بحرین کی وزارت خارجہ نے سعودی عرب کے علاقے نجران میں حوثی دہشت گرد ملیشیا کی جانب سے شہریوں اور تنصیبات پر کیے گئے بے دریغ میزائل حملوں کی سخت مذمت کی ہے، جس کے نتیجے میں متعدد بے گناہ شہری زخمی ہوئے۔
جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 7 اگست 2026 کو بیان کیا، بحرینی وزارت نے اس حملے کو ایک خطرناک شدت اور بین الاقوامی قانون، بین الاقوامی انسانی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
وزارت نے سعودی عرب کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے اس کی خودمختاری، سلامتی اور استحکام کے تحفظ کے لیے اٹھائے گئے تمام اقدامات کی حمایت کی ہے۔ بحرین نے زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی اور حوثی ملیشیا کے مالی اور فوجی ذرائع کو ختم کرنے کے لیے عالمی برادری سے سخت موقف اختیار کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
بحرین نے یمنی بحران کے جامع اور پائیدار سیاسی حل کے لیے سعودی عرب کی سفارتی، انسانی اور ترقیاتی کوششوں کی تعریف کی ہے، جو خلیجی اقدام، قومی مذاکراتی کانفرنس کے نتائج اور سلامتی کونسل کی قرارداد 2216 کے مطابق ہیں تاکہ یمن کی وحدت اور علاقائی سالمیت کو برقرار رکھا جا سکے۔
بحرین نے نجران میں ہونے والے حملوں پر کیا ردعمل ظاہر کیا؟ بحرین کی وزارت خارجہ نے حوثی ملیشیا کے حملوں کی سخت مذمت کی ہے اور اسے بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ بحرین نے ان حملوں کو ایک خطرناک شدت قرار دیا ہے جس میں بے گناہ شہری زخمی ہوئے۔
بحرین نے سعودی عرب کے حوالے سے کیا موقف اپنایا؟ بحرین نے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ہے اور اس کی خودمختاری، سلامتی اور استحکام کے تحفظ کے لیے اٹھائے گئے تمام اقدامات کی بھرپور حمایت کی ہے۔ اس میں شہریوں اور اہم تنصیبات کے تحفظ کے اقدامات شامل ہیں۔
عالمی برادری سے کیا مطالبہ کیا گیا ہے؟ بحرین نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ حوثی ملیشیا کے خلاف سخت موقف اپنائے تاکہ اسے جوابدہ بنایا جا سکے اور اس کے مالی اور فوجی ذرائع کو ختم کیا جا سکے، جس سے خطے کی سلامتی اور شہریوں کا تحفظ ممکن ہو۔
یمن کے بحران کے حل کے لیے کن نکات کا ذکر کیا گیا؟ بحرین نے یمن میں پائیدار سیاسی حل کے لیے سعودی عرب کی کوششوں کی تعریف کی ہے، جو خلیجی اقدام اور سلامتی کونسل کی قرارداد 2216 کے مطابق ہیں۔ اس کا مقصد یمن کی وحدت، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کو برقرار رکھنا ہے۔