Monday, September 28, 2026
ثقافت

رفحہ کی لینہ مسجد قدیم نجدی طرز تعمیر کا نمونہ ہے

رفحہ کی لینہ مسجد قدیم نجدی طرز تعمیر کا نمونہ ہے

شمالی سرحدی علاقے کے رفحہ میں واقع لینہ مسجد خطے کی قدیم ترین مساجد میں سے ایک ہے، جو لینہ کے تاریخی گاؤں میں روایتی تعمیرات کے درمیان واقع ہے۔

جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 7 مارچ 2025 کو بیان کیا، یہ مسجد قدیم نجدی طرز تعمیر کی مثال ہے جسے مٹی، گارے کی اینٹوں، پتھروں، اثل کی لکڑی اور کھجور کے پتوں سے بنایا گیا ہے۔

اس مسجد کی تعمیر تقریباً 1370 ہجری میں ہوئی تھی اور یہ 600 مربع میٹر کے رقبے پر محیط ہے، جس میں نمازیوں کے لیے پانی اور وضو کے لیے ایک کنواں بھی شامل ہے۔ مسجد میں لکڑی کے ستون، دیواروں میں قرآن پاک کے لیے شیلف اور روایتی فانوس موجود ہیں، اور یہ 200 سے زائد نمازیوں کی گنجائش رکھتی ہے۔

مسجد کے شمال میں پرانی مارکیٹ واقع ہے جو 1352 ہجری میں قائم ہوئی تھی اور 5,000 مربع میٹر پر پھیلی ہوئی ہے جس میں تقریباً 80 دکانیں ہیں۔ یہ مارکیٹ بیسویں صدی کے وسط میں مملکت کا ایک اہم تجارتی مرکز تھی۔

لینہ مسجد اور پرانی مارکیٹ اب ایک ثقافتی اور سیاحتی مقام کے طور پر کام کر رہے ہیں جو اسلامی فن تعمیر اور علاقے کے ثقافتی ورثے کی عکاسی کرتے ہیں۔

لینہ مسجد کی تعمیر کب ہوئی اور یہ کس چیز سے بنی ہے؟ لینہ مسجد کی تعمیر تقریباً 1370 ہجری میں ہوئی تھی۔ اسے مٹی، گارے کی اینٹوں، پتھروں، اثل کی لکڑی اور کھجور کے پتوں جیسے مقامی مواد سے بنایا گیا ہے، جو قدیم نجدی طرز تعمیر کی عکاسی کرتا ہے۔

مسجد کی نمایاں خصوصیات اور گنجائش کیا ہے؟ یہ مسجد 600 مربع میٹر پر محیط ہے اور 200 سے زائد نمازیوں کی گنجائش رکھتی ہے۔ اس میں وضو کے لیے ایک کنواں، لکڑی کے ستون، قرآن کے لیے دیواروں میں شیلف اور روایتی فانوس موجود ہیں۔

لینہ مسجد کے قریب کون سی تاریخی جگہ واقع ہے؟ مسجد کے شمال میں ایک پرانی مارکیٹ واقع ہے جو 1352 ہجری میں قائم ہوئی تھی۔ یہ مارکیٹ 5,000 مربع میٹر پر پھیلی ہوئی ہے اور اس میں تقریباً 80 دکانیں ہیں، جو بیسویں صدی کے وسط میں ایک تجارتی مرکز تھی۔