Saturday, September 19, 2026
سائنس

جامعہ ام القریٰ اور یونیورسٹی آف لندن کے درمیان طلبہ کے تبادلے کا پروگرام

جامعہ ام القریٰ اور یونیورسٹی آف لندن کے درمیان طلبہ کے تبادلے کا پروگرام

جامعہ ام القریٰ نے برطانیہ کی City St George’s, University of London کے تعاون سے کلینیکل میڈیسن کے شعبے میں بین الاقوامی طلبہ کے تبادلے کے پروگرام کے دوسرے مرحلے کا آغاز کیا ہے۔

جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 13 اگست 2026 کو بیان کیا، اس پروگرام کے تحت میڈیکل کالج کے ممتاز طلبہ کو برطانیہ کے St. George’s Hospital میں ایک جامع تربیتی کورس کے لیے بھیجا گیا ہے۔

اس تربیتی دورے میں ہسپتال کے اندر نگرانی میں کلینیکل تربیت، طبی ٹیموں کے ساتھ کام، کیسز کی تشخیص، فیصلہ سازی کے طریقہ کار اور کثیر الشعبہ صحت ٹیموں میں شمولیت شامل ہے۔ طلبہ برطانیہ کے نظام صحت، طبی تعلیم کے طریقوں، سائنسی تحقیق اور مسئلہ حل کرنے پر مبنی سیکھنے کے عمل سے واقف ہوں گے، ساتھ ہی سعودی عرب اور برطانیہ کے تعلیمی و صحت کے تجربات کا موازنہ کریں گے۔

جامعہ کی بزنس ڈویلپمنٹ اور سماجی شراکت کی معاون ڈاکٹر ورده الاسمری کے مطابق، یہ پروگرام طلبہ کی کلینیکل اور پیشہ ورانہ مہارتوں کو فروغ دینے اور انہیں کثیر الثقافتی صحت کے ماحول میں کام کرنے کے قابل بنانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔

یہ اقدام جامعہ ام القریٰ کی 2027 کی حکمت عملی کا حصہ ہے تاکہ بین الاقوامی شراکت داری کو مضبوط کیا جائے اور ایسے فارغ التحصیل تیار کیے جائیں جو مقامی اور عالمی سطح پر مقابلہ کر سکیں، جو کہ سعودی ویژن 2030 کے اہداف کے مطابق ہے۔

اس پروگرام کا مقصد کیا ہے؟ اس پروگرام کا مقصد طلبہ کو بین الاقوامی تعلیمی تجربات فراہم کرنا، ان کی کلینیکل اور پیشہ ورانہ مہارتوں کو بہتر بنانا اور طبی و صحت کے شعبوں میں بین الاقوامی تعلیمی تعاون کو فروغ دینا ہے۔ یہ پروگرام طلبہ کو جدید بین الاقوامی طبی طریقوں سے روشناس کراتا ہے۔

طلبہ برطانیہ میں کیا سیکھیں گے؟ طلبہ St. George’s Hospital میں نگرانی میں کلینیکل تربیت حاصل کریں گے اور طبی ٹیموں کے ساتھ کام کریں گے۔ وہ برطانیہ کے نظام صحت، طبی تعلیم کے طریقوں اور سائنسی تحقیق کے ساتھ ساتھ مسئلہ حل کرنے پر مبنی سیکھنے کے عمل کا مطالعہ کریں گے۔

یہ پروگرام کس حکمت عملی کا حصہ ہے؟ یہ پروگرام جامعہ ام القریٰ کی 2027 کی حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد بین الاقوامی شراکت داری کو بڑھانا اور طلبہ کی سائنسی و انفرادی مہارتوں کو بہتر بنانا ہے۔ یہ اقدام سعودی ویژن 2030 کے اہداف اور لیبر مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق ہے۔

تربیت کے دوران طلبہ کی کیا سرگرمیاں ہوں گی؟ طلبہ کیسز کی تشخیص، فیصلہ سازی کے طریقہ کار کی پہچان اور کثیر الشعبہ صحت ٹیموں میں فعال طور پر کام کریں گے۔ اس کے علاوہ وہ سعودی عرب اور برطانیہ کے صحت اور تعلیم کے تجربات کا تقابلی جائزہ لیں گے۔