نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں سیشن کے موقع پر انسانی ہمدردی کے اقدامات کی اصلاحات کے حوالے سے ایک اعلیٰ سطحی پینل ڈسکشن منعقد کیا گیا۔
جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 25 ستمبر 2026 کو بیان کیا، رائل کورٹ کے ایڈوائزر اور کنگ سلمان ہیومینیٹیرین ایڈ اینڈ ریلیف سینٹر (KSrelief) کے سپروائزر جنرل ڈاکٹر عبداللہ الربیعہ نے اس نشست میں شرکت کی۔ اس پروگرام کا عنوان Humanitarian Reset and Responsible Transitions: Safeguarding Resilience and Principled Action تھا، جسے KSrelief نے یورپی یونین، برطانیہ کے فارن، کامن ویلتھ اینڈ ڈویلپمنٹ آفس، UNDP اور OCHA کے ساتھ شراکت میں ترتیب دیا۔
ڈاکٹر الربیعہ نے عالمی انسانی ہمدردی کے ڈھانچے کی اصلاح کے لیے اقوام متحدہ کی قیادت میں جاری اقدام کو آپریشنل لچک اور اثرات بڑھانے کا ایک ضروری موقع قرار دیا۔ انہوں نے یمن، سوڈان اور فلسطین جیسے طویل crises والے علاقوں میں انسانی امداد، پائیدار ترقی اور امن سازی کو آپس میں جوڑنے کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے بتایا کہ KSrelief 110 سے زائد ممالک میں 300 سے زیادہ شراکت داروں کے ساتھ کام کر رہا ہے اور ابتدائی منصوبہ بندی کے مراحل سے ہی سعودی فنڈ فار ڈویلپمنٹ جیسے اداروں کو شامل کرتا ہے۔ انہوں نے مقامی قیادت کو مضبوط بنانے اور غیر سرکاری تنظیموں کو بااختیار بنانے کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی۔
مدد پر طویل مدتی انحصار کو روکنے کے لیے ڈاکٹر الربیعہ نے UNDP کے ساتھ مل کر شام کے آٹھ علاقوں میں 30 سے زائد تباہ شدہ بیکریوں کی بحالی کا ذکر کیا۔ رپورٹ میں ادارہ جاتی اصلاحات کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
نیویارک میں پینل ڈسکشن کا مقصد کیا تھا؟ اس پینل ڈسکشن کا مقصد انسانی ہمدردی کے اقدامات کی اصلاحات اور ذمہ دارانہ منتقلی کے ذریعے لچک اور اصولی عمل کو محفوظ بنانا تھا۔ ڈاکٹر عبداللہ الربیعہ نے اسے آپریشنل کارکردگی اور اثرات بڑھانے کا ایک ضروری موقع قرار دیا۔
ڈاکٹر الربیعہ نے کن علاقوں کا ذکر کیا؟ انہوں نے یمن، سوڈان اور فلسطین جیسے طویل crises والے علاقوں کا ذکر کیا۔ انہوں نے ان علاقوں میں انسانی امداد، پائیدار ترقی اور امن سازی کو ایک دوسرے سے منسلک کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
KSrelief کی عالمی رسائی کیا ہے؟ KSrelief 110 سے زائد ممالک میں 300 سے زیادہ شراکت داروں کے ساتھ کام کر رہا ہے۔ یہ ادارہ پائیدار نتائج کے لیے ابتدائی مراحل سے ہی سعودی فنڈ فار ڈویلپمنٹ جیسے ترقیاتی اداروں کو شامل کرتا ہے۔
شام میں کون سا اقدام اٹھایا گیا؟ مدد پر انحصار ختم کرنے کے لیے KSrelief نے UNDP کے ساتھ مل کر شام کے آٹھ علاقوں میں 30 سے زائد تباہ شدہ بیکریوں کی بحالی کا کام کیا۔ اس کا مقصد مقامی پیداواری صلاحیت کو بحال کر کے ضروری غذائی ضروریات کو پورا کرنا تھا۔