ریاض میں سعودی معیارات، پیمائش اور معیار کی تنظیم (SASO) کے زیر اہتمام دسویں اسٹینڈرڈز فورم کے افتتاحی خطاب میں سعودی ڈیٹا اور مصنوعی ذہانت اتھارٹی (SDAIA) نے مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجیز کو منظم کرنے اور AI ایپلیکیشنز کی قابل اعتماد اور ذمہ دارانہ ترقی اور اپنانے میں معیارات کے کردار کو اجاگر کیا۔
جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 14 اکتوبر 2026 کو بیان کیا، یہ شرکت ریاض میں SASO کے ہیڈ کوارٹر میں منعقدہ دسویں اسٹینڈرڈز فورم کے افتتاحی خطاب کے دوران ہوئی، جس کا موضوع “A Shared Vision for a Better World” تھا۔ فورم کی سرپرستی وزیر تجارت اور SASO بورڈ کے چیئرمین ڈاکٹر ماجد القصبی نے کی، اور یہ فورم ورلڈ اسٹینڈرڈز ڈے کے موقع پر منعقد ہوا۔
SDAIA کے سینئر ایڈوائزر برائے AI گورننس ڈاکٹر عبدالرحمٰن حبیب نے “Standards and Their Role in Enabling AI Applications” کے عنوان سے کلیدی خطاب کیا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ پالیسیاں اور ریگولیٹری فریم ورک ان مقاصد کی تعریف کرتے ہیں جو AI سسٹمز کو حاصل کرنے چاہئیں، جبکہ معیارات یہ بتاتے ہیں کہ ان تقاضوں کو کیسے نافذ، پیمائش اور تعمیل کے لیے تصدیق کیا جائے۔
انہوں نے اس شعبے میں SDAIA کی کوششوں کو اجاگر کیا، جن میں AI کے لیے 10 سے زیادہ ریگولیٹری فریم ورک اور ٹولز کا اجرا اور 23 قومی AI سے متعلق معیارات کو اپنانا شامل ہے۔ یہ معیارات گورننس، مینجمنٹ سسٹمز، تربیتی ڈیٹا کے معیار، حفاظت، مضبوطی، سیکیورٹی اور پرائیویسی کے ساتھ ساتھ ریفرنس فریم ورک اور بگ ڈیٹا کا احاطہ کرتے ہیں۔
SDAIA کے جنرل منیجر برائے اسٹریٹجک اسٹڈیز ڈاکٹر محمد العواد نے بھی پینل ڈسکشن میں شرکت کی۔ انہوں نے AI ریگولیشن کے حوالے سے سعودی عرب کے لچکدار نقطہ نظر پر بات کی، جو جدت کو فعال کرنے اور ذمہ دارانہ استعمال کو یقینی بنانے کے درمیان توازن قائم کرتا ہے۔ انہوں نے ڈیٹا گورننس، پرائیویسی کے تحفظ اور سسٹم کی قابل اعتمادی کو بڑھانے اور خطرات کو کم کرنے میں معیارات کے کردار پر بھی بات کی، نیز بین الاقوامی AI معیارات کی ترقی میں سعودی عرب کی شراکت پر بھی روشنی ڈالی۔
کیا آپ جانتے ہیں کہ معیارات AI سسٹمز کی تعمیل کی پیمائش کیسے ممکن بناتے ہیں؟ ڈاکٹر عبدالرحمٰن حبیب کے مطابق، پالیسیاں اور ریگولیٹری فریم ورک ان مقاصد کی تعریف کرتے ہیں جو AI سسٹمز کو حاصل کرنے چاہئیں، جبکہ معیارات یہ بتاتے ہیں کہ ان تقاضوں کو کیسے نافذ، پیمائش اور تعمیل کے لیے تصدیق کیا جائے۔ یہ فرق اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ کیوں معیارات کے بغیر پالیسیاں صرف اعلانات رہ جاتی ہیں اور عملی طور پر قابل پیمائش نتائج حاصل نہیں ہو پاتے۔
SDAIA کی جانب سے 10 سے زیادہ ریگولیٹری فریم ورک اور ٹولز کا اجرا اور 23 قومی AI سے متعلق معیارات کو اپنانا اس بات کا ثبوت ہے کہ سعودی عرب AI کے شعبے میں عملی اور قابل پیمائش تکنیکی تقاضوں کو پالیسیوں اور ریگولیٹری فریم ورکس سے جوڑنے والا قومی ماحولیاتی نظام بنانے میں کامیاب رہا ہے۔ کیا آپ سوچتے ہیں کہ یہ تعداد خطے میں سعودی عرب کی پوزیشن کو کیسے متاثر کرتی ہے؟
یہ معیارات کئی اہم شعبوں کا احاطہ کرتے ہیں، جن میں گورننس، مینجمنٹ سسٹمز، تربیتی ڈیٹا کے معیار، حفاظت، مضبوطی، سیکیورٹی اور پرائیویسی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ریفرنس فریم ورک اور بگ ڈیٹا بھی ان معیارات کے دائرے میں آتے ہیں۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ تربیتی ڈیٹا کے معیار کے بغیر AI ماڈلز کی درستگی کو کیسے یقینی بنایا جا سکتا ہے؟
ڈاکٹر محمد العواد نے پینل ڈسکشن میں سعودی عرب کے لچکدار نقطہ نظر پر بات کی، جو جدت کو فعال کرنے اور ذمہ دارانہ استعمال کو یقینی بنانے کے درمیان توازن قائم کرتا ہے۔ انہوں نے ڈیٹا گورننس، پرائیویسی کے تحفظ اور سسٹم کی قابل اعتمادی کو بڑھانے اور خطرات کو کم کرنے میں معیارات کے کردار پر بھی روشنی ڈالی۔ کیا آپ کے خیال میں جدت اور ذمہ داری کے درمیان یہ توازن کتنا مشکل ہے؟
انہوں نے بین الاقوامی AI معیارات کی ترقی میں سعودی عرب کی شراکت کا بھی ذکر کیا۔ یہ شراکت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ سعودی عرب نہ صرف قومی سطح پر بلکہ عالمی سطح پر بھی AI کے معیارات کی تشکیل میں فعال کردار ادا کر رہا ہے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ بین الاقوامی معیارات کی ترقی میں شرکت کس طرح کسی ملک کی تکنیکی خودمختاری کو مضبوط کرتی ہے؟
فورم کا انعقاد SASO کے ہیڈ کوارٹر میں ہوا اور اس کا موضوع “A Shared Vision for a Better World” تھا۔ یہ فورم ورلڈ اسٹینڈرڈز ڈے کے موقع پر منعقد ہوا، جو ہر سال معیارات کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے منایا جاتا ہے۔ فورم کی سرپرستی وزیر تجارت اور SASO بورڈ کے چیئرمین ڈاکٹر ماجد القصبی نے کی۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ ورلڈ اسٹینڈرڈز ڈے کا انتخاب کیوں کیا گیا اور اس کا عالمی تجارت پر کیا اثر پڑتا ہے؟
SDAIA کی یہ شرکت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ سعودی عرب AI کے شعبے میں پالیسیوں اور ریگولیٹری فریم ورکس کو عملی، قابل پیمائش تکنیکی تقاضوں سے جوڑنے والے قومی ماحولیاتی نظام کی تعمیر میں کس طرح پیش رفت کر رہا ہے۔ 23 قومی AI معیارات اور 10 سے زیادہ ریگولیٹری فریم ورک اس عزم کا مظہر ہیں۔ کیا آپ سوچتے ہیں کہ یہ ماحولیاتی نظام کس طرح نجی شعبے کی جدت کو فروغ دے سکتا ہے؟
ڈاکٹر عبدالرحمٰن حبیب نے اپنے کلیدی خطاب میں واضح کیا کہ معیارات کے بغیر AI سسٹمز کی تعمیل کی تصدیق ممکن نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پالیسیاں مقاصد طے کرتی ہیں جبکہ معیارات نفاذ، پیمائش اور تصدیق کے طریقے فراہم کرتے ہیں۔ یہ نقطہ نظر اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ AI ٹیکنالوجیز قابل اعتماد اور ذمہ دارانہ طریقے سے تیار اور اپنائی جائیں۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ قابل اعتماد AI کے لیے کن بنیادی عناصر کی ضرورت ہوتی ہے؟
ڈاکٹر محمد العواد نے ڈیٹا گورننس اور پرائیویسی کے تحفظ پر زور دیا، جو AI سسٹمز کی قابل اعتمادی کو بڑھانے اور خطرات کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے سعودی عرب کے لچکدار ریگولیٹری نقطہ نظر کی وضاحت کی جو جدت اور ذمہ داری کے درمیان توازن قائم کرتا ہے۔ کیا آپ کے خیال میں ڈیٹا گورننس کے بغیر AI کی ذمہ دارانہ ترقی ممکن ہے؟
رپورٹ میں فورم کے شرکاء کی مکمل تعداد، دیگر مقررین کے نام، یا آنے والے اجلاسوں کی تفصیلات نہیں دی گئیں۔ ایس پی اے کی رپورٹ میں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ ان 23 معیارات کو کب اپنایا گیا یا ان کے نفاذ کی نگرانی کیسے کی جائے گی۔
SDAIA نے دسویں اسٹینڈرڈز فورم میں کیا پیش کیا؟ SDAIA نے مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجیز کو منظم کرنے اور AI ایپلیکیشنز کی قابل اعتماد اور ذمہ دارانہ ترقی اور اپنانے میں معیارات کے کردار کو اجاگر کیا۔ اس نے پالیسیوں اور ریگولیٹری فریم ورکس کو عملی، قابل پیمائش تکنیکی تقاضوں سے جوڑنے والے قومی ماحولیاتی نظام کی تعمیر میں سعودی عرب کی کامیابیوں کو بھی پیش کیا۔ یہ شرکت SASO کے زیر اہتمام دسویں اسٹینڈرڈز فورم کے افتاحی خطاب کے دوران ہوئی۔
ڈاکٹر عبدالرحمٰن حبیب نے معیارات اور پالیسیوں کے فرق کو کیسے بیان کیا؟ ڈاکٹر عبدالرحمٰن حبیب نے اپنے کلیدی خطاب میں وضاحت کی کہ پالیسیاں اور ریگولیٹری فریم ورک ان مقاصد کی تعریف کرتے ہیں جو AI سسٹمز کو حاصل کرنے چاہئیں، جبکہ معیارات یہ بتاتے ہیں کہ ان تقاضوں کو کیسے نافذ، پیمائش اور تعمیل کے لیے تصدیق کیا جائے۔ انہوں نے SDAIA کی کوششوں کا ذکر کیا، جن میں 10 سے زیادہ ریگولیٹری فریم ورک اور ٹولز کا اجرا اور 23 قومی AI معیارات کو اپنانا شامل ہے۔
SDAIA کے اپنائے گئے 23 قومی معیارات کن شعبوں کا احاطہ کرتے ہیں؟ یہ معیارات گورننس، مینجمنٹ سسٹمز، تربیتی ڈیٹا کے معیار، حفاظت، مضبوطی، سیکیورٹی اور پرائیویسی کا احاطہ کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ ریفرنس فریم ورک اور بگ ڈیٹا بھی ان معیارات کے دائرے میں آتے ہیں۔ یہ معیارات AI سسٹمز کی تعمیل کی پیمائش اور تصدیق کے لیے بنیاد فراہم کرتے ہیں، جیسا کہ ڈاکٹر عبدالرحمٰن حبیب نے دسویں اسٹینڈرڈز فورم میں بتایا۔
ڈاکٹر محمد العواد نے پینل ڈسکشن میں کون سے نکات پر بات کی؟ ڈاکٹر محمد العواد نے AI ریگولیشن کے حوالے سے سعودی عرب کے لچکدار نقطہ نظر پر بات کی، جو جدت کو فعال کرنے اور ذمہ دارانہ استعمال کو یقینی بنانے کے درمیان توازن قائم کرتا ہے۔ انہوں نے ڈیٹا گورننس، پرائیویسی کے تحفظ اور سسٹم کی قابل اعتمادی کو بڑھانے اور خطرات کو کم کرنے میں معیارات کے کردار پر بھی روشنی ڈالی، نیز بین الاقوامی AI معیارات کی ترقی میں سعودی عرب کی شراکت کا ذکر کیا۔
دسویں اسٹینڈرڈز فورم کا انعقاد کس نے اور کہاں کیا؟ دسویں اسٹینڈرڈز فورم کا انعقاد سعودی معیارات، پیمائش اور معیار کی تنظیم (SASO) نے اپنے ہیڈ کوارٹر میں کیا، جو ریاض میں واقع ہے۔ فورم کا موضوع “A Shared Vision for a Better World” تھا اور یہ ورلڈ اسٹینڈرڈز ڈے کے موقع پر منعقد ہوا۔ فورم کی سرپرستی وزیر تجارت اور SASO بورڈ کے چیئرمین ڈاکٹر ماجد القصبی نے کی، جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے رپورٹ کیا۔
اس رپورٹ میں کون سی معلومات شامل نہیں ہیں؟ رپورٹ میں فورم کے شرکاء کی مکمل تعداد، دیگر مقررین کے نام، یا آنے والے اجلاسوں کی تفصیلات نہیں دی گئیں۔ ایس پی اے کی رپورٹ میں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ ان 23 معیارات کو کب اپنایا گیا یا ان کے نفاذ کی نگرانی کیسے کی جائے گی۔ یہ معلومات ذریعے میں موجود نہیں تھیں، اس لیے ان کا اندازہ لگانا ممکن نہیں۔