نجران کے علاقے میں حوثی ملیشیا کے حملوں کے نتیجے میں متعدد شہری زخمی ہوئے ہیں، جس کی ریاست قطر نے شدید مذمت کی ہے۔
جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 7 اگست 2026 کو بیان کیا، قطر نے ان حملوں کو سعودی عرب کی خودمختاری کی صریح خلاف ورزی، بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی اور خطے کی سلامتی اور استحکام کے لیے ایک خطرناک اضافہ قرار دیا ہے۔
قطری وزارت خارجہ نے ایک بیان میں شہریوں، شہری املاک اور اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے والے کسی بھی حملے کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔ قطر نے سعودی عرب کی علاقائی سالمیت، سلامتی اور استحکام کے تحفظ کے لیے اٹھائے گئے تمام اقدامات کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ہے اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی خواہش ظاہر کی ہے۔
قطر نے نجران پر ہونے والے حملوں کے بارے میں کیا موقف اختیار کیا؟ قطر نے حوثی ملیشیا کے حملوں کی مذمت کی ہے اور انہیں سعودی عرب کی خودمختاری کی صریح خلاف ورزی اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ قطر کے مطابق یہ ایک خطرناک اضافہ ہے جو خطے کی سلامتی اور استحکام کو خطرے میں ڈالتا ہے۔
قطری وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کن چیزوں کی مستردگی کی ہے؟ قطری وزارت خارجہ نے شہریوں، شہری املاک اور اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے والے کسی بھی قسم کے حملے کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔ ایس پی اے کے مطابق قطر نے زخمی ہونے والے شہریوں کی جلد صحت یابی کی خواہش بھی ظاہر کی ہے۔
سعودی عرب کے حوالے سے قطر نے کیا حمایت کا اظہار کیا؟ قطر نے سعودی عرب کی علاقائی سالمیت، سلامتی اور استحکام کے تحفظ کے لیے اٹھائے گئے تمام اقدامات کے ساتھ اپنی مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ یہ بیان 7 اگست 2026 کو جاری کیا گیا جس میں سعودی عرب کی خودمختاری کا احترام کیا گیا ہے۔