Saturday, October 17, 2026
سعودی خبریں

این سی وی سی نے الجوف میں چرگاہوں کی بحالی کے لیے بیج منتشر کر دیے

این سی وی سی نے الجوف میں چرگاہوں کی بحالی کے لیے بیج منتشر کر دیے

سکاکا، دومۃ الجندل اور طبرجل کے چرگاہ علاقوں میں مقامی جنگلی اور چراگاہی بیجوں کی منتقلی مکمل ہو گئی ہے، یہ کام قدرتی چرگاہوں کی بحالی کے پروگرام کے تیسرے سیزن کے تحت کیا گیا جس میں بیج منتشر کرنے اور بارش کے پانی کو جمع کرنے کے ذرائع استعمال کیے جاتے ہیں۔

جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 17 اکتوبر 2026 کو بیان کیا، یہ کام نیشنل سینٹر فار ویجیٹیشن کور ڈیولپمنٹ اینڈ کمبیٹنگ ڈیزرٹیفیکیشن یعنی این سی وی سی نے مکمل کیا۔ مرکز کے مطابق بیج منتشر کرنے سے زمین کی بحالی، پیداواری صلاحیت میں بہتری اور مقامی پودوں کی اقسام کا تحفظ ممکن ہوتا ہے۔

یہ کاوش 2026 کے نیشنل گریننگ سیزن کے ساتھ ساتھ چل رہی ہے اور سعودی گرین انیشی ایٹو کے اہداف کی تائید کرتی ہے، جن میں مملکت بھر میں 10 بلین درخت لگانا اور 40 ملین ہیکٹر زمین کی بحالی شامل ہے۔

الجوف کے چرگاہ علاقے اور بیج منتشر کرنے کا عمل

الجوف کے علاقے میں سکاکا، دومۃ الجندل اور طبرجل کے چرگاہ علاقوں کا انتخاب کیا گیا۔ یہ تینوں مقامات اس خطے کا حصہ ہیں جہاں قدرتی چراگاہیں موجود ہیں اور جہاں زمین کی بحالی کے لیے بیج منتشر کرنے کا عمل اپنایا گیا۔ این سی وی سی کے مطابق یہ بیج مقامی جنگلی اور چراگاہی اقسام کے ہیں، یعنی وہ پودے جو اس خطے کی ماحولیات کا حصہ رہے ہیں۔

بیج منتشر کرنے کا مطلب یہ ہے کہ زمین پر بیج پھیلائے جائیں تاکہ وہ قدرتی طور پر اگ سکیں اور چرگاہوں کی بحالی ہو سکے۔ یہ طریقہ ان علاقوں میں استعمال ہوتا ہے جہاں زمین کی حالت بگڑ چکی ہو یا پیداواری صلاحیت کم ہو گئی ہو۔ مرکز کے مطابق اس عمل سے زمین کی بحالی، پیداواری صلاحیت میں بہتری اور مقامی پودوں کی اقسام کا تحفظ ممکن ہوتا ہے۔

کیا آپ جانتے ہیں کہ چرگاہوں کی بحالی کا تعلق صرف پودوں سے نہیں بلکہ ان علاقوں میں رہنے والے لوگوں کی معاش سے بھی ہے؟ جب چرگاہیں بحال ہوتی ہیں تو مقامی سطح پر چرنے والے جانوروں کے لیے خوراک بہتر ہوتی ہے اور زمین کی ماحولیاتی حالت بھی سنبھلتی ہے۔

بارش کے پانی کو جمع کرنے کا پہلو اس پروگرام کا اہم حصہ ہے۔ این سی وی سی کے مطابق یہ پروگرام بیج منتشر کرنے اور بارش کے پانی کو جمع کرنے کے ذریعے قدرتی چرگاہوں کی بحالی کے لیے چلایا جا رہا ہے۔ بارش کے پانی کو روک کر زمین میں پہنچانا اس خطے میں خاص اہمیت رکھتا ہے جہاں پانی کی دستیابی محدود ہوتی ہے۔

یہ پروگرام اپنے تیسرے سیزن میں داخل ہو چکا ہے۔ پہلے دو سیزن میں کیا کچھ ہوا، اس بارے میں ایس پی اے کی رپورٹ میں تفصیل نہیں دی گئی۔ تاہم یہ واضح ہے کہ یہ کام مسلسل جاری ہے اور الجوف کے علاقے میں اس کا اطلاق ہوا ہے۔

کیا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ بیج منتشر کرنے کے بعد ان کے اگنے اور پھلنے پھولنے کا عمل کیسے جانچا جاتا ہے؟ رپورٹ میں اس بارے میں کوئی تفصیل موجود نہیں، لیکن مرکز کا کہنا ہے کہ اس عمل سے زمین کی بحالی اور پیداواری صلاحیت میں بہتری آتی ہے۔

مقامی پودوں کی اقسام کا تحفظ اس پروگرام کا ایک اور مقصد ہے۔ جب مقامی جنگلی اور چراگاہی بیج استعمال کیے جاتے ہیں تو ان علاقوں کی قدرتی نباتات کو فروغ ملتا ہے۔ غیر مقامی اقسام کے مقابلے میں مقامی پودے اس خطے کی آب و ہوا اور مٹی کے مطابق ہوتے ہیں اور انہیں زندہ رہنے کے لیے کم مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔

کیا آپ نے کبھی غور کیا کہ چرگاہوں کی بحالی ماحولیاتی توازن میں کیا کردار ادا کرتی ہے؟ چرگاہیں زمین کو ڈھانپے رکھتی ہیں، مٹی کے کٹاؤ کو کم کرتی ہیں اور بارش کے پانی کو زمین میں جذب ہونے میں مدد دیتی ہیں۔ جب یہ چرگاہیں کمزور ہو جائیں تو زمین بنجر ہونے لگتی ہے اور صحرا بڑھتا ہے۔

سعودی گرین انیشی ایٹو کے اہداف اور قومی گریننگ سیزن

این سی وی سی کے مطابق یہ کاوش 2026 کے نیشنل گریننگ سیزن کے ساتھ ساتھ چل رہی ہے۔ نیشنل گریننگ سیزن ایک قومی مہم ہے جس کا تعلق پودے لگانے اور زمین کی بحالی کی کوششوں سے ہے۔ اس سیزن کے دوران مختلف علاقوں میں درخت لگانے اور چرگاہوں کی بحالی جیسے کام کیے جاتے ہیں۔

اس کے ساتھ ہی یہ کاوش سعودی گرین انیشی ایٹو کے اہداف کی تائید کرتی ہے۔ ان اہداف میں مملکت بھر میں 10 بلین درخت لگانا اور 40 ملین ہیکٹر زمین کی بحالی شامل ہے۔ یہ اعداد و شمار ایس پی اے کی رپورٹ میں دیے گئے ہیں۔

10 بلین درخت لگانے کا ہدف اور 40 ملین ہیکٹر زمین کی بحالی کا ہدف دونوں بڑے پیمانے کے قومی اہداف ہیں۔ الجوف کے علاقے میں بیج منتشر کرنے کا یہ کام انہی اہداف کی طرف ایک قدم ہے۔ مرکز کے مطابق بیج منتشر کرنے سے زمین کی بحالی، پیداواری صلاحیت میں بہتری اور مقامی پودوں کی اقسام کا تحفظ ممکن ہوتا ہے، جو ان اہداف کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔

کیا یہ اہداف صرف درخت لگانے تک محدود ہیں یا ان میں زمین کی مجموعی صحت بھی شامل ہے؟ سعودی گرین انیشی ایٹو کے اہداف میں درخت لگانے کے ساتھ زمین کی بحالی کا ذکر بھی موجود ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ توجہ صرف پودوں کی تعداد پر نہیں بلکہ زمین کی حالت پر بھی ہے۔

الجوف کا علاقہ مملکت کے شمالی حصے میں واقع ہے اور اس کے چرگاہ علاقے مقامی آبادی اور جانوروں کے لیے اہمیت رکھتے ہیں۔ سکاکا، دومۃ الجندل اور طبرجل اس علاقے کے نمایاں مقامات ہیں۔ ان تینوں مقامات کے چرگاہ علاقوں میں بیج منتشر کیے گئے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ کام ایک وسیع علاقے پر محیط ہے۔

کیا آپ جانتے ہیں کہ چرگاہوں کی بحالی کا اثر کئی سالوں تک رہتا ہے؟ جب ایک بار چرگاہ بحال ہو جائے تو وہ اپنے آپ کو برقرار رکھنے کی صلاحیت رکھتی ہے، بشرطیکہ اس پر دباؤ حد سے زیادہ نہ ہو۔ اسی لیے بیج منتشر کرنے اور بارش کے پانی کو جمع کرنے جیسے اقدامات اہم سمجھے جاتے ہیں۔

این سی وی سی کا مکمل نام نیشنل سینٹر فار ویجیٹیشن کور ڈیولپمنٹ اینڈ کمبیٹنگ ڈیزرٹیفیکیشن ہے۔ یہ مرکز پودوں کی چادر کی نشوونما اور صحرا بندی سے نمٹنے کے لیے کام کرتا ہے۔ اس کا یہ پروگرام قدرتی چرگاہوں کی بحالی سے متعلق ہے اور اس میں بیج منتشر کرنے اور بارش کے پانی کو جمع کرنے کے طریقے استعمال ہوتے ہیں۔

کیا یہ طریقے ہر علاقے میں یکساں طور پر کارگر ہوتے ہیں؟ یہ بات قابل غور ہے کہ ہر علاقے کی مٹی، بارش اور آب و ہوا مختلف ہوتی ہے، اس لیے بیج منتشر کرنے اور بارش کے پانی کو جمع کرنے کے عمل کو مقامی حالات کے مطابق ڈھالنا پڑتا ہے۔ رپورٹ میں اس بارے میں تفصیل نہیں دی گئی کہ الجوف کے تینوں مقامات پر کون سے مخصوص طریقے استعمال کیے گئے۔

مرکز کے مطابق بیج منتشر کرنے کے تین اہم فوائد ہیں: زمین کی بحالی، پیداواری صلاحیت میں بہتری اور مقامی پودوں کی اقسام کا تحفظ۔ یہ تینوں پہلو ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ جب زمین بحال ہوتی ہے تو اس کی پیداواری صلاحیت بڑھتی ہے، اور جب مقامی پودے محفوظ رہتے ہیں تو زمین کی بحالی زیادہ دیرپا ہوتی ہے۔

کیا آپ نے کبھی سوچا کہ مقامی پودوں کی اقسام کیوں اہم ہیں؟ مقامی پودے اس خطے کی ماحولیاتی تاریخ کا حصہ ہوتے ہیں اور وہ مقامی جانوروں اور حشرات کے لیے خوراک اور پناہ کا ذریعہ بنتے ہیں۔ ان کے ختم ہونے سے پورا ماحولیاتی نظام متاثر ہو سکتا ہے۔

بارش کے پانی کو جمع کرنے کا تعلق زمین کی نمی سے ہے۔ جب بارش کا پانی زمین میں جذب ہوتا ہے تو بیجوں کے اگنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ یہ طریقہ خاص طور پر ان علاقوں میں اہم ہے جہاں بارش کم ہوتی ہے اور پانی جلد بخارات بن کر اڑ جاتا ہے۔ الجوف کے چرگاہ علاقوں میں یہ پہلو اس پروگرام کا حصہ ہے۔

کیا یہ کہا جا سکتا ہے کہ بیج منتشر کرنا ایک سادہ عمل ہے؟ ظاہر ہے کہ یہ اتنا سادہ نہیں، کیونکہ اس کے لیے صحیح بیج کا انتخاب، صحیح وقت اور صحیح طریقہ درکار ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ بیج اگتے ہیں یا نہیں اور ان پر موسمی حالات کا کیا اثر پڑتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ کام تیسرے سیزن میں مکمل ہوا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ پروگرام کئی سیزن سے جاری ہے اور اس کا دائرہ کار بڑھ رہا ہے۔ تاہم رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ پہلے سیزن کہاں اور کب ہوئے یا ان کے نتائج کیا رہے۔

کیا آپ جانتے ہیں کہ چرگاہوں کی بحالی کا تعلق خوراک کی حفاظت سے بھی ہے؟ چرگاہیں چرنے والے جانوروں کے لیے خوراک کا ذریعہ ہیں، اور اگر یہ بحال رہیں تو گوشت اور دودھ کی پیداوار بہتر ہو سکتی ہے۔ اس طرح ماحولیاتی بحالی کا اثر معیشت پر بھی پڑتا ہے۔

سعودی گرین انیشی ایٹو کے تحت 10 بلین درخت لگانے اور 40 ملین ہیکٹر زمین کی بحالی کے اہداف کا تعلق مملکت کے وسیع تر ماحولیاتی منصوبوں سے ہے۔ الجوف میں بیج منتشر کرنے کا یہ کام ان منصوبوں کے تحت آنے والی کوششوں میں سے ایک ہے۔ مرکز کے مطابق یہ کاوش ان اہداف کی تائید کرتی ہے۔

کیا یہ ممکن ہے کہ اس طرح کے مقامی اقدامات کا مجموعی اثر قومی اہداف سے بڑا ہو؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب وقت اور جانچ سے ملتا ہے۔ فی الحال دستیاب معلومات کے مطابق یہ کام مکمل ہوا ہے اور اس کا مقصد چرگاہوں کی بحالی ہے۔

رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ کتنے بیج منتشر کیے گئے، کتنے ہیکٹر رقبے پر یہ کام ہوا، یا اس پر کتنی رقم خرچ ہوئی۔ اسی طرح یہ بھی واضح نہیں کہ بیجوں کی کون سی اقسام استعمال کی گئیں۔ یہ وہ تفصیلات ہیں جو ایس پی اے کی رپورٹ میں شامل نہیں۔

کیا آپ سمجھتے ہیں کہ اس طرح کی معلومات کی کمی سے پروگرام کی کامیابی کا اندازہ لگانا مشکل ہو جاتا ہے؟ بغیر اعداد و شمار کے یہ بتانا مشکل ہے کہ کتنی زمین واقعی بحال ہوئی یا بیجوں کی کتنی مقدار اگی۔ تاہم مرکز کا موقف ہے کہ اس عمل سے زمین کی بحالی، پیداواری صلاحیت میں بہتری اور مقامی پودوں کی اقسام کا تحفظ ممکن ہوتا ہے۔

الجوف کے علاقے میں سکاکا، دومۃ الجندل اور طبرجل کے چرگاہ علاقوں کا ذکر رپورٹ میں واضح طور پر موجود ہے۔ یہ تینوں مقامات اس علاقے کی چراگاہوں کے حوالے سے اہم ہیں۔ بیج منتشر کرنے کا یہ کام انہی علاقوں میں مکمل ہوا۔

کیا آپ جانتے ہیں کہ چرگاہوں کی بحالی میں کتنا وقت لگتا ہے؟ یہ اس بات پر منحصر ہے کہ زمین کی حالت کتنی بگڑی ہوئی ہے، موسم کیسا رہتا ہے اور بعد میں دیکھ بھال کیسی ہوتی ہے۔ رپورٹ میں اس بارے میں کوئی ٹائم لائن نہیں دی گئی۔

2026 کا نیشنل گریننگ سیزن اس کاوش کے ساتھ ساتھ چل رہا ہے۔ اس سیزن کا تعلق قومی سطح پر پودے لگانے اور زمین کی بحالی کی سرگرمیوں سے ہے۔ الجوف میں بیج منتشر کرنے کا کام اسی سیزن کے دوران مکمل ہوا، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ کاوش قومی مہم کا حصہ ہے۔

کیا یہ کہا جا سکتا ہے کہ قومی مہمات کے ساتھ مقامی اقدامات کا امتزاج زیادہ مؤثر ہوتا ہے؟ جب قومی سطح پر اہداف طے ہوں اور مقامی سطح پر ان پر عمل ہو تو نتائج زیادہ واضح ہو سکتے ہیں۔ الجوف کا یہ کام اسی طرز کا ایک نمونہ ہے۔

مرکز کے مطابق بیج منتشر کرنے سے زمین کی بحالی ہوتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو زمین بگڑ چکی ہو یا جس کی پیداواری صلاحیت کم ہو گئی ہو، وہ دوبارہ کارآمد بن سکتی ہے۔ یہ عمل قدرتی طریقوں پر مبنی ہے، یعنی بیج زمین میں پھیلائے جاتے ہیں اور بارش کے پانی کو جمع کر کے ان کے اگنے کے امکانات بڑھائے جاتے ہیں۔

کیا آپ نے کبھی دیکھا کہ بنجر زمین پر دوبارہ پودے اگنا کتنا مشکل ہوتا ہے؟ اسی مشکل کا حل اس طرح کے پروگراموں میں تلاش کیا جاتا ہے۔ بیج منتشر کرنا اور بارش کے پانی کو جمع کرنا دونوں مل کر زمین کو دوبارہ پودوں کے قابل بنانے میں مدد دیتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق یہ کام مکمل ہو چکا ہے۔ اس کے بعد کیا ہوگا، اس بارے میں کوئی تفصیل موجود نہیں۔ نہ یہ بتایا گیا کہ نگرانی کیسے ہوگی، نہ یہ کہ اگلے سیزن کا کیا منصوبہ ہے۔ دستیاب معلومات کے مطابق این سی وی سی نے الجوف کے علاقے میں سکاکا، دومۃ الجندل اور طبرجل کے چرگاہ علاقوں میں مقامی جنگلی اور چراگاہی بیجوں کی منتقلی مکمل کی ہے، اور یہ کام قدرتی چرگاہوں کی بحالی کے پروگرام کے تیسرے سیزن کا حصہ ہے۔

الجوف کے علاقے میں بیج منتشر کرنے کا کام کہاں مکمل ہوا؟ یہ کام سکاکا، دومۃ الجندل اور طبرجل کے چرگاہ علاقوں میں مکمل ہوا۔ یہ تینوں مقامات الجوف کے علاقے کا حصہ ہیں اور رپورٹ میں ان کا واضح ذکر موجود ہے۔ این سی وی سی کے مطابق یہ کام قدرتی چرگاہوں کی بحالی کے پروگرام کے تیسرے سیزن کے تحت کیا گیا، جس میں بیج منتشر کرنے اور بارش کے پانی کو جمع کرنے کے ذرائع استعمال ہوتے ہیں۔

بیج منتشر کرنے سے کون سے فوائد حاصل ہوتے ہیں؟ مرکز کے مطابق بیج منتشر کرنے سے زمین کی بحالی، پیداواری صلاحیت میں بہتری اور مقامی پودوں کی اقسام کا تحفظ ممکن ہوتا ہے۔ یہ تینوں پہلو ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ اس عمل میں مقامی جنگلی اور چراگاہی بیج استعمال کیے جاتے ہیں، جو اس خطے کی آب و ہوا اور مٹی کے مطابق ہوتے ہیں اور انہیں زندہ رہنے کے لیے کم مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔

یہ کاوش کن قومی اہداف کی تائید کرتی ہے؟ یہ کاوش 2026 کے نیشنل گریننگ سیزن کے ساتھ ساتھ چل رہی ہے اور سعودی گرین انیشی ایٹو کے اہداف کی تائید کرتی ہے۔ ان اہداف میں مملکت بھر میں 10 بلین درخت لگانا اور 40 ملین ہیکٹر زمین کی بحالی شامل ہے۔ یہ اعداد و شمار ایس پی اے کی رپورٹ میں دیے گئے ہیں، اور مرکز کے مطابق بیج منتشر کرنے کا عمل ان اہداف کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔

بارش کے پانی کو جمع کرنے کا اس پروگرام میں کیا کردار ہے؟ این سی وی سی کے مطابق یہ پروگرام بیج منتشر کرنے اور بارش کے پانی کو جمع کرنے کے ذریعے قدرتی چرگاہوں کی بحالی کے لیے چلایا جا رہا ہے۔ بارش کے پانی کو روک کر زمین میں پہنچانا اس خطے میں خاص اہمیت رکھتا ہے جہاں پانی کی دستیابی محدود ہوتی ہے۔ جب بارش کا پانی زمین میں جذب ہوتا ہے تو بیجوں کے اگنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

رپورٹ میں کون سی تفصیلات شامل نہیں ہیں؟ رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ کتنے بیج منتشر کیے گئے، کتنے ہیکٹر رقبے پر یہ کام ہوا، یا اس پر کتنی رقم خرچ ہوئی۔ اسی طرح یہ بھی واضح نہیں کہ بیجوں کی کون سی اقسام استعمال کی گئیں، نگرانی کیسے ہوگی، یا اگلے سیزن کا کیا منصوبہ ہے۔ دستیاب معلومات کے مطابق کام مکمل ہو چکا ہے اور اس کا مقصد چرگاہوں کی بحالی ہے۔