ حسین چار دہائیاں موتی نکالنے کی مشقت سے وابستہ رہے، اور یہ ورثہ اب ثقافتی تقریبات کے ذریعے جدید سامعین کو دکھایا جاتا ہے۔ ایس پی اے کے مطابق یہ ورثہ اس شعبے کی انسانی کہانی کی بنیاد ہے۔

جدید غوطہ خوروں کی تربیت کیسی ہوتی ہے؟ انجینئر عبداللہ الدوسری نے 2017 میں غوطہ لگانا شروع کیا اور پروفیشنل ایسوسی ایشن آف ڈائیونگ انسٹرکٹرز (PADI) کے سخت سرٹیفیکیشنز سے گزرتے ہوئے ایڈوانسڈ اوپن واٹر ڈائیور لائسنس حاصل کیا۔ ان کی تربیت میں حفاظتی پروٹوکول، ڈیکمپریشن کے حسابات اور مرجانی ماحولیاتی نظام کے تحفظ کے لیے بویانسی کنٹرول شامل تھے۔ یہ تفصیلات ایس پی اے کی رپورٹ میں دی گئی ہیں۔

یہ شعبہ سعودی وژن 2030 سے کیسے جڑتا ہے؟ ایس پی اے کے مطابق ڈائیونگ ایک منظم اور اعلیٰ قیمت سرمایہ کاری کا شعبہ بن چکی ہے جو سعودی وژن 2030 کے ساتھ ہم آہنگ ہے اور قومی بلیو اکانومی کو مضبوط کرتی ہے۔ یہ شعبہ تربیت، سازوسامان، گائیڈنگ، تحقیقی مہمات اور ثقافتی تجربات جیسی سرگرمیوں پر مشتمل ہے۔ رپورٹ میں اس شعبے کے مالی حجم یا سرمایہ کاری کی مخصوص رقوم نہیں دی گئیں۔

کیا رپورٹ میں اقتصادی اعداد و شمار دیے گئے ہیں؟ نہیں، ایس پی اے کی رپورٹ میں اس شعبے کے مالی حجم، سرمایہ کاری کی مخصوص رقوم، ملازمتوں کی تعداد یا کسی مخصوص منصوبے کی تکمیل کی تاریخ نہیں دی گئی۔ رپورٹ میں حیاتیاتی تنوع کے اعداد و شمار، تاریخی ورثے کی کہانیاں اور جدید غوطہ خوروں کی تربیت کی تفصیلات شامل ہیں۔ اقتصادی پہلوؤں کے بارے میں مزید اعداد و شمار کے لیے اضافی ذرائع درکار ہوں گے۔