ریاض میں منعقدہ یومِ نوجوان کے موقع پر سعودی ڈیٹا اور مصنوعی ذہانت اتھارٹی (SDAIA) نے مستقبل کی مہارتوں اور ملازمتوں کے لیے نوجوانوں کی تیاری میں مصنوعی ذہانت کے کردار پر تبادلہ خیال کیا ہے۔
جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 12 اگست 2026 کو بیان کیا، SDAIA نے یوتھ فورم 2026 میں بطور پارٹنر شرکت کی، جو 9 سے 12 اگست تک جاری ہے۔ اس فورم میں 300 سے زائد یونیورسٹی طلبہ، حالیہ گریجویٹس اور ملازمت کے متلاشی افراد نے شرکت کی۔
ڈاکٹر محمد كتبي نے ایک ورکشاپ میں لیبر مارکیٹ میں مصنوعی ذہانت کی وجہ سے آنے والی تبدیلیوں اور ان کے مطابق ضروری مہارتوں پر روشنی ڈالی۔ ایک دوسری ورکشاپ میں عبد العزيز يحيى العاتي نے ڈیجیٹل خدمات میں مصنوعی ذہانت کے عملی نمونوں اور Tawakkalna کے تجربات کا ذکر کیا تاکہ سرکاری خدمات کی کارکردگی اور معیارِ زندگی کو بہتر بنایا جا سکے۔
یہ شرکت “عام الذكاء الاصطناعي 2026” کے ہم آہنگ قومی صلاحیتوں کی تعمیر اور نوجوانوں میں جدید ٹیکنالوجی کے بارے میں آگاہی پیدا کرنے کے لیے کی گئی ہے۔
SDAIA نے یوتھ فورم 2026 میں کیا بحث کی؟ SDAIA نے مستقبل کی مہارتوں اور ملازمتوں کے لیے نوجوانوں کی تیاری میں مصنوعی ذہانت کے کردار پر بات کی۔ اس کے ساتھ ساتھ مصنوعی ذہانت سے لیس ڈیجیٹل خدمات کے مستقبل پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
فورم میں کن لوگوں نے شرکت کی؟ اس فورم میں 300 سے زائد یونیورسٹی کے طلبہ، طالبات، حالیہ گریجویٹس اور ملازمت کے متلاشی افراد نے شرکت کی۔ یہ تقریب 9 سے 12 اگست 2026 تک منعقد ہوئی۔
ورکشاپس میں کن موضوعات کا ذکر کیا گیا؟ پہلی ورکشاپ میں لیبر مارکیٹ کی تبدیلیوں اور ضروری مہارتوں پر بات کی گئی، جبکہ دوسری ورکشاپ میں Tawakkalna کے تجربات اور ڈیجیٹل خدمات میں مصنوعی ذہانت کے عملی استعمال کا ذکر کیا گیا۔
SDAIA کی اس شرکت کا مقصد کیا ہے؟ اس کا مقصد ڈیٹا اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں قومی صلاحیتوں کی تعمیر کرنا اور نوجوانوں کو لیبر مارکیٹ کی تیز رفتار تبدیلیوں کے مطابق مہارتیں فراہم کرنا ہے۔ یہ اقدام “عام الذكاء الاصطناعي 2026” کے تناظر میں کیا گیا ہے۔